عثمان طارق کا ’وقفہ‘، انڈین شائقین کرکٹ کی پریشانی اور ایشون کی وضاحت: ’یہ انڈیا کے خلاف ٹرمپ کارڈ ہو گا‘

بی بی سی اردو  |  Feb 12, 2026

Getty Images

’ان بیٹرز کو تو سمجھ ہی نہیں آ رہی۔ اس کو نہیں مار پاؤ گے۔‘

’ان کو کیا، انڈیا کو بھی سمجھ نہیں آئے گی۔‘

’ایسے بولر کے خلاف پریکٹس کے لیے کس کو بلاؤں میں؟‘

’یہ انڈیا کے خلاف ان کا ٹرمپ کارڈ ہو گا۔‘

یہ وہ چند جملے ہیں جو ایک انڈین چینل پر پاکستان اور امریکہ کی ٹیم کے درمیان ہونے والے میچ کی کمٹری کے دوران ادا کیے گئے اور ان جملوں میں ذکر ہو رہا ہے پاکستانی بولر عثمان طارق کا جن کا مخصوص ایکشن پہلے بھی بحث کا مرکز رہا ہے۔

تاہم گزشتہ روز کھیلے جانے والے میچ کے دوران اور بعد میں عثمان طارق کا ایکشن اوران کا وقفہ خصوصی طور پر انڈیا میں زیر بحث ہے جہاں کے ایک سابق سپنر بھی پاکستانی بولر کے دفاع میں سامنے آئے۔

کولمبو میں کھیلے گئے اس میچ میں عثمان طارق نے چار اوورز میں 27 رن کے عوض تین وکٹیں حاصل کیں۔ ایک جانب جہاں پاکستان کے سپن بولر کے کمبینیشن پر بات ہونے لگی تو وہیں انڈیا کے سوشل میڈیا پر عثمان طارق کا نام گردش کرنے لگا۔

چند صارفین نے عثمان طارق کے بولنگ ایکشن پر سوال اٹھائے تو کچھ نے سوال کیا کہ کیا گیند پھینکنے سے قبل وقفہ لینا کرکٹ قوانین کے مطابق درست بھی ہے یا نہیں؟

شریواتس گوسوامی نامی صارف نے لکھا کہ ’فٹ بال میں بھی اب پنلٹی کک سے پہلے کھلاڑیوں کو وقفہ لینے کی اجازت نہیں تو یہ کیسے ٹھیک ہے؟ ایکشن درست ہو گا لیکن گیند پھینکنے سے بلکل پہلے وقفہ لینا؟ یہ جاری نہیں رہنا چاہیے۔‘

اس بحث میں سابق انڈین سپنر ایشون بھی شامل ہوئے اور انھوں نے لکھا کہ ’یہ بات درست ہے کہ فٹ بال میں اس کی اجازت نہیں ہے لیکن اگر کسی بلے باز کو اس بات کی اجازت ہے کہ وہ بیٹسمین یا امپائر کو اطلاع کیے بغیر دوسرے رخ سے سوئچ ہٹ کر سکتا ہے یا ریورس کر سکتا ہے تو پھر تمام حدود گیند کرنے والے کے لیے کیوں؟‘

انھوں نے لکھا کہ ’بولر کو تو امپائر کو مطلع کیے بغیر دوسرے بازو سے گیند پھینکنے کی اجازت نہیں ہے۔ پہلے اس قانون کو بدلنا چاہیے۔‘

اکاش چوپڑا نے اس کے جواب میں لکھا کہ ’وقفہ تو ٹھیک ہے۔‘

تاہم انھوں نے کہ ’کیا بازو موڑے بغیر یہ ممکن ہے کہ کسی گیند کی رفتار میں 20 سے 25 کلومیٹر تک کا اضافہ ہو؟‘

یہ بحث اتنی بڑھی کہ ایشون نے بعد میں ایک اور طویل سوشل میڈیا پوسٹ لکھی جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’ایکشن ٹھیک ہے یا نہیں یہ صرف آئی سی سی بولنگ ایکشن ٹیسٹنگ مرکز میں ٹیسٹ ہو سکتا ہے اور دوسری بات یہ کہ 15 ڈگری کا قانون موجود ہے جس کے تحت باولر اپنی کہنی کو سیدھا کر سکتا ہے۔‘

ان کے مطابق ’کسی آن فیلڈ امپائر کے لیے اس وقت یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوتا ہے کہ آیا بولر 15 ڈگری کے مطابق گیند پھینک رہا ہے یا نہیں۔‘

ایشون نے لکھا کہ ’یہ ایک گرے ایریا ہے اور کسی پر اس گرے ایریا کا استعمال کرنے پر الزام لگانا غلط ہے۔ جہاں تک وقفے کا سوال ہے تو میرے نزدیک یہ بلکل قانونی ہے کیوں کہ یہ ان کا ریگولر بولنگ ایکشن ہے۔‘

