انڈین خاتون ’سربجیت کور‘ کی اپنے پاکستانی شوہر کے گھر واپسی: ’ہمیں پیار کرتے آٹھ سال ہو گئے تھے، یقین تھا کہ ہم ضرور ملیں گے‘

بی بی سی اردو  |  Feb 12, 2026

انڈیا سے پاکستان آ کر شادی کرنے والی خاتون سربجیت کور (نور فاطمہ) نے کہا ہے کہ وہ اپنی باقی ماندہ زندگی پاکستان میں ہی ہنسی خوشی گزارنا چاہتی ہیں اور وہ پاکستان آنے کے اپنے فیصلے پر خوش ہیں۔

وسطی پنجاب کے ضلع شیخوپورہ میں اپنے وکیل احمد حسن پاشا کے چیمبر میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سربجیت کور (نور فاطمہ) کا مزید کہنا تھا کہ ’میں اور ناصر سچا پیار کرتے ہیں، اگر آپ سچا پیار کرتے ہیں تو آپ کو یقین ہوتا ہے کہ آپ ملیں گے۔‘

’ہمیں پیار کرتے ہوئے آٹھ سال ہو گئے تھے اور یہ یقین تھا کہ ہم دونوں کبھی نہ کبھی تو ضرور ملیں گے۔ اگر میرے منہ میں دانت نہ بھی رہتے (یعنی میں بوڑھی ہو جاتی) تو پھر بھی میں نے یہاں (پاکستان) ضرور آنا تھا۔‘

یاد رہے کہ جمعرات کی صبح سربجیت کور اپنے شوہر کے گھر شیخوپورہ پہنچی تھیں۔ اُن کے وکیل احمد حسن پاشا نے بی بی سی کو بتایا کہ متروکہ وقف املاک حکام نے سربجیت کو گھر جانے کی اجازت دی تھی، جس پر انھیں گزشتہ (بدھ) رات ویمن شیلٹر ہوم (دارالامان) لاہور سے ریلیز کر دیا گیا تھا۔

بی بی سی کو دستیاب متروکہ وقف املاک کے نوٹیفیکشن کے مطابق وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ ’سیاسی بنیادوں پر سربجیت کور کو ڈی پورٹ نہیں کیا جا سکتا۔‘

جمعرات کی شام اپنے شوہر کے ہمراہ میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سربجیت کور نے مزید کہا کہ ’میں اب سکون محسوس کر رہی ہوں اور مجھے خوشی ہے میں مذہب اسلام میں آئی ہوں اور سوہنے نبی کا کلمہ پڑھا ہے۔‘

اپنے مستقبل کے بارے میں کئے گئے سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’میں باقی کی زندگی ہنسی خوشی گزارنا چاہتی ہوں، اور جو کلمے مجھے نہیں آتے وہ میں سیکھوں گی۔‘

سربجیت کور (نور فاطمہ) کے پاکستانی شوہر ناصر حسین نے بھی میڈیا سے مختصر بات چیت کی اور کہا کہ وہ سربجیت کور (نور فاطمہ) سے شادی کرکے بہت خوش ہیں۔ ناصر حسین نے کہا کہ پاکستانی اداروں نے ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا اور انھیں کوئی شکوہ نہیں۔

اس موقع پر سربجیت کور (نور فاطمہ) نے ہاتھوں پر مہندی بھی لگا رکھی تھی۔

یاد رہے کہ سربجیت کور چار نومبر کو سکھ یاتریوں کے ہمراہ پاکستان آئی تھیں اور اُن کے ویزے کی معیاد 13 نومبر تک تھی تاہم وہ واپس انڈیا نہیں گئیں اور انھوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد وسطی پنجاب کے شہر شیخوپورہ کے رہائشی ناصر حسین سے شادی کر لی تھی۔

اس کے بعد سے سربجیت کور پاکستان میں ہی قیام پذیر تھیں اور تبدیلی مذہب کے بعد انھوں نے اپنا نام نور فاطمہ رکھ لیا تھا۔

سربجیت کور کو رواں برس کے آغاز پر (چار جنوری) ضلع ننکانہ صاحب کے علاقے سے حراست میں لے کر لاہور کے ویمن شیلٹر ہوم بھجوا دیا گیا تھا اور انھیں واہگہ بارڈر کے راستے انڈیا ڈی پورٹ کرنے کی تیاریاں بھی کی جا رہی تھیں تاہم آخری لمحات میں انھوں نے انڈیا واپس جانے سے انکار کر دیا تھا جس پر ان کو واپس بھیجنے کا عمل وقتی طور پر روک دیا گیا تھا۔

