تونسہ: بچوں میں ایچ آئی وی وبا کے پھیلاؤ سے جڑے ہسپتال میں خفیہ فلمنگ کے ذریعے سرنجیں ایک سے زیادہ بار استعمال کیے جانے کا انکشاف

بی بی سی اردو  |  Apr 14, 2026

BBCدس سالہ عاصمہ ایچ آئی وی پازیٹیو ہیں حالانکہ اُن کی والدہ صغریٰ ایچ ائی وی پازیٹیو نہیں ہیں

انتباہ: اس تحریر میں ایسی تفصیلات شامل ہیں جو قارئین کے لیے پریشان کُن ہو سکتی ہیں۔

محمد امین آٹھ سال کے تھے جب ایچ آئی وی کی تشخیص کے تھوڑے ہی عرصے بعد اُن کی وفات ہوئی۔

امین کی والدہ صغریٰ بتاتی ہیں کہ ’اسے اتنا شدید بخار ہونے لگا تھا کہ وہ باہر بارش میں سونے کی ضد کرتا، اور درد سے ایسے چلاتا جیسے اسے گرم تیل میں پھینک دیا گیا ہو۔‘

اپنے چھوٹے بھائی محمد امین کی قبر پر جُھکتے ہوئے اُن کی 10 سالہ بہن عاصمہ نے کہا کہ ’وہ مجھ سے لڑتا تھا، لیکن وہ مجھ سے پیار بھی کرتا تھا۔‘

امین میں اِس مرض کی تشخیص ہو جانے کے کچھ ہی عرصہ بعد عاصمہ کا بھی ایچ آئی وی ٹیسٹ پازیٹیو نکل آیا۔

عاصمہ کے خاندان کا ماننا ہے کہ انھیں پاکستان کے صوبہ پنجاب میں تونسہ شہر کے سرکاری ہسپتال میں عام طبی معائنے کے دوران استعمال شدہ ٹیکوں سے انجیکشن لگنے کی وجہ سے یہ مرض (ایچ آئی وی) لاحق ہوا۔

بی بی سی آئی کی تحقیق کے مطابق یہ دونوں بچے نومبر 2024 سے اکتوبر 2025 کے درمیان تونسہ میں ایچ آئی وی پازیٹیو ہونے والے 331 بچوں میں شامل ہیں۔

سنہ 2024 کے اواخر میں جب ایک نجی کلینک کے ڈاکٹر نے تونسہ کے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کو ایچ آئی وی کے پھیلاؤ سے جوڑا تو مقامی حکام نے سخت کریک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہوئے مارچ 2025 میں ہسپتال کے میڈیکل سپریٹنڈنٹ کو معطل کر دیا۔ لیکن بی بی سی آئی کی حالیہ تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ کئی ماہ بعد بھی استعمال شدہ انجیکشن لگائے جانے کا خطرناک رجحان جاری ہے۔

سنہ 2025 کے اواخر میں تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال تونسہ میں 32 گھنٹوں کی خفیہ فلمنگ کے دوران ہم نے دیکھا کہ دس مختلف مواقع پر استعمال شدوں سرنجوں میں دوائی بھری گئی، جس سے ممکنہ طور پر انجیکشنز میں موجود دوا خراب ہوئی ہو گی۔

ان میں سے چار مواقع پر ہم نے یہ دیکھا کہ اسی دوائی کی بوتل سے ایک مختلف یا دوسرے بچے کو دوا دی گئی۔ ہم یہ تو نہیں جانتے کہ اُن میں سے کوئی بچہ ایچ آئی وی پازیٹیو تھا یا نہیں لیکن اس طرح سے دوبارہ استعمال واضح طور پر وائرل ٹرانسمیشن کا خطرہ رکھتا ہے۔

ڈاکٹر الطاف احمد پاکستان کے ممتاز کنسلٹنٹ مائیکروبائیولوجسٹ اور انفیکشس ڈیزیز کے ماہر ہیں۔ انھوں نے ہماری خفیہ فوٹیج دیکھتے ہوئے کہا کہ ’اگر انھوں نے ٹیکے کی سوئی بدل کر نئی بھی لگا دی ہے تو ٹیکے کے پچھلے حصے، جسے ہم سرنج باڈی کہتے ہیں، میں وائرس ہو سکتا ہے جو نئی سوئی کے ذریعے ٹرانسفر ہو سکتا ہے۔‘

