امریکہ اور ایران ایک دوسرے سے کیا چاہتے ہیں اور کون سے مطالبے تسلیم کیے جا سکتے ہیں؟

بی بی سی اردو  |  Mar 26, 2026

Reuters

ڈونلڈ ٹرمپ نے اصرار کیا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے پر مذاکرات کر رہا ہے لیکن تہران بارہا کہہ چکا ہے کہ کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تسلیم کیا کہ امریکہ کے ساتھ ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے لیکن ان کا کہنا تھا کہ یہ ’نہ مکالمہ ہے، نہ مذاکرات، اور نہ ہی اس قسم کی کوئی چیز۔‘

بدھ کے روز ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران بات چیت کا اعتراف کرنے سے ’خوفزدہ‘ ہے کیونکہ ’انھیں لگتا ہے کہ انھیں اپنے ہی لوگ مار ڈالیں گے۔‘

تو پھر کس پر یقین کیا جائے؟ کیا امن بس آنے ہی والا ہے؟ یا دونوں فریق ایک مہنگی اور طویل جنگ کے لیے تیار ہو رہے ہیں جس سے توانائی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی رہیں گی اور پوری دنیا کو گرمیوں تک متاثر کرے گی؟

اشارے یہ بتاتے ہیں کہ ہم اب ایک ایسی صورتحال میں داخل ہو رہے ہیں جو روس، یوکرین جنگ کے خاتمے پر پیدا ہونے والے تعطل سے زیادہ مختلف نہیں۔

دونوں فریقین کہتے ہیں کہ وہ جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں لیکن اپنی اپنی شرائط پر۔ یہ صورتحال دونوں کے لیے قابلِ قبول شرائط سے بہت دور ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کیا چاہتے ہیں؟

جب یہ جنگ 28 فروری کو شروع ہوئی تو واشنگٹن اور یروشلم کو اس بات کی اُمید تھی کہ ایران کے مقابلے میں ان دونوں ممالک کی زبردست فوجی برتری اسلامی جمہوریہ کے خاتمے کا سبب بنے گی۔

اگر ایسا نہ بھی ہوتا، تو پہلے ہی شدید معاشی مشکلات کے شکار ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا جاتا اور وہ امریکہ کی شرائط پر امن کی درخواست کرتا۔

ایسا نہیں ہوا۔ لہٰذا امریکہ اور اسرائیل جو چاہتے ہیں، ضروری نہیں کہ انھیں حاصل ہو، کیونکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ایرانی حکومت اپنے قیام کے ساتھ خود کو مزید مضبوط کرتی چلی جا رہی ہے۔

اسرائیل کے چینل 12 نیٹ ورک کی جانب سے شائع کردہ امریکی 15 نکاتی منصوبے کی تفصیلات میں ایران کے جوہری پروگرام کا خاتمہ، اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام کا خاتمہ، یمن میں حوثیوں اور لبنان میں حزب اللہ جیسی ’پراکسی ملیشیاؤں‘ کی حمایت کا خاتمہ شامل ہے۔

اس کے بدلے میں ایران کو پابندیوں میں نرمی اور آبنائے ہرمز پر کچھ مشترکہ کنٹرول حاصل ہوگا۔

Reutersایران کیا چاہتا ہے؟

ابتدا میں ایران نے امریکی 15 نکاتی منصوبے کو 'حد سے زیادہ' قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا۔

پھر بعد میں بدھ کے روز ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے نسبتاً کم واضح مؤقف اختیار کیا۔ انھوں نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ ملک کی اعلیٰ قیادت کے سامنے ’کچھ تجاویز‘ پیش کی گئی ہیں اور ’اگر کوئی مؤقف اختیار کرنا ہوگا تو وہ یقینی طور پر طے کیا جائے گا۔‘

اس کے بجائے ایرانی سرکاری میڈیا نے جنگ کے خاتمے کے لیے پانچ شرائط پیش کی ہیں جن میں جنگی ہرجانے کی ادائیگی، آبنائے ہرمز پر ایران کے مکمل اختیار کو تسلیم کرنا اور یہ ضمانت شامل ہے کہ آئندہ ایران پر حملہ نہیں کیا جائے گا۔

یہ مطالبات واشنگٹن اور اس کے خلیجی عرب اتحادیوں کے لیے قبول کرنا انتہائی مشکل ہوں گے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے امکان نے نیتن یاہو کو مشکل میں ڈال دیا’برادر ملک‘ سے ’جوابی کارروائی‘ کی دھمکی تک: کیا ’بقا کی جدوجہد‘ میں ایران نے سعودی عرب سے طے پانے والا مصالحتی معاہدہ قربان کر دیا؟ایران سے جنگ میں ایف 35 کو نقصان: 77 ملین ڈالر کے جہاز میں خاص کیا ہے اور اب تک امریکہ کے کتنے طیاروں کو نقصان پہنچا ہے؟ٹرمپ کا ایران پر حملے کا پرل ہاربر سے موازنہ: ’جب جاپان کی مدد بھی درکار ہو تو لطیفے بنانے کا شاید یہ بہتر وقت نہیں تھا‘

ایران کا ماننا ہے کہ خطے کا سب سے بڑا ملک ہونے کے ناطے، جس کی آبادی نو کروڑ سے زیادہ ہے اور خلیج میں سب سے طویل ساحلی پٹی رکھتا ہے، اسے ’نگہبان‘ یا ’پولیس مین‘ کے طور پر اپنا جائز کردار ادا کرنے دیا جانا چاہیے، ایک ایسا کردار جو اسے شاہ کے دورِ حکومت میں حاصل تھا جو سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے ساتھ ختم ہو گیا۔

