500 میچز کے بعد ریٹائرمنٹ: ’چاچا کرکٹ‘ عبدالجلیل جنھوں نے ورلڈ کپ کے لیے اپنا مکان بھی بیچ دیا

بی بی سی اردو  |  Jun 02, 2026

اس کہانی کی ابتدا 21 فروری 1969 کو لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں ہوئی۔ یہ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان سیریز کے دوسرے ٹیسٹ کا پہلا دن تھا۔

یہ وہ زمانہ تھا جب لاہور شہر میں اس کھیل کا جنون اپنے عروج پر تھا اور قذافی سٹیڈیم میں بین الاقوامی ٹیموں کی آمد، خصوصا کالن کاؤڈرے کی قیادت میں انگلینڈ کا آنا ایک بڑا واقعہ تصور کیا جا رہا تھا۔

لاہور کے ساتھ ساتھ اس کے نواحی علاقوں اور صوبہ پنجاب کے دیگر شہروں سے کرکٹ شائقین کا ایک سیلاب سواریوں پر اور پیدل قذافی کے راستوں کی جانب اُمڈ آیا تھا۔

اس دور میں ٹیلی ویژن کا رواج عام نہیں تھا اس لیے لوگ میچ دیکھنے کے لیے بڑی تعداد میں سٹیڈیم کا رُخ کیا کرتے تھے۔ قذافی سٹیڈیم کی گنجائش آج کے مقابلے میں کم تھی، اندازاً 25,000 سے 30,000 کے قریب تماشائی یہاں بیٹھ سکتے تھے۔

کرکٹ مورخین اور اس دور کے اخبارات جیسے ’پاکستان ٹائمز‘ کے مطابق ’اہم میچوں اور ٹیسٹ کے اختتامی دنوں میں سٹیڈیم مکمل طور پر بھرجاتا تھا اور یہی حال اس روز بھی تھا۔‘

اسی ہجوم میں سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والا 20 سالہ نوجوان عبدالجلیل بھی شامل تھا، جو زندگی میں پہلی بار کسی انٹرنیشنل میچ کو سٹیڈیم میں دیکھنے کے ناقابل یقین احساس کے ساتھ پویلین کی طرف بڑھ رہا تھا۔

اس کے ہاتھ میں پاکستانی پرچم اور لبوں پر ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے تھے، اسے ایک ان دیکھا یقین تھا کہ کپتان سعید احمد کی قیادت میں ظہیر عباس، مشتاق محمد، حنیف محمد، انتخاب عالم، آصف اقبال اور وسیم باری جیسے کھلاڑی انگلینڈ کو ہوم گراؤنڈ پر ٹکنے نہیں دیں گے۔

ہوم گراؤنڈ سے زیادہ بھروسہ اسے ہزاروں نفوس پر مشتمل اس ہوم کراؤڈ پر تھا جو اٗس کے نزدیک ٹیم میں جوش و جذبے کی ایک نئی لہر پھونک سکتا تھا اور اسی کا حصہ بنتے ہوئے عبدالجلیل نے سب پر بازی لے جانے کی ٹھانی۔

اُن کی آواز بلند ہوتے ہوتے فلک شگاف نعروں کا روپ دھار گئی اور اس میں شامل ہونے والی دیگر ہزاروں آوازوں نے ٹیسٹ کرکٹ کی سلو پیس کو بھی غیر معمولی طور پر پٗرجوش بنادیا۔

پہلی اننگ میں سلیم الطاف نے 62 رنز پر چار انگلش کھلاڑیوں کو آؤٹ کر دیا اور مہمان ٹیم 243 رنز پر ڈھیر ہوگئی، عبدالجلیل سمیت ہزاروں پاکستانی توقع کر رہے تھے کہ یہ میچ چوتھے دن پاکستان کے حق میں سِمٹ جائے گا لیکن پانچویں روز یہ مقابلہ ڈرا ہوگیا۔

دیگر مداحوں کی طرح عبدالجلیل بھی مایوس ضرور تھے مگر سٹیڈیم میں میچ دیکھنے کے تجربے نے ان کی طبیعت پر گہرا اثر چھوڑا تھا اور انھوں نے سوچنا شروع کر دیا کہ وہ پروفیشنل کرکٹ کھیل کر نہ سہی، پروفیشنل کرکٹرز کو بھرپور انداز میں سپورٹ کر کے ہی ملک اور اس کھیل سے اپنی محبت کا اظہار کرسکتے ہیں۔

