ایران کی امریکہ اور اسرائیل سے جنگ کے دوران القاعدہ کی ’غیرمعمولی‘ خاموشی کیا ظاہر کرتی ہے؟

بی بی سی اردو  |  Apr 21, 2026

GETTY28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے دوران تہران شہر میں ہونے والے دھماکے کے بعد اٹھتا ہوا دھواں

امریکہ اور اسرائیل کی 28 فروری کو ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ اور اس کے وسیع اثرات پر شدت پسند تنظیم القاعدہ خاص طور پر خاموش رہی ہے۔

یہ غیرمعمولی ہے، کیوں کہ القاعدہ اور اس سے وابستہ گروہ عام طور پر مشرق وسطیٰ کے بڑے واقعات پر ردعمل دیتے رہے ہیں۔

خاص طور پر ایسے وقت میں جب اس قسم کے تنازعات شدت پسند حلقوں میں زیر بحث ہوں، جیسا کہ اس بار دیکھنے میں آیا ہے۔

اس سال القاعدہ کی مرکزی قیادت کی جانب سے صرف ایک بیان چار فروری کو سامنے آیا تھا، وہ بھی اُس وقت جب امریکہ ایران کے ساتھ کشیدگی کے تناظر میں مشرق وسطیٰ میں اپنی عسکری موجودگی بڑھا رہا تھا۔

اس بیان میں امریکہ اور اسرائیل کے فوجی اڈوں پر حملوں کی اپیل کی گئی تھی، جسے کئی شدت پسند تنظیموں نے ایران کی بالواسطہ حمایت کے طور پر دیکھا۔

القاعدہ کی یہ خاموشی ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہو سکتی ہے۔

یہ تنظیم اس وقت ایک نازک صورتحال سے دوچار ہے۔ اس کے سربراہ سیف العدل اور ان کے قریبی ساتھیوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ایران میں مقیم ہیں۔

نائن الیون حملوں کے بعد القاعدہ کے کئی اہم رہنما اور ان کے اہل خانہ افغانستان اور پاکستان سے فرار ہو کر ایران چلے گئے تھے۔

امریکی ادارے ایف بی آئی کی ’انتہائی مطلوب دہشت گردوں‘ کی فہرست میں بھی بتایا گیا ہے کہ سیف العدل ’ایران میں موجود‘ ہیں۔

ایک طرف القاعدہ شاید ایران کو ناراض کرنے سے بچنا چاہتی ہے، اسی لیے وہ ان شدت پسند گروہوں کی صف میں کھل کر شامل نہیں ہو رہی جو شیعہ اکثریتی ایران کی حمایت کے خلاف خبردار کر رہے ہیں۔

کئی ایسے گروہوں نے تقریباً ہم آواز ہو کر سنی مسلمانوں سے کہا ہے کہ وہ کسی بھی فریق کا ساتھ نہ دیں، خاص طور پر ایران کے لیے ہمدردی ظاہر کرنے سے اجتناب کریں۔

دوسری طرف، ممکن ہے کہ تنظیم امریکہ یا اسرائیل کے خلاف مزید بیانات دینے سے بھی گریز کی حکمت عملی اپنا رہی ہو، جیسا کہ اس نے چار فروری کو کیا تھا۔

کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں اسے ایران کی بالواسطہ حمایت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جس سے اس کے اپنے حامیوں میں اس کا تاثر خراب ہو سکتا ہے۔

شدت پسند جہادی نظریے میں شیعہ ایران کو سنی اسلام کا بڑا دشمن اور ایک سنگین خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔

جون 2025 میں بھی امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف 12 روزہ جنگ کے دوران القاعدہ نے اسی طرح کی خاموشی اختیار کی تھی۔

اس کے برعکس، القاعدہ کی حریف سمجھی جانے والی تنظیم دولت اسلامیہ خاصی سرگرم رہی اور اس نے دونوں فریقوں پر سخت تنقید کی۔

نام نہاد دولت اسلامیہ نے چار فروری کو القاعدہ کی جانب سے امریکہ کے خلاف ’جہاد‘ کی اپیل کو اس بات کے ’ثبوت‘ کے طور پر پیش کیا کہ القاعدہ بتدریج ایران کا مہرہ بنتی جا رہی ہے۔

قیادت کی خاموشی کا مطلبSALMIC STATEالقاعدہ کے برعکس نام نہاد دولت اسلامیہ ایران کی جنگ پر کھل کر بولتی رہی ہے اور اس نے ایران کا ساتھ دینے کے خلاف خبردار بھی کیا ہے

