افغان طالبان نے پاکستان کے خلاف حملوں میں کن ڈرونز کا استعمال کیا اور اُن کی صلاحیت کتنی تھی؟

بی بی سی اردو  |  Mar 05, 2026

BBCافغان طالبان کی جانب سے داغا گیا ایک ڈرون پاکستانی حدود میں گر کر تباہ ہوا تھا

گذشتہ دنوں افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کی جانب سے پہلی بار پاکستان کے خلاف حملوں میں ڈرونز کا استعمال کیا گیا ہے۔

طالبان کی وزارتِ دفاع نے اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ اس نے پاکستان کے تین شہروں میں کئی مقامات پر ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے ’متعدد فضائی حملے کیے ہیں۔‘ اُن کے مطابق یہ اقدام پاکستانی فضائی حملوں کے جواب میں اٹھایا گیا ہے۔

طالبان حکومت کے پاس چونکہ روایتی فضائیہ نہ ہونے کے برابر ہے اس لیے انھوں نے فضائی حملوں کی غرض سے دھماکہ خیز ڈرونز کا سہارا لیا گیا۔

یاد رہے کہ پاکستانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق 27 فروری کو میڈیا بریفنگ کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے کہا تھا کہ افغان طالبان رجیمنے سبی، ایبٹ آباد اور نوشہرہ میں حملوں کی غرض سے کچھ بیسک (انتہائی بنیادی ٹیکنالوجی کے حامل) ڈرونز استعمال کرنے کی کوشش کی تھی۔تاہم، انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ہمارے اینٹی ڈرون سسٹمز نے اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔‘

دوسری جانب 27 فروری ہی کو وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بھی اپنے ’ایکس‘ پر دعویٰ کیا تھا کہ ’فتنہ الخوارج (پاکستانی حکومت کی جانب سے طالبان شدت پسندوں کے لیے استعمال کی جانے والی اصطلاح) نے ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ پر چھوٹے ڈرونز لانچ کرنے کی کوشش کی مگر اینٹی ڈرون سسٹمز نے تمام ڈرونز کو مار گرایا۔ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔‘

بی بی سی کی ٹیم کو سکیورٹی ذرائع نے بتایا تھا کہ افغان طالبان کے ڈرونز نے تین مقامات کو نشانہ بنایا جن میں نوشہرہ کا آرٹلری سکول اور صوابی میں ایک پرائمری سکول کی عمارت بھی شامل ہے۔ تاہم سکیورٹی ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ ان تمام ڈرونز کو تباہ کر دیا گیا تھا۔

بی بی سی افغانستان کی فیکٹ چیک ٹیم کو معلوم ہوا ہے کہ ان کارروائیوں میں طالبان کی عبوری حکومت نے پاکستان کے خلاف دو قسم کے ڈرونز استعمال کیے ہیں، جن میں سے کچھ خودکش ڈرونز جبکہ چند کواڈ کاپٹرز (ایسے ڈرون جو چار پروں کی مدد سے اڑتے ہیں) شامل ہیں۔

یوکرین سے تعلق رکھنے والے عسکری اُمور کے ایک ماہر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی فیکٹ چیک ٹیم سے بات چیت میں دعویٰ کیا کہ ’عین ممکن ہے کہ طالبان حکومت کے پاس ڈرون کے پرزے خود بنانے کی صلاحیت نہ ہو اور اس بات کا امکان ہے کہ یہ پرزے انھوں نے دوسرے ممالک سے خرید کر افغانستان میں انھیں اسمبل (جوڑا) کیا ہو۔‘

حالیہ برسوں میں مختلف تنازعات کے دوران بغیر پائلٹ اڑنے والے ایئرکرافٹس اور خودکش ڈرونز کا میدانِ جنگ میں بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا ہے اور اس ٹیکنالوجی نے روایتی جنگ کی نوعیت کو نمایاں طور پر بدل دیا ہے۔

بغیر پائلٹ طیاروں اور خودکُش ڈرونز کا کردار روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ سے لے کر پاکستان اور انڈیا کے درمیان مئی 2025 میں ہونے والی جھڑپوں میں بھی کُھل کر سامنے آیا ہے۔

ان ڈرونز کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ دھماکہ خیز مواد سے لیس ہوتے ہیں اور ہدف پر جا کر پھٹ جاتے ہیں اور اسی لیے انھیں خودکش ڈرونز کہا جاتا ہے۔