ہسپتال کی دیواروں پر محفوظ انجیکشن لگانے کے طریقہ کار کی تصاویر والے پوسٹرز کے باوجود ہم نے سٹاف، بشمول ایک ڈاکٹر، کو 66 مرتبہ صاف دستانے پہنے بغیر مریضوں کو ٹیکا لگاتے ہوئے فلمایا اور ایک دوسرے ماہر نے ہمیں بتایا کہ یہ پاکستان میں مجموعی طور پر انفیکشن کنٹرول ٹریننگ کی کمزوریوں کو ظاہر کرتا ہے۔

ہم نے ایک نرس کو بھی دیکھا جو میڈیکل ویسٹ باکس یعنی طبی فضلے سے بھرے ڈبے میں بنا صاف دستانے پہنے ہاتھ پھیر رہی تھیں۔ ڈاکٹر احمد کہتے ہیں کہ ’وہ دوائی انجیکٹ کرنے کے ہر اصول کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔‘

تاہم جب ہم نے یہی انڈر کور فوٹیج تونسہ کے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کے نئے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر قاسم بزدار کو دکھائی تو انھوں نے اسے درست ماننے سے انکار کر دیا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ فوٹیج یا تو ان کی تعیناتی سے پہلے بنی یا پھر یہ فوٹیج ’سٹیج بھی ہو سکتی ہے۔‘

انھوں نے اصرار کیا کہ ان کا ہسپتال بچوں کے لیے محفوظ ہے۔

BBCڈاکٹر گل قیصرانی نے سنہ 2024 کے اواخر میں اس بارے میں خبردار کیا تھا

ڈاکٹر گل قیصرانی ایک مقامی نجی کلینک میں کام کرتے ہیں۔ ڈاکٹر قیصرانی نے سب سے پہلے سنہ 2024 کے اواخر میں یہ دیکھا کہ اُن کے کلینک میں آنے والے ایسے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو ایچ آئی وی پازیٹیو ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے جن بچوں میں یہ تشخیص کی ان میں سے 65 سے 70 کا علاج تونسہ تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں ہوا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ ایک بچی کی والدہ کے مطابق اُن کی بیٹی کو اُسی سرنج سے ٹیکا لگایا گیا جس سے اُس کی ایک اور کزن کو بھی لگایا گیا تھا اورجو ایچ آئی وی پازیٹیو ہے، اور پھر وہی سرنج کئی اور بچوں پر بھی استعمال ہوئی۔

ڈاکٹر گل قیصرانی کہتے ہیں کہ ایک بچے کے والد کے مطابق جب انھوں نے استعمال شدہ سرنج لگانے پر احتجاج کیا تو نرسز نے ان کا احتجاج نظرانداز کر دیا۔

بی بی سی آئی نے پنجاب ایڈز سکریننگ پروگرام، نجی کلینکس اور پولیس کی جانب سے لیک ہونے والے اعداد و شمار کی مدد سے ایسے 331 بچوں کی شناخت کی جو تونسہ میں نومبر 2024 سے اکتوبر 2025 کے درمیان ایچ آئی وی پازیٹیو ہوئے۔

97 بچوں میں سے صرف چار کی مائیں ایچ آئی وی پازیٹیو تھیں۔ اس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ ان میں سے بہت کم بچوں کو اپنی والدہ سے یہ مرض لگا، یعنی ماں سے بچے میں مرض کی ٹرانسمیشن ہوئی۔ امین اور عاصمہ کی والدہ صغری کا ایچ آئی وی ٹیسٹ نیگیٹیو تھا۔ اُن کے شوہر دو سال قبل ایک ٹریفک حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

صوبائی ایڈز سکریننگ پروگرام کے اعدادوشمار کے مطابق عاصمہ سمیت 331 بچوں میں سے نصف کو استعمال شدہ سوئی کی وجہ سے ایچ آئی وی لگا۔ باقی کے بارے میں ان اعداد و شمار میں نہیں بتایا گیا کہ انھیں ایچ آئی وی کیسے ہوا ہو گا۔

مارچ 2025 میں پنجاب حکومت نے 106 کیسوں کا حوالہ دیتے ہوئے ہستال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر طیب فاروق چانڈیو کو معطل کر دیا تاہم بی بی سی آئی یہ بتا سکتا ہے کہ معطلی کی تین ماہ کے اندر ہی وہ تونسہ کی مضافات میں ایک دیہی ہیلتھ سینٹر میں بطور سینیئر میڈیکل افسر ایک بار پھر بچوں کا علاج کر رہے تھے۔