القاعدہ طویل عرصے سے اس بات پر بھی خاموش ہے کہ اس کی قیادت کس حال میں ہے، ایران سے متعلق تنازع پر خاموشی کا ایک تعلق اس سے بھی ہے۔

جولائی 2022 سے لے کر اب تک القاعدہ نے جو عوامی بیانات جاری کیے ہیں، ان میں کسی رہنما کا نام نہیں لیا گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب امریکہ نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں تنظیم کے اُس وقت کے سربراہ ایمن الظواہری کو ہلاک کرنے کا اعلان کیا تھا۔

یہ سب اس کے باوجود ہوا کہ ابتدائی خبروں میں کہا گیا تھا کہ تنظیم کے نائب سربراہ، مصری شہری سیف العدل نے قیادت سنبھال لی ہے۔

تاہم القاعدہ نے ان خبروں کی نہ کبھی باضابطہ طور پر تصدیق کی اور نہ ہی تردید، اگرچہ جہادی حلقے اور اس کے اپنے حامی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ایمن الظواہری ہلاک ہو چکے ہیں اور سیف العدل قیادت سنبھال چکے ہیں۔

امکان ہے کہ القاعدہ نے یہ خاموشی اس لیے اختیار کی ہو تاکہ وہ اپنے اتحادی سمجھے جانے والے طالبان کو کسی مشکل صورتحال میں نہ ڈالے۔

ساتھ ہی وہ اس پیچیدہ سوال سے بھی بچنا چاہتی ہے کہ کیا اس کے نئے رہنما ایران میں رہ رہے ہیں، جسے سنی جہادی حلقے ایک بڑا دشمن تصور کرتے ہیں۔

ماضی میں القاعدہ کے اندرونی ذرائع بھی اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ تنظیم کے بعض اعلیٰ سطح کے رہنما ایران میں موجود رہے ہیں۔

سنہ 2022 کے بعد سے نام نہاد دولت اسلامیہ القاعدہ پر ایران کے زیراثر ہونے کا الزام عائد کرتی رہی ہے اور اس کے لیے سیف العدل کی ایران میں موجودگی کو دلیل کے طور پر پیش کرتی ہے۔

القاعدہ کے حامیوں نے اس معاملے کی مختلف وضاحت پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے مطابق تنظیم کے وسائل محدود ہیں اور سیف العدل دراصل نظر بند تھے یا انھیں ملک چھوڑنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ القاعدہ ایک نازک توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہی ہے: ایک طرف اپنے زیادہ تر ایران مخالف حامیوں کو پیغام دینا اور دوسری طرف ایران کو ناراض کرنے سے بچنا۔

ایران سے نظریاتی اختلافات کے باوجود القاعدہ کے بعض حلقے عملی وجوہات کی بنا پر، وقتاً فوقتاً ایران کے ساتھ محدود سٹریٹجک رابطوں کو بھی درست قرار دے سکتے ہیں۔

بالکل اسی طرح جیسے حماس نے کیا ہے، جس کی جڑیں اخوان المسلمین میں ہیں۔

تنازع پر خاموشی

اس سال القاعدہ کی مرکزی قیادت کی جانب سے صرف ایک ہی بیان سامنے آیا تھا، وہ بھی چار فروری کو۔

اس بیان میں مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی بڑھتی ہوئی عسکری موجودگی کے خلاف مسلمانوں سے حرکت میں آنے کی اپیل کی گئی تھی۔

تنظیم کی علاقائی شاخوں نے بھی امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ پر کوئی براہ راست بیان جاری نہیں کیا۔

یہاں تک کہ یمن میں القاعدہ کی شاخ ’القاعدہ ان دی عریبین پینینسولا‘ (اے کیو اے پی) نے بھی کوئی تبصرہ نہیں کیا، جو حالیہ برسوں میں مرکزی قیادت کی غیر موجودگی میں عالمی جہادی بیانیہ دینے میں پیش پیش رہی ہے۔

صرف جنوبی ایشیا کی شاخ نے اس معاملے پر اپنی رائے دی۔

یہ رائے 8 مارچ کو اے کیو آئی ایس کے جریدے ’نوائے غزوۃ الہند‘ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں سامنے آئی، جس میں ایران کے لیے ہلکی سی ہمدردی جھلکتی تھی۔