ایران چاہتا ہے کہ امریکی بحریہ کا پانچواں بیڑا، جس کا صدر دفتر بحرین میں ہے وہ خطے سے نکل جائے تاکہ ایران اپنے اتحادیوں روس، چین اور شمالی کوریا کی حمایت سے خلیج میں سب سے بڑی فوجی طاقت بن سکے۔

ایران کا کہنا ہے کہ اسے امریکہ پر اعتماد کرنے میں شدید مسئلہ ہے کیونکہ دو مرتبہ پہلے سنہ 2025 میں اور پھر دوسری مرتبہ رواں سال سال فروری میں وہ مذاکرات کے لیے رضا مندی ظاہر کر چکا تھا مگر اس کے باوجود امریکہ نہ صرف مذاکرات سے پیچھے ہٹا بلکہ اس نے ایران کے خلاف طاقت کا استعمال کرتے ہوئے حملے شروع کر دیے۔

ایران کے ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ صرف مذاکرات کو طول دے رہا تھا اور اس کا کبھی بھی ان پروگرامز اور پالیسیوں کو ترک کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا جو پورے خطے کے لیے خطرہ ہیں۔

خلیجی عرب ریاستیں کیا چاہتی ہیں؟

اب تک جو کُچھ ہوا ہے اور جو ہو رہا ہے خلیجی عرب ممالک اس کی وجہ سے سخت پریشان ہیں۔

انھیں اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام سے کوئی خاص لگاؤ تو نہیں تھا لیکن اس تنازع سے پہلے وہ اس کے ساتھ ایک غیر یقینی مگر قابلِ عمل مفاہمت تک پہنچ چکے تھے۔

اب وہ خوفزدہ ہیں اور ایسے میں خطے کے صورتحال کو دیکھ رہے ہیں کہ جہاں امریکہ نے اس جنگ میں اپنی پوری کوشش کی لیکن ایرانی حکومت کو گرانے میں ناکام رہا ہے اور اس پر یہ کہ امریکہ نے ایران کو ایسے نقصانات پہنچائے ہیں کہ جس کے بعد وہ شدید غصے کی حالت میں ہے، جس کے اثرات خلیج کے اس پار ایران کے ہمسایہ ممالک پر پڑ رہے ہیں، جنھیں ڈرونز اور میزائلوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

واشنگٹن اور امریکی سینٹرل کمانڈ کی مایوسی کے برعکس ایران اب ایک ماہ پہلے کے مقابلے میں سٹریٹیجک طور پر کہیں زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہے کیونکہ اس نے اہم آبی تجارتی گُزر گاہ 'آبنائے ہرمز' پر عملاً کنٹرول قائم کر رکھا ہے۔

اس سے تہران کو عالمی توانائی کی منڈی پر بے پناہ اثر و رسوخ حاصل ہو گیا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے بین الاقوامی دباؤ، ان کے اختیارات کو محدود کر دے گا۔

مثال کے طور پر خلیجی ریاستیں چاہتی ہیں کہ حالات ایک ماہ پہلے جیسے ہو جائیں لیکن اب بہت کچھ بدل چکا ہے اور ایران اب پیچھے ہٹنے والا نہیں۔

ٹرمپ کے اختیارات میں ممکن ہے اضافہ ہو جائے کیونکہ تقریباً 5000 امریکی میرینز کی خطے میں آمد متوقع ہے، اس کے ساتھ امریکی 82ویں ایئربورن ڈویژن کے پیرا ٹروپرز بھی شامل ہیں، لیکن اس سب میں خطرات بھی موجود ہیں۔

ان افواج کو مختلف مقامات پر تعینات کیا جا سکتا ہے۔ ایران کے تیل کے برآمدی ٹرمینل خارگ جزیرہ سے لے کر صوبہ ہرمزگان میں ایران کے ساحل تک یا بحیرہ احمر کے جنوبی مرکزی دروازے ’باب المندب‘ کے اہم آبی راستے تک۔

یا پھر انھیں صرف تہران پر مزید سفارتی دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

لیکن کسی بھی زمینی کارروائی میں امریکی جانی نقصان کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے ایران کو اندرونی طور پر مُشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس سے امریکہ ایک ایسے تنازع میں مزید گہرائی تک الجھ سکتا ہے جسے بہت سے لوگ ’آ وار آف چوائس‘ یا ’ایسی جنگ جس کا انتخاب کیا گیا ہو‘ قرار دے رہے ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران میں نظام کا مسلسل برقرار رہنا اس کے رہنماؤں اور اس کے مطالبات کو مزید حوصلہ دے رہا ہے۔ اسے یقین ہے کہ وقت اور جغرافیہ دونوں اس کے حق میں ہیں۔

جتنا زیادہ وائٹ ہاؤس دنیا کو یہ بتاتا ہے کہ ایران کسی معاہدے کے لیے بے تاب ہے، اتنا ہی کم ایران اس کی طرف مائل ہوتا ہے۔

’پاکستان کی ثالثی کامیاب رہی تو اس کی حیثیت بہت بڑھ جائے گی‘: ایران جنگ، اسلام آباد کی سفارت کاری اور دلی کے خدشاتامریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے امکان نے نیتن یاہو کو مشکل میں ڈال دیاپاکستان کی ثالثی اور خفیہ دورہ: جب امریکہ نے چین سے رابطے کے لیے اسلام آباد کی مدد حاصل کیپاکستان کی ایران اور امریکہ کو ثالثی کی پیشکش: کیا اسلام آباد جنگ رکوانے میں کامیاب ہو سکتا ہے؟پاکستانی قیادت کی ایرانی اور امریکی صدور سے گفتگو کے بعد مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More