یہ کاما کازی ڈرونز ہوتے ہیں اور ان کی شکل ایک چھوٹے میزائل سے مماثلت رکھتی ہے۔ یہ کم بلندی پر ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

کاما کازی ایک جاپانی اصطلاح ہے۔ یہ اصطلاح دوسری عالمی جنگ میں اُن جاپانی پائلٹس کے لیے استعمال کی گئی تھی جو دھماکہ خیز مواد سے بھرے اپنے جہازوں کو جانتے بوجھتے دشمن کے جہازوں اور اہداف سے ٹکرا دیتے تھے۔

طالبان حکومت نے کن ڈرونز کا استعمال کیا؟

بی بی سی فیکٹ چیک ٹیم نے افغان طالبان کی جانب سے داغے گئے ڈرونز کی تصاویر ماہرین کے ساتھ شیئر کی ہیں۔

ایک تصدیق شدہ حملے میں طالبان کے ڈرون نے خیبرپختونخوا کے علاقے صوابی میں ایک مقام کو نشانہ بنایا۔

اسی طرح کی ایک اور تصدیق شدہ ڈرون حملے کی فوٹیج کا جائزہ بھی لیا گیا۔ تصاویر کے تجزیے کے مطابق ان ڈرونز کے پروں کا پھیلاؤ تقریباً تین میٹر جبکہ کُل لمبائی تقریباً دو میٹر تھی۔

چونکہ یہ ڈرونز زیادہ مقدار میں دھماکہ خیز مواد لے جانے کے قابل نہیں ہوئے، اس لیے ان کی تباہ کن طاقت زیادہ نہیں ہے۔ ایک اور واقعے میں جب ایک ڈرون صوابی میں ایک دیوار کے قریب گر کر پھٹا (یا اسے مار گرایا گیا) تو دھماکے کی شدت دیوار کو نمایاں نقصان پہنچانے کے لیے بھی ناکافی رہی۔

تاہم کم مقدار میں دھماکہ خیز مواد کی صلاحیت والے یہ ڈرونز، اگر کسی ایسی جگہ گر جائیں جہاں لوگ موجود ہوں تو مہلک زخم آ سکتے ہیں اور لوگوں کی جان بھی جا سکتی ہے۔

طالبان حکومت کے استعمال کردہ ڈرونز کے بارے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ایک افغان ماہر نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ڈرونز دو طریقوں سے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

ان کے مطابق ’پہلی قسم وہ ہے جو 20 کلومیٹرکے فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنا سکتی ہے، ایسے ڈرونز کو ایک خاص ریموٹ کنٹرول کی مدد سے چلایا جاتا ہے اور ان میں چھ سے آٹھ کلوگرام دھماکہ خیز مواد لے جانے کی صلاحیت ہوتی ہے۔‘

’دوسری قسم ایک سافٹ ویئر کے ذریعے کام کرتی ہے اور ہدف کے محل وقوع کی تفصیلات اس میں فیڈ کی جاتی ہیں۔‘

ان ڈرونز کی پرواز کی حد کئی عوامل پر منحصر ہے مثلاً دھماکہ خیز مواد کا وزن، ایندھن کی مقدار اور موسم کی صورتحال۔ خود اس ڈرون کا وزن تقریباً 15 کلوگرام ہوتا ہے۔

یوکرین کے دفاع اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سربراہ رائے گارڈنر نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ڈرونز 150 سے 400 کلومیٹر کے فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں مگر اس دارومدار وار ہیڈ کے وزن پر ہے۔

عسکری قوت کا موازنہ: پاکستان کو افغان طالبان پر کس حد تک فوجی برتری حاصل ہے؟پاکستان کے کابل، قندھار پر فضائی حملے: کیا ان حملوں سے پاکستان اپنے مقاصد حاصل کر پائے گا یا پھر حقیقی جنگ کا خطرہ بڑھے گا؟فوجی آپریشن کی ڈرون ویڈیوز: کیا پاکستانی فوج کی شدت پسندوں کے خلاف حکمت عملی تبدیل ہوئی ہے؟سرحدی حملے اور سفارتی جمود: پاکستان اور افغانستان کا تصادم کیا رُخ اختیار کرے گا؟