اسلامی دنیا میں کوئی بڑا واقعہ ہو تو عام طور پر القاعدہ رد عمل دیتی ہے۔

مثال کے طور پر، غزہ کے تنازع پر القاعدہ کی جانب سے واضح بیانات جاری کیے گئے تھے، جبکہ نام نہاد دولت اسلامیہ، اتنی فعال دکھائی نہیں دی تھی۔

اس کے باوجود، غزہ کے تنازع پر القاعدہ کے بعض بیانات کو حماس کی حمایت کے طور پر دیکھا گیا۔

اسی تناظر میں ان بیانات کو ایران کے شیعہ اثر و رسوخ والے ’مزاحمت کے محور‘ سے منسلک سمجھا گیا۔

حماس کے رہنماؤں کی ہلاکت پر اظہار تعزیت کے بعد، نام نہاد دولت اسلامیہ کی طرف سے خاص طور پر یہ الزامات لگائے گئے کہ القاعدہ کا پیغام ایران کے زیراثر تھا۔

اس نازک صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے، القاعدہ عموماً حماس کی کھلے عام تعریف سے گریز کرتی رہی ہے اور اس کے بجائے فلسطینی ’مجاہدین‘ یا حماس کی عسکری شاخ عزالدین القسام بریگیڈ پر توجہ مرکوز رکھی ہے۔

حماس کی ایران نواز سیاسی قیادت کے مقابلے میں جہادی حلقوں میں اسے کم متنازع سمجھا جاتا ہے۔

جون 2025 میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف 12 روزہ جنگ کے دوران بھی القاعدہ اور اس سے منسلک تنظیمیں خاموش رہی تھیں، تاہم اس بار کی خاموشی زیادہ توجہ حاصل کر رہی ہے۔

کیونکہ اس مرتبہ تنازع بڑا ہے اور اس کے اثرات بھی کہیں زیادہ ہیں۔

سخت گیر حلقوں کی اکثریت کا مؤقف رہا ہے کہ ایران کی حمایت درست نہیں۔ البتہ کچھ اسلامی گروہ ایسے بھی ہیں جو ایران کی حمایت کی بات کرتے ہیں، لیکن ان کی تعداد محدود ہے۔

سلطان عزیز عزام: ایف ایم سٹیشن پر ناول پڑھ کر سُنانے والا ’براڈ کاسٹر‘ داعش خراسان کا کمانڈر کیسے بنا؟شریف اللہ عرف جعفر: پاکستان میں گرفتار ہونے والے مبینہ افغان شدت پسند کی امریکی عدالت میں پیشی کا احوالدولت اسلامیہ، طالبان اور امریکی ہتھیار: کیا افغانستان پاکستان اور امریکہ کو دوبارہ قریب لا سکتا ہے؟نیویارک میں یہودی مرکز پر حملے کی منصوبہ بندی کا الزام اور 21 سالہ پاکستانی شہری کا اعتراف جرمGetty Imagesجنگ سے پہلے القاعدہ کے پیغام کا الٹا اثر

امریکہ کی فوجی تیاریوں کے تناظر میں القاعدہ کے چار فروری کے بیان میں مسلمانوں سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ پورے خطے میں امریکہ اور اسرائیل کے فوجی ٹھکانوں، حتیٰ کہ سمندری جہازوں کو بھی نشانہ بنائیں۔

یہ اپیل عرب ممالک کے عوام اور حکومتوں، دونوں سے کی گئی تھی اور حکومتوں کو خبردار کیا گیا تھا کہ اگر انھوں نے امریکی موجودگی اور اثر و رسوخ کے خلاف سخت قدم نہ اٹھایا تو انجام وینزویلا کے صدر نکولس مادورو جیسا ہو سکتا ہے، جنھیں امریکہ نے جنوری میں اقتدار سے ہٹا دیا تھا۔

القاعدہ کے آن لائن حامیوں میں اس بیان پر مجموعی طور پر کمزور ردعمل دیکھنے میں آیا۔

القاعدہ کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے آنے والا یہ اہم بیان، جو ایک سال بعد سامنے آیا تھا، سخت گیر اسلامی حلقوں میں نہ تو زیادہ شیئر کیا گیا اور نہ ہی اس پر زیادہ بحث ہوئی۔

یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کہیں نہ کہیں ایک بے چینی یا تذبذب موجود تھا۔ بعض لوگوں کو اس بیان کا وقت مناسب نہیں لگا، کیونکہ اُس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان شدید کشیدگی جاری تھی، اور یہ تاثر پایا جا رہا تھا کہ اگر کوئی کارروائی ہوتی ہے تو اس کا فائدہ سب سے پہلے ایران کو پہنچے گا۔

