امداد میں تاخیر سے بنکرز نہ بننے کی شکایت تک: انڈیا پاکستان جنگ کا ایک برس اور ایل او سی کے آر پار رہنے والوں کا دُکھ

بی بی سی اردو  |  May 06, 2026

BBCپاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں وادیِ نیلم سے تعلق رکھنے والی عارف جان آٹھ ماہ بعد اپنے گھر پہنچی ہیں

’گاؤں کے لوگ آج بھی ہر رات سونے سے پہلے ایک دوسرے سے ایسے ملتے ہیں جیسے اُن کی زندگی کی اگلی صبح نہیں ہو گی۔‘

انڈیا اور پاکستان کے درمیان گذشتہ برس مئی میں ہونے والی چار روزہ فوجی لڑائی کو ایک سال مکمل ہونے کو ہے مگر اِن دونوں ممالک کے زیر انتظام کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے اطراف بسنے والے شہری آج بھی اس جنگ میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات اور صدموں سے نمٹنے کی کوششوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔

چھ اور سات مئی 2025 کی درمیانی شب انڈین فوج نے پہلگام میں پیش آئے دہشت گردی کے واقعے کو بنیاد بناتے ہوئے پاکستان کے مختلف شہروں اور اس کے زیر انتظام کشمیر میں متعدد مقامات کو نشانہ بنایا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان چار روزہ جنگ کا آغاز ہوا تھا۔

بلآخر 10 مئی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت پر دو فریقوں نے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کے مطابق انڈین فورسز کی جانب سے مئی کے ان دنوں میں گولہ باری کے نتیجے میں 32 افراد ہلاک اور 167 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے اور ان میں سب سے زیادہ 12 ہلاکتیں ضلع کوٹلی میں ہوئی تھیں۔

لائن آف کنٹرول کے پار انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں پاکستانی گولہ باری سے مالی نقصان تو ہوا لیکن کوئی جان نہیں گئی تاہم جموں کا ضلع پونچھ وہ علاقہ تھا جہاں گولہ باری سے جانی نقصان ہوا۔ ضلعی حکام کے مطابق پونچھ میں دو کمسن بچوں اور ایک سرکاری افسر سمیت14 افراد گولہ باری کے نتیجے میں مارے گئے تھے جبکہ زخمیوں کی تعداد 60 تھی۔

اس لڑائی کے ایک سال کی تکمیل پر بی بی سی اردو کے نمائندوں نے لائن آف کنٹرول کے ساتھ واقع ان علاقوں کا دورہ کیا اور جاننے کی کوشش کی کہ اس جنگ نے وہاں کے رہائشیوں کی زندگی پر کیا اثر ڈالا ہے۔

BBCوادی نیلم کا گاؤں شاہ کوٹ انڈین شیلنگ کا نشانہ بننے والے علاقوں میں شامل تھا’شیل جسم کو چیرتا ہوا گزر گیا تھا اور لاش ملبے تلے دبی تھی‘

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی وادی نیلم کا گاؤں شاہ کوٹ بھی چھ مئی کی رات گولہ باری کا نشانہ بننے والے علاقوں میں شامل تھا۔

ایک ہزار مکانات پر مشتمل شاہ کوٹ کے چاروں طرف پہاڑ ہیں جن میں سے تین طرف چوٹیوں پر انڈین فوج کی چوکیاں قائم ہیں، جنھیں شاہ کوٹ کے کسی بھی مقام سے باآسانی اور واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

اسی شاہ کوٹ کی رہائشی 75 سالہ خاتون عارف جان کی قوتِ سماعت اس رات ہونے والی گولہ باری کی وجہ سے شدید متاثر ہوئی تھی اور وہ آٹھ ماہ ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد کچھ عرصہ قبل ہی واپس اپنے گھر پہنچی ہیں۔

لیکن اس رات گولہ باری کے نتیجے میں انھوں نے صرف اپنی قوتِ سماعت ہی نہیں بلکہ اپنی 24 سالہ بہو فرزانہ کو بھی کھویا جس نے اُن کی آنکھوں کے سامنے دم توڑا تھا۔

مٹی اور لکڑی سے بنے اپنے گھر میں بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ شیلنگ کے نتیجے میں اُن کی بہو کی ہلاکت کا واقعہ اب بھی اُن کے ذہن میں نقش ہے۔

