دو دہائیوں بعد لاہور میں ’بو کاٹا‘ کا شور: ’بہت غربت کاٹی، بسنت کا واپس آنا میرے لیے عید ہے‘

بی بی سی اردو  |  Feb 07, 2026

Getty Images

تقریباً 20 سال بعد پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں بسنت کی واپسی پر جشن کا ماحول ہے۔ جہاں ایک طرف صوبے میں تعطیل کا اعلان کیا گیا اور شہر کے مختلف مقامات کو سجایا گیا تو وہیں بازاروں میں پتنگ، ڈور اور دیگر اشیا کی خریداری کے لیے لوگوں کی قطاریں لگ گئیں۔

آخری بار پنجاب میں سنہ 2007 میں بسنت منائی گئی مگر پھر تیز دھار ڈور سمیت پتنگ بازی سے جڑے خطرات کے باعث اس پر لگنے والی پابندی کے بعد نوجوانوں کی ایک پوری نسل بسنت کے تہوار سے محروم رہی۔

مگر اس بار پنجاب حکومت نے بسنت کو محفوظ بنانے کے لیے کئی قواعد و ضوابط جاری کیے اور فی الحال صرف لاہور میں بسنت منانے کی اجازت دی گئی لیکن پتنگ کے سائز سے لے کر ڈور تک، سبھی معاملات پر سختی کی گئی ہے جبکہ بسنت کے دنوں میں موٹر سائیکل سواروں کے لیے بائیکس پر حفاظتی راڈ نصب کرنا لازم ہے۔

پنجاب میں جہاں ایک طرف بسنت نے لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیری تو وہیں دوسری جانب اس تہوار نے معاشی طور پر کئی خاندانوں کو فائدہ پہنچایا۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق لاہور شہر میں پہلے دو دن میں پچاس کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کی صرف ڈوریں اور پتنگیں فروخت ہوئی ہیں جبکہ بسنت کے دنوں میں اس تہوار سے جڑی دیگر انڈسٹری کو معاشی اعتبار سے خاصا فائدہ پہنچا، جس سے تقریباً ایک ارب سے زائد کا کاروبار اب تک ہو چکا ہے۔

ماہرین اور حکومتی اندازے کے مطابق یہ اعدادوشمار تقریبا تین ارب روپے سے تجاوز کریں گے۔ یاد رہے کہ بسنت کا یہ تہوار اس وقت صرف لاہور شہر میں منایا جا رہا ہے۔

’میں نے بیس سال بہت غربت کاٹی‘ Getty Images

65 سالہ شبیر احمد ڈور بنانے کے ماہر ہیں تاہم گزشتہ بیس سال میں پتنگ بازیپر پابندی لگنے کے بعد انھوں نے یہ کام نہیں کیا۔

اب وہ کہتے ہیں کہ ’میں بیس سال بد حالی اور غربت کا شکار رہا ہوں۔ بسنت کا واپس کُھلنا میرے لیے ایسے ہے جیسے عید ہو۔ اب خوشحالی آئے گی۔‘

شبیر احمد جیسے سینکڑوں خاندان ہیں جو پتنگ اور ڈوریں بنانے کے کاروبار سے منسلک تھے۔

معاشی ماہرین کے مطابق ماضی میں بسنت اور اس سے وابسطہ انڈسٹری کا کروڑوں روپے کا کاروبار تھا۔ جیسا کہ پنجاب میں آخری بسنت سال 2004 کی تھی جس میں 22 کروڑ روپے کی پتنگیں اور ڈوریں فروخت ہوئی تھیں۔

محمد نواز نے بارہ سال کی عمر میں پتنگ بازی کے لیے استعمال ہونے والی ڈوریں تیار کرنا سیکھی تھیں جس کے بعد انھوں نے تین دہائیوں تک یہی کام کیا۔

محمد نواز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’انھوں نے متعدد نوکریاں کی اور کاروبار کرنے کی کوشش کی لیکن انھیں اس میں کامیابی نہیں مل سکی۔‘

