پاکستان میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ: خلیج کی صورتحال کی وجہ سے ایل این جی پلانٹس کو گیس کی سپلائی بند ہے، وزیر توانائی اویس لغاری

بی بی سی اردو  |  Apr 16, 2026

Getty Imagesپاکستان میں بجلی کی طلب فی الحال 18000 میگا واٹ ہے جبکہ اس کے مقابلے میں 13500 میگا واٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے اور 4500 میگا واٹ کا شارٹ فال ہے

’ایسا لگتا ہے کہ ہم دوبارہ 2011 کے سال میں داخل ہو گئے ہیں۔ وہ وقت یاد آ رہا جب ہر تھوڑی دیر بعد بجلی چلی جاتی تھی۔‘

’اگر اسلام آباد میں اتنی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ملک کے دیگر حصوں کی صورتحال کیا ہو گی؟ کیا اندھیرے میں ڈوبا پاکستان ایک بار پھر واپس آ گیا ہے؟‘

’اِس وقت رات کے ڈیڑھ بج رہے ہیں۔ شام پانچ بجے کے بعد سے چار مرتبہ لوڈ شیڈنگ ہو چکی ہے اور ہر بار دورانیہ ایک گھنٹہ رہا۔ ہوٹل اور مارکیٹیں تو رات 8 اور 10 بجے بالترتیب بند ہو جاتی ہیں تو پھر آخر رات کے ایک بجے تک کے یہ پیک آورز کس کے لیے ہیں؟‘

یہ اور اس نوعیت کے دیگر گلے شکوے اور سوالات پاکستان کے سوشل میڈیا پر اب کافی عام نظر آ رہے ہیں اور اس کی وجہ ملک میں لوڈ شیڈنگ کی واپسی ہے۔

اگرچہ پاکستان میں اپریل کے مہینے میں عمومی طور پر موسم زیادہ گرم نہیں ہوتا اور بجلی کی طلب بھی کم رہتی ہے تاہم اس کے باوجود ملک کے مختلف حصوں میں بجلی کی فراہمی کی صورتحال خراب ہوتی دکھائی دے رہی ہے جس سے شہری اور دیہی علاقوں میں رہنے والے صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔

بہت سے پاکستانی صارفین اس موقع پر سنہ 2011 کو یاد کر رہے ہیں جب ملک کو بدترین بجلی بحران کا سامنا تھا اور روزانہ دس سے 14 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی تھی۔

اگرچہ فی الحال صورتحال اتنی بُری نہیں مگر چونکہ گذشتہ کچھ برسوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ لگ بھگ ختم ہو گئی تھی، اسی لیے صارفین پر اب یہ صورتحال گراں گزر رہی ہے۔

’پیک ریلیف سٹریٹجی‘: حکومت لوڈ شیڈنگ کی کیا وجوہات بتا رہی ہے؟Getty Images

وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں 3400 میگاواٹ بجلی کی کمی ہے۔

جمعرات کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اپریل کے پہلے عشرے میں ڈیمانڈ9000 میگاواٹ تھیاور صرف چھ دن کے بعد یعنی 15اپریل کو 20 ہزار میگاواٹ کی ڈیمانڈ آئی۔

انھوں نے بتایا کہ خلیج کی صورتحال کی وجہ سے ہمارے تقریباً سارے ایل این جی پلانٹس کو گیس کی سپلائی بند ہے۔

’ان تمام ایل این جی پلانٹس کی پیداواری صلاحیت چھ ہزار میگاواٹ ہے جس میں سے صرف 500 میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے اور وہ بھی کول گیس سے۔‘

وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر ایل این جی دستیاب ہوتی اور پن بجلی بھی بن رہی ہوتی تو اس کمی کو پورا کر پاتے کیونکہ ایل این جی پاور پلانٹس کی کل استعداد 6000 میگاواٹ ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ اس وقت ایل این جی اور پن بجلی کی کمی سے جتنا فرق پڑ رہا ہے اس کو کم کرنے کے لیے فرنس آئل کے پلانٹس چلا رہے ہیں تاہم اب بھی ہمیں تقریباً 3400 میگا واٹ کے شارٹ فال کا سامنا ہے۔

اویس لغاری نے وضاحت کی کہ 500 سے 600 میگاواٹ کےشارٹ فال پر تقریبا ایک گھنٹے کی لوڈ منیجمنٹ کی جاتی ہے اور 3400 میگاواٹ کے شارٹ فال سے چھ سے سات گھنٹے کی لوڈ منیجمنٹ کرنی پڑ رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ کوشش کر رہے ہیں کہ ایندھن کا بندوبست کیا جائے تاکہ بجلی کی پیداوار بڑھائی جائے۔

