Getty Images
بجا کہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں کوئی بھی ٹیم کمزور نہیں ہوتی۔ یہ بھی درست کہ اس فارمیٹ کا دورانیہ پل بھر میں کھیل کو سر کے بل پٹخ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس میں بھی دو رائے نہیں کہ کبھی کبھار ایک انفرادی پرفارمنس ہی آدھی ٹیم کے کھیل پر بھاری پڑ جاتی ہے مگر یہ سب معروضی حقائق بھی اس مظہر کی توجیہہ کرنے سے قاصر ہیں جو کولمبو میں پاکستانی مڈل آرڈر نے رچایا۔
میچ سے پہلے ہی پاکستان کو نہ صرف علم تھا کہ یہاں جیت ناگزیر ہے بلکہ اس امر سے بھی پوری واقفیت تھی کہ جیت کا مارجن بھی ایسا ہونا لازم ہے جو انڈیا کے خلاف طے شدہ فورفیٹ سے ہونے والے نیٹ رن ریٹ خسارے کا ازالہ کر سکے۔
شاید یہی سوچ کر سلمان آغا نے پہلے بولنگ کا فیصلہ بھی کیا کہ ہدف کے تعاقب میں ان کے بلے باز پاکستان کا نیٹ رن ریٹ بڑھا سکیں گے۔
مگر پہلے تو سلمان آغا سے سپن کے درست استعمال میں غلطی ہو گئی کہ وہ ڈیتھ اوورز میں پیس کی طرف پلٹنے کے مروجہ فارمولے پر مصر دکھائی دیے حالانکہ پچ کی تروتازگی کے باوجود صائم ایوب بلے بازوں کی دقت بڑھا رہے تھے اور پھر جب ہدف عین مٹھی میں آ گیا تو پاکستانی مڈل آرڈر نے بھی اپنی ’مہارت‘ کا اظہار کر ڈالا۔
جن کنڈیشنز سے اس مڈل آرڈر کو نبرد آزما ہونا تھا، انہی کی تیاری کے لیے تو پاکستان پچھلے سال بھر سے اوپر تلے ٹی ٹوئنٹی سیریز کھیلے چلے آ رہا تھا۔ یہ حالات ان بلے بازوں کے لیے نامانوس ہرگز نہیں تھے اور نہ ہی یہ میچ کسی ایسی سمت جا چکا تھا کہ ان کے حواس یوں گھنٹیاں بجانے لگتے۔
’کبھی تو فینز کو ٹینشن دیے بغیر جیت جائیں‘: فہیم اشرف کی اننگز جس نے پاکستان کو نیدرلینڈز سے ’یقینی شکست‘ سے بچا لیاانڈیا کے خلاف میچ سے دستبرداری کا پاکستان کے ٹی 20 ورلڈ کپ میں سفر پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟پاکستان کے میچ کھیلنے سے انکار کے باوجود انڈین ٹیم سری لنکا کیوں جا رہی ہے؟عمر گل کے یارکرز، آفریدی اور اجمل کی گھومتی گیندیں،ٹی 20 کرکٹ میں پاکستانی ٹیم کا سنہرا دور اور پھر تنزلی کی کہانی
عثمان خان اگر چاہتے تو اپنی اننگز کی دوسری ہی گیند پر اندھا بلا چلانے کی بجائے ایک نظر مطلوبہ رن ریٹ پر بھی ڈال سکتے تھے اور یہ طے بھی کر سکتے تھے کہ بچا کھچا ہدف اس قابل نہیں تھا کہ اپنی وکٹ کو ہی خطرے میں ڈال دیا جائے۔
بابر اعظم کے لیے تو یہ کوئی نئی صورتِ حال تھی ہی نہیں۔ ان کے لیے تو ان کا کردار بھی نہایت واضح تھا کہ انھیں بس اپنا کنارہ سنبھالے رکھنے کی ضرورت تھی مگر نجانے انھیں بھی ایسی کیا عجلت تھی کہ وہ بھی کریز سے نکلے بغیر نہ رہ سکے اور اپنے بعد آنے والوں کو بھی مخمصے میں ڈال کر چل دیے۔