BBCڈاکٹر چانڈیو کا کہنا ہے کہ جیسے ہی انھیں ایچ آئی وی پازیٹیو کیس کی اطلاع ملی انھوں نے فوری ضروری اقدامات اٹھائے

انھوں نے بی بی سی آئی کو ایک انٹرویو میں کہا کہ ٹی ایچ کیو میں ایچ آئی وی پازیٹیو کیس کے بارے میں مطلع کیے جانے پر انھوں نے ’فوری‘ کارروائی کی لیکن ان کا دعویٰ ہے کہ کیسوں کی پھیلاؤ کی وجہ ہسپتال نہیں تھا۔

ان کی جگہ لینے والے ڈاکٹر قاسم بزدار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مارچ 2025 میں تعیناتی کے بعد ایچ آئی وی ہی ان کی توجہ کا مرکز تھا اور غیر محفوظ انفیکشن کنٹرول پر انھوں نے مکمل عدم برداشت کی پالیسی اپنائی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے پیرامیڈیکل عملے اور نرسوں کے لیے تربیتی پروگرام منعقد کروایا کہ ایچ آئی وی سے کیسے بچاو کرنا ہے، انھیں باقاعدہ تربیت دی گئی۔ انفیکشن کنٹرول ہمارے سیکشن کا سب سے اہم حصہ ہے۔‘

تاہم بی بی سی آئی کے پاس دستیاب شواہد ثابت کرتے ہیں کہ غیر محفوظ طریقے آٹھ ماہ بعد بھی جاری ہیں۔

BBCہماری فوٹیج میں استعمال شدہ سوئیاں سرنج اور وائلز کے ساتھ کُھلی پڑی ہوئی دیکھی جا سکتی ہیں

نومبر سے دسمبر 2025 کے درمیان کئی ہفتوں میں فلمائی جانے والی ہماری فوٹیج میں استعمال شدہ سوئیاں سرنج اور وائلز کے ساتھ کھلی پڑی ہوئی دیکھی جا سکتی ہیں، جنھیں صاف رکھنا ہوتا ہے۔

ٹی ایچ کیو میں زیادہ تر بچوں کو ایک کنولا کی مدد سے ٹیکا لگاتے ہوئے دیکھا گیا۔ کنولا ایک ٹیوب ہوتی ہے جسے شریان میں ڈالا جاتا ہے۔ تاہم اس سے انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ خون میں براہ راست خراب دوا جاتی ہے تو یہ جسم کے قدرتی دفاعی نظام کو بائی پاس کر جاتی ہے۔

ہم نے ایک نرس کو استعمال شدہ سرنج ایک کاوئنٹر کے نیچے سے نکالتے ہوئے دیکھا جس میں آخری مریض کے استعمال کے لیے دوا موجود تھی۔ اسے ضائع کرنے کے بجائے انھوں نے اسے اپنے ساتھی کو تھما دیا بظاہر کسی بچے پر دوبارہ استعمال کے لیے۔

جب ہم نے یہ خفیہ طریقے سے بنائی جانے والی فلم ڈاکٹر بزدار کو دکھائی تو انھوں نے اصرار کیا کہ یہ ان کی تعیناتی سے پہلے بنی ہے یا سٹیج کی گئی ہے۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ وہ اُن مقامی والدین سے کیا کہیں گے جو یہ فوٹیج دیکھیں گے؟ تو انھوں نے کہا کہ ’میں یقین سے، اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ آپ ٹی ایچ کیو تونسہ سے اپنا علاج کروا سکتے ہیں۔‘

مقامی حکومت کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا کہ ’کسی بھی وبائی شواہد نے حتمی طور پر ثابت نہیں کیا کہ ایچ آئی وی کی وبا اِسی ہسپتال سے پھیلی۔‘

بیان کے مطابق یونیسف اور مقامی ہیلتھ کیئر محکمے کے مشترکہ مشن میں ’غیر منظم نجی پریکٹس اور غیر سکرین شدہ خون کی منتقلی کے کردار کو بھی واضح کیا گیا۔‘

بی بی سی آئی نے اپریل 2025 کی اس مشترکہ مشن کی انسپیکشن رپورٹ حاصل کی ہے جس میں ٹی ایچ کیو ہسپتال میں بہت سے ایسے مسائل کی نشاندہی کی گئی جو ہماری تفتیش کے دوران بھی سامنے آئے۔