ان کی جانب سے حکومت پاکستان کو واپس انڈیا نہ بھیجنے کی درخواست بھی کی گئی جس پر پاکستان کے وزیرِ مملکت برائے امورِ داخلہ طلال چوہدری نے کہا تھا کہ حکومت کی جانب سے سربجیت کور کی درخواست پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر غور کیا جا رہا ہے اور ’کوشش کی جا رہی ہے کہ انھیں واپس نہ بھیجا جائے۔‘

وزیرِ مملکت نے سربجیت کور کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی جانے والی درخواست کا حوالہ بھی دیا تھا اور کہا تھا کہ ’عدالت نے بھی کہا تھا اور اس پر وزارتِ خارجہ کی معاونت بھی شامل ہے۔ اب وزارتِ داخلہ ان تمام چیزوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گی۔‘

اس سوال پر کہ کیا سربجیت کور کے مبینہ انڈین جاسوس ہونے کے حوالے سے بھی تحقیقات ہو رہی ہیں، طلال چوہدری نے کہا تھا کہ ’اس طرح کی چیزیں ہمارے ادارے کرتے رہتے ہیں۔ فی الحال تو ان کی وہ درخواست زیرغور ہے جس میں انھوں نے انسانی ہمدردی اور انڈیا میں اقلیتوں کے ساتھ روا سلوک کی بنیاد پر بات کی۔‘

’یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہو گی‘

تاہم دوسری جانب سابق پارلیمانی سیکریٹری اور پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے سابق سربراہ سردار مہیندرپال سنگھ کی جانب سے انڈین خاتون کو ڈی پورٹ کیے جانے کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

سردار مہیندرپال سنگھ نے بی بی سی سے باتکرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اگر حکومت سربجیت کور کے ویزے کی میعاد بڑھا دیتی ہے تو یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہوگی کیونکہ وہ خاتون اگر وزٹ ویزہ پر آئی ہوتیں تو مجھے کوئی اعتراض نہ ہوتا لیکن وہ یاترا کے ویزے پر آئی ہے۔‘

انھوں نے کہا تھا کہ ’اگر کوئی ہندو یہاں سے سعودی عرب جا کر اسلام قبول کر لے تو کیا سعودی عرب اس کو وہیں رہنے کی اجازت دے گا؟‘

سردار مہیندرپال سنگھ کے مطابق ’سربجیت کور انڈیا سے سکھوں کے پہلے گرو بابا گرو نانک دیو جی کا جنم دن منانے پاکستان آئی تھیں لیکن ان کے بقول اس واقعے نے مذہبی تقریب کو متنازع بنا دیا۔‘

’ہمیں ان کے اسلام قبول کرنے پر اعتراض نہیں، دنیا میں بہت سے لوگ اسلام قبول کرتے ہیں۔ میرا اعتراض اس بات پر ہے کہ یاترا ویزے کو متنازع بنا دیا گیا اور ایک مقدس دن کو تنازع میں بدل دیا گیا۔‘

انھوں نے مزید کہا تھا کہ ’اگر کوئی شخص ویزے کی مدت ختم ہونے کے بعد قیام کرتا ہے تو یہ غیر قانونی عمل ہے اور قانون کے مطابق اس کے نتائج بھگتنا پڑتے ہیں۔‘

سردار مہیندر پال سنگھ نے یہ بھی کہا تھا کہ ’سکھوں کے پاس دنیا میں ایک ہی ملک ہے جہاں وہ مذہبی عقیدت کے ساتھ آتے ہیں، وہ پاکستان ہے۔ کیا یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کہ آپ غیر قانونی اقدام کرنے والے فرد کی حمایت کر رہے ہیں؟‘

خیال رہے کہ اس سے قبل سربجیت کور کے وکیل احمد حسن پاشا نے بی بی سی اردو سے گفتگو میں دعویٰ کیا تھا کہ سربجیت کور کو اُن کی مرضی سے انڈیا واپس بھجوایا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا تھا کہ فارنرز ایکٹ 1946 کے تحت سربجیت کور فی الحال پاکستان میں قیام کی مجاز نہیں تھیں اور اسی لیے انھیں واپس انڈیا روانہ کیا جا رہا ہے۔

