Getty Images
ایسے شادی شدہ افراد جن کے چھوٹی عمر کے بچے ہوتے ہیں وہ یہ بات اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ چھوٹے بچوں کی دیکھ بھال کرنا روزمرہ زندگی کی کسی اور ذمہ داری سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔
یہ بات بھی حقیقت ہے کہ چاہے ہم کتنی ہی محنت کیوں نہ کریں یا نیت کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو، بچے کو ہر وقت سو فیصد توجہ دینا ممکن نہیں ہوتا۔
اب چاہے روز مرہ کا سفر ہو یا ڈاکٹر کے کلینک میں انتظار کی مشقت، کسی ضروری فون کال سے لے کر کھانا پکانے تک روزمرہ زندگی میں بے شمار مواقع ایسے ہوتے ہیں جب والدین کو کچھ دیر کے لیے بچے پر سے توجہ ہٹانی پڑ سکتی ہے۔
اکثر صرف اتنا کافی ہوتا ہے کہ بچے کو یہ محسوس ہو جائے کہ ہماری توجہ اس پر نہیں ہے اور وہ فوراً مزید توجہ کا مطالبہ کرنے لگتا ہے۔
ایسے میں ہم عام طور پر ایک فوری اور آسان حل کی طرف جاتے ہیں یعنی موبائل یا ٹیبلٹ پر چلائی گئی کوئی ویڈیو، جس کے رنگ، حرکت اور آواز چند منٹ کے لیے بچے کو پوری طرح اپنی طرف متوجہ کر لیتی ہے۔
لیکن یہ سہولت جو بظاہر بہت کارآمد لگتی ہے، کئی طرح کے نقصانات بھی اپنے ساتھ لاتی ہے۔
چنانچہ کچھ ایسے کھیل ہیں جو آپ کی مدد کر سکتے ہیں۔
ایک سکرین سے بہتر پانچ چیزیں
آپ ایسی دو سے پانچ ایسی اشیا اپنے چھوٹے بچے کے کھیلنے کے لیے منتخب کر سکتے ہیں، جن کو مختلف طریقوں سے استعمال کیا جا سکے یعنی وہ مواد جو کسی خاص شکل یا مقصد تک محدود نہ ہو بلکہ اسے بچے ایک سے زیادہ طریقوں سے کسی بھی شکل میں ڈھال سکیں۔
مثلاً ایسی محفوظ چیزیں جن کو بچے بھر سکیں، خالی کرسکیں، جوڑنے، ترتیب دینے، اٹھا کر لے جانے یا کھولنے اور بند کرنے جیسے عمل کی طرف مائل کریں۔
یہ طریقہ ٹریژر باسکٹ اور ہیورسٹک پلے کے اصولوں کے مطابق ہے، جس میں کھیل کے دوران کسی بڑے کی ضرورت نہ پڑے اور بچے صرف اپنی جستجو اور تخیل کے ذریعے آگے بڑھ سکیں۔
ان چیزوں کو کسی مخصوص جگہ جیسے چادر یا قالین پر رکھ دینا بچے کو کھیل کے لیے ایک محفوظ اور مقررہ مقام کے اندر کھیلنا بھی سکھاتی ہے۔
اس سے بچے کو یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ یہ اس کی اپنی جگہ ہے، جہاں وہ خود سے کھوج اور کھیل سکتا ہے جبکہ بڑا شخص قریب ہی کوئی اور کام انجام دے سکتا ہے۔
پورٹیبل کِٹسGetty Imagesایسی چیزیں تلاش کی جائیں جو ٹریژر باسکٹ اور ہیورسٹک پلے کے اصولوں کے مطابق ہوں، یعنی وہ کھیل جس میں بچہ کسی بڑے کی مداخلت کے بغیر صرف تخیل اور جستجو سے آگے بڑھتا ہے