نواز جیسے سینکڑوں ایسے کاریگر ہیں جو یہ چاہتے ہیں کہ اس کام کو صرف بسنت تک محدود نہ کیا جائے۔

نواز نے اپنی اس خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ویسے تو میں اسی بات سے بہت خوش ہوں کہ کم از کم وہ کام دوبارہ شروع ہوا، جس کا ماہر ہوں لیکن میں چاہتا ہوں کہ حکومت اس کام کو سارے سال کے لیے کھول دے تاکہ ہم معاشی بد حالی سے نکل سکیں۔‘

محمد نواز کے ساتھ موجود دیگر کاریگروں نے بھی بی بی سی کو بتایا کہ ان کے کئی دوست اور اچھے کاریگر تو اس دنیا سے ہی چلے گئے ہیں۔

فاروق علی نے کہا کہ ’میرے کئی ایسے جاننے والے تھے جو وفات پا گئے۔ جب یہ کام کرتے تھے تو پورا سال ان کا کام ختم نہیں ہوتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ پورا سال تو ہم کام کرتے ہی تھے لیکن جب بسنت ہوتی تھی تو ہماری انڈسٹری کے کئی لوگ بسنت کے دنوں میں کمانے والے پیسوں سے اپنا گھر بناتے تھے، اپنی بیٹیوں کی شادیاں کرتے تھے، اپنا علاج کرواتے تھے لیکن جب اس کام پر پابندی لگی تو معاشی طور پر انھیں اتنی مشکالات کا سامنا کرنا پڑا کہ وہ برداشت نہیں کر سکے اور اس دنیا سے چلے گئے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’مجھے یاد ہے کہ جب ہمارے گھروں میں کوئی رشتہ آتا تھا اور شادی کی بات ہوتی تو ہم تاریخیں بھی بسنت گزرنے کے بعد کی رکھتے تھے۔‘

BBCبسنت کا تہوار کیا ہے اور اس پر پابندی کیوں لگائی گئی تھی؟

پاکستان اور انڈیا کا پنجاب تاریخی طور پر اپنے صدیوں پرانے بسنت کے تہوار کے لیے جانا جاتا ہے، جو موسمِ بہار کی آمد اور زرعی پیداوار کے جشن کے طور پر منایا جاتا ہے۔

بسنت سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ’بہار‘ کے ہیں۔ پنجاب، جو دو حصوں میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان تقسیم ہے، اپنی زرخیز زمین اور ثقافتی ورثے کے سبب بھی مشہور ہے۔

مؤرخین کے مطابق بسنت کا تہوار بھی اسی ثقافت کی عکاسی ہے، جس میں رنگ برنگی پتنگیں اڑانا، کھانا پینا اور مل بیٹھ کر جشن منانا شامل ہے۔ یہ تہوار صدیوں سے روایتی طور پر بسنت کے نام سے ہی منایا جاتا رہا ہے۔

BBCبازاروں میں پتنگ، ڈور اور دیگر اشیا کی خریداری کے لیے لوگوں کا رش ہے

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے لاہور سے تعلق رکھنے والے سوشلسٹ میاں یوسف صلاح الدین نے بتایا کہ بسنت کا تہوار عرصہ دراز سے منایا جاتا تھا اور نہ تو انتظامیہ کو اس کے انتظامی معاملات میں مشکلات پیش آتی تھیں اور نہ ہی جانیں جاتی تھیں۔

’بسنت کو اصل عروج اس وقت ملا جب نائٹ بسنت شروع ہوئی۔ اس سے پہلے انتظامیہ رات کو آسمان میں روشنی والی لال ٹین چھوڑا کرتی تھی، جس سے لوگوں کو پتا چل جاتا تھا کہ کل صبح بسنت منائی جائے گی۔ اس کے بعد لوگ فجر کی نماز کے فوراً بعد چھتوں پر چڑھ جاتے تھے اور سارا دن پتنگیں اڑاتے، کھانے بناتے اور کھاتے تھے۔ گھر کی خواتین رنگین کپڑے اور چوڑیاں پہنتی تھیں اور مغرب کے وقت سب نیچے آ جاتے تھے۔‘