احمد حسن پاشا نے کہا تھا کہ سربجیت کور اب انڈیا سے ’سپاؤز ویزہ‘ حاصل کریں گی جس کے بعد وہ دوبارہ پاکستان آ سکتی ہیں اور پاکستان آ کر یہاں مستقل رہائش کی درخواست دے سکتی ہیں۔

’سربجیت کور کے پاس یاتری ویزہ تھا جس کی معیاد صرف دس روز تھی، یاتری ویزہ محدود شہروں کا ہوتا ہے اور اس میں توسیع نہیں ہو سکتی تھی۔‘

سربجیت کور کے خلاف ہائیکورٹ میں کیس کی پیروی کرنے والے وکیل علی چنگیزی سندھو ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ ان کا کیس تاحال عدالت عالیہ میں زیر سماعت ہے اور لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر نے پانچ دسمبر کی سماعت کے دوران فیڈرل کیبنٹ ڈویژن، آئی جی پنجاب پولیس اور ایف آئی اے سمیت دیگر متعلقہ اداروں سے رپورٹس طلب کر رکھی ہیں اور پاکستانی ادارے اسی لیے سربجیت کور کو جلد از جلد ان کے ملک بھجوانا چاہتے ہیں۔

سربجیت کور اور اُن کے شوہر زیرِ حراست

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیر برائے اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے چند روز قبل تصدیق کی تھی کہ سربجیت کور اور اُن کے پاکستانی شوہر ناصر حسین کو حراست میں لے لیا گیا۔

صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑہ کے مطابق چار جنوری کو ننکانہ صاحب کے ایک گاؤں ’پہرے والی‘ میں سربجیت کور اور ناصر حسین کی موجودگی کے بارے میں اطلاع ملنے پر خفیہ تحقیقاتی ادارے کی ٹیم نے فوری کارروائی کی تھی۔

اُن کا کہنا تھا کہ اس کارروائی کے دوران سربجیت اور ناصر کو حراست میں لے لیا گیا اور پھر انھیں ننکانہ صاحب پولیس کے حوالے کیا گیا۔

صوبائی وزیر کے مطابق پولیس اور انٹیلیجنس بیورو کے افسران نے ان سے مشترکہ طور پر تفتیش کی جس سے علم ہوا کہ سربجیت اور ناصر سنہ 2016 میں ٹک ٹاک پر ملے اور ان دونوں نے متعدد مواقع پر ویزے کے لیے درخواستیں بھی دیں، تاہم قانونی وجوہات کی بنا پر اُن کی ویزا درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔

رمیش اروڑہ کے مطابق چار نومبر 2025 کو ناصر گوردوارہ جنم ستھان، ننکانہ صاحب، گئے جہاں سے وہ سربجیت کور کے ساتھ اپنے آبائی علاقوں یعنی فاروق آباد ضلع شیخوپورہ چلے ائے۔

صوبائی وزیر کا کہنا ہے کہ تحقیقات کی روشنی میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ سربجیت کور کو ملک بدری کی مزید کارروائی کے لیے ای ٹی پی بی (متروکہ وقف پراپرٹی بورڈ) کے حوالے کیا جائے گا، جو انھیں ملکی قانون کے مطابق انڈیا واپس بھجوائے گا جبکہ ان کے شوہر زیر تفتیش رہے گا اور اس کے موبائل فون کے فرانزک تجزیہ کروایا جائےگا، جس کے بعد مزید کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔

پاکستان آنے والی انڈین خاتون انجو: ’میں یہاں نصراللہ سے ملنے اور گھومنے آئی ہوں، شادی کا کوئی ارادہ نہیں‘سات ماہ کی حاملہ گوجرانوالہ کی ماریہ کو انڈیا چھوڑنے کا حکم: ’بچے کے منتظر تھے لیکن اب سب کچھ بدل گیا ہے‘محبت میں گرفتار ہو کر انڈیا پہنچنے والی پاکستانی خاتون: ’پب جی گیم کے ذریعے میری بیوی کو ورغلایا گیا، بچوں سمیت واپس لایا جائے‘پاکستانی خاتون سلمیٰ جو 38 برس کی شادی شدہ زندگی کے بعد بھی ’انڈیا کی بہو‘ قرار دیے جانے کی منتظر ہیںعدالت کا جوڑے کو ہراساں نہ کرنے کا حکم

