Getty Imagesآشا بھوسلے اتوار کو ممبئی میں وفات پاگئی تھیں
اتوار کو گلوکارہ آشا بھوسلے کی وفات کی اطلاعات منظرِ عام پر آنے کے بعد صرف انڈیا ہی نہیں بلکہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں ان کے مداحوں نے اس خبر پر دکھ کا اظہار کیا۔
اس خبر پر افسوس کا اظہار کرنے والوں میں پاکستانی فنکار بھی شامل تھے اور دنیا بھر کے متعدد ٹی وی چینلز نے بھی انڈیا کی مشہور ترین گلوکارہ کی موت پر رپورٹس نشر کیں۔
پاکستان کا چینل جیو نیوز بھی ان ہی چینلز میں شامل تھا۔ تاہم چینل کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ’آشا بھوسلے سے متعلق مواد’ نشر کرنے پر انھیں پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹر پیمرا کی جانب سے شوکاز لیٹر موصول ہوا ہے۔
جیو نیوز کے میجنگ ڈائریکٹر اظہر عباس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں شوکاز لیٹر ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ: ’ہمیشہ سے ہی یہ ایک روایت رہی ہے کہ مثالی اداکاروں پر رپورٹنگ کرتے ہوئے ان کے کام کو یاد اور سراہا جاتا ہے۔‘
’لیکن پھر بھی پیمرا نے اس پر پابندی عائد کرنے کا انتخاب کیا۔‘
تاہم پیمرا شوکار نوٹس بھیجنے کا دفاع کرتا ہوا نظر آتا ہے۔
بی بی سی اردو نے پیمرا کے ایک ترجمان سے جیو نیوز کو بھیجے گئے نوٹس پر مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’پیمرا کو کسی فنکار کی وفات کی خبر نشر کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن اس کے ساتھ فلموں کے گانے چلانا کہاں کی صحافت ہے؟‘
پیمرا کے نوٹس میں کیا تفصیلات درج ہیں اور جیو نیوز کا اس پر کیا مؤقف ہے، یہ جاننے سے قبل سوشل میڈیا پر نظر آنے والی آرا پر نظر ڈال لیتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر صارفین کیا کہتے ہیں؟
جیو کے مینجنگ ڈائریکٹر کی سوشل میڈیا پوسٹ منظرِ عام پر آنے کے بعد متعدد سوشل میڈیا صارفین پیمرا پر تنقید کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
سندھ کے سابق گورنز محمد زبیر نے اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’آج آشا بھوسلے کے گانے نشر کرنے پر نوٹس بھیجے جا رہے ہیں اور کل کہا جائے گا کہ کسی پاکستانی چینل پر وراٹ کوہلی کی بلے بازی کی تعریف پر مبنی مواد کیوں نشر کیا گیا۔‘
’بڑی ہمت ہوئی تمھاری‘: انڈین گلوکارہ آشا بھوسلے کی پاکستانی فنکاروں سے محبت اور ناپسندیدگی کی کہانیآشا بھوسلے، جن کی آواز ہمیشہ جوان رہیآشا بھوسلے چل بسیں: لتا منگیشکر کے سائے سے نکل کر بالی وڈ کی آواز بن جانے والی گلوکارہدھورندھر فلم، چوہدری اسلم اور داؤد ابراہیم: نورین اسلم نے بی بی سی کو کیا بتایا؟
مونا عالم نامی ایک صارف نے لکھا کہ: ’آشا بھوسلے ایک ایسی لیجنڈ ہیں، جن کی موسیقی تمام سرحدوں سے ماورا ہے۔‘
’مجھے خوشی ہے کہ جیو ان کی موت پر انھیں نہیں بھولا کیونکہ یہ میری طرح کروڑوں پاکستانیوں کے جذبات ہیں، جو آشا جی سے محبت کرتے ہوئے بڑے ہوئے۔‘
تاہم کچھ ایسے صارفین بھی ہیں جنھیں جیو نیوز پر آشا بھوسلے سے متعلق رپورٹنگ کے مواد پر اعتراض ہے۔
مینا غوری نامی ایک صارف نے لکھا کہ: 'میں نے یہ کلپ دیکھا تھا، جو حالات حاضرہ ہیں اس حساب سے کافی طویل کلپ تھا۔
