BBCاسرائیل کے سابق وزیر اعظم اور بعض امریکی حکام اس جزیرے پر قبضہ کرنے پر زور دے رہے ہیں
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (یو ایس سینٹکام) نے مشرق وسطیٰ کی تاریخ کے سب سے طاقتور بم حملوں میں سے ایک کو سر انجام دیا ہے اور ایران کے جزیرہ خارگ پر موجود تمام فوجی اہداف کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔‘
ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے پیغام میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’میں نے جزیرے پر تیل کے بنیادی ڈھانچے کو ختم نہ کرنے کا انتخاب کیا ہے۔ تاہم، اگر ایران یا کسی اور نے آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کے آزاد اور محفوظ نقل و حمل میں مداخلت کرنے کی کوشش کی تو میں فوری طور پر اس فیصلے پر نظر ثانی کروں گا۔‘
انھوں نے ایران کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دیں اور ’ان کے ملک میں جو بچا ہے اسے بچا لیں، جو کہ کچھ زیادہ نہیں ہے۔‘
ایران کے ساتھ امریکہ اسرائیل جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی، تیل صاف کرنے والے کارخانے اور ذخیرہ کرنے والے ٹینک پورے مشرق وسطیٰ میں حملوں کا نشانہ بن گئے ہیں۔
اسرائیلی فوج اب تک تہران میں رے، شہران اور اقدسیہ آئل ڈپو اور کرج میں فردیس پر حملے کر چکی ہے۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ حملوں کا ہدف ایندھن کے ٹینک تھے جنھیں ایرانی حکومت ’فوجی ڈپو قائم کرنے کے لیے استعمال کر رہی تھی۔‘
ایران بھی اس معاملے میں خاموش نہیں رہا اور اس نے خلیج فارس کے کئی ممالک میں آئل ریفائنریز اور تیل کے ڈپووں کو نشانہ بنایا۔
اب خارگ جزیرے پر حملے کے بعد امریکہ کے اس جزیرے پر قبضہ کرنے کے بارے میں قیاس آرائیاں بڑھ گئی ہیں۔ یہ ایران کے تیل کے سب سے بڑے ذخائر کا مرکز ہے اور ایرانی خام تیل کی 90 فیصد برآمدات اسی چھوٹے سے جزیرے سے ہوتی ہیں۔
گذشتہ برس جون میں 12 روزہ جنگ سے قبل یہ جزیرہ بھی اسرائیل کے ممکنہ اہداف میں شامل تھا۔
یہ جزیرہ اُس وقت خبروں میں آیا جب اسرائیل کے سابق وزیر اعظم اور ملک میں حزب اختلاف کے مرکزی رہنما یائر لیپڈ نے ایران کی تیل تنصیبات پر اسرائیلی حملوں کے بعد ایکس پر لکھا کہ ’اسرائیل کو جزیرہ خارگ پر ایران کی تمام آئل فیلڈز اور توانائی کی صنعت کو تباہ کرنا چاہیے، کیونکہ اس سے ایران کی معیشت تباہ ہو جائے گی اور حکومت کا تختہ اُلٹ جائے گا۔‘
ایرانی تیل کے ذخائر پر اسرائیل کے حملوں کے بعد ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ ’اپنے اہداف کا انتخاب احتیاط سے کرے۔‘
ایکس پر ایک بیان میں اُنھوں نے کہا کہ ’ہمارا مقصد ایرانی عوام کو اس طرح آزاد کرانا ہے کہ اس حکومت کے خاتمے کے بعد ان کی نئی اور بہتر زندگی کے مواقع میں کوئی خلل نہ پڑے۔‘
نشریاتی ادارے ایگزیوز نے سات مارچ کو امریکی حکومت کے عہدے داروں کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ امریکی حکام کے مابین خارگ جزیرے پر قبضے کے بارے میں بات چیت ہوئی ہے۔
چالیس سال قبل ایران-عراق جنگ کے دوران گارڈین اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر ایران نے امریکی ٹھکانوں پر حملہ کیا تو جزیرہ خارگ پر قبضہ کر لیا جائے گا۔