اس واقعے نے اُن کے ذہن پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں اور اس بارے میں بات کرتے ہوئے وہ آج بھی آبدیدہ ہو جاتی ہیں۔

عارف جان کا کہنا تھا کہ سات مئی کی رات وہ دیگر اہلخانہ کے ہمراہ اپنے گھر کے صحنمیں موجود تھیں جبکہ ان کی بہو فرزانہ باورچی خانے میں چائے بنا رہی تھیں جب ’اسی دوران میرے بیٹے نے کہا کہ اماں جی گولہ آ رہا ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ جب فرزانہ نے یہ سُنا تو وہ صحن میں کھیلتے اپنے ایک سالہ بچے کو گھر کے اندر لے جانے کے لیے باورچی خانے سے باہر نکلنے ہی والی تھیں جب ایک گولہ باورچی خانے کی چھت پر گرا اور وہ زمین بوس ہو گیا۔

’اس دھماکے کے ساتھ ہی مٹی کا ایک طوفان اٹھا، جس میں میری بہو دب کر رہ گئی۔‘

عارف جان بتاتی ہیں کہ انڈین فورسز کی جانب سے اتنی شدید شیلنگ ہو رہی تھی کہ انھیں منہدم ہونے والے باورچی خانے کا ملبہ ہٹانے اور فرزانہ کو باہر نکالنے کا موقع نہیں مل رہا تھا۔

ان کے مطابق پانچ گھنٹوں بعد جب گولہ باری میں تھوڑا وقفہ آیا تو گھر والوں نے مٹی ہٹا کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ شیل فرزانہ کے جسم کو چیرتا ہوا گزر گیا تھا اور ان کی خون میں لت پت لاش ملبے تلے دبی تھی۔

عارف جان کا کہنا ہے کہ شیلنگ اتنی زیادہ تھی کہ گاؤں کا کوئی بھی شخص اُن کی بہو کی لاش کو اٹھانے کے لیے نہیں آیا، ’ظاہر ہے کہ جان سب کو پیاری ہوتی ہے۔ میرے بیٹے نے ہی اپنی بیوی کی لاش کو کندھے پر اٹھایا اور محفوظ مقام پر منتقل کیا۔‘

عارف جان کے مطابق جب شیلنگ رُکی تو پانچ افراد نے فرزانہ کی میت کو اس محفوظ مقام سے نکالا اور پھر دوسرے گاؤں میں اُن کی تدفین کر دی گئی۔

دوسرے گاؤں میں تدفین سے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ اس لیے ہوا کیونکہ انڈین فوج نے دوبارہ اُن کے گاؤں پر شدید گولہ باری شروع کر دی تھی۔

عارف جان اب گاؤں میں اپنے گھر میں اکیلی رہتی ہیں کیونکہ بہو کی وفات کے بعد اُن کا بیٹا اپنے دونوں بچوں کو لے کر اسلام آباد منتقل ہو گیا ہے اور عارف جان نیلم کے مقابلے میں اسلام آباد کے نسبتاً گرم موسم کو برداشت نہیں کر پائیں اور اپنے آبائی گھر واپس آ گئی ہیں۔

BBCعارف جان اب اس گھر میں تنہا رہتی ہیں کیونکہ بہو کی وفات کے بعد اُن کا بیٹا اپنے بچوں کو لے کر اسلام آباد منتقل ہو گیا ہے’دس ماہ بعد احتجاج کی کال دی تو معاوضہ ملا‘

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کے مطابق مئی 2025 میں انڈین فوج کی گولہ باری کے نتیجے میں 2354 گھروں کو نقصان پہنچا تھا، جن میں سے 146 گھر مکمل طور پر تباہ ہوئے جبکہ 2208 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ 250 سے زائد دکانیں اور دیگر کاروباری مراکز کو بھی نقصان پہنچا۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انڈین گولہ باری سے جن علاقوں میں سب سے زیادہ گھروں کو نقصان پہنچا تھا وہ پونچھ، حویلی اور نیلم کے اضلاع میں تھے اور جن کی مجموعی تعداد 1200 سے زیادہ ہے۔

