کولمبیا کے لیے دردِ سر بننے والے پابلو ایسکوبار کے دریائی گھوڑوں کے لیے اننت امبانی کا تجویز کردہ حل

بی بی سی اردو  |  Apr 30, 2026

AFP via Getty Imagesپابلو ایسکوبار غیرقانونی طریقے سے دو دریائی گھوڑے لائے تھے، جن کی تعداد اب درجنوں میں ہو چکی ہے

ایک انڈین ارب پتی شخصیت کے بیٹے نے کولمبیا کو ایک ایسے مسئلے سے چھٹکارا حاصل کرنے میں مدد کی پیشکس کی ہے، جس کا اسے دہائیوں سے سامنا ہے: یعنی بدنام زمانہ ڈرگ لارڈ پابلو ایسکوبار کے دریائی گھوڑوں کا ایک جُھنڈ۔

ایسکوبار، جنھیں سنہ 1993 میں پولیس نے گولی مار کر ہلاک کیا تھا، نے اپنی زندگی میں اپنے فارم ہاؤس پر غیرقانونی طریقے سے دریائی گھوڑوں کا ایک جوڑا (نر اور مادہ) درآمد کیا تھا، جنھیں ’کوکین ہپوز‘ بھی کہا جاتا ہے۔

آنے والے برسوں میں ان دریائی گھوڑوں کی آبادی میں اضافہ ہوا اور کولمبیا کی حکومت نے اس آبادی کو قابو میں رکھنے کے لیے مختلف طریقے آزمائے، جن میں دریائی گھوڑوں کو خصی کرنا بھی شامل تھا، مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔

بالآخر حکام نے تقریباً 80 جانوروں کا خاتمہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

انڈین ارب پتی کاروباری شخصیت مکیش امبانی کے بیٹے اننت امبانی کا کہنا ہے کہ وہ اِن جانوروں کو (جنھیں مارنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے) گجرات میں واقع اپنے نجی چڑیا گھر میں رکھنے اور ان کا خیال رکھنے کو تیار ہیں۔

کولمبیا کی حکومت نے اس پیشکش پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

Getty Imagesپابلو ایسکوبار بدنام زمانہ منشیات فروش گروہ کے سرغنہ تھے

کولمبیا کے وزیرِ ماحولیات کو لکھے گئے خط میں امبانی کے چڑیا گھر کے سی ای او کا کہنا ہے کہ وہ دریائی گھوڑوں کے اس جھنڈ کا انڈیا میں ’تاحیات خیال رکھنے‘ کو تیار ہیں۔

امبانی کے ’ونتارا چڑیا گھر‘ کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شائع کیے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ’اس تجویز کا مقصد ونتارا کا یہ یقین ہے کہ ہر جان قیمتی ہے اور جہاں بھی ممکن ہو اس کا تحفظ کرنا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔‘

ایسکوبار اپنے دریائی گھوڑوں کو ہسیانڈا نیپولس میں اپنے اصطبل میں رکھا کرتے تھے، جو کہ کولمبیا کے دارالحکومت بوگوٹا کے شمال مغرب میں 255 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

ایسکوبار کی موت کے بعد دریائی گھوڑوں کے اس جوڑے کو کولمبیا کے مگدالینا دریا کے اطراف آزاد گھومنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

اس کے بعد حکام کی اس جانور کی آبادی کو روکنے کی تمام کوششیں ناکام ہوئیں، کیونکہ یہاں شکاری جانوروں کی کمی تھی اور اینٹیوکیا کے خطے میں یہ زرخیز اور دلدلی علاقہ افریقہ سے تعلق رکھنے والے اس جانور کے پھلنے پھولنے کے لیے بہترین حالات فراہم کرتا تھا۔

Getty Images

کولمبیا میں ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کولمبیا میں موجود دریائی گھوڑوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ افریقہ سے باہر اس نسل کا سب سے بڑا جھنڈ ہیں۔

مگدلینا دریا کے اطراف بسنے والی ماہی گیر کیمونیٹی پر بھی ان دریائی گھوڑوں نے کئی بار حملہ کیا ہے۔ دریائی گھوڑوں کا شمار دیو ہیکل جانوروں میں ہوتا ہے اور ایک نر دریائی گھوڑے کا وزن تین ٹن تک ہو سکتا ہے۔

گجرات میں واقع اننت امبانی کے ونتارا چڑیا گھر میں جانوروں کی دو ہزار اقسام موجود ہیں، جن میں ہاتھی، شیر اور دیگر جانور شامل ہیں۔ ساڑھے تین ہزار ایکڑ پر محیط یہ چڑیا گھر جامنگر میں واقع ہے، جو مکیش امبانی کی ملکیت میں چلنے والی دنیا کی سب سے بڑی آئل ریفائنری سے زیادہ دور نہیں ہے۔

اس نجی چڑیا گھر پر جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کی طرف سے تنقید بھی کی جاتی رہی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ کچھ جانوروں کے لیے اس علاقے کا ماحول کافی گرم اور خشک ہے۔

پابلو ایسکوبار میڈیئن کارٹل کے سربراہ تھے اور انھیں ’کوکین کنگ‘ بھی کہا جاتا تھا۔ امریکہ کے جنوبی علاقوں اور میامی میں منشیات کی سمگلنگ کے ذریعے انھوں نے 30 ارب ڈالر کی جائیداد بنائی تھی۔

لوگوں کو دہشت زدہ کر دینے والی ان کی سرگرمیاں ایک دہائی سے زیادہ جاری رہیں، جس دوران سینکڑوں افراد کو قتل کیا گئے، رشوت کا استعمال کیا گیا، بم دھماکے ہوئے اور حریف منشیات فروش گروہوں کے ساتھ لڑائیاں بھی معمول کی بات تھیں۔

وہ مختصر عرصے کے لیے سیاست میں بھی متحرک رہے تھے اور ایک انتخاب بھی جیتے تھے۔

کناہن گینگ: ایک ارب یورو بٹورنے والا آئرلینڈ کا ’سب سے دولتمند، طاقتور اور بے رحم‘ جرائم پیشہ گروہ’موت کا پھندا‘: آبدوزوں کے ذریعے کوکین یورپ سمگل کی جا رہی ہے’کوکین کوئین‘ کہلائی جانے والی گریسلڈا جن کے پاس کرائے کے قاتلوں، جسم فروشوں کا نیٹ ورک تھاموت کا سوداگر کہلائے جانے والے بدنام زمانہ اسلحہ سمگلر وکٹر بوٹ کون ہیں؟منشیات کی دنیا کی طاقتور تنظیم جس کو امریکہ، گرفتاریاں اور اندرونی لڑائیاں بھی کمزور نہیں کر سکےاربوں لوٹنے والی لاپتا ’کرپٹو کوئین‘ زندہ ہیں یا مر گئیں؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More