یہ نوجوان صوفی عبدالجلیل آگے چل کر ’چاچا کرکٹ‘ کے نام سے مشہور ہوئے۔ میچز ملک میں ہو رہے ہوں یا بیرون ملک، چاچا کرکٹ کی موجودگی لازمی دکھائی دینے لگے۔

ایک تازہ نشست میں 70 سالہ چاچا کرکٹ نے بہت دلچسپ گفتگو کی اور اپنی زندگی کے اہم لمحات کے بارے میں ہم سے بات کی۔

چاچا کرکٹ نے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جوانی میں مجھے کرکٹ کا جنون کی حد تک شوق تھا، کوشش بہت کی کہ پروفیشنل کرکٹر بنوں لیکن قسمت نے ساتھ نہیں دیا، پھر میں نے سیالکوٹ میں اپنا کلب، سی سی سی یعنی چوہدری کرکٹ کلب کے نام سے بنایا اور بطور وکٹ کیپر اپنا شوق پورا کرنے لگا۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم نواحی قصبوں اور قریبی شہروں میں بھی جاکر میچز کھیلتے تھے، بہت اچھا وقت تھا وہ۔‘

چلو چلو شارجہ چلو۔۔۔

سنہ 1973 میں عبدالجلیل متحدہ عرب امارات کی ریاست ابوظہبی چلے گئے اور وہاں میونسپلٹی میں ملازمت اختیار کرلی۔

چند سالوں بعد شارجہ میں پاکستان کے انڈیا اور دیگر ٹیموں سے میچز ہونے لگے، بقول چاچا کرکٹ، کم تنخواہ کے باوجود وہ باقاعدگی سے تین بسیں بدل کر اور سخت گرمی میں سفر کر کے ابوظہبی سے شارجہ آ کر ان میچز میں شرکت کرنے لگے اور وہ بھی اٗسی بھرپور جذبے کے ساتھ جیسا قذافی سٹیڈیم میں اپنے پہلے میچ میں دکھایا تھا۔

اسی شوق نے انھیں پاکستان کے پرچم کے رنگ والے کُرتے اور ٹوپی میں ملبوس کر دیا جو آگے چل کر ان کی پہچان بنا اس کے ساتھ قومی پرچم ہاتھ میں لیے وہ پویلین میں دور ہی سے پہچانے جانے لگے۔

شائقین بطور ہیومن میسکاٹ ان کی لیڈر شپ میں نعرے لگاتے تو ایک سماں بندھ جاتا جس سے میدان میں کھیلنے والے کرکٹرز، یہاں تک کہ کمنٹریٹرز بھی محظوظ ہوتے۔

جاوید میانداد کا تاریخی چھکا اور دو سو کلو مٹھائی۔۔۔

انڈیا کے خلاف 18 اپریل سنہ 1986 میں ایشیا کپ کے فائنل میں چیتن شرما کی آخری گیند پر جاوید میانداد کے چھکے نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

چاچا کرکٹ بتاتے ہیں کہ اٗس روز بھی وہ پویلین میں موجود تھے اور غالباً وہ واحد فلیگ مین تھے جو خود بھی کلب کرکٹ کھیل چکے تھے۔

’اس چھکے کے بعد میرے دل کی کیا کیفیت تھی، اتنے برس گزر جانے کے بعد بھی وہ الفاظ میں نہیں بتا سکتا، میں اتنا جذباتی ہوگیا تھا کہ اپنی جمع پونجی میں سے ایک بڑی رقم نکال کر تقریبا 200 کلو مٹھائی پاکستانی مداحوں میں تقسیم کردی، یہ اس وقت ایک ریکارڈ تھا جو کئی سالوں تک میرے سر رہا۔‘

’میں غلطی پر تھا کہ یہ شہر کی ثقافت ہے‘: کراچی میں ’پان کی پچکاریوں‘ سے متعلق بیان پر عامر سہیل کی معذرتحنین شاہ نے آخری اوور میں ’سلو اوور ریٹ‘ پر ملنے والی سزا کو اپنی چال میں کیسے بدل دیابال ٹیمپرنگ کا الزام، پی سی بی نے فخر زمان پر دو میچوں کی پابندی لگا دیبس پر پتھر سے حملہ: جب انضمام الحق ’بال بال بچے‘ اور پاکستان نے انڈیا میں ون ڈے سیریز کے باقی تمام میچ جیتے