خیال رہے کہ نومبر میں سربجیت کور کی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب پولیس کو ہراساں نہ کرنے کا حکم دیا تھا۔

سربجیت کے وکیل احمد حسن پاشا کے مطابق پنجاب پولیس نے آٹھ نومبر کو سربجیت اور ناصر کی تلاش میں ان کے گھر پر چھاپہ مارا تھا اور ان پر شادی ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا تھا اور اس درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ پولیس سربجیت کور اور ناصر حسین کی شادی شدہ زندگی میں مداخلت نہ کرے۔

سماعت کے بعد لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس فاروق حیدر نے پنجاب پولیس کو سربجیت کو ہراساں کرنے سے روک دیا تھا اور اس بارے میں آئی جی پنجاب پولیس کو احکامات جاری کیے تھے۔

تاہم شیخوپورہ پولیس کے ترجمان رانا یونس نے بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ پولیس نے کسی انڈین خاتون یا اس کے پاکستانی شوہر کو ہراساں نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس بارے جو الزامات لگائے گئے ہیں وہ حقیقت کے برعکس ہیں اور پولیس کا ان کے ساتھ کوئی تعلق واسطہ نہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ 'چونکہ یہ معاملہ حساس نوعیت کا ہے اس لیے اسے مختلف ادارے دیکھ رہے ہیں اور جو فیصلہ بھی ہو گا وہ پاکستان کے قانون کے مطابق ہی ہو گا۔‘

سربجیت کے وکیل کا کہنا ہے کہ انھوں نے 15 نومبر کو ’دونوں کو اپنے چیمبر بلایا تھا تاکہ یہ دونوں ملکی اداروں کے افسران کے روبرو اپنے بیانات قلمبند کروا سکیں لیکن وعدہ کرنے کے باوجود دونوں میاں بیوی نہیں آئے اور ناصر حسین کا موبائل فون بھی بند ہو گیا۔‘

سربجیت کور چار نومبر کو سکھ یاتریوں کے ہمراہ پاکستان آئی تھیں اور انھیں اگلے روز بابا گرونانک کے یوم پیدائش کے موقع پر ننکانہ صاحب جانا تھا مگر سات نومبر کو خاتون کی طرف سے شیخوپورہ کے جوڈیشل مجسٹریٹ میں دائر کیے گئے بیان کے مطابق انھوں نے پاکستان آمد کے بعد اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا اور ناصر حسین نامی پاکستانی شہری سے شادی کر لی تھی۔

اس بیان میں ان کے وکیل احمد حسن پاشا ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ اس شادی کا اندراج شیخوپورہ کی متعلقہ یونین کونسل میں کرایا گیا۔

شیخوپورہ کے جوڈیشل مجسٹریٹ محمد خالد محمود وڑائچ کی عدالت میں جو دستاویزات جمع کروائے گئے، ان کے مطابق سربجیت کور نے قاری حافظ رضوان بھٹی کے ہاتھوں اسلام قبول کیا جس کے بعد ان کا اسلامی نام ’نور‘ رکھا گیا۔ انھیں پانچ نومبر کو سند قبولِ اسلام جاری کی گئی تھی۔

عدالت میں جو نکاح نامہ جمع کروایا گیا، اس کے مطابق ناصر حسین کی عمر 43 سال جبکہ دلہن کی عمر ساڑھے 48 سال بنتی ہے۔ نکاح نامے کے مطابق حق مہر دس ہزار روپے مقرر کیا گیا۔

اس میں یہ بھی درج ہے کہ ناصر حسین پہلے سے شادی شدہ ہیں اور انھیں دوسری شادی کی اجازت کی ضرورت نہیں۔

انڈین خاتون کی جانب سے پولیس کے خلاف عدالت میں ایک شکایت بھی دائر کی گئی، جس میں پولیس پر دھمکیاں دینے اور جھوٹا مقدمہ درج کرنے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