اس سوال اور جواب کے بیچ ایک بات جو چند انڈین صارفین نے کہی وہ یہ تھی کہ عثمان طارق کا جب انڈیا کے بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے بلے بازوں سے سامنا ہو گا تو یہ ایک دیکھنے والا مقابلہ ہو گا۔

امیت شرما نامی صارف نے لکھا کہ ’اگر تو بلے باز اپنے جذبات پر قابو رکھ پائے تو وہ اچھا کھیل پائیں گے ورنہ نہیں۔‘

عثمان طارق کے ایکشن سے جڑے سوال نئے نہیں ہیں۔ حال ہی میں آسٹریلیا کے خلاف سیریز کے دوران جب بلے باز کیمرون گرین آوٹ ہونے کے بعد پویلین لوٹ رہے تھے تو اس دوران اُنھوں نے عثمان طارق کے بولنگ ایکشن کی نقل کی اور بظاہر اُن پر ’چکنگ‘ کا الزام لگایا۔

اس کے بعد اُن کے بولنگ ایکشن پر ایک نئی بحث شروع ہو گئی اور اب جبکہ عثمان طارق پاکستان کے ورلڈ کپ سکواڈ کا حصہ ہیں تو پاکستانی کپتان سلمان علی آغا نے عثمان طارق کے بولنگ ایکشن کا دفاع کرتے ہوئے اُنھیں ورلڈ کپ میں پاکستان کا ’ایکس فیکٹر‘ قرار دیا ہے۔

کولمبو میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے سلمان علی آغا کا کہنا تھا کہ اُنھیں سمجھ نہیں آتی کہ عثمان طارق کے بولنگ ایکشن پر سوال کیوں اُٹھایا جاتا ہے، ’ان کا دو مرتبہ بولنگ ایکشن کا ٹیسٹ لیا جا چکا ہے۔‘

اپنے بولنگ ایکشن کے بارے میں خود عثمان طارق کیا کہتے ہیں؟

عثمان طارق تقریباً ایک سال قبل ایک انٹرویو میں یہ بتا چکے ہیں کہ ان کا بولنگ ایکشن اس لیہ غیر معمولی ہے کیونکہ ان کی ’دو کہنیاں‘ ہیں۔

انھوں نے کہا کہ جب ان کے ایکشن پر اعتراض ہوا تو وہ ڈاکٹرز کے پاس گئے۔ ان کے دونوں بازوؤں کا جائزہ لیا گیا۔

عثمان طارق کے مطابق ان کے جسم کا فریم ’عام آدمی سے مختلف ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’یہ پیدائشی معاملہ ہے اور میرا بازو دو کہنیوں کی وجہ سے سیدھا نہیں ہو سکتا۔‘

پاکستان کرکٹ بورڈ نے سات مئی کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے سپینر عثمان طارق نے لاہور میں پی سی بی کی منظور شدہ بائیو مکینکس لیب میں ٹیسٹ کروانے کے بعد اپنے بولنگ اسسمنٹ کو کلیئر کیا ہے۔

پی سی بی کے مطابق عثمان کو 13 اپریل کو پی ایس ایل میں لاہور قلندرز کے خلاف میچ کے دوران مشتبہ بولنگ ایکشن کی اطلاع ملی تھی۔

اس کے بعد کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی انتظامیہ نے پی سی بی سے درخواست کی کہ وہ بولر کو ٹیسٹ کروانے کی اجازت دے جس کے نتیجے میں انھوں نے بولنگ اسسمنٹ کلیئر کی تھی۔

’عام آنکھ سے دیکھنے میں بولنگ ایکشن غیرقانونی محسوس ہو سکتا ہے، مگر ٹیسٹنگ میں یہ ثابت ہو ایسا ضروری نہیں‘

بی بی سی اُردو کےنے اس معاملے سے متعلق تکنیکی پہلوؤں کو جاننے کی غرض سے لمز یونیورسٹی سے منسلک بائیو مکینکس ایکسپرٹ پروفیسر میاں محمد اویس سے بات کی ہے۔ ماضی میں پاکستان کرکٹ بورڈ بولرز کے بولنگ ایکشن جانچنے کے لیے پروفیسر اویس کی خدمات حاصل کرتا رہا ہے۔

بی بی سی کے اسد صہیب سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’جہاں تک رُک (وقفہ) کر بولنگ کرنے کا معاملہ ہے تو اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے، تاوقتیکہ کہنی کا جو اینگل (زاویہ) ہے اس میں آنے والی تبدیلی (ہاریزینٹل آرم پوزیشن سے ڈیلیوری پھینکنے کے دوران) 15 ڈگری سے زیادہ نہ ہو۔ اگر کہنی میں آنے والا چینج 15 ڈگری یا اُس سے کم ہو تو ڈیلیوری قانونی (لیگل) ہو گی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ ضرور ہے کہ اگر کوئی بولر رُک (وقفہ) کر بولنگ کرتا ہے تو اس دوران بھی یہی قانون نافذ العمل رہتا ہے،آئی سی سی کے ضوابط میں رُک کر بولنگ کرنے کے حوالے سے کوئی شق نہیں ہے، قانون میں صرف 15 ڈگری خم کی بات ہے۔‘

