متحدہ عرب امارات نے اوپیک چھوڑنے کا اعلان کیوں کیا اور یہ تیل کی منڈیوں کو کیسے متاثر کرے گا؟

بی بی سی اردو  |  Apr 28, 2026

Getty Images

متحدہ عرب امارات نے یکم مئی 2026 سے آرگنائزیشن آف دا پیٹرولیم ایکسپورٹنگ کنٹریز (اوپیک اور اوپیک پلس)چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے جسے تیل برآمد کرنے والی کثیرالاقوامی تنظیم کے لیے ایک بڑا دھچکا سمجھا جا رہا ہے۔

امارات کی سرکاری خبر نیوز ایجنسی پر شائع ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ اوپیک اور اوپیک پلس چھوڑنے کا فیصلہ ’متحدہ عرب امارات کی پیداواری پالیسی اور اس کی موجودہ اور مستقبل کی پیداواری صلاحیت کے جامع جائزے کے بعد کیا گیا ہے۔‘

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ ’ہمارے قومی مفاد اور مارکیٹ کی فوری ضروریات کو مؤثر طریقے سے پورا کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کے عزم کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔‘

متحدہ عرب امارات کا مزید کہنا ہے کہ اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی کے بعد بھی وہ اپنا ذمہ دارانہ طرزِ عمل جاری رکھے گا اور تیل کی کسی بھی اضافی پیداوار کو بتدریج اور طلب کے مطابق ہی مارکیٹ میں لایا جائے گا۔

امارات کی جانب سے یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران جنگ کے سبب دنیا میں توانائی کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ موجود ہے اور بین الاقوامی معیشت بھی ہچکولے کھا رہی ہے۔

Getty Images

متحدہ عرب امارات نے ابو ظہبی کے ذریعے سنہ 1967 میں اوپیک میں شمولیت اختیار کی تھی اور 1971 میں متحدہ عرب امارات کے وجود میں آنے کے بعد بھی یہ اس تنظیم کا رُکن رہا۔

متحدہ عرب امارات کے وزیرِ توانائی سہیل المزروعی نے خبر رساں ادارے رؤئٹرز کو بتایا کہ یہ فیصلہ توانائی کے شعبے، تیل کے شعبے اور دیگر شعبوں کے ایک محتاط اور جامع سٹریٹجک جائزے کے بعد کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات طویل عرصے سے اوپیک اور اوپیک پلس کا رکن رہا ہے اور یہ قدم ایک موزوں وقت پر اٹھایا جا رہا ہے اور خصوصاً آبنائے ہرمز میں موجود پابندیوں کے تناظر میں اس سے منڈی پر کوئی بڑا اثر نہیں پڑے گا۔

کھربوں ڈالر کے اثاثے ہونے کے باوجود متحدہ عرب امارات امریکہ کے ساتھ ’کرنسی سواپ‘ کیوں چاہتا ہے؟یو اے ای کو 3.5 ارب قرض کی واپسی اور سعودی عرب سے نیا قرض لینے کی رپورٹس: ’تمام آپشنز زیر غور ہیں،‘ محمد اورنگزیبدنیا کے کسی بھی دوسرے خطے کے مقابلے میں خلیجِ فارس میں اتنا زیادہ تیل اور گیس کیوں موجود ہے؟دبئی میں سیاحت کی صنعت پر جنگ کے اثرات اور ملازمت پیشہ تارکینِ وطن کی مشکلات

المزروعی نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ایک خودمختار اور قومی فیصلہ ہے جو طویل المدتی سٹریٹیجک اور معاشی نقطۂ نظر پر مبنی ہے اور اس سے متحدہ عرب امارات کو اپنے شراکت داروں اور اتحادیوں کے ساتھ خام تیل، پیٹروکیمیکل مصنوعات اور گیس کے شعبے میں دنیا کی مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے زیادہ لچک کے ساتھ تعاون کا موقع ملے گا۔

اوپیک اور اوپیک پلس کیا ہے؟

اوپیک پلس 23 تیل برآمد کرنے والے ممالک کا ایک گروپ ہے جو باقاعدگی سے اس بات کا فیصلہ کرنے کے لیے ملاقات کرتا ہے کہ عالمی منڈی میں کتنا خام تیل فروخت کیا جائے۔

اس گروپ کے مرکز میں اوپیک (آرگنائزیشن آف دی پیٹرولیم ایکسپورٹنگ کنٹریز) کے 13 رکن ممالک ہیں، جو زیادہ تر مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے ممالک پر مشتمل ہیں۔ اوپیک 1960 میں ایک کارٹل کے طور پر قائم کی گئی تھی، جس کا مقصد دنیا بھر میں تیل کی رسد اور اس کی قیمت کا تعین کرنا تھا۔

Getty Images

اوپیک کے رکن ممالک دنیا کے کل خام تیل کا تقریباً 30 فیصد پیدا کرتے ہیں۔ سعودی عرب اس گروپ کے اندر سب سے بڑا واحد تیل فراہم کرنے والا ملک ہے جو یومیہ ایک کروڑ سے زائد بیرل تیل پیدا کرتا ہے۔

سنہ 2016 میں جب تیل کی قیمتیں خاص طور پر کم تھیں، اوپیک نے 10 دیگر تیل پیدا کرنے والے ممالک کے ساتھ مل کر اوپیک پلس تشکیل دیا۔

توسیع شدہ گروپ کے اراکین میں روس بھی شامل ہے، جو یومیہ ایک کروڑ سے زیادہ بیرل تیل پیدا کرتا ہے۔

مجموعی طور پر اوپیک پلس کے ممالک دنیا کے کل خام تیل کا لگ بھگ 40 فیصد پیدا کرتے ہیں۔