منتخب کی گئی یہ چیزیں مختلف حالات کے مطابق آسانی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے والی چھوٹی چھوٹی کِٹس کی شکل میں بھی تیار کی جا سکتی ہیں۔ مثلا گھر کی میز پر یا ریسٹورنٹ میں:
12 ماہ تک کے بچے لکڑی کے چمچ، سلیکون کی انگوٹھی اور گرہ لگی سکارف جیسی چھپائی جانے والی چیزوں کو 5 سے 10 منٹ تک ڈھونڈ سکتے ہیں۔
12 سے 24 ماہ کی عمر کے بچے
10 سے 12 محفوظ اور روزمرہ استعمال کی چیزوں پر مشتمل ایک چھوٹا بیگ بچے کو کھیل ہی کھیل میں ترتیب دینے اور دریافت کرنے میں مدد دیتا ہے۔
24 سے 36 ماہ کی عمر کے بچے
ڈبے، کلپسں اور بوتلوں کے ڈھکن جیسی چیزیں بچے کو خود سے چھوٹے ’پروجیکٹس‘ بنانے کی ترغیب دیتی ہیں، جبکہ بڑا شخص بغیر مداخلت کے صرف مشاہدہ کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایک وقت میں بہت زیادہ چیزیں دینے کے بجائے صرف ایک سے پانچ اشیا پیش کرنا بہتر ہے کیونکہ بہت زیادہ ٹاسک بچے کی توجہ بکھیر دیتے ہیں اور کھوج میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
کم چیزیں زیادہ فائدہ دیتی ہیں
جب مواد محدود اور سوچ سمجھ کر منتخب کیا گیا ہو تو بچہ ان پر زیادہ دیر تک توجہ دیتا ہے، حرکات دہراتا ہے اور نئی چیزیں دریافت کرتا ہے۔
چیزوں کو وقفے وقفے سے بدل دینا بھی فائدہ مند ہے تاکہ وہ دلچسپ محسوس ہوں اور ماحول بوجھل نہ ہو۔
ابتدا میں مختصر ساتھ دینا مددگار ہوتا ہے، مثلاً چیزوں کو آہستگی سے سنبھال کر دکھانا۔ وقت کے ساتھ بچہ یہی معمول خود مختاری سے دہرانے لگتا ہے۔
سکرین ٹائم سے بچوں کے ذہنوں کو پہچنے والا نقصان اندازوں سے زیادہ پیچیدہ والدین بچوں کے 'سکرین ٹائم' کو کیسے مفید بنا سکتے ہیں؟آپ کے فون کی نیلی روشنی آپ کی نیند خراب نہیں کر رہی تو پھر اصل ’مجرم‘ کون؟آنکھوں کی خشکی اور سکرین ٹائم کا کیا تعلق ہے اور اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟
بس یا گاڑی میں بچوں کو کیسے مصروف رکھیں؟
ایک شفاف نلکی جس میں چھوٹے ٹکڑے ہوں اور ایک رومال، بچے کو بغیر آواز کے پُرسکون اور دہرائے جانے والے عمل میں مصروف رکھتے ہیں۔
انتظار گاہ میں
’کھولو اور بند کرو‘ جیسا ایک چھوٹا سیٹ مثلاً بڑا زِپ والا پرس (جس میں سکے نہ ہوں)، پیچ والے ڈھکن کی بوتل، اور بٹن یا سنیپ والی ٹیپ توجہ مرکوز کرنے اور باریک حرکات کی مہارت بڑھانے میں مدد دیتے ہیں۔
بارش والے دن گھر میں
کشنز اور ایک ڈبے کے ٹنل سے بنے سادہ موٹر سرکٹ کو نیچی میز سجانا بچے کو حرکت، سکون اور ایک ترتیب وار سلسلے کی جانب راغب کرتی ہے۔
یاد رہے کہ کسی بھی سرگرمی میں بچوں کو مشغول کرنے کے لیے پہلی شرط ان کی حفاظت ہے۔ ماہرین کے مطابق تین سال سے کم عمر بچوں کے لیے کھیل کے لیے دیے گئے مواد کا سائز کم از کم 4 سینٹی میٹر ہونا چاہیے۔