یہی وہ میچ تھا جس کے بعد میانداد کی طرح چاچا کرکٹ بھی شہرت کی بلندیوں پر جاپہنچے۔

پاکستان کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات میں لوگ انھیں پہچاننے لگے، ان سے آٹوگراف لینے لگے۔ انھیں احساس ہوا کہ وہ کرکٹ کے منظرنامے پر ایک الگ پہچان بنا چکے ہیں، لہذا انھوں نے فیصلہ کیا کہ اب وہ صرف ایک تماشائی نہیں بلکہ ٹیم کے آفیشل ’چیئر لیڈر‘ کے طور پر خود کو پاکستان کے لیے وقف کر دیں گے۔

کرکٹ کے لیے ذاتی مکان کی قربانی

پاکستان ان کا گھر تھا اور متحدہ عرب امارات جائے ملازمت، یہاں تک تو میچ دیکھنے کے اخراجات ان کے بس میں تھے لیکن یہاں سے باہر نکل کر پاکستان کی نمائندگی کرنے کے لیے وسائل درکار تھے۔

کرکٹ بورڈ نے ابتدا میں معاونت کی جس کی وجہ سے وہ ملکی اور غیر ملکی سٹیڈیمز میں پاکستان کی شان بڑھاتے نظر آئے، البتہ سنہ 1999 کا ورلڈ کپ ان کے لیے ایک کٹھن امتحان بن کر آیا۔

کرکٹ مصروفیات کی وجہ سے وہ نوکری کو پہلے ہی خیر باد کہہ چکے تھے اس امید پر کہ پی سی بی انھیں سپورٹ کرتا رہے گا۔ لیکن ٹورنامنٹ سر پر آجانے کے باوجود انھیں کسی بھی جانب سے سپانسر شپ نہیں ملی۔ ایسے میں مجبوراً ذاتی مکان 15 لاکھ روپے میں فروخت کرنا پڑا۔

چاچا کرکٹ کا کہنا ہے کہ ’وہ ایک بڑا مشکل وقت تھا، میں نے ہر جگہ ہاتھ پیر مارے لیکن بات نہیں بنی۔ ورلڈ کپ سے بڑا کوئی اور سٹیج کیا ہوسکتا تھا؟ میری بڑی خواہش تھی کہ ٹیم کو سپورٹ کرنے انگلینڈ جاوں لیکن پیسوں کا بندوبست نہیں ہو پا رہا تھا، پھر میری اہلیہ نے خود اپنے ہاتھ سے مکان کے کاغذات مُجھے تھمائے اور کہا کہ یہ وقت گزر جائے گا، آپ ہمت کریں۔‘

اُن کا کہنا ہے کہ ’آج وہ گھر کروڑوں کی مالیت کا ہے لیکن مجھے اس کا کوئی ملال نہیں۔

’میں انگلینڈ گیا اور وہاں ہمیں جو محبت ملی وہ اس رقم سے کہیں زیادہ ہے۔‘

انڈیا میں چرچے اور گوتم سدھیر سے دوستی

شارجہ سے ملنے والی شہرت یو اے ای میں مقیم غیر ملکیوں اور ٹی وی کے ذریعے انڈیا میں بھی خوب پھیلی۔

چاچا کرکٹ نے کئی بار ٹیم کے ساتھ انڈیا کا دورہ کیا اور بھرپور پیار سمیٹا۔ وہ خود بتاتے ہیں کہ بالی وڈ اداکار امیتابھ بچن نے ایک نجی محفل کے دوران پاکستانی شائقین کی کرکٹ سے لگاؤ کی بات کرتے ہوئے ان کا ذکر ان الفاظ میں کیا تھا کہ ’چاچا جی کرکٹ کی دنیا کا وہ فین ہے جس نے کھیل کو صرف کھیل نہیں رہنے دیا۔ بلکہ اسے محبت کا ایک تہوار بنا دیا ہے۔ ان کا جذبہ سرحدوں سے بالاتر ہے۔‘

اسی طرح مختلف مواقع پر سنیل گواسکر اور جیفری بائیکاٹ جیسے بڑے کھلاڑی بھی چاچا کی تعریف کر چکے ہیں۔ گواسکر نے ایک موقع پر کمنٹری کے دوران کہا کہ ’کرکٹ صرف پچ پر نہیں، بلکہ گیلریوں میں بھی کھیلی جاتی ہے اور چاچا کرکٹ جیسے لوگ اس کھیل کی روح ہیں جو اسے زندہ رکھتے ہیں۔‘