رتوڈیرو کے ایچ آئی وی پازیٹیو بچے: ’خدا کسی دشمن کو بھی یہ بیماری نہ دے‘دنیا کی پہلی خاتون جنھوں نے ایچ آئی وی کو ’شکست‘ دینشتر ہسپتال میں ڈائلیسز کے 25 مریضوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص: ’ہمیں کس گناہ اور غلطی کی سزا مل رہی ہے‘وہ سائنسدان جس نے جانیں بچانے کے لیے ایچ آئی وی وائرس اپنے بیگ میں چھپا کر سمگل کیا

رپورٹ کے مطابق ’پیڈیاٹرک یا امراض اطفال ایمرجنسی روم کے حالات بہت پریشان کن تھے۔‘ یہ ان ڈیپارٹمنٹس میں شامل ہے جن میں بی بی سی نے فلم بنائی۔

رپورٹ کے مطابق ’ضروری پیڈیاٹرک ادویات غائب تھیں، غیر محفوظ انجیکشن لگانے کا طریقہ کار عام تھا، آئی وی فلوئڈ دوبارہ استعمال ہو رہے تھے، کینولا لیبل نہیں تھے، اور استعمال شدہ آئی وی سیٹ سٹینڈ پر لگے چھوڑے ہوئے تھے۔ ہاتھ کی صفائی کو نظر انداز کیا گیا، اور سینیٹائزر بھی دستیاب نہیں تھے۔‘

BBCہماری خفیہ فوٹیج میں ایک نرس کو استعمال شدہ میڈیکل سامان کے ڈبے میں بنا دستانے کے ہاتھ ڈالتے دیکھا جا سکتا ہے

آغا خان ہسپتال کراچی میں پیڈیاٹرک میڈیسن کی پروفیسر ڈاکٹر فاطمہ میر نے ہماری فوٹیج دیکھی اور کہا کہ یہ پاکستان میں انفیکشن کنٹرول کی تربیت کی کمزوی کی نشان دہی کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں انجیکشن لگانے والوں کو خبردار کرنا ہے کہ آپ بیماری منتقل کرنے کا آلہ بن رہے ہیں۔‘

ہماری تفتیش سے علم ہوتا ہے کہ ان غیر محفوظ رجحانات کی ایک وجہ نظام میں موجود دباؤ بھی ہے جس میں ثقافتی طور پر انجیکشن لگوانا ضروری سمجھا جاتا ہے۔

دنیا میں انجیکشن لگوانے کی زیادہ شرح والے ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے اور زیادہ تر اس کی ضرورت نہیں ہوتی۔ مریض خود اپنے لیے یا اپنے بچوں کے لیے ٹیکا لگوانے کا کہتے ہیں اور ڈاکٹر میر کے مطابق ڈاکٹر مریض کی خواہش پوری کرتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’انجیکشن صرف ایسی بیماریوں کے لیے لگانا چاہیے جن میں جان کو خطرہ لاحق ہو۔ چھوٹی موٹی بیماری کے لیے منھ کے ذریعے دوا دینی چاہیے۔‘

BBCہم نے سٹاف کی فوٹیج بنائی جس میں انھیں بنا دستانوں کے اور لوگوں کو کپڑوں کے اوپر سے ہی انجیکشن لگاتے دیکھا جا سکتا ہے

ادوایت کی کمی بھی ایک وجہ ہے۔ انجیکشن کی زیادہ طلب سے بھی مقامی ہسپتالوں کو دستیاب سٹاک پر دباؤ ڈلتا ہے جنھیں حکومت کی جانب سے مقرر شدہ کوٹہ ملتا ہے۔

ڈاکٹر میر کہتی ہیں کہ ’انھیں ایک مخصوص تعداد میں طبی سامان ملتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ پورے مہینے اسی میں گزارا کریں۔ کیا وہ دیکھ رہے ہیں کہ یہ کتنا خطرناک ہے؟ اور پیسہ کہاں لگنا چاہیے؟‘

خفیہ طریقے سے فلم بنانے کے دوران ہم نے دیکھا کہ وارڈز میں اکثر سپلائی نہیں ہوتی تھی اور کئی مریضوں سے کہا جاتا کہ وہ پیراسٹامول خود باہر سے لائیں۔ ایک نرس نے کہا کہ ’چھوٹی سی دوائی کا حساب بھی ہم سے لیا جاتا ہے۔‘

BBCدو سالہ مکاشا کراچی میں ایچ آئی وی پوزیٹیو ٹیسٹ آنے والے بچوں میں سے ایک ہے جبکہ ان کے والدین کو ایچ آئی وی نہیں ہے