انھوں نے کہا کہ اصل خرابی اس وقت شروع ہوئی جب اس تہوار میں کاروباری عناصر نے زیادہ پیسے کمانے کے لیے خونیں ڈوریں بیچنا شروع کیں، جس سے کئی جانیں ضائع ہوئیں۔

ان کے مطابق پابندی کوئی مستقل حل نہیں تھی بلکہ حکومت کو وہ اقدامات پہلے ہی اٹھانے چاہیے تھے جو اب کیے جا رہے ہیں۔

بسنت منانے اور پتنگ بازی پر مکمل پابندی کائٹ فلائنگ ایکٹ 2007 کے تحت لگائی گئی تھی۔ اس سے قبل 2003 میں آخری مرتبہ باضابطہ طور پر بسنت منائی گئی تھی۔

اس بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اپنے دور کے مشہور پتنگ باز خالد بھٹی نے بتایا کہ پنجاب میں پتنگ بازی صرف بسنت تک محدود نہیں تھی۔

’ہم روزانہ پتنگیں اڑایا کرتے تھے جبکہ ہر اتوار کو لاہور کے منٹو پارک میں مقابلے ہوتے تھے جن میں استادی شاگردی کا نظام تھا۔ بڑے استادوں کو جیتنے پر سوٹ اور مٹھائیاں دی جاتی تھیں جبکہ پگ بھی باندھی جاتی تھی جو پنجاب میں عزت اور شان کی علامت ہے۔‘

BBC

1970 اور 80 کی دہائی یاد کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’اس دور میں نہ تو خطرناک ڈور ہوا کرتی تھی اور نہ ہی کوئی فائرنگ ہوتی تھی۔ پتنگ بازی کو ایک کھیل سمجھا جاتا تھا۔ 90 کی دہائی میں کیمیکل اور دھاتی ڈوریں آنا شروع ہوئیں جس کے بعد فائرنگ، ون ویلنگ اور دیگر خطرناک حرکتیں شروع ہو گئیں، جن کے نتیجے میں حادثات اور ہلاکتیں بڑھ گئیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’مجھے وہ دن نہیں بھولتا جس دن بسنت پر باضابطہ طور پر پابندی لگی۔‘

’اسی دن میرا چھوٹا بیٹا پیدا ہوا تھا، اس لیے مجھے تاریخ اچھی طرح یاد ہے۔ 2003 تک بسنت اور پتنگ بازی بھرپور جوش و خروش سے منائی جاتی تھی لیکن اس کے بعد آہستہ آہستہ گڈی ڈور بنانے والوں پر چھاپے پڑنے لگے اور یہ کام ختم ہوتا چلا گیا۔‘

بسنت: اندرون لاہور میں گونجتی ’بو کاٹا‘ کی آوازیں جو کیمیکل ڈور کی نذر ہو گئیںپنجاب میں لڑکیاں ’مغلوں سے پھانسی پانے والے دُلا بھٹی‘ کے گیت کیوں گاتی ہیں؟25 سال بعد لاہور میں بسنت کن شرائط پر منانے کی اجازت دی گئی ہے؟’کسی شخصیت کی تصویر والی پتنگ نہیں اڑ سکتی‘: لاہور میں بسنت کے حوالے سے مزید نئے قواعد و ضوابط متعارف’یہ وہ انڈسٹری ہے جہاں پیسہ نیچے تک جاتا ہے‘

میاں صلاح الدین کہتے ہیں کہ ’یہ انڈسٹری وہ ہے جہاں پیسہ نیچے عام لوگوں تک جاتا ہے۔‘