بی بی سی نے یوکرین کے ٹیکنالوجی اور دفاعی معلومات کے ڈائریکٹر رائے گارڈنر کو ایک ڈرون کے باقی ماندہ حصوں کی تصاویر دکھائیں جو طالبان فورسز کے مطابق پاکستان کے علاقے صوابی پر فائر کیا گیا تھا۔

رائے گارڈنرنے کہا کہ ’ یہ ڈرون معروف نہیں ہے بلکہ مقامی طور پر تیار شدہ (دیسی ساختہ) معلوم ہوتا ہے۔‘

جن ڈرونز سے طالبان نے پاکستان میں حملہ کیا ان میں سے چند اپنی ظاہری شکل کے لحاظ سے’ڈیلی‘ نامی ڈرون سے بہت مشابہ ہیں جو ماضی میں ایک ترک ٹیکنالوجی کمپنی ’ٹیٹرا‘ تیار کرتی تھی۔

رائے گارڈنر کے مطابق ’طالبان کے ڈرونز فکسڈ وِنگ ہیں جن میں سنگل سلنڈر پٹرول سے چلنے والا انجن اور لکڑی کا پہیہ ہے۔ ایسی مشینیں مارکیٹ میں تفریحی ہوابازی کے شوقین افراد کے لیے دستیاب ہوتی ہیں۔‘

انھوں نے اپنے بیان میں شبہ ظاہر کیا کہ ’زیادہ امکان ہے کہ ان مشینوں کے پرزے کسی اور ملک میں تیار کیے گئے ہوں۔‘

پاکستان پر حملے کے لیے طالبان حکومت کے استعمال کیے جانے والے ڈرون کے بچے ہوئے حصوں کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس نوعیت کے ڈرونز کی زیادہ سے زیادہ قیمت مارکیٹ میں تقریباً 250 ڈالر (15,000 افغانی) ہے۔

رائے گارڈنر کے مطابق کامی کازی ڈرونز بنانے کی لاگت عام طور پر تقریباً 700 ڈالر (تقریباً 45,000 افغانی) بنتی ہے۔

ایک افغان ٹیکنالوجی ماہرنے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ’ان ڈرون کا چھوٹا سائز، کم بلندی پر پرواز، اور فائبر سے بنا ڈھانچہ انھیں ریڈار سے پوشیدہ رکھتا ہے۔ اس ڈرون کی ایک قسم ایندھن جبکہ دوسری لیتھیم بیٹریوں پر چلتی ہے۔

طالبان کی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری کردہ تصاویرسے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کئی مبینہ حملوں میں کواڈ کاپٹرز بھی استعمال کیے گئے ہیں۔

کواڈ کاپٹرز عمومی طور پر فوجی استعمال کے لیے تیار نہیں کیے جاتے تاہم شدت پسند گروہ ان میں معمولی تبدیلیاں کر کے اور انھیں دھماکہ خیز مواد سے لیس کر کے حملوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان بھی ماضی قریب میں کواڈ کاپٹرز کی مدد سے خیبرپختونخوا میں پولیس چوکیوں اور تھانوں کو نشانہ بنا چکی ہے۔

ٹیکنالوجی ماہر کے مطابق یہ ڈرون ریموٹ کنٹرول کے ذریعے چلائے جاتے ہیں اور ان کی پرواز کی حد 25 کلومیٹر تک ہے اس لیے انھیں طویل فاصلے کے اہداف پر حملے کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا۔

طالبان کی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ یہ ڈرون ڈیورنڈ لائن کے ساتھ پاکستانی سکیورٹی چوکیوں پر حملے کے لیے استعمال کیے گئے ہیں۔

’گوریلا جنگ کا وسیع تجربہ‘ رکھنے والے افغان طالبان کے پاس کون سے ہتھیار ہیں اور کیا وہ پاکستان کے خلاف روایتی جنگ کے متحمل ہو سکتے ہیں؟پاکستان کے کابل، قندھار پر فضائی حملے: کیا ان حملوں سے پاکستان اپنے مقاصد حاصل کر پائے گا یا پھر حقیقی جنگ کا خطرہ بڑھے گا؟عسکری قوت کا موازنہ: پاکستان کو افغان طالبان پر کس حد تک فوجی برتری حاصل ہے؟فوجی آپریشن کی ڈرون ویڈیوز: کیا پاکستانی فوج کی شدت پسندوں کے خلاف حکمت عملی تبدیل ہوئی ہے؟جب افغانستان سے پاکستان پر سکڈ میزائلوں کی بارش ہوئی
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More