Getty Images
اسلام آباد کے پمز ہسپتال کی انتظامیہ کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کو آنکھ کے علاج کے لیے 23 اور 24 فروری کی درمیانی شب دوبارہ ہسپتال لایا گیا۔
پمز ہپستال کی انتظامیہ کے مطابق ’عمران احمد خان نیازی ولد اکرام اللہ خان نیازی (عمر 74 سال) کو 24 فروری 2026 کو آنکھوں کے فالو اپ علاج یعنی دوسری خوراک کے لیے پمز لایا گیا۔‘
ہسپتال کی جانب سے جاری مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ ’انھیں (عمران خان کو) انٹرا وٹریل انجیکشن کی دوسری خوراک لگائی گئی۔ یہ طریقہ کار بطور ڈے کیئر سرجری انجام دیا گیا۔‘
یاد رہے اس سے قبل 12 فروری کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو حکم دیا تھا کہ ماہر ڈاکٹروں کی موجودگی میں 16 فروری سے پہلے سابق وزیر اعظم عمران خان کی آنکھ کا معائنہ کروایا جائے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے عدالت کی طرف سے مقرر کیے گئے 'فرینڈ آف کورٹ' سلمان صفدر کی طرف سے عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ کی روشنی میں یہ حکم دیا تھا۔
رات کو خفیہ ہسپتال آمد پر پی ٹی آئی کو اعتراض، حکومت کا ردعمل
عمران خان کی جماعت کا مؤقف ہے کہ ان کے رہنما کا علاج ذاتی معالجین اور خاندان کی موجودگی میں کروایا جائے۔ منگل کو سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ حکومت کا خفیہ طور پر دوسری بار عمران خان کو ہسپتال لانا ’خود اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ سنجیدہ ہے۔‘
ہسپتال کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے بعد سابق وزیراعظم کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف نے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایک پریس ریلیز جاری کی گئی جس میں تصدیق کی گئی ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو ہسپتال لایا گیا اور ان کی آنکھوں کے علاج کے لیے دوسری خوراک دی گئی اور ڈے کیئر سرجری کا یہ عمل رضامندی کے ساتھ انجام دیا گیا۔‘
دوسری جانب عمران خان کی ہسپتال آمد پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے منگل کو سینٹ کے اجلاس میں بتایا کہ عمران خان کو ڈاکٹرز کی مشاورت کے بعد دوا کی دوسری ڈوز دی گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم کو ان کی مرضی سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں لایا گیا، جہاں چار ڈاکٹروں پر مشتمل ایک پینل نے ان کا طبی معائنہ کیا۔
اعظم نذیر تارڑ نے مزید کہا کہ جیل مینوئل کے تحت ہی قیدیوں کا علاج ہوتا ہے اور جیل مینوئل میں یہ کہیں بھی نہیں لکھا کہ کسی بھی قیدی کی منشا کے مطابق اس کا اعلاج کیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ عمران خان کا طبی معائنہ کرنے والی ڈاکٹروں کی ٹیم میں الشفا آئی اسپتال کے ڈاکٹر ندیم اور پمز کےپروفیسر عارف بھی شامل ہیں۔
وفاقی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ عمران خان کو رات کے وقت ہسپتال لانے کا فیصلہ سکیورٹی اور امن وامان کی صورت حال اور سڑکوں پر ٹریفک کا دباو کم ہونے کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا تھا۔
