اسے جرمنی کی حالیہ تاریخ کی سب سے ’حیران کُن‘ بینک ڈکیتی قرار دیا گیا ہے۔
کرسمس کے فوراً بعد ایک پُر سکون ویک اینڈ پر چوروں کا ایک گروہ ملک کے مغربی قصبے گلیزن کیرچن میں واقع ایک بینک کی دیوار میں ایک بڑی ڈِرل مشین سے سوراخ کر کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوا۔
انھوں نے تین ہزار سے زیادہ لاکرز لوٹ لیے اور کروڑوں یورولے کر فرار ہو گئے۔
اس واردات کو ایک مہینے سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے لیکن پولیس اب تک کوئی گرفتاری نہیں کر سکی ہے۔
بینک کے کچھ کسٹمرز کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس واردات میں اپنی زندگی بھر کی تمام جمع پونجی اور قیمتی خاندانی زیورات کھو دیے ہیں۔ یہ تمام لوگ بہت غصے اور صدمے کا شکار ہیں۔
ایسا لگتا ہے جیسے لوگ اداروں پر اعتماد کھو رہے ہیں۔
یہ کیس کئی مشکل سوالات کو جنم دے رہا ہے اور ان میں سے کچھ کو مغربی جرمن ریاست نورڈرائن ویسٹ فالن کے وزیر داخلہ ہربرٹ رُوئل نے واضح طور پر بیان کیا ہے۔
کسی کو کیوں معلوم نہ ہو سکا کہ بینک کے اندر کیا ہو رہا ہے؟ کیا یہ کوئی اندرونی سازش تھی؟
کسی نے ڈرل مشین کی آواز کیوں نہیں سنی اور چوروں کو یہ کیسے معلوم تھا کہ تجوری کہاں موجود ہے؟
کیا بینک کا سکیورٹی سسٹم اتنا کمزور تھا؟
اس علاقے میں اب پولیس عینی شاہدین سے اپیل کر رہی ہے کہ وہ سرکاری اہلکاروں کے ساتھ معلومات شیئر کریں۔
تحقیقاتی ٹیم کا ماننا ہے کہ چورغالباً بیور کے علاقے میں واقع ایک کثیر المنزلہ عمارت کے ذریعے اسپارکاسے سیونگز بینک میں داخل ہوئے تھے۔
تحقیقاتی ٹیم کا خیال ہے کہ چوروں نے شاید کار پارکنگ اور بینک کے درمیان موجود دروازے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تھی۔
عام حالات میں یہ دروازہ باہر سے نہیں کھل سکتا لیکن چوروں نے یہ یقینی بنایا کہ یہ دروازہ صحیح طرح بند نہ ہو، جس کے بعد انھیں ’کار پارکنگ سے بینک کی عمارت تک بلا رکاوٹ رسائی‘ حاصل ہو گئی۔
پولیس کا ماننا ہے کہ وہاں سے چوروں نے کئی سکیورٹی سسٹمز کو ناکارہ بنایا اور بینک کے تہہ خانے میں تجوری کے ساتھ واقع ایک کمرے تک پہنچ گئے۔
انہوں نے اس کمرے میں ڈرل مشین نصب کی اور دیوار میں 40 سینٹی میٹر چوڑا سوراخ کیا، جس کے بعد وہ وہاں پہنچنے میں کامیاب ہو گئے جہاں لاکرز رکھے گئے تھے۔
حکام کے مطابق یہ واردات غالباً ہفتہ 27 دسمبر اور پیر 29 دسمبر کے درمیان ہوئی ہوگی۔ ان کا خیال ہے کہ چور تجوری تک پہنچنے سے کچھ دیر پہلے تقریباً پکڑے جانے کے قریب تھے، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔
بلوچستان کے سرکاری مال خانے سے چھ من منشیات غائب: ’کھڑکی توڑ کر داخل ہونے والے چور صرف افیون اور چرس لے گئے‘ 100 روپے کی گندم چوری کا مقدمہ لیکن ملزم کی گرفتاری میں 45 سال کیوں لگے؟ڈرل مشین کی مدد سے ہونے والی تین کروڑ یورو چوری کی واردات: ’اوشن الیون کی طرز پر ہوئی چوری پیشہ ورانہ انداز میں کی گئی‘لندن ’محفوظ نہیں‘ رہا: ’میں نے اپنے چوری شدہ فون کو لندن، دبئی اور پھر چین جاتے دیکھا‘