’اس وقت دیہی اور شہری علاقوں میں یکساں لوڈ منیجمنٹ کی جارہی ہے۔ دن کے اوقات میں لوڈ منیجمنٹ نہیں ہوتی کیونکہ دن کے اوقات میںڈیمانڈ کم اور پیداوار وافر ہوتی ہے۔‘

یاد رہے کہ اس سے قبل بدھ کے روز پاور ڈویژن کے حکام نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ فی الوقت پاکستان میں بجلی کی طلب 18000 میگا واٹ ہے جبکہ اس کے مقابلے میں 13500 میگا واٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے، چنانچہ بجلی کی طلب اور رسد میں 4500 میگا واٹ کا فرق ہے۔

پاکستان میں پاور ڈویژن نے منگل کے روز ایک اعلامیہ جاری کرتے ہوئے بھی موجودہ صورتحال کی وضاحت کی۔

پاور ڈویژن کے مطابق ’پاکستان میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ حکومت کی پیک ریلیف سٹریٹجی کا حصہ ہے‘ اور اگر اس ضمن میں بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو بجلی کے نرخوں میں پانچ سے چھ روپے فی یونٹ تک اضافہ ہو سکتا تھا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ ’ہمیں اس وقت سب سے بڑا چیلنج پیک آورز (شام پانچ بجے سے لے کر رات ایک بجے) کے دوران درپیش ہے جہاں بجلی کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے‘ جبکہ دوسری جانب اِن دنوں پانی سے چلنے والے بجلی گھروں کی پیداوار میں کمی ہے۔

اعلامیے میں بتایا گیا کہ ’پیک آورز (شام پانچ سے رات ایک بجے تک) میں سوا دو گھنٹے کی لوڈ مینجمنٹ کے ذریعے بجلی کی قیمت میں تقریباً تین روپے فی یونٹ اضافے کو روکا جا سکتا ہے تاہم فرنس آئل کے محدود استعمال کے باوجود تقریباً ڈیڑھ روپے فی یونٹ اضافے کا امکان برقرار ہے۔‘

پاور ڈویژن نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں یعنی ڈسکوز کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ ہر فیڈر کی لوڈ شیڈنگ کے اوقات صارفین کے ساتھ شیئر کریں۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ حکومت کی کوشش ہے کہ عوام عالمی حالات کے اثرات سے کم سے کم متاثر ہوں اور انھیں ہر ممکن ریلیف فراہم کیا جائے۔

سستے تیل اور گیس کا دور ختم: ’تاریخ کا سب سے بڑا توانائی بحران‘ ایران جنگ ختم ہونے کے بعد طویل عرصے تک جاری رہے گا ’نیٹ بلنگ کا اطلاق صرف نئے صارفین پر، موجودہ سولر صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ برقرار رہے گی‘بجلی کا وہ ’ایک اضافی یونٹ‘ جو آپ کے بل میں دوگنا اضافے کی وجہ بنتا ہےآئی پی پیز معاہدوں پر نظر ثانی: 137 ارب روپے کیسالانہ بچت کا دعوی لیکن بجلی کی فی یونٹ قیمت کتنی کم ہو گی؟

لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی یا لیسکو کی طرف جاری کردہ بیان پاور ڈویژن کی وضاحت سے تھوڑا مختلف ہے۔

لیسو کے بیان میں کہا گیا کہ ’موجودہ ملکی توانائی اور طلب و رسد میں ممکنہ فرق کے پیش نظر لیسکو ریجن میں عارضی طور پر لوڈ مینجمنٹ کی جا رہی ہے۔ جیسے ہی بجلی کے کوٹہ میں بہتری آئے گی یا طلب و رسد کا فرق ختم ہو گا تو لوڈ مینجمنٹ کا سلسلہ فوری طور پر بند کر دیا جائے گا۔‘

تجزیہ کار کیا کہتے ہیں؟Getty Images

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ آنے والے دنوں میں بجلی کی طلب میں اضافے کے باعث لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ مزید بڑھے گا۔

پاکستان میں بجلی کئی طریقوں سے پیدا کی جاتی ہے جس کے لیے ایل این جی، ہائیڈرو پاور، فرنس آئل، فاسل فیول، کوئلہ، ہوا، سولر اور بائیوگیس سمیت دیگر وسائل استعمال کیے جاتے ہیں۔