سلمان صفدر نے رپورٹ کے نکات عدالت میں پڑھتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان کی صحت اور بالخصوص ان کی آنکھ کی بیماری سے متعلق فوری مداخلت کی ضرورت ہے۔
انھوں نے کہا تھا کہ بہتر ہو گا کہ عمران خان کا طبی معائنہ ان کے خاندان کے کسی رکن کی موجودگی میں کروایا جائے تاہم عدالت نے یہ درخواست منظور نہیں کی۔
سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا تھا کہ امراضِ چشم کے ماہرین کی ٹیم جلد ہی اڈیالہ جیل کا دورہ کرے گی اور سابق وزیر اعظم کی آنکھ کا معائنہ کیا جائے گا، جس پر عدالت نے حکم دیا کہ یہ عمل 16 فروری سے پہلے مکمل کیا جائے۔
خیال رہے کہ گذشتہ ماہ تحریکِ انصاف نے ایک بیان میں ’باوثوق صحافتی ذرائع‘ کا حوالہ دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان کی دائیں آنکھ میں سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن نامی مرض کی تشخیص ہوئی ہے اور یہ خبر بھی سامنے آئی تھی کہ عمران خان کو علاج کے لیے اسلام آباد لایا گیا تھا۔
اس پر اسلام آباد کے پمز ہسپتال نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو ’دائیں آنکھ کی بینائی کمزور ہونے کی شکایت‘ پر سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب ایک آپریشن تھیٹر میں طبی علاج فراہم کرنے کی تصدیق کی تھی۔
پمز ہسپتال کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر رانا عمران سکندر کا ویڈیو بیان، جس کی پریس ریلیز ہسپتال کی ویب سائٹ پر بھی موجود ہے، میں بتایا گیا کہ عمران خان نے دائیں آنکھ کی بینائی کمزور ہونے کی شکایت کی تھی جس کے بعد ان کی آنکھ میں سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن کی تشخیص کی گئی تھی۔
پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بھی کہا تھا کہ عمران خان کو ’آنکھوں کے ایک معمولی مسئلے کے لیے ہسپتال لے جایا گیا تھا‘ تاہم ان کے بقول ان کی طبی حالت مستحکم ہے۔
وزیرِ اطلاعات نے سوشل میڈیا پر عمران خان کی صحت سے متعلق تشویشناک خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں تاہم سنیچر کے روز انھیں ہسپتال ضرور لے جایا گیا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ ’جیل میں معائنے کے دوران ڈاکٹرز نے بتایا کہ عمران خان کو آنکھوں کے ایک معمولی 20 منٹ کے عمل کے لیے پمز ہسپتال لے جانا ہو گا، جس کے بعد انھیں ہسپتال لایا گیا اور علاج کے بعد واپس جیل بھجوا دیا گیا۔‘
انھوں نے بتایا کہ عمران خان کی حالت ’بالکل ٹھیک ہے اور وہ صحت مند ہیں۔‘
عمران خان جیلر ہے یا قیدی؟عمران خان کی جیل میں پُش اپس لگانے کی تصویر کی حقیقت کیا ہے؟عمران خان کی میڈیکل رپورٹ: ’ورٹیگو‘ اور ’ٹائنائٹس‘ کیا ہوتا ہے؟حکومتی دستاویزات کے مطابق اڈیالہ جیل میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی زندگی کیسی ہے؟
واضح رہے کہ چند ہفتے قبل سابق وزیر اعظم عمران خان کا طبی معائنہ کرنے کے لیے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز یعنی پمز کے تین ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم نے اڈیالہ جیل کا دورہ کیا تھا۔
ڈاکٹروں کی اس ٹیم میں میڈیکل سپیشلسٹ کے علاوہ آنکھوں، کان اور گلے کے امراض کے سپیشلسٹ بھی موجود تھے۔
بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک سے بات کرتے ہوئے اڈیالہ جیل کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ہر ماہ ڈاکٹروں کی ایک ٹیم جیل کا دورہ کرتی ہے جہاں پر عمران خان کا طبی معائنہ کیا جاتا ہے۔
جیل اہلکار کے مطابق سابق وزیر اعظم نے کچھ روز قبل اپنی ایک انکھ میں انفیکشن کا ذکر کیا تھا اور دو ہفتے پہلے پمز کے ڈاکٹروں نے عمران خان کا طبی معائنہ کیا تھا جس میں انھوں نے اس انفیکشن کو دور کرنے کے لیے کچھ دوائیاں تجویز کی تھیں جو جیل اہلکار کے بقول ان کو فراہم کر دی گئی ہیں۔
اڈیالہ جیل کے اہلکار کے مطابق ڈاکٹروں کی ٹیم نے مجموعی طور پر عمران خان کو تندرست قرار دیا تھا۔
یاد رہے کہ ستمبر 2025 کے دوران اڈیالہ جیل کے حکام نے عمران خان کی صحت سے متعلق تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کروائی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ عمران خان نے مختلف اوقات میں، کندھے میں درد، کان اور دانت میں انفیکشن سمیت ’ورٹیگو‘ یعنی ’چکر آنے‘ کی شکایت کی جس کا بروقت علاج کیا گیا تھا۔
Getty Imagesعمران خان قریب دو سال سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور ان کے اہلخانہ جیل انتظامیہ پر باقاعدگی سے ملاقات نہ کروانے کا الزام عائد کرتے ہیںسینٹرل ریٹینل وین آکلوژن کیا ہے؟
حکومت اور عمران خان کے وکلا کے مطابق عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی اس لیے متاثر ہوئی کیونکہ وہ سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن سے متاثرہ ہیں۔
برطانیہ میں صحت عامہ کے ادارے این ایچ ایس کی ویب سائٹ کے مطابق معمر افراد میں بینائی کمزور ہونے کی عمومی وجہ ریٹینل وین آکلوژن یعنی پردۂ چشم کی نس میں رکاوٹ پیدا ہونا ہے جس سے وہاں خون کا لوتھڑا بن سکتا ہے۔
آنکھ کے کالے حصے کے پیچھے واقع پتلی تہہ ریٹینا کہلاتی ہے جو کہ پرانے وقتوں کے کیمروں کی فلم جیسی ہوتی ہے۔ نس میں رکاوٹ پیدا ہونے سے آنکھ سے خون یا دوسرے مائع ریٹینا میں لیک ہوتے ہیں جس سے زخم بنتے ہیں، سوجن ہوتی ہے یا آکسیجن کی قلت بھی ہوتی ہے۔ یوں روشنی جذب کرنے والی خلیات کے کام میں خلل پیدا ہوتی ہے اور بینائی کمزور ہوتی ہے۔
این ایچ ایس کے مطابق یہ حالت 60 سال سے کم عمر افراد میں عام نہیں ہے۔
ریٹینل وین آکلوژن کی دو اقسام ہیں جن میں سے ایک سینٹرل رینیٹل وین آکلوژن کہلاتی ہے جس میں رکاوٹ مرکزی نس میں پیدا ہوتی ہے۔ این ایچ ایس کے مطابق اس حالت میں بینائی زیادہ بُری طرح متاثر ہوتی ہے۔
این ایچ ایس کی ویب سائٹ کے مطابق اس حالت کی وجوہات میں ہائی بلڈ پریشر، ہائی کالیسٹرول، گلاکوما، ذیابیطس، سگریٹ نوشی اور خون کی نایاب بیماریاں شامل ہیں۔
ماہرین کی رائے ہے کہ اس حالت کی جلد تشخیص ضروری ہے تاکہ اس کا علاج ممکن ہو سکے۔
عمران خان کی میڈیکل رپورٹ: ’ورٹیگو‘ اور ’ٹائنائٹس‘ کیا ہوتا ہے؟حکومتی دستاویزات کے مطابق اڈیالہ جیل میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی زندگی کیسی ہے؟عمران خان کی جیل میں پُش اپس لگانے کی تصویر کی حقیقت کیا ہے؟عمران خان جیلر ہے یا قیدی؟کارکنوں کے بھیس میں پولیس اہلکاروں کی ’خفیہ‘ میٹنگز میں شرکت: وہ سرکاری گواہ جن کے بیانات نو مئی مقدمات میں سزاؤں کی وجہ بنے