ٹی ایچ کیو تونسہ میں جن رجحانات کا مشاہدہ کیا گیا، وہی پاکستان میں مختلف علاقوں میں وبائی امراض کے پھوٹنے کے دوران بھی دیکھی گئی ہیں۔

2019 میں سندھ میں رتوڈیرو میں سینکڑوں بچوں میں ایچ آئی وی ٹیسٹ پازیٹیو آیا جبکہ ان میں سے اکثر کے والدین کو ایچ آئی وی نہیں تھا۔ مقامی ڈاکٹر عمران اربانی نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ میڈیکل ہسٹری میں ان کو پتہ چلا کہ وہ مختلف کلینک جا چکے ہیں اور انجیکشن لگوا چکے ہیں۔ ’تو یہ ضرور کسی طبی سیٹنگ میں ہی لگا ہو گا۔‘

سنہ 2021 تک متاثرہ بچوں کی تعداد 1500 تک جا پہنچی اور آج بھی نئے کیس سامنے آ رہے ہیں۔

تونسہ میں فلمنگ کے دوران ہی کراچی سے بھی متعدد کیس سامنے آئے۔ سائٹ ٹاون کے علاقے میں مقامی سرکاری ہسپتال کلثوم بائی ولیکا ہسپتال سے علاج کروانے والے بچوں میں ایچ آئی وی ٹیسٹ پازیٹیو نکلا۔

ان میں دو سالہ مکاشا بھی شامل تھیں۔

BBCموت کے وقت محمد امین کی عمر آٹھ سال تھی

ان کے خاندان میں سے ایک فرد نے بتایا کہ ہسپتال کے عملے نے ایک ہی سرنج متعدد بچوں پر استعمال کی۔ بی بی سی آئی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’انھوں نے ایک ہی سرنج بھر کر پہلے ایک بچے کو ٹیکا لگایا پھر دوبارہ بھری اور ایک اور کو لگایا۔‘

ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ممتاز شیخ نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ ’کوالیفائیڈ ڈاکٹر کبھی استعمال شدہ سرنج کا استعمال نہیں کرتے تو سرکاری ہسپتال میں ایسا ہونے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔‘

تاہم وفاقی وزیر صحت نے تصدیق کی ہے کہ 84 کیس ہسپتال میں استعمال شدہ سرنج کی وجہ سے ہوئے۔

جب ہم نے اپنی تفتیش حکومت کے سامنے رکھی تو ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ ’حکومت نے اپنے دائرہ کار کے تحت فوری کارروائی اور تفتیش کی تاکہ انفیکشن سے بچاؤ کے طریقوں کو لاگو کیا جائے۔‘ مارچ 2025 میں، ترجمان کے مطابق طبی مراکز کو بھی قواعد و ضوابط بھجوائے گئے۔

تونسہ میں عاصمہ کا وزن گرتا جا رہا ہے اور ان کے خاندان کے مطابق اب انھیں زندگی بھر ایک ایسے وائرس کا علاج کروانا ہے جو انھیں ہونا ہی نہیں چاہیے تھا۔

ایچ آئی وی سے جڑے معاشرتی رویوں کا مطلب ہے کہ ہمسائے اپنے بچوں کو عاصمہ کے ساتھ نہیں کھیلنے دیتے جس کی وجہ سے وہ بیمار ہی نہیں، تنہائی کا شکار بھی ہو چکی ہیں۔ وہ اپنی ماں سے سوال کرتی ہیں کہ ’میرے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟‘

اپنے چھوٹے بھائی کی قبر پر کھڑی عاصمہ نے کہا وہ اسے یاد کرتی ہیں۔ ’اب وہ خدا کے پاس ہے۔‘ انھوں نے بی بی سی آئی کو بتایا کہ وہ سکول میں بہت محنت کرتی ہیں۔ ’جب میں بڑی ہوں گی تو میں ڈاکٹر بننا چاہتی ہوں۔‘

رتوڈیرو میں ایچ آئی وی وائرس کیسے پھیلا؟کیا ایچ آئی وی صوبہ پنجاب میں بھی پھیل رہا ہے؟افریقی ممالک میں ایڈز: ’ہمیشہ جنسی ساتھیوں سے کنڈوم پہننے کو کہتی ہوں لیکن اکثر وہ انکار کر دیتے ہیں‘سعودی عرب اور افغانستان سمیت وہ ممالک جہاں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے175 برطانوی بچوں کو ایچ آئی وی وائرس سے کیسے متاثر کیا گیا؟’وہ دن قیامت سے کم نہیں تھا جب شوہر، بچوں اور مجھے ایڈز تشخیص ہوئی‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More