توانائی کے ادارے سے وابستہ کیٹ ڈوریان کا کہنا ہے کہ ’اوپیک پلس منڈی میں توازن قائم رکھنے کے لیے رسد اور طلب کو ہم آہنگ کرتا ہے۔‘

ان کے مطابق ’جب تیل کی طلب میں کمی آتی ہے تو رسد کم کر کے قیمتیں بلند رکھی جاتی ہیں۔‘

یہ تنظیم منڈی میں تیل کی مقدار بڑھا کر قیمتیں کم بھی کر سکتی ہے۔

متحدہ عرب امارات کے فیصلے کے اثرات کیا ہوں گے؟

آسٹریلیا کی کمپنی ایم ایس ٹی فنانشل میں توانائی سے متعلق تحقیق کرنے والے شعبے کے سربراہ ساؤل کیوونک کا کہنا ہے کہ یہ ’اوپیک کے اختتام کی شروعات‘ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’متحدہ عرب امارات کی علیحدگی سے اوپیک اپنی پیداواری صلاحیت کا تقریباً 15 فیصد حصہ اور اپنے ایک انتہائی قابل انحصار رکن کو کھو دیگی۔‘

اوپیک کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق متحدہ عرب امارات سالانہ 29 لاکھ بیرل تیل پیدا کرتا ہے، جبکہ اوپیک کا عملی سربراہ سعودی عرب سالانہ 90 لاکھ بیرل تیل پیدا کرتا ہے۔

ساؤل کیوونک کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے اس فیصلے کے بعد ’سعودی عرب کو اوپیک کے باقی اراکین کو متحد رکھنے میں دشواری پیش آئے گی اور تیل کی مارکیٹ کے انتظام کا زیادہ تر بوجھ عملی طور پر اسے اکیلے ہی اٹھانا پڑے گا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ہوسکتا ہے دیگر اوپیک ممالک بھی اسی راستے پر چل پڑیں۔

ساؤل کیوونک ’یہ صورتِ حال مشرقِ وسطیٰ اور تیل کی منڈیوں میں جغرافیائی تبدیلی‘ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

اوپیک 1960 میں پانچ ممالک، ایران، عراق، کویت، سعودی عرب اور وینیزویلا، نے قائم کی تھی اور اس کا مقصد پیداوار میں ہم آہنگی کے ذریعے اپنے رکن ممالک کے لیے مستحکم آمدن کو یقینی بنانا تھا۔

برسوں کے دوران اس تنظیم میں شامل ممالک کی تعداد میں اتار چڑھاؤ آتا رہا ہے، تاہم بانی اراکین کے علاوہ اس میں الجزائر، ایکویٹوریل گنی، گیبون، لیبیا، نائجیریا اور جمہوریہ کانگو بھی شامل ہیں۔

دیگر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدہ ہو کر مزید فوائد حاصل کر سکتا ہے۔

Getty Images

کارنیگی رشیا یورو ایشیا سینٹر سے منسلک سرگے واکولینکو نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ ’متحدہ عرب امارات تیل کی پیداوار 30 فیصد تک بڑھانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے اور اوپیک اور اپیک پلس کی تعین کردہ حدود میں رہتے ہوئے مشکل تھا۔‘

’اس فیصلے کے اعلان کے لیے یہ سب سے کم نقصان دہ وقت ہے۔ تیل کی قیمتیں بڑھی ہوئی ہیں اور آبنائے ہرمز کی بندش سے تیل کی قلت پیدا ہو رہی ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کے بعد تیل کی طلب بلند رہے گی کیونکہ ممالک فروری سے کم ہونے والے ذخائر کو دوبارہ پورا کر رہے ہوں گے، لہٰذا قیمتیں بلند رہیں گی۔‘

سرگے کا بھی یہی خیال ہے کہ متحدہ عرب امارات کی علیحدگی سے اوپیک کمزور پڑ جائے گا۔

’ایران اور عراق جیسے دیگر تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک کے پاس اضافی پیداواری صلاحیت موجود نہیں تھی۔ یہ صلاحیت زیادہ تر متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے برقرار رکھی ہوئی تھی۔‘

ابو ظہبی کمرشل بینک کی چیف اکنامسٹ مونیکا ملک کہتی ہیں کہ ’اس سے جغرافیائی سیاسی صورتحال کے معمول پر آنے کے بعد متحدہ عرب امارات کے لیے عالمی منڈی میں اپنا حصہ بڑھانے کی راہ ہموار ہوگی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات کا یہ فیصلہ ’صارفین اور عالمی معیشت دونوں کے لیے مثبت ثابت ہونا چاہیے۔‘

’اربوں کی سرمایہ کاری چند ہزار ڈالرز کے ڈرونز کی مار:‘ ایران جنگ کے معاشی اثرات جھیلتے خلیجی ممالک کے پاس آگے کیا راستہ ہے؟’مجھے اچانک دبئی کا ویزا مل گیا‘: ایران جنگ کے باعث متحدہ عرب امارات میں ’مواقع سے فائدہ‘ اٹھاتے پاکستانیوں کی کہانیاں ’اسرائیل تہران کا پہلا ہدف نہیں‘: کیا ایران جنگ کی سب سے بڑی قیمت متحدہ عرب امارات چُکا رہا ہے؟وہ چیز جو خلیجی ممالک کو ایران کے خلاف جوابی کارروائیوں سے روک رہی ہےٹرمپ سے ’خائف‘ خلیجی بادشاہتیں: کیا دبئی اور قطر جیسی امیر ریاستوں میں سکیورٹی کا تصور محض سراب تھا؟’گلف نیٹو‘ کا خواب: خلیجی ممالک کی رقابتیں، امریکی اثر و رسوخ اور پاکستان کا ممکنہ کردار
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More