گولہ باری سے زیادہ متاثرہ علاقوں سے کچھ لوگ تو نقل مکانی کر گئے ہیںاور جن کے پاس وسائل ہیں وہ اپنے گھروں کی از سر نو تعمیر کر رہے ہیں جبکہ مکینوں کی زیادہ تر اکثریت، جن کے پاس وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں، اپنے گھروں کے متاثرہ حصوں کو ہی تعمیر کر رہے ہیں۔

یہ لوگ اپنے گھروں کی تعمیر روایتی انداز یعنی مٹی اور لکڑی کے ساتھ ہی کر رہے ہیں تاہم کچھ مکانوں کی تعمیر کنکریٹ کے بلاکس سے بھی کی جا رہی ہے۔

متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران متعدد گھر ایسے بھی دیکھنے کو ملے جن کی تھوڑی بہت مرمت کےبعد انھیں رہنے کے قابل تو بنایا گیا ہے مگر بہت سے خاندانوں نے بتایا کہ پیسے ختم ہونے کی وجہ سے وہ مکمل مرمت نہیں کر پائے ہیں۔

پاکستانی حکومت کی طرف سے اس لڑائی کے دوران ہلاک ہونے والوں کے اہلخانہ کو دس، دس لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا گیا تھا جبکہ وہ افراد جن کے گھر مکمل طور پر تباہ ہوئے اُن کو ایک لاکھ روپے جبکہ جن گھروں کو جزوی نقصان پہنچا ہے ان کے لیے 60 ہزار روپے کی امداد کا اعلان کیا گیا۔

محمد نذیر بھی اِن لوگوں میں شامل ہیں جن کے گھر انڈین فوج کی شیلنگ کی زد میں آئے۔

BBCچند متاثرین کے مطابق انھیں تباہ شدہ گھر کا معاوضہ کافی تگ و دو کے بعد ملا

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کشمیر حکومت سے گلہ کیا کہ انھیں یہ رقم اس واقعے کے 11 ماہ کے بعد دی گئی ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ تنازع کی ابتدا پر ہی وہ وہ اپنے اہلخانہ اور والدہ کو لے کر پہاڑوں کی جانب چلے گئے تھے جہاں سے اُن کی واپسی سیز فائر کے اعلان کے بعد ہوئی۔ اُن کے مطابق جب وہ اپنے گھر واپس لوٹے تو وہ شیلنگ کی وجہ سے بہت حد تک منہدم اور خستہ حال ہو چکا تھا۔

محمد نذیر کا دعویٰ ہے کہ وہ علاقے کے ڈپٹی کمشنر کے آفس سمیت دیگر متعلقہ اداروں کے دفاتر کے چکر لگا کر تھک گئے، لیکن اُن کی داد رسی نہیں کی گئی۔

محمد نذیر کہتے ہیں کہ حکام بالا کے اس رویے کو دیکھتے ہوئے ان سمیت دیگر افراد نے بینکوں سے قرض لے کر اپنے گھروں کو از سر نو تعمیر کیا یا اُن کی اس حد تک مرمت کی کہ وہ دوبارہ رہائش کے قابل بن سکیں۔

انھوں نے کہا کہ متاثریننے دس ماہ تک صبر کیا لیکن جب ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا تو متاثرین نے احتجاج کی کال دی جس کے بعد حکام نے انھیں معاوضے کی رقم ادا کی۔

BBCوادی نیلم میں کئی افراد اپنے تباہ شدہ مکانوں کی جگہ کنکریٹ کے بلاکس کی مدد سے گھر تعمیر کر رہے ہیں

محمد عاطف بھی وادی نیلم کے وہ رہائشی ہیں جن کے گھر کو جزوی نقصان پہنچا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ سروے کے بعد ان کے گھر کی مرمت کے لیے ساٹھ ہزار روپے کی منظوری دی گئی تھی مگر اس رقم کا حصول ان کے لیے آسان نہیں تھا۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اُن کے علم میں رقوم کی متاثرین کو منتقلی کے معاملے میں بدعنوانی سے متعلق کوئی شکایت سامنے نہیں آئی۔

انھوں نے متاثرین میں رقوم کی تقسیم میں تاخیر کی تمام تر ذمہ داری پاکستانی حکومت پر ڈالتے ہوئے کہا کہ اُن کا اپنا بجٹ کم ہے اور کشمیر کی حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ ایل او سی پر رہنے والے افراد کو بنکرز بنا کر دے۔