’میں بھی آشا بھونسلے کو پسند کرتی ہوں مگر مجھے بھی ناگوار گزر رہا تھا کہ آشا کی آواز نہیں بلکہ فلمائے گئے گانے دکھائے جا رہے تھے۔‘
شوکاز نوٹس پر جیو نیوز اور پیمراکا مؤقف
پیمرا نے شوکاز نوٹس میں جیو نیوز کے حکام کو 27 اپریل کو ذاتی حثیت میں یا وکیل کے ذریعے پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
پیمرا کی جانب سے چینل کو بھیجے گئے شو کاز نوٹس میں کہا گیا ہے کہ انڈین گلوکارہ آشا بھوسلے کی وفات کی خبر کے ساتھ ساتھ ان گانوں کی فلمی جھلکیاں بھی دکھائی گئیں، جو آشا بھوسلے نے گائے تھے۔
اس شوکاز نوٹس میں پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے اکتوبر 2018 میں جاری کیے گئے ایک فیصلے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جس میں عدالت نے کسی بھی قسم کے انڈین مواد کو پاکستانی چینلز پر نشر کرنے پر پابندی عائد کی تھی۔
یہ فیصلہ سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے ایک بینچ نے سنایا تھا۔
پیمرا کے مطابق ٹی وی چینل نے یہ اقدام کرکے نہ صرف اس عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی کی ہے بلکہ پیمرا کے ارڈیننس 2002 کے سیکشن 20 کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔
پیمرا کی طرف سے بھیجے گئے نوٹس پر جیو نیوز کے مینجنگ ڈائریکٹر اظہر عابس نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’علم کی طرح آرٹ بھی انسانیت کا مشترکہ ورثہ ہے اور اسے سرحدوں میں قید نہیں ہونا چاہیے۔‘
’آشا بھوسلے خود بھی پاکستان کی لیجنڈ گلوکارہ نور جہاں کو پسند کرتی تھیں، جنھیں وہ اپنی بڑی بہن بھی کہا کرتی تھی۔ انھوں نے نصرت فتح علی خان کے ساتھ کام کیا اور ناصر کاظمی جیسے عظیم اردو شاعروں کی شاعری کو بھی جلا بخشی۔‘
بی بی سی اردو کے رابطہ کرنے پر اظہر عباس نے بتایا کہ ایکس پر انھوں پوسٹ بطور صحافی لکھی ہے ’لیکن جہاں تک پیمرا کی طرف سے بھیجے گئے نوٹس کا تعلق ہے تو ان کا ادارہ اس کا قانونی طور پر جواب دے گا۔‘
تاہم پیمرا نیوز چینل کو بھیجے گئے نوٹس کو درست سمجھتا ہے۔ ادارے کے ایک ترجمان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’دنیا میں کہیں بھی ایسا نہیں ہوتا کہ کسی بڑے فنکار کی وفات پر چار یا پانچ منٹ کے پیکج چلائے جائیں، جس میں صرف فلموں کے گانے ہی ہوں۔‘
انھوں نے کہا کہ پیمرا نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں نجی ٹی وی چینلز کو شو کازٹوٹس جاری کیے ہیں، جس کے مطابق انڈین مواد پاکستان میں نشر نہیں کیا جاسکتا۔
نازیہ حسن کی سالگرہ: انڈین نوجوانوں کے پاکستانی سنگر سے متعلق خیالاتعلی ظفر کا ہتکٰ عزت کا مقدمہ: عدالت کا میشا شفیع کو 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکمپاکستان میں اداکاری کا خواب، جدوجہد، کمائی اور چمکتی سکرین کے پیچھے چھپی حقیقت’پاکستان آئیڈل جیتنے والے گمنام ہو جاتے ہیں‘: ساحر علی بگا کو ٹیلنٹ شوز اور انڈین گانوں سے اعتراض کیوں’اندازہ تھا یہ آسان نہیں ہوگا‘: اصلی واقعے پر مبنی ’ایک اور پاکیزہ‘ کی کہانیفحاشی کا الزام اور پھر ’فتویٰ‘: نورا فتحی پر فلمائے گئے آئٹم سانگ ’سَرکے چُنر تیری‘ پر پابندی کیوں عائد ہوئی؟