پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں پولیس چوکی پر بارود سے بھری گاڑی سے حملے کے بعد تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے اور پولیس کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس حملے میں 1200 سے 1500 کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پولیس چوکی پر حملے کے لیے ایک لوڈر رکشے کا استعمال کیا گیا ہے۔
بنوں میں نورڑ روڈ پر واقع فتح خیل پولیس چیک پوسٹ پر سنیچر کی رات آٹھ بج کر 30 منٹ کے قریب مسلح شدت پسندوں نے حملہ کیا تھا جس میں کم سے کم 15 اہلکار ہلاک جبکہ اس میں تین زخمی ہوئے تھے۔
اس حملے کی ذمہ داری اتحاد المجاہدین نامی گروہ نے قبول کی ہے، تاہم پاکستانی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی تھی۔ پیر کو اسلام آباد میں افغانستان کے ناظم الامور کو دفترِ خارجہ طلب کر کے انھیں احتجاجی مراسلہ بھی دیا گیا ہے۔
بنوں حملے کے حوالے سے پولیس کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کے فتح خیل چوکی کے قریب پہلے ایک لوڈر رکشہ سے دھماکہ کیا گیا اور بعد ازاں بھاری ہتھیاروں کی مدد سے فائرنگ کی گئی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ حملہ آور اس کے بعد عمارت کے اندر داخل ہوئے اور وہاں موجود زخمی اہلکاروں پر فائرنگ کی، تاہم بیشتر اہلکار دھماکے کی وجہ سے ہلاک ہوئے تھے۔
ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ چوکی میں موجود اہلکاروں کی مدد کے لیے آنے والی پولیس کی اضافی نفری پر بھی حملہ کیا گیا لیکن اس میں کوئی نقصان نہیں ہوا اور حملہ آور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
رپورٹ میں اس کے علاوہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ الیکٹرک ڈیٹونیٹر اور لوڈر رکشے کی بیٹری بھی موقع سے ملے ہیں جبکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ حملہ خود کش تھا۔
بنوں پولیس کے ایک افسر حضرت خان نے بتایا ہے کہ انھوں نے ایک کمیٹی قائم کر دی ہے جو اب آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی۔
اس دوران مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ اس واقعہ کے بعد گزشتہ روز بنوں میں طالبان کے ایک مبینہ مرکز کو آگ لگا دی گئی۔
اس کے علاوہ آج یعنی سوموار کو پشاور ہائیکورٹ کے بنوں بنچ اور ڈیرہ اسماعیل خان بنچ کے علاوہ ماتحت عدالتوں میں ہڑتال کی گئی ہے۔
بنوں حملے پر افغان ناظم الامور کی دفترِ خارجہ طلبی
ضلع بنوں میں پولیس چوکی پر شدت پسندوں کے حملے کے معاملے پر افغان ناظم الامور کو سوموار کے روز وزارتِ خارجہ طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کروایا گیا۔
پاکستانی وزارت خارجہ کا دعویٰ ہے کہ واقعے کی تفصیلی تحقیقات، شواہد اور تکنیکی معلومات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں موجود شدت پسندوں نے کی تھی۔
دفترخ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان نے ایک بار پھر اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ افغان سرزمین مسلسل پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’افغان حکام کو واضح کیا گیا کہ پاکستان اس سفاکانہ حملے کے ذمہ داروں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔‘
دفترِ خارجہ کے مطابق ’افغانستان میں مختلف شدت پسند تنظیموں کی موجودگی اور ان کی سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول کا ذکر اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس میں بھی کیا جا چکا ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک مشترکہ مقصد ہے اور افغان طالبان کو اپنی اس ذمہ داری کو پورا کرنا ہوگا کہ ان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔‘
Getty Imagesعلاقے میں دھماکے کی آوازیں
بنوں کے ریجنل پولیس افسر سجاد خان کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا تھا کہ سنیچر کی شب حملہ آوروں نے بارود سے بھری گاڑی کے ساتھ اس چوکی پر حملہ کیا تھا۔
مقامی افراد کے مطابق پہلا دھماکہ انتہائی زور دار تھا اور اس کے بعد مسلسل دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں آتی رہیں۔ یہ سلسلہ دو سے ڈھائی گھنٹے تک جاری رہا۔ ان دھماکوں سے چوکی کی عمارت مکمل طور پر منہدم ہو گئی اور یہاں تعینات بیشتر اہلکار ملبے تلے دب گئے تھے۔
تین اہلکاروں کی لاشیں تو سنیچر کی شب ہی ملبے کے نیچے سے نکال لی گئی تھیں جبکہ باقی 12 اہلکاروں کی لاشیں اتوار کی صبح نکالی گئیں۔ پولیس حکام کے مطابق اس واقعے میں چوکی پر موجود صرف تین اہلکار ہی زندہ بچ پائے جنھیں ملبے کے نیچے سے نکالا گیا۔
بنوں میں میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوٹ ایم ٹی آئی کے ترجمان محمد نعمان خان نے بتایا کہ تینوں زحمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے اور انھیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کی نمازِ جنازہ پولیس لائن بنوں میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کر دی گئی۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے بنوں حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا پولیس فرنٹ لائن پر ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اہلکاروں نے فرض کی راہ میں اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
Getty Imagesبار بار حملوں کا نشانہ بننے والی پولیس چوکی
فتح خیل پولیس چیک پوسٹ ایک ایسی پولیس چوکی ہے جو مسلح شدت پسندوں کے گڑھ میں قائم ہے اور یہاں آئے روز مسلح افراد کے حملوں کی اطلاعات ملتی رہتی ہیں، کچھ حملے پسپا کر دیے جاتے ہیں اور کبھی کچھ اہلکار زخمی یا کسی کی جان بھی چلی جاتی ہے۔
سنیچر کی شب کا حملہ اتنا شدید تھا کہ پوری عمارت ہی منہدم ہو گئی۔
خیبر پختونخوا میں اگرچہ کچھ عرصے سے مسلح شدت پسندوں کے حملوں کا طریقہ کار یہی رہا ہے جس میں ہدف پر بارود سے بھری گاڑی سے حملہ کیا جاتا ہے اور پھر مسلح افراد اندر داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں یا وہاں زیادہ سے زیادہ نقصان کے لیے کوششیں کرتے ہیں۔
اس طرح کے حملے کیڈٹ کالج وانا جنوبی وزیرستان، ایف سی ہیڈ کوارٹر بنوں اور پشاور میں بھی ہو چکے ہیں۔
چارسدہ میں مولانا ادریس کی ’ٹارگٹ کلنگ‘ کے خلاف خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں احتجاجی مظاہرے، ملزمان کی تلاش جاریبنوں کے پولیس تھانے پر خودکش حملے میں ہلاک ہونے والا خاندان: ’بارود سے بھری گاڑی اسی مقام پر لائی گئی جہاں 13 سال پہلے دھماکہ ہوا تھا‘’ملبے سے آواز آئی کہ مجھے نکالو‘: جس شخص کی تدفین کی گئی وہ 17 دن بعد زندہ مل گیا طورخم سرحد پر چار روز سے پڑی لاش کا معمہ: عارضی سیز فائر اور مبینہ شناخت کے باوجود میت کیوں نہ اٹھائی جا سکی؟
بنوں میں پولیس تھانوں، ایف سی ہیڈ کوارٹر، پولیس چوکیوں اور چھاؤنی پر حملوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے لیکن فتح خیل چوکی پر سب سے زیادہ حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گذشتہ چند ماہ کے دوران فتح خیل اور اس کے قریب 40 کے لگ بھگ حملے ہو چکے ہیں۔