القاعدہ کی حریف سمجھی جانے والی نام نہاد دولت اسلامیہ کے حامیوں نے فوراً اس بیان کو ایران کی بالواسطہ حمایت کے طور پر پیش کیا، کیونکہ امریکی فوجی تیاریوں کا اصل ہدف ایران ہی تھا۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ القاعدہ دراصل ایران کے ’مزاحمت کے محور‘ کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔

یہ تاثر 26 فروری کو مزید مضبوط ہوا، یعنی ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے سے صرف دو دن پہلے، جب دولت اسلامیہ نے ایک مضمون میں القاعدہ کے چار فروری کے بیان کا مذاق اڑایا اور اسے اس بات کا ’ثبوت‘ قرار دیا کہ تنظیم ایران کی حمایت کر رہی ہے۔

نام نہاد دولت اسلامیہ نے یہ بھی کہا کہ اب القاعدہ کی سوچ اور اس کی اپیلیں ایران کی پاسداران انقلاب کے اشاروں پر ترتیب دی جا رہی ہیں۔ اور چونکہ سیف العدل ’ایران میں موجود‘ ہیں تو یہ تنظیم بھی ایران کے ’شیعہ اثر‘ میں چلی گئی ہے۔

القاعدہ کے حامی گروہوں کا سامنے آنا

یکم مارچ کو، یعنی جنگ شروع ہونے کے دو دن بعد، ایک پراسرار جہادی گروہ سامنے آیا جس نے اپنا نام ’اجناد بیت المقدس‘ (بیت المقدس کے سپاہی) بتایا۔

ممکنہ طور پر یہ گروہ شام میں سرگرم ہے اور اس نے القاعدہ کے ساتھ وفاداری کا اعلان کیا ہے۔

اس گروہ کا کہنا تھا کہ یہ القاعدہ کی اپیل کے جواب میں بنایا گیا ہے، یہ بظاہر چار فروری کے پیغام کی طرف اشارہ تھا۔

بعد ازاں، اس نئے گروہ نے شام اور اس کے گرد و نواح میں امریکہ اور اسرائیل کی افواج پر چار چھوٹے پیمانے کے حملے کرنے کا دعویٰ کیا۔

اب تک القاعدہ نے نہ تو اجناد بیت المقدس کے بیانات کی توثیق کی ہے اور نہ ہی اس کی وفاداری کے اعلان کو تسلیم یا اس کی حمایت کی ہے۔

نام نہاد دولت اسلامیہ کے حامیوں نے اس گروہ کو ایران کا آلہ کار قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

کچھ حامیوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ گروہ واقعی القاعدہ کا حمایتی ہے یا اس سے منسلک ہے، تو اس سے ان کے اس دعوے کو تقویت ملتی ہے کہ القاعدہ اب ایران کے اشاروں پر کام کر رہی ہے۔

اس شبہے کو اس وقت مزید تقویت ملی جب اس نئے گروہ کی جانب سے جن حملوں کا دعویٰ کیا گیا، ان ہی میں سے بعض حملوں کی ذمہ داری شام میں سرگرم ایران نواز شیعہ گروہوں نے بھی قبول کی۔

اس سے یہ تاثر سامنے آیا کہ یا تو حملوں سے متعلق مختلف دعوے کیے جا رہے ہیں، یا پھر ان گروہوں کے درمیان کسی درجے کا رابطہ موجود ہو سکتا ہے۔

گوانتانامو میں قید ابو زبیدہ کو برطانیہ کی جانب سے ’بھاری رقم‘ کی بطور زرِتلافی ادائیگیمتحدہ عرب امارات اور اس کے حکمران القاعدہ سمیت شدت پسند گروہوں کے ’پروپیگنڈے‘ کا ہدف کیوں؟7/7 حملے اور فضا میں ’شہادتوں‘ کا منصوبہ: برطانوی خفیہ اداروں نے اپنی ناکامیوں سے کیا سیکھاسیٹلائٹ پر نظر آنے والا ’اسامہ بن لادن کا سایہ‘ اور کوریئر کی تلاش: نیٹ فلکس سیریز میں ایبٹ آباد آپریشن کی کہانیاسامہ بن لادن کے قابلِ اعتماد ساتھی جن کے اہلِ خانہ نہیں چاہتے کہ وہ گوانتامو سے عراقی جیل بھیجے جائیں
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More