یہ وہ وقت تھا، جب ٹرمپ نے سیاست میں قدم نہیں رکھا تھا اور اُنھوں نے ایک کاروباری شخصیت کے طور پر یہ انٹرویو دیا تھا۔
اس انٹرویو میں ٹرمپ نے سنہ 1980 سے 1988 کے دوران جاری رہنے والی ایران-عراق جنگ پر تبصرہ کیا تھا۔ ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ اگر وہ صدر بنے تو ایران کے ساتھ کیا کریں گے؟ اس پر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’میں ایران پر سختی کروں گا۔ وہ ہمیں نفسیاتی طور پر مار رہے ہیں، وہ ہمیں احمق سمجھتے ہیں۔ اگر اُنھوں نے ہمارے کسی جہاز پر ایک بھی گولی چلائی تو میں ان کے جزیرے خارگ پر قبضہ کر لوں گا۔‘
ایران اور عراق کے حوالے سے پینٹاگون کے سابق سینیئر مشیر مائیکل روبن نے گذشتہ ہفتے ’پولیٹیکو‘ کو بتایا تھا کہ وہ جزیرہ خارگ کی اہمیت اور اس پر قبضے کے بارے میں ٹرمپ انتظامیہ سے رابطے میں تھے۔
اُن کے بقول ’اگر ٹرمپ ایران پر میزائل حملوں اور بمباری سے بڑھ کر دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں تو جزیرہ خارگ پر قبضہ کرنا ایرانی حکومت کوفنڈنگ کے ایک اہم ذریعے سے محروم کر سکتا ہے۔‘
ایران جنگ کس کے لیے منافع بخش اور کس کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے؟بارہ بنکی اور خمینی: انڈیا کا وہ گاؤں جہاں کے لوگ اپنا شجرہ نسب ایرانی رہبرِ اعلیٰ سے جوڑتے ہیں ’جنگ کہیں دور ہو رہی ہے اور چولہے ہمارے بند ہو جائیں گے‘: دلی سمیت انڈیا میں ریسٹورنٹس بند ہونے کے خدشات کیوں؟ایران میں پھنسے پاکستانی ملاح: ’وہ پورٹ سے نکل ہی رہے تھے کہ دو میزائل حملے ہوئے‘ہرنوں کا جزیرہ اور تیل کی سہولیات
ایران کے جنوب مغرب میں واقع جزیرہ خارگ 20 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور یہ صوبہ بوشہر کا حصہ ہے۔ یہاں کی خاص بات تیل کی تنصیبات کے ساتھ ساتھ ہرنوں کی بڑی تعداد بھی ہے، جو اس جزیرے میں جابجا گھومتے دکھائی دیتے ہیں۔
یہ جزیرہ ہرنوں کے رہنے اور افزائش نسل کے موزوں سمجھا جاتا ہے اور تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ہرنوں کی تعداد جزیرے کی گنجائش سے بھی بڑھ گئی ہے۔
یہ جزیرہ ایران کی تیل کی برآمدات کے لحاظ سے بہت اہم ہے اور تیل کی برآمدات کا بڑا ٹرمینل بھی یہاں موجود ہے۔
خارگ کو خام تیل کی برآمد اور لوڈنگ کے لیے سب سے موزوں مقام سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس کی ملک کے جنوبی تیل سے مالا مال خطوں سے قربت، اچھی بحری جگہ، بڑے آئل ٹینکرز کے لنگر انداز ہونے کے لیے گہرے پانی جیسی سہولیات ہیں۔
ایرانی تیل کا سب سے بڑا آف شور ابو زر آئل کمپلیکس خارگ سے 75 کلو میٹر مغرب میں واقع ہے۔ خلیج فارس میں ایرانی تیل کی زیادہ تر پیداوار اسی آئل فیلڈ سے ہوتی ہے۔
ابوزر آئل فیلڈ تین اہم آپریٹنگ پلیٹ فارمز پر مشتمل ہے، ہر ایک کی پیداواری صلاحیت 80 ہزار بیرل یومیہ ہے۔ ابو زر آئل پروسیسنگ پلانٹ بھی جزیرہ خارگ میں واقع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جزیرہ خارگ ایران میں تیل ذخیرہ کرنے کے سب سے بڑے ذخائر میں سے ایک ہے۔
BBC
ایرانی آئل ٹرمینلز کمپنی کے مطابق خارگ میں خام تیل ذخیرہ کرنے کے 40 ٹینکس ہیں جہاں دو کروڑ بیرل سے زیادہ تیل رکھا جا سکتا ہے۔ ملک کے جنوب میں تکل کی دولت سے مالا مال علاقوں سے نکالا جانے والا خام تیل زیرِ سمندر پائپ لائنز کے ذریعے خارگ سٹوریج ٹینکوں میں داخل ہوتا ہے۔