گلیزن کیرچن میں 27 دسمبر کو صبح چھ بجے کے فوراً بعد فائر بریگیڈ اور ایک نجی سیکیورٹی کمپنی کو بینک میں نصب آگ کے الارم سے وارننگ موصول ہوئی تھی، جو ممکن ہے چوروں کے سبب جاری ہوئی ہو۔
پولیس کے بیان کے مطابق 27 دسمبر کو صبح سوا چھ بجے پولیس اور 20 فائر فائٹرز بینک پہنچے تھے ’لیکن انہیں کوئی ایسی چیز نظر نہیں آئی جو کسی قسم کے نقصان کی نشاندہی کرتی ہو۔‘
ہربرٹ رُوئل نے انکشاف کیا کہ فائر الارم کی وارننگ تجوری کے اندر سے آئی تھی۔
مگر فائر فائٹرز اندر داخل نہیں ہو سکے تھے کیونکہ دروازے کا شٹر بند تھا۔
رُوئل نے کہا کہ فائر فائٹرز کو ’نہ دھواں نظر آیا، نہ آگ کی بو محسوس ہوئی اور نہ ہی کوئی نقصان دکھا‘، اس لیے انھوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ ’یہ جھوٹا الارم تھا‘، جو ان کے مطابق غیر معمولی بات نہیں تھی۔
انہوں نے ریاستی اسمبلی کی ایک کمیٹی کو بتایا کہ اس وقت پولیس کو بینک کی تلاشی لینے کے اختیارات حاصل نہیں تھے کیونکہ یہ معاملہ فائر بریگیڈ کے دائرہ کار میں آتا تھا۔
ان کے مطابق پولیس کو تلاشی لینے کے لیے وارنٹ درکار ہوتا ہے۔
اندر داخل ہونے کے بعد چوروں نے تقریباً تمام 3250 لاکرز کھولے اور نقدی، سونا اور زیورات لے کر فرار ہو گئے۔
ریاستی وزیرِ داخلہ کا کہنا ہے کہ بینک کے کمپیوٹر سسٹمز کے مطابق پہلا لاکر 27 دسمبر کو صبح 10:45 پر توڑا گیا اور آخری 2:44 پر، یہ واضح نہیں کہ آیا چوروں نے صرف چار گھنٹوں میں سارے لاکر کھول لیے یا پھر ٹیکنالوجی کی مدد سے ڈیٹا کو خراب کیا گیا تھا۔
Reutersاسپارکاسے بینک گلیزن کیرچن میں واقع ہے
عینی شاہدین نے بعد میں پولیس کو بتایا کہ انہوں نے 28 دسمبر کی رات کو کار پارکنگ کی سیڑھیوں پر کئی افراد کو بڑے بیگ اٹھائے ہوئے دیکھا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ انھیں یہ نہیں معلوم کہ بینک سے کتنی مالیت کا سامان چوری ہوا ہے، لیکن جرمن میڈیا کا اندازہ ہے کہ چور تقریباً 100 ملین یورو (33 ارب 16 کروڑ پاکستانی روپے ) سے زیادہ کا سامان لوٹ کر فرار ہوئے ہیں۔
پولیس نے بعد میں کار پارکنگ میں نصب سکیورٹی کیمروں سے لی گئی تصاویر اور ویڈیو جاری کیں، جن میں چہروں پر نقاب ڈالے ہوئے افراد اور دو گاڑیاں نظر آئیں: ایک سیاہ آوڈیآر ایس سکس اور ایک سفید مرسڈیز، دونوں پر جعلی نمبر پلیٹیں لگی ہوئی تھیں۔
اس چوری کا پتا 29 دسمبر تک نہیں لگ سکا تھا۔ جب پیر کی صبح 03:58 پر ایک اور فائر الارم بجا اور فائر فائٹرز دوبارہ بینک پہنچے تو وہاں افراتفری کے مناظر نظر آئے۔
ہربرٹ رُوئل نے کہا کہ وہاں منظر بالکل ’کچرے کے ڈھیر‘ جیسا لگ رہا تھا، فرش پر پانچ لاکھ سے زیادہ اشیا بکھری ہوئی تھیں، یہ وہی سامان تھا جو لاکرز کے اندر موجود تھا اور اسے چور پیچھے چھوڑ گئے تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بہت سی اشیا کو نقصان پہنچا ہے کیونکہ چوروں نے ان پر پانی اور کیمیکلز پھینکے تھے۔ اس کے بعد سے حکام نہایت محنت سے ملبے میں سراغ تلاش کر رہے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کون سی چیز کس کی ہے۔
جیسے ہی ڈکیتی کی تفصیلات منظرِ عام پرآئیں تقریباً 200 کسٹمرز اسپارکاسے بینک کے باہر جمع ہوگئے اور اندر جانے کی اجازت کا مطالبہ کیا۔