Getty Images
اگرچہ پوسٹ میچ تقریب میں ڈچ کپتان سکاٹ ایڈورڈز خاصے مایوس دکھائی دیے اور تینوں شعبوں میں اپنی کارکردگی پر کچھ مایوسی بھی دکھائی مگر جیسی یلغار ان کے بلے بازوں نے شروع میں کی، وہ اس لحاظ سے قابلِ تحسین تھی کہ یہ وہی پاکستانی بولنگ اٹیک تو تھا جس نے ہفتہ بھر پہلے آسٹریلوی بلے بازوں کے ہوش اڑا رکھے تھے۔
کوتاہی نیدرلینڈز سے بھی یہی ہوئی کہ پاکستانی مڈل آرڈر کی طرح ڈچ بلے باز بھی سمجھ نہ پائے کہ پرانی گیند کے خلاف مار دھاڑ کا مروجہ فارمولہ سست سری لنکن کنڈیشنز میں کارگر نہیں ہو سکتا تھا۔ پرانی گیند کے خلاف بلے بازی کی جو تکنیک عموماً بیٹنگ دوست پچز پر موثر رہتی ہے، یہاں اسے بدلنا ضروری ہے کہ پچ کی گھٹتی رفتار اونچے شاٹس کے لیے موزوں نہیں ہوتی۔
پچھلے ایک ڈیڑھ سال سے پاکستان جس برانڈ کی کرکٹ کھیلنے کی کوشش کر رہا ہے، اس میں اتار چڑھاؤ ایسی ہی تیزی سے آتے ہیں۔ کبھی ہارے ہوئے میچ اچانک جیت لیے جاتے ہیں تو کبھی جیتے جتائے میچ پلک جھپکتے میں ہاتھ سے سرک جاتے ہیں۔
مگر پاکستانی مڈل آرڈر کی بے نیازی پھر بھی عجیب تھی کہ اس میچ کی اہمیت جاننے کے باوجود اپنی سبھی کشتیاں جلاتے چلے گئے اور یہ خیال بھی کسی کے پاس تک نہ پھٹکا کہ اگر یوں ہدف کو اتنے قریب سے چھو کر بھی بالآخر ہار ان کے حصے آ جاتی تو ایک اور ورلڈ کپ سے اپنی ٹیم کی رسوائی بھری بے دخلی کا کیا جواز پیش کرتے؟
یہ تو بھلا ہو میکس او ڈاؤڈ کا کہ گیند کے عین تلے آ کر، دونوں ہاتھوں سے کیچ جھپٹنے کے بعد بھی نجانے کیسے پل بھر کو اپنا ارتکاز کھو بیٹھے اور فہیم اشرف کی جاگی قسمت کو مداری کے ہیٹ سے کبوتر نکالنے کا موقع مل گیا۔ ورنہ پاکستانی مڈل آرڈر تو یہاں پچھلے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی یادیں تازہ کرنے پر ہی تُلا ہوا تھا۔
دبئی میں پیاز کاٹنے سے پاکستان کے ورلڈ کپ سکواڈ تک کا سفر، ’ایکس فیکٹر‘ سپنر عثمان طارق کی کہانی’کبھی تو فینز کو ٹینشن دیے بغیر جیت جائیں‘: فہیم اشرف کی اننگز جس نے پاکستان کو نیدرلینڈز سے ’یقینی شکست‘ سے بچا لیاانڈیا کے خلاف میچ سے دستبرداری کا پاکستان کے ٹی 20 ورلڈ کپ میں سفر پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟پاکستان کے میچ کھیلنے سے انکار کے باوجود انڈین ٹیم سری لنکا کیوں جا رہی ہے؟عمر گل کے یارکرز، آفریدی اور اجمل کی گھومتی گیندیں،ٹی 20 کرکٹ میں پاکستانی ٹیم کا سنہرا دور اور پھر تنزلی کی کہانی’مضبوط سپن اٹیک اور خفیہ ہتھیار‘، پاکستان کو سری لنکا میں ورلڈ کپ میچز کھیلنے کا فائدہ ہو گا؟