اس میں سے 46 فیصد بجلی پاکستان کے مقامی وسائل کو استعمال کرتے ہوئے بنائی جاتی ہے جبکہ 54 فیصد کے لیے گیس، تیل اور کوئلہ دوسرے ممالک سے درآمد کیا جاتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اپریل کے مہینے میں لوڈ شیڈنگ کی وجہ ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع کے بیچ پاکستان میں درآمدی ایل این جی کی سپلائی کا بند ہونا ہے۔

پاور سیکٹر کے تجزیہ کار زیان بابر علی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز بند ہوئی تو قطر سے پاکستان آنے والی ایل این جی کی سپلائی معطل ہو گئی جبکہ پاکستان میں چار ہزار سے پانچ ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے لیے مختلف پاور پلانٹس ایل این جی کا استعمال کرتے ہیں۔

ان کے مطابق اس صورتحال کے باعث بجلی طلب کے مطابق نہیں بن پا رہی اور اب اس کی رسد میں خلل واقع ہو رہا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اگرچہ پاکستان میں دیگر ذرائع جیسا کہ ڈیزل سے بھی بجلی پیدا کی جا سکتی ہے تاہم ڈیزل کی زیادہ قیمت کی وجہ سے حکومت یہ ذریعہ استعمال نہیں کر رہی کیونکہ اس صورت میں بجلی مہنگی ہو گئی اور لامحالہ اس کا اثر عوام پر مہنگی بجلی کی صورت میں منتقل کرنا پڑے گا۔

زیان کے مطابق اپریل کے مہینے میں ملک میں پانی سے بجلی بنانے کی صلاحیت بھی کم ہوتی ہے جس کی وجہ سے ہائیڈرو پاور ذرائع سے کم بجلی آتی ہے اور یہی صورتحال ملک میں لوڈ شیڈنگ کی وجہ بن رہی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ آنے والوں دنوں میں بھی بجلی کی لوڈ شیڈنگ جاری رہے گی کیونکہ فی الحال ایل این جی سپلائی معطل ہے اور اگر آبنائے ہرمز آئندہ بھی بند رہی تو پاکستان میں گرمیوں میں بجلی کا بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔

زیان کہتے ہیں کہ عموماً اپریل میں بجلی کی طلب 18000 میگاواٹ کے لگ بھگ ہوتی ہے تاہم حکومت مہنگی بجلی پیدا نہیں کر رہی جس کی وجہ سے یہ طلب پوری نہیں ہو رہی۔

تجزیہ کار محمد لقمان کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں تقریباً 12 سے 13 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے جبکہ فی الحال ملک کی ضرورت 17 سے 18 ہزار میگا واٹ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اگر یہ شارٹ فال مزید بڑھا تو لوڈ شیڈنگ کے دورانیے میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ ’ابھی تو حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پیک آورز میں دو سے ڈھائی گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے مگر حقیقت میں بجلی اس سے کہیں زیادہ جا رہی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ایل این جی کی فراہمی میں رکاوٹ کی وجہ سے بھی بجلی کی فراہمی متاثر ہے جبکہ فرنس آئل پر چلنے والے پاور پلانٹ بھی بند ہیں۔

انھوں نے کہا ’موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ انرجی کرائسس تیزی سے بڑھ رہا ہے۔آنے والے دنوں میں یہ مسئلہ مزید بڑھ سکتا ہے کیونکہ گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ لوگ اے سی کا استعمال بھی زیادہ شروع کر دیں گے اور بجلی کی طلب میں نمایاں اضافہ ہو گا۔‘

کپیسِٹی پیمنٹ: حکومت نجی بجلی گھروں کو کروڑوں کی ادائیگیوں سے چھٹکارا پانے کے لیے کیا کر سکتی ہےگھریلو صارفین کے سولر پینل لگانے سے عام عوام پر مہنگی بجلی کا بوجھ کیسے پڑ رہا ہے؟جاپان کا زمین پر ’مصنوعی سورج‘ بنانے کا خواب، ’کم تابکاری زیادہ توانائی‘چناب پر 313 ارب روپے مالیت کے انڈین آبی منصوبے کی ماحولیاتی منظوری: اس منصوبے کے پاکستان پر کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟’گرین انرجی سپر پاور‘ چین نے امریکہ، روس اور مغرب کو کیسے پیچھے چھوڑا؟کیا چھت پر سفید رنگ کرنے سے گھر ٹھنڈا ہو سکتا ہے؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More