اس پولیس چوکی کے لیے اہلکاروں کی تعداد دیگر تمام چوکیوں سے زیادہ بتائی گئی جو 29 ہے لیکن ان میں کوئی صبح کے اوقات میں ڈیوٹی کرتے ہیں تو کوئی چھٹی پر یا دیگر ڈیوٹی کے لیے چلے جاتے ہیں۔
اس چوکی کی حدود میں سرکاری ملازمین کے اغوا اور انھیں ٹارچر کرنے جیسے واقعات بھی رُونما ہوتے رہے ہیں۔
Getty Images’ہر رات ایسا لگتا تھا کہ آج کچھ ہو گا‘
اس پولیس چیک پوسٹ کے قریب کچھ عرصے کے لیے تعینات ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’یہاں ایک خوف کی صورتحال ہوتی ہے، ہر رات ایسا لگتا تھا کہ آج کچھ ہو گا، تمام اہلکار شام کے بعد سے چوکنا ہو جاتے ہیں اور کئی حملے پسپا بھی کیے گئے ہیں لیکن اُن کے بقول وسائل کی کمی کی وجہ سے ہر وقت دہشت گردوں کے مقابلے کے لیے تیار رہنا مشکل ہوتا ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ بنوں کے کچھ علاقوں میں ایسے تھانے اور چوکیاں ہیں جہاں پولیس اہلکار ڈیوٹی نہیں کرنا چاہتے، ان میں فتح خیل پولیس چوکی سرِ فہرست ہے۔
بنوں کے مضافات میں نورڑ روڈ پر دو چوکیاں اور ایک تھانہ چند کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہیں۔ ان میں پہلے کنگری پل چوکی ہے، اس سے دو یا تین کلومیٹر کے فاصلے پر فتح خیل چوکی ہے اور اسی طرح اس سے چار پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر تھانہ مریان ہے۔
ان تینوں مقامات پر متعدد حملے ہو چکے ہیں لیکن سب سے زیادہ حملےفتح خیل چوکی پر ہی ہوئے ہیں۔
ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ بنیادی طور پر یہ سڑک آگے جانی خیل اور پھر شمالی وزیرستان اور دیگر علاقوں سے منسلک ہو جاتی ہے، اس علاقے میں آس پاس بڑی تعداد میں مسلح شدت پسند رہتے ہیں۔
Getty Images
ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ بنیادی طور پر یہ چوکی غیر ضروری ہے کیونکہ یہ بالکل ایسے ہے جیسے آپ نے نوالہ بنا کر شدت پسندوں کے سامنے رکھ دیا ہو وہ جس وقت چاہیں آ کر حملہ کر سکتے ہیں۔
اُن کے بقول یہاں پولیس اہلکاروں کے پاس کوئی بنیادی سہولیات نہیں ہوتیں جن کی انتہائی ضرورت ہوتی ہے۔
اس چیک پوسٹ سے کچھ فاصلے پر تھانہ میریان واقع ہے جبکہ اس سے پہلے کنگر پل چوکی ہے۔
یہ علاقہ بنوں کے مضافات میں واقع ہے اور اس علاقے میں حالات ایک عرصے سے کشیدہ ہیں۔ گذشتہ سال لارون حملوں کے حوالے سے ایک رپورٹ کے لیے ہم اس علاقے میں گئے تھے اور یہ بتایا گیا تھا کہ چند ماہ میں تھانہ میریان پر کواڈ کاپٹر سے 19 حملے کیے جا چکے تھے۔
حملوں کا یہ سلسلہ اس کے بعد بھی جاری رہا اور اس سال اب تک کی پولیس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ ایک سال میں تشدد کے سبسے زیادہ واقعات بنوں میں پیش آئے ہیں۔
بنوں میں میں ایک عرصے سے حالات کشیدہ ہیں، جہاں آئے روزٹارگٹ کلنگ، سرکاری ملازمین کے اغوا اور پولیس پر حملوں کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔
بنوں کے پولیس تھانے پر خودکش حملے میں ہلاک ہونے والا خاندان: ’بارود سے بھری گاڑی اسی مقام پر لائی گئی جہاں 13 سال پہلے دھماکہ ہوا تھا‘پاکستان اور طالبان حکومت کے درمیان چین میں مذاکرات: کیا بیجنگ مستقل سیز فائر کروا سکے گا؟باجوڑ میں افغانستان کا مبینہ حملہ: عید کے لیے گھر آنے والے چار بھائی مارٹر گولے سے ہلاک ’والدہ اتنا بڑا غم برداشت کرنے کے قابل نہیں‘’یہ خاموش اکثریت تک رسائی کی کوشش ہے‘: بلوچستان میں عید کے اجتماعات سے مسلح افراد کے خطاب کی ’وائرل ویڈیوز‘ کیا ظاہر کرتی ہیں؟