اس وقت پولیس کی گاڑیاں وہاں پہنچیں اور داخلی راستے کو محفوظ کیا گیا۔
63 سالہ جوآخِم الفریڈ ویگنر کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس واردات میں صرف لاکھوں روپے کا سونا ہی نہیں کھویا بلکہ وہ ان زیورات سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے جو ان کے والد، دادا اور دادی کے تھے۔
انہوں نے اپنے اپارٹمنٹ میں ہونے والی متعدد چوری کی وارداتوں کے بعد بینک میں ایک لاکر کرائے پر لیا تھا، یہ سوچ کر کہ ان کی قیمتی اشیا یہاں محفوظ رہیں گی۔
وہ کہتے ہیں کہ چوری کی واردات کا سُن کر ’میں غصّے سے رو پڑا۔‘
بینک کا کہنا ہے کہ سکیورٹی باکسز کے اندر موجود سامان عموماً بیمہ شدہ ہوتا ہے، فی باکس انشورنس 10 ہزار تین سو یورو ہوتی ہے۔
جوآخِم الفریڈ ویگنر اُن پہلے افراد میں سے ایک ہیں جنھوں نے بینک کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے اور وہ اپنے نقصان کا ہرجانہ مانگ رہے ہیں۔
ان کے وکیل ڈینیئل کولمان نے چوری کی وجہ ’ناقص سیکیورٹی‘ کو قرار دیا ہے۔
ایک اور کسٹمر نے چار لاکھ یورو میں اپنا فلیٹ فروخت کیا تھا اور اپنی ریٹائرمنٹ کے فنڈ کے طور پر رقم بینک میں جمع کروائی تھی۔
بینک کا کہنا ہے کہ وہ خود بھی اس جرم کا شکار بنا ہے اور اس کے مطابق اس کی عمارت ’جدید اور تسلیم شدہ ٹیکنالوجی کے تحت محفوظ‘ تھی۔
کچھ کسٹمرز کے پاس اپنے لاکرز میں موجود سامان کی باقاعدہ رسیدیں ہیں، جبکہ کچھ کے پاس نہیں ہیں۔
ہربرٹ رُوئل کا کہنا ہے کہ ’خود اسپارکاسے بینک کو بھی نہیں معلوم کہ (ان باکسز) میں کیا تھا، کیونکہ ان میں ہر شخص جو چاہے رکھ سکتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ اس واردات سے لوگوں کو پہنچنے والے نفسیاتی صدمے کو بھی کم نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ: ’ہمیں متاثرین کی مدد کرنی چاہیے۔ بہت سے لوگوں کے لیے صرف یہ قیمتی اشیا کا نقصان نہیں بلکہ اس سے ان کے احساس تحفظ پر بھی اثر پڑا ہے۔‘
پولیس چیف ٹِم فرومائر نے کہا کہ وہ ’نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کی تاریخ کے سب سے بڑے کیس میں سے ایک‘ کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میرا محکمہ اور اس کے تمام ملازمین اس کیس کی سنگینی سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ مالی نقصان، بے یقینی اور مایوسی بہت گہری ہے۔‘
کوئٹہ سے قرآن کے 120 قدیم اور ہاتھ سے لکھے نسخوں کی چوری: ’چور اُس وقت آئے جب بجلی نہ ہونے کے سبب اندھیرا تھا‘ایک آئی فون کی چوری جس نے 40000سے زیادہ چوری شدہ فون چین سمگل کرنے والے گینگ کو بے نقاب کیا وہ ترقی یافتہ ملک جہاں ہر پانچ منٹ میں ایک گاڑی چوری ہوتی ہے1.7 ارب روپے کے ٹوائلٹ کی چوری میں تین افراد کو سزائیں لیکن ٹوائلٹ پھر بھی برآمد نہ کیا جا سکاصحرائی پودے کیکٹس کی 10 لاکھ ڈالر کی چوری جو ایک سمگلر کے زوال کی وجہ بنیبرطانیہ سے ’چوری شدہ‘ رینج روور کی کراچی میں موجودگی کا انکشاف: ’یہ گاڑی یقینی طور پر زمینی راستے سے تو آئی نہیں ہو گی‘