انھوں نے پاکستانی حکومت سے درخواست کی کہ وہ کشمیر کی تعمیر نو کے لیے زیادہ سے زیادہ فنڈز فراہم کرے۔

تاہم وفاقی حکومت وزیر اعظم کشمیر کے اس موقف کو درست تسلیم نہیں کرتی۔ وزارت خزانہ کے ایک افسر کا کہنا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان اس مختصر جنگ کے بعد کشمیر کی حکومت کو 70 کروڑ روپے کے قریب رقم دی گئی جن میں سے 53 کروڑ روپے اس جنگ میں ہلاک ہونے والوں کے ورثا اور زخمیوں میں تقسیم کیے گئے۔

’میرے بچوں نے میری گود میں دم توڑا‘BBCعروسہ اور رمیز نے اس جنگ میں اپنے جڑواں بچوں کو کھویا ہے

لائن آف کنٹرول کے اس پار بھی مئی 2025 کی جنگ سے ہونے والے صدمے اور نقصانات کی کہانیاں لگ بھگ ایسی ہی ہیں۔

انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں پاکستانی گولہ باری سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ضلعپونچھ میں ایک جوڑے نے اِس مختصر جنگ میں اپنے دونوں جڑواں بچے کھو دیے تھے۔

39 سالہ عروسہ پونچھ کے گاؤں چنڈھک میں تعمیر کیے گئے اپنے نئے گھر میں گذشتہ ایک سال سے دوہری تکلیف میں ہیں۔ ایک طرف دونوں بچوں کے کھو جانےکا غم ہے اور دوسری طرف گولہ باری کے دوران شدید زخمی ہونے والے ان کے خاوند کی نگہداشت کی ذمہ داری۔

عروسہ کو گلہ ہے کہ حکومت نے اس آپریشن سے قبل مناسب آگاہی مہمنہیں چلائی تاکہ لوگ بچاؤ کی تدابیر کرتے۔

نہایت جذباتی لہجے میں عروسہ نے بتایا کہ 'سات مئی کا دن ہی نہیں بھول پاتی ہوں میں۔ جبگھر کے قریب گولہ گرتے دیکھا تو بچے وہیں تھے۔ میرے بچوں نے میری گود میں دم توڑا۔ میں خاوند کو دیکھنے لگی تو سنا کہ ان کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال شفٹ کیا گیا۔ میں کیا کرتی، میں نے اپنے ہی صحن میں بچوں کو دفن کرنے کا انتظام کروایا۔'

عروسہ اور رمیز کے مطابق پچھلے ایک سال سے دونوں کا معمول ہے کہ وہ ہر صبح، شام اپنے صحن میں بچوں کی قبروں کے قریب جا کر فاتحہ پڑھتے ہیں۔

اُن کے مطابق اُن کے خاوند کا ایک بازو سرجری کے بعدکام نہیں کرتا۔ ' اب ہم ہی ایک دوسرے کا سہارا ہیں۔ گاڑی تو اب یہ چلاہی نہیں سکتے اور بس میں سفر بھی مشکل ہو چکا ہے۔ ہم دونوں بچوں کے چلے جانے کے بعد بےحد تنہا ہو چکے ہیں۔'

زین اور زویا نامی ان دونوں جڑواں بچوں کی سالگرہ اپریل میں ہوتی ہے۔

رمیز کہتے ہیں کہ 'پچھلے سال کسی مصروفیت کی وجہ سے بچوں کے جنم دنپر بہت کم رشتہ داروں کو بلایا گیا تھا۔ زین اور زویا نے ہم سے وعدہ بھی لیا اور کہا پاپا اگلے بہت بڑی پارٹی رکھیں گے، سب کو بلائیں گے۔ کیا معلوم تھا کہ اس بار وہ خود ہی موجود نہ ہوں گے۔'

BBCزین اور زویا نے اپریل 2025 میں اپنی آخری سالگرہ کے موقع پرحفاظتی بنکرز کی تعمیر میں تاخیر کا مسئلہ

مئی 2025 میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہوئی مختصر جنگ کے دوران سرحدی بستیوں میں مالی اور جانی نقصان کا جائزہ لینے کے بعد انڈین حکومت نے نو ہزار سے زیادہ حفاظتی بنکرز تعمیر کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم اس فیصلے پر ایک سال گزرنے کے بعد بھی عمل نہیں ہو پایا ہے۔