دسمبر 2023 میں ایران کے آئل ٹرمینلز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عباس غریبی نے جزیرہ خارگ پر خام تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں 20 لاکھ بیرل اضافے کا اعلان کیا تھا۔
خام تیل ذخیرہ کرنے کے علاوہ خارگ میں برآمد کے لیے خام تیل کی اقسام کی پیمائش اور انھیں الگ کرنے کا عمل بھی کیا جاتا ہے۔
جب تک امریکہ اور یورپی ممالک کے ساتھ ایران کا جوہری معاہدہ برقرار تھا تو ایران کو اس معاہدے کے تحت اپنی تیل کی پیداوار بڑھانے اور اسے مختصر مدت کے لیے فروخت کرنے کی بھی اجازت دی گئی تھی۔۔ اس معاہدے کے دوران ایران نے تیل ذخیرہ کرنے والے ٹینکوں کو بھی بڑھانے کا فیصلہ کیا۔
لیکن جزیرہ خارگ میں محدود زمین ہے اور اس کا موسم اکثر طوفانی اور خراب رہتا ہے۔ اس لیے 2016 میں ایک کروڑ بیرل کی گنجائش کے ساتھ اومڈ خام تیل ذخیرہ کرنے والے ٹینکوں کی تعمیر کا منصوبہ شروع کیا گیا۔ یہ علاقہ صوبہ بوشہر سے 23 کلو میٹر دُور ہے۔
لیبارٹری اور یونیورسٹی
اومڈ خام تیل ذخیرہ کرنے والے ٹینک نجی شعبے میں تیل کے ٹینکوں کا سب سے بڑا ذخیرہ بتایا جاتا ہے۔
جزیرے کے مشرق اور مغرب میں خارگ کے دو گھاٹ ہیں۔ سنہ 1955 میں، تیل کنسورشیم کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد خارگ میں لوڈنگ ڈاکس اور خام تیل ذخیرہ کرنے والے ٹینکوں کی تعمیر کا منصوبہ شروع ہوا۔
خارگ میں خام تیل کا معیار جانچنے کے لیے ایک لیبارٹری بھی ہے۔ یہ لیبارٹری بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ہے۔ ایرانی آئل ٹرمینلز آرگنائزیشن کا دعویٰ ہے کہ یہ دنیا کی بہترین لیبارٹریز میں سے ایک ہے۔
خارگ پیٹرو کیمیکل کمپنی بھی اس جزیرے میں کام کرتی ہے جس کا مقصد تیل نکالنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی گیسوں کو جلنے سے روکنا اور اںھیں قیمتی مصنوعات میں تبدیل کرنا ہے۔ یہ کمپنی میتھانول، سلفر، پروپین، بیوٹین، اور نیفتھا (پٹرول) بھی بناتی ہے۔
صرف آٹھ ہزار سے زائد آبادی والے خارگ میں اسلامی آزاد یونیورسٹی بھی ہے جو میرین سائنس اور آرٹس کی ایک شاخ ہے۔ اس یونیورسٹی میں مطالعہ کے سب سے اہم شعبوں میں سے ایک پیٹرولیم اور سمندری مطالعہ بھی ہے۔
ایران عراق جنگ کے دوران ایران کی تیل کی 90 فیصد سے زیادہ برآمدات خارگ کے راستے ہوتی تھیں، یہی وجہ ہے کہ عراق نے اس چھوٹے سے جزیرے پر 2800 بار حملہ کیا۔
مجتبیٰ خامنہ ای: ایران کی بقا کی جنگ اور نئے رہبر اعلیٰ کا پہلا امتحانمتحدہ عرب امارات کو دفاع کا حق حاصل ہے، امریکہ کو ایران پر حملے کے لیے فضائی و علاقائی حدود نہیں استعمال کرنے دیں گے: اماراتی وزیرلنزے گراہم کی جنگ میں شامل نہ ہونے پر ’ریاض کو دھمکی‘: سعودی عرب امریکی و اسرائیلی فوجی کارروائی کا حصہ بننے سے کیوں گریز کر رہا ہے؟ایرانی عوام کیا سوچ رہے ہیں: ’میں خوش ہوں نہ اداس۔۔۔بس تھک گئی ہوں‘ اسرائیلی فوج کا لبنان اور تہران میں اہداف پر نئے حملوں کا اعلان، ’ایران کی 16 بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو تباہ کر دیا‘: امریکی فوج کا دعویٰ’دی بون‘: ایران پر ممکنہ بڑے حملے کے لیے برطانیہ پہنچنے والا امریکی بمبار طیارہ آخر اتنا خطرناک کیوں سمجھا جاتا ہے؟