انھوں نے جوڈیشل مجسٹریٹ محمد خالد محمود وڑائچ کی عدالت میں زیرِ دفعہ 200 کے تحت دائر کیے جانے والے استغاثہ میں موقف اختیار کیا کہ انھوں نے اپنی خوشی سے ناصر حسین سے نکاح کیا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے کسی نے اغوا نہیں کیا، میں نے اپنی آزاد مرضی سے شادی کر لی۔ میں اپنے والدین کے گھر سے صرف تین کپڑوں میں آئی ہوں اور کوئی چیز اپنے ساتھ نہیں لائی ہوں۔‘

اس بیان میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’پولیس میرے نکاح کرنے کی وجہ سے سخت ناراض ہے اور 5 نومبر کو رات 9 بجے پولیس اہلکار زبردستی ہمارے گھر میں داخل ہوئے اور مجھے کہا کہ ہمارے ساتھ چلو مگر میرے انکار پر وہ غصے میں آ گئے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’میرے شور مچانے پر اہل محلہ بھی آ گئے جنھوں نے منت سماجت کر کے ہماری جان بخشی کروائی۔‘ انڈین خاتون نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ انھیں اور ان کے خاوند کو پولیس سے تحفظ فراہم کیا جائے۔

سربجیت کور ناصر حسین کو ’نو سال سے جانتی تھیں‘

انڈین میڈیا کی خبروں کے مطابق سربجیت کا تعلق ریاست پنجاب کے ضلع کپور تھلہ سے ہے جہاں کی پولیس کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر تحقیقات جاری ہیں۔

انڈین نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق وہ تقریباً دو ہزار سکھ یاتریوں کے گروہ میں شامل تھیں۔ یہ گروپ 10 دن کے دورے کے بعد 13 نومبر کو انڈیا واپس آیا لیکن سربجیت کور ان کے ساتھ واپس نہیں گئیں۔

کپور تھلہ پولیس کے اے ایس پی دھیریندر ورما کا کہنا ہے کہ سربجیت کی طرف سے مذہب کی تبدیلی کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں جنوری 2024 کو پاسپورٹ جاری کیا گیا تھا۔

انڈین میڈیا کی خبروں کے مطابق سربجیت طلاق یافتہ ہیں اور ان کی پچھلی شادی سے دو بیٹے ہیں جبکہ ان کے سابقہ شوہر قریب تین دہائیوں سے انگلینڈ میں مقیم ہیں۔

ضلع کپور تھلہ کے گاؤں تلوندی چوہدریاں کے ایس ایچ او نرمل سنگھ کے مطابق انھیں اس بارے میں اطلاع گاؤں کے سرپنچ سے ملی۔

دوسری طرف وکیل احمد حسن پاشا کا کہنا ہے کہ ناصر حسین پیشے کے اعتبار سے زمیندار ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کے ساتھ ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں سربجیت کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ان کی طلاق ہو گئی ہے اور انھوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کرنے اور ناصر حسین سے شادی کا فیصلہ کیا۔

وہ کہتی ہیں کہ وہ ناصر حسین کو نو سال سے جانتی ہیں۔

وکیل احمد حسن پاشا نے بتایا کہ سربجیت اور ناصر کی بات چیت انسٹاگرام پر ہوتی رہی اور چھ ماہ قبل دونوں نے شادی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ دونوں ان کے پاس قانونی مدد کے لیے آئے تھے۔

پاکستان آنے والی انڈین خاتون انجو: ’میں یہاں نصراللہ سے ملنے اور گھومنے آئی ہوں، شادی کا کوئی ارادہ نہیں‘پب جی دوستی:’میں زہر کھا لوں گی،اپنا گلا کاٹ لوں گی لیکن پاکستان واپس نہیں جاؤں گی‘ویزہ حاصل کرنے کی ناکامی اور منگنی کے بعد 7 سال انتظار: پاکستانی اور انڈین جوڑی کی شادی کیسے ممکن ہوئی؟ٹک ٹاک پر انڈین ڈانسر کی محبت میں گرفتار پولش خاتون: ’میرا بس چلے تو کل ہی شاداب سے شادی کر لوں‘محبت میں گرفتار ہو کر انڈیا پہنچنے والی پاکستانی خاتون: ’پب جی گیم کے ذریعے میری بیوی کو ورغلایا گیا، بچوں سمیت واپس لایا جائے‘پاکستانی خاتون سلمیٰ جو 38 برس کی شادی شدہ زندگی کے بعد بھی ’انڈیا کی بہو‘ قرار دیے جانے کی منتظر ہیں
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More