پروفیسر اویس نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’بعض اوقات کسی بولر کی آرم فارمیشن میں قدرتی طور پر خم زیادہ ہو سکتا ہے، اور اسی لیے اگر اسے نیکیڈ آئی (عام آنکھ) سے دیکھا جائے تو محسوس ہو سکتا ہے کہ بولر چکنگ کر رہا ہے، مگر جب پیمائش لی جاتی ہے اور آئی سی سی سے منظور شدہ کیمروں سے چیک کیا جاتا ہے تو وہ چکنگ کے کیٹیگری میں نہیں آتا۔ یہ عین ممکن ہے کہ نیکیڈ آئی سے دیکھنے میں یہ محسوس ہو سکتا ہے کہ کوئی بولر چکنگ کر رہا ہے مگر ضروری نہیں کہ ٹیسٹنگ میں بھی یہ ثابت ہو جائے۔‘

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ فی الحال پاکستان میں بولنگ ایکشن کی ٹیسٹنگ کی آئی سی سی سے منظور شدہ فیسیلٹی موجود نہیں ہے۔

’پہلے لمز میں آئی سی سی کا منظور شدہ کیمرا سسٹم (جس کی مدد سے کسی بولر کا ایکشن ٹیسٹ کیا جا سکتا ہے) نصب تھا۔ 2016 میں یہ کیمرے ہمارے حوالے کیے گئے تھے اور 2019 میں انھیں آئی سی سی سے ایکریڈیٹ (منظور) کروایا گیا تھا، یہ سلسلہ گذشتہ سالتک چلا اور وہیں ہم بولرز کے ایکشن کی ٹیسٹنگ کرتے تھے۔ اب نیشنل کرکٹ اکیڈیمی اس حوالے سے اپنی فیسیلیٹی بنانا چاہتی ہے اور اسی لیے ساز و سامان وہاں (لمز) سے منتقل کیا گیا ہے، مگر نئی فیسیلیٹی ابھی منظور شدہ نہیں ہے۔ اسی لیے آفیشلی آئی سی سی ٹیسٹنگ ابھی پاکستان میں کہیں بھی نہیں ہو سکتی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ بولنگ ایکشن کی ٹیسٹنگ کے لیے دو طرح کے کیمرے استعمال ہوتے ہیں، ایک ہائی سپیڈ ویڈیو کیمرے ہوتے ہیں اور دوسرے انفراریڈ آئی آر کیمرے، جن کا ہائی سپیڈ فریم ریٹ ہوتا ہے۔

’آئی سی سی ضوابط کے مطابق 12 انفراریڈ آئی آر کیمرے اور دو ہائی سپیڈ کیمرے مختلف زوایوں پر لگا کر کسی بھی بولر کا آرم ایکشن ٹیسٹ کیا جاتا ہے، جس کو بعد میں آئی سی سی سافٹ ویئر کے ذریعے نتائج کو پراسیس کیا جاتا ہے اور ایکشن کے قانونی یا غیرقانونی ہونے سے متعلق فیصلہ کیا جاتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اس تمام عمل کو مکمل کرنے کے لیے ساز و سامان بھی آئی سی سی سے منظور شدہ ہونا چاہیے اور جگہ بھی (جہاں ٹیسٹنگ کی جاتی ہے)۔ پاکستان کے پاس ساز و سامان (کیمرے) تو منظور شدہ موجود ہے، جسے ہم ماضی میں استعمال کرتے رہے ہیں، مگر چونکہ ہم نے لمز سے یہ ساز و سامان این سی اے میں منتقل کیا ہے، تو اس جگہ کی ایکریڈیشن (منظوری) کا عمل جاری ہے۔‘

دبئی میں پیاز کاٹنے سے پاکستان کے ورلڈ کپ سکواڈ تک کا سفر، ’ایکس فیکٹر‘ سپنر عثمان طارق کی کہانیعثمان طارق کی ’حیرت‘ امریکہ پر بھاری پڑ گئیپی ایس ایل میں پہلی نیلامی اور ’مہنگے کھلاڑی‘: ’اب ہم باقی لوگ بہت سوچ سمجھ کر ٹیم میں شامل کریں گے‘’شکریہ شہباز شریف‘: پی سی بی اور آئی سی سی میٹنگ میں ایسا کیا ہوا کہ پاکستان نے انڈیا کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا فیصلہ بدل دیا؟ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور غیر ملکی ٹیموں کے لیے کھیلنے والے پاکستانی نژاد کرکٹرز: ٹیلنٹ پول کی نشاندہی یا کرکٹ کے نظام میں خرابی؟T20 ورلڈ کپ: آپ اپنے پسندیدہ کرکٹرز کے بارے میں کتنا جانتے ہیں؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More