عروسہ کہتی ہیں کہ کہ 'اگر حفاظتی بنکرز ہوتے تو شاید اتنی جانیں نہ جاتیں۔'

انڈیا کی حکمران جماعت بی جے پی کے مقامی رہنما راجیش شرما بھی اعتراف کرتے ہیں کہ بنکرز کی تعمیر میں تاخیر ہوئی ہے۔ انھوں نے اپنے گھر کے قریب ایک زیر زمین بنکر بہت پہلے تعمیر کروایا تھا۔ 'جب جنگ ہو رہی تھی، درجنوں لوگ اسی بنکر میں پناہ لیے ہوئے تھے۔ایسا نہیں ہے کہ حکومت بنکرز کی تعمیر میں سنجیدہ نہیں ہے، لیکن یہ سچ ہے کہ بہت دیر ہو گئی ہے۔ یہاں ہم سب کا سب سے بڑا مطالبہ یہی ہے کہ حفاظتی بنکرز تعمیر کروائیں جائیں، کیونکہ سرحدی ضلع ہے اور حالات پر کوئی بھروسہ نہیں ہے۔'

واضح رہے انڈین حکومت نے اس سال اپریل میں حفاظتی بنکر بنانے کے منصوبے میں تیزی لانے کا اعلان کیا ہے۔ اربوں روپے کی لاگت ہونے والے یہ حفاظتی بنکر پونچھ کے علاوہ راجوری، رنبیر سنگھ پورہ، کٹھوعہ، کشمیر کے کپواڑہ، اُوڑی، کرنا اور کیرن جیسے سرحدی علاقوں میں تعمیر کیے جا رہے ہیں۔

BBC

پونچھ کے چکاں دا باغ نامی علاقے میں لائن آف کنٹرول کے نہایت قریب رہنے والے سابق سرپنچ محمد شریف خان نے بھی ذاتی لاگت سے اپنے گھر کے ساتھ ایک حفاظتی بنکر بنایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ 'حکومت نے اعلان تو کیا تھا، اور اس کے بعد ڈپٹی کمشنر کے آفس اور پولیس لائن میں کچھ بنکر بنے، لیکن عام شہریوں کے لئے ایک بھی بنکر نہیں بنا۔ ہمارے پاس وسائل تھے تو ہم نے اپنے پیسے سے بنکر تعمیر کروایا، لیکن یہاں اکثریت غریب لوگوں کی ہے، وہ بیچارے اب بھی حکومت کا انتظار کر رہے ہیں۔ '

ضلع میں ایسے غریب لوگ بھی ہیں جنھوں نے بینک سے قرضہ لے کر حفاظتی بنکرز تعمیر کروائے ہیں۔ ایل او سی کے نہایت قریب رہنے والے ستپال شرما گھر کے قریب ہی چائے کی ایک چھوٹی دکان چلاتے ہیں۔

'دکان کے ساتھ ہی بینک ہے۔ وہاں کے کچھ افسرقرضہ دینےپر آمادہ ہو گئے تو میں اپنی بھی جمع پونجی جوڑ کر یہ بنکر تعمیر کروایا۔ اس کے بغیر چارہ بھی نہیں تھا، کیونکہ چند سو گز کے فاصلے پر زیرو لائن ہے۔'

پہلگام حملے کے بعد انڈیا اور پاکستان کشیدگی کا ایک ماہ: چار روزہ تنازع نے دونوں ملکوں کو کیسے بدلا؟انڈیا پاکستان کشیدگی کے دوران ’انفارمیشن وار‘ اور وہ فوجی اہلکار جو اس ’جنگ‘ کا چہرہ بن گئےجنگی طیاروں سے میزائلوں اور ڈرونز تک: پاکستان چینی ہتھیاروں پر کتنا انحصار کرتا ہے اور کیا مستقبل میں اس میں اضافہ ہو سکتا ہے؟دو جوہری طاقتوں کے بیچ پہلی ڈرون جنگ: کیا پاکستان اور انڈیا کے درمیان روایتی لڑائی میں نئے اور خطرناک باب کا آغاز ہو چکا ہے؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More