’ڈوریں اور پتنگیں بنانے والا، جہاں سے کاریگر سامان خریدتا ہے، اس کے بعد بسنت کا تہوار ہوتا ہے تو چوڑیاں بنانے اور بیچنے والی خواتین کو پیسہ جاتا ہے۔ لوگ خصوصی کپڑے بنواتے ہیں۔ پھر آپ کی ہوٹل انڈسٹری۔ ٹرین اور بسسوں کا استعمال ہوتا ہے۔ اس تہوار کے لیے باہر کے ملکوں سے لوگ آتے ہیں اور پیسہ لگاتے ہیں۔ وہاں سے آپ کی معیشت اور سیاحت دونوں کو فروغ ملتا ہے۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ حکومت کا فیصلہ درست تھا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’پابندی لگانا کسی چیز کا حل نہیں۔ دنیا بھر میں ایسے تہوار ہوتے ہیں اور ان تہواروں کے ساتھ جڑے مسائل کا حل نکالا جاتا ہے نہ کہ ان پر باپندی لگا دی جائے۔‘

’اس مرتبہ حکومت نے درست سمت میں حل نکالنے کی کوشش کی۔ انھوں نے عوام کے پیسے کے ساتھ اپنا پیسہ بھی لگایا تاکہ لوگوں کو خوشی منانے کا موقع مل سکے۔‘

میاں صلاح الدین کا کہنا تھا کہ ’بسنت کا سب سے زیادہ منفی پہلو خونیں ڈوریں ہیں جنھیں بنانے اور خریدنے والے دونوں مجرم ہیں۔ حکومت اس پر سختی کرے تو معاملات بہتر ہو سکتے ہیں۔‘

یاد رہے کہ بسنت کے اس تہوار کے لیے لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے لاہور شہر کا رخ کیا ہے جس کی وجہ سے ہوٹل کے کرایوں میں ہوشربہ اضافہ ہوا۔

یہی نہیں ٹرین، بس اور جہاز کا سفر کر کے آنے والوں کی بھی بہت بڑی تعداد ہے۔ اس وقت کراچی تا لاہور کی جہاز کی ٹکٹ کا کرایہ 80 ہزار تک جا پہنچا ہے۔ اسی طرح ایک اچھے ہوٹل کا کرایہ ایک رات کے لیے ایک لاکھ روپے سے تجاوز کر رہا ہے۔

لیکن عوام کی طرف سے کی جانے والی سب سے بڑی شکایت یہ ہے کہ پتنگ اور ڈوروں کا ریٹ بہٹ زیادہ ہے۔

BBCبسنت کا سامان خریدتے وقت کیو آر کوڈ چیک کرنا اور رسید لینا لازمی ہےاس مرتبہ بسنت کو محفوظ کیسے بنایا جا رہا ہے؟

20 سال کی طویل پابندی کے بعد پنجاب حکومت نے صرف لاہور میں بسنت منانے کا اصولی فیصلہ کیا۔ 6، 7 اور 8 فروری کو تین دن کی عام تعطیل کا بھی اعلان کیا گیا۔

وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اپنے ایکس اکاؤنٹ اور میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ’ہمیں دیگر شہروں سے بھی درخواستیں موصول ہوئی ہیں مگر اس بار بسنت کو صرف لاہور میں بطور پائلٹ پراجیکٹ منایا جا رہا ہے۔‘

انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ بسنت کے دوران ایسی چھتیں جن کی چار دیواری نہیں، انھیں پہلے محفوظ بنایا جائے۔

انتظامیہ کی جانب سے باقاعدہ اعلامیے کے بعد شہر بھر کو بسنت کے حوالے سے سجایا گیا ہے اور جگہ جگہ ایس او پیز کی تشہیر کی جا رہی ہے۔