چیزوں کی باقاعدہ جانچ کی جائے کہ وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہ ہوں، کھیل میں شامل اشیا کے پارٹس بہت چھوٹے یا ڈھیلے نہ ہوں جبکہ بچوں کے کھیل میں مداخلت کے بغیر اس دوران ان کی نگرانی ضروری ہے۔
زیادہ سکرینیں، زیادہ اُکتاہٹ
اس کے برعکس موبائل فون، ٹیبلیٹ یا ٹی وی سکرینوں کا بہت جلد یا بہت زیادہ استعمال بچپن کے کئی ابتدائی تجربات کو کمزور کر سکتا ہے، مثلاً لوگوں سے رابطہ، ایک ساتھ وقت گزارنا، حسیات کا تیز ہونا اور نت نئی دریافتیں کرنا۔
یقیناً اس کا یہ مطلب نہیں کہ خاندان کے افراد سے مختصر ویڈیو کالز کوئی منفی چیز ہیں۔ ان کوایک مثبت استثنا میں شمار کیا جا سکتا ہے۔
اصل بات یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ویڈیوز جیسے مشاغل (جو حرکت کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے) کسی خاص لمحے کو تو گزار دیتے ہیں، لیکن کھیلنے کے صحت مند اور پراعتماد مشاغل کی عادت بنانے میں مدد نہیں دیتے۔
اس کے برعکس تحقیق بتاتی ہے کہ اس طرح کے محرکات بچے کو ان ہی پر زیادہ انحصار کرنے والا بنا دیتے ہیں، جبکہ وہ نسبتاً سست رفتار اور ملکر کھلنے والے سپورٹس میں کم دلچسپی لینے لگتا ہے۔
Getty Images
اسی لیے عالمی ادارۂ صحت اور ہسپانیہ کی پیڈیاٹرکس ایسوسی ایشن دونوں یہ تجویز کرتی ہیں کہ 12 سے 18 ماہ کی عمر تک بچوں کو سکرین سے مکمل طور پر دور رکھا جائے۔
حالیہ تحقیق تو یہاں تک کہتی ہے کہ اس حد کو بڑھا کر چھ سال تک کر دینا چاہیے۔
اگلی بار جب ہمیں کسی لمحے بچے کے لیے سکرین کا سہارا لینے کا خیال آئے تو یہ ضرور سوچیں کہ کیا اسے کسی زیادہ جسمانی سرگرمی سے بدلا جا سکتا ہے۔
ان اشیا اور حکمتِ عملیوں کے ذریعے خود مختار کھوج کی حوصلہ افزائی نہ صرف بہتر حرکت اور ذہنی نشوونما میں مدد دیتی ہے بلکہ کھیل اور فارغ وقت کو سمجھنے کا ایک زیادہ پُرسکون، موجود اور صبر آزما طریقہ بھی تشکیل دیتی ہے، ایسا طریقہ جو بیرونی محرکات پر کم انحصار کرتا ہو۔
سکرین ٹائم سے بچوں کے ذہنوں کو پہچنے والا نقصان اندازوں سے زیادہ پیچیدہ والدین بچوں کے 'سکرین ٹائم' کو کیسے مفید بنا سکتے ہیں؟آپ کے فون کی نیلی روشنی آپ کی نیند خراب نہیں کر رہی تو پھر اصل ’مجرم‘ کون؟آنکھوں کی خشکی اور سکرین ٹائم کا کیا تعلق ہے اور اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟ڈیجیٹل جنریشن اور سکرین ٹائم: آج کی نسل اپنے والدین کے مقابلے میں کم ذہین کیوں ہے؟سکرین پر پڑھنے کے نقصانات اور مطالعے سے ہمارے ذہنوں پر مرتب ہونے والے اثرات