انتظامی اُمور پر بات کرتے ہوئے کمشنر لاہور مریم خان نے بتایا کہ ’ہم نے ٹریفک، لیسکو، ریسکیو، واسا اور دیگر اداروں سمیت ہر چیز کا پلان تیار کر لیا۔ حکومت نے تین دن کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ مفت کر دی ہے۔ تقریباً چھ ہزار رکشوں اور دیگر پرائیویٹ ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو بھی اس پلان کا حصہ بنایا گیا تاکہ لوگ موٹر سائیکلوں کا کم استعمال کریں۔ لاہور بسنت کیمپس پر محکمہ صحت، ریسکیو 1122، ایل ڈبلیو ایم سی اور دیگر کے کیمپس قائم کر دیے گئے ہیں جبکہ ٹریفک پولیس موٹر سائیکلوں پر سیفٹی راڈز نصب کر رہی ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’لوگ خود بھی سیفٹی راڈ لگا رہے ہیں اور ہمارا ارادہ تقریباً دس لاکھ سیفٹی راڈز فراہم کرنے کا ہے۔ شہریوں کو بھی ذمہ داری کا ثبوت دینا ہو گا کہ وہ ایسی ڈور خریدیں یا استعمال نہ کریں جو جان کے لیے خطرہ بن سکتی ہو۔‘

BBCشہر بھر کو بسنت کے لیے سجایا گیا اور جگہ جگہ ایس او پیز کی تشہیر کی جا رہی ہےبسنت کے ایس او پیز

ڈی سی لاہور علی اعجاز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ بسنت صرف ایس او پیز کے مطابق ہی منائی جائے گی اور خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی اور بھاری جرمانے کیے جائیں گے۔ اہم ایس او پیز درج ذیل ہیں:

8 فروری تک بسنت کے سامان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے۔موٹر سائیکلوں پر سیفٹی راڈ لگانا لازمی ہے۔چرخی، دھاتی اور نائیلون ڈور پر مکمل پابندی ہے۔ڈور کے لیے صرف پنّے کا استعمال ہو گا۔بسنت آرڈیننس کی خلاف ورزی پر زیرو ٹالرنس پالیسی ہو گی۔مخصوص تعداد سے زائد لوگوں کے چھت پر جمع ہونے کے لیے این او سی لازمی ہے۔2,276 سے زائد سیلرز کو این او سی جاری کیے جا چکے ہیں، جن کی تصدیق حکومتی ویب سائٹ سے کی جا سکتی ہے۔مخصوص سائز کی پتنگ اور گڈّا اڑانے کی اجازت ہے:گڈّا: 40 انچ چوڑائی، 34 انچ لمبائیپتنگ: 35 انچ چوڑائی، 30 انچ لمبائیسامان خریدتے وقت کیو آر کوڈ چیک کرنا اور رسید لینا لازمی ہے۔رسک والی عمارتوں، پارکس، گرین بیلٹس اور ائیرپورٹ کے اطراف بسنت نہیں منائی جا سکتی۔پتنگوں پر مذہبی، سیاسی یا قومی نشان نہیں لگائے جا سکتے۔

ڈی سی لاہور نے کہا کہ ’ہم ڈرون کیمروں سے چھتوں کی انسپیکشن کریں گے۔ کوئیک رسپانس ٹیمیں ہر جگہ این او سی چیک کریں گی۔ زیرو ٹالرنس ہو گی۔ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر جیل اور پچاس لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔‘

25 سال بعد لاہور میں بسنت کن شرائط پر منانے کی اجازت دی گئی ہے؟’کسی شخصیت کی تصویر والی پتنگ نہیں اڑ سکتی‘: لاہور میں بسنت کے حوالے سے مزید نئے قواعد و ضوابط متعارفبسنت: اندرون لاہور میں گونجتی ’بو کاٹا‘ کی آوازیں جو کیمیکل ڈور کی نذر ہو گئیںپنجاب میں لڑکیاں ’مغلوں سے پھانسی پانے والے دُلا بھٹی‘ کے گیت کیوں گاتی ہیں؟’مذہبی و ثقافتی تہوار بیساکھی میلہ‘ جو ہزاروں انڈین سکھوں کی پاکستان یاترا کا سبب بنتا ہےفرزند پنجاب اور پنجابی رابن ہُڈ کہلانے والے دُلا بھٹی جو سرحد کے دونوں جانب یکساں مقبول ہیں
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More