اسی طرح جیف بائیکاٹ جو اپنی سخت گیر تنقید کے لیے جانے جاتے ہیں نے جب چاچا کرکٹ کو 90 کی دہائی میں شارجہ کی شدید گرمی اور ہجوم کے درمیان بھی مسلسل پاکستان کی حمایت کرتے ہوئے دیکھا، تو انھوں نے اپنے تجزیے میں انھیں ’میدان میں روح پھونکنے والا قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک کھلاڑی تب تک مکمل نہیں ہوتا جب تک اسے پیچھے سے ایسے ’جذبات کا سہارا‘ نہ ملے جیسا چاچا فراہم کرتے ہیں۔

سنہ 2004 میں جب پاکستان اور انڈیا کے درمیان کرکٹ تعلقات کی بحالی ایک تاریخی دور میں داخل ہوئی تو کھیل کے میدانوں سے ہٹ کر انسانی دوستی کی بھی ایک ایسی مثال قائم ہوئی جس نے دلوں کو مزید قریب کیا۔

انڈیا کے مشہور کرکٹ مداح گوتم سدھیر، جو سٹیڈیم میں انڈین جھنڈے جیسی اپنی باڈی پینٹنگ اور شنکھ بجانے کے لیے جانے جاتے ہیں، جب دورۂ پاکستان کے موقع پر لاہور پہنچے تو انھیں قیام و طعام کے مسائل کا سامنا تھا۔

ایسے میں چاچا کرکٹ نے نہ صرف انھیں خوش آمدید کہا بلکہ اپنے گھر میں ٹھہرایا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’گوتم میرے لیے چھوٹے بھائیوں جیسا رہا ہے، وہ جب یہاں آیا تو میں نے کہا تم میرے نہیں پاکستان کے بھی مہمان ہو، ہم نے ساتھ کھانے کھائے، میں نے اسے سارا لاہور گھمایا، جب ہم اکٹھے سٹیڈیم جاتے تھے۔

’لوگ ہمیں دیکھ کر حیران ہوتے کہ ایک گہرا سبز کٗرتا پاکستانی پرچم جیسا اور اس کے ساتھ انڈین پرچم والا کیسے گلے مل رہے ہیں۔‘

چاچا کرکٹ کا کہنا ہے کہ ’اصل میں ہم دونوں کا مشن ایک ہی تھا، دنیا کو یہ بتانا کہ کرکٹ لڑائی کا نام نہیں، بلکہ جوڑنے کا نام ہے۔ گوتم واپس گیا تو یہاں ملنی والی محبت کے بارے میں بتایا اٗن سب کو۔ بس یہی میری سب سے بڑی کامیابی ہے۔‘

نصف صدی کا قصہ

گذشتہ 54 برسوں میں 77 سالہ چاچا کرکٹ نے بطور چِیئر لیڈر 500 میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی اور ہر ہار جیت پر ٹیم کا حوصلہ بڑھایا۔ البتہ ان کے بقول 1999 کے آسٹریلیا کے خلاف ورلڈ کپ فائنل، 2011 میں انڈیا کے خلاف عالمی کپ کے سیمی فائنل اور اسی طرح نیویارک میں بھی انڈیا کے خلاف 2024 کا ٹی ٹوئنٹی میچ میں پاکستان کی شکستوں پر انھیں آج بھی پچھتاوا ہے۔

دنیا گھومنے اور پاکستان کی ہر بڑے کرکٹنگ سٹیج پر نمائندگی کرنے کے باوجود بھی چاچا سیالکوٹ میں انتہائی سادگی کی زندگی بسر کررہے ہیں۔

بریانی، دال چاول اور چاولوں کے ساتھ بیف کا سالن ان کی مرغوب ترین غذائیں رہی ہیں لیکن اب صحت کا خیال رکھتے ہوئے کم مرچ اور نمک والی خوراک ہی لیتے ہیں۔

چچا کرکٹ کا جانشین کون ہو گا؟

اپنی جانشینی سے متعلق سوال پر چاچا کا کہنا تھا کہ ’میں یہ ذمہ داری اپنے بچوں کو ہی سونپنا چاہوں گا جنھوں نے ملک کے لیے میرے جذبے اور قربانی کو بہت قریب سے محسوس کیا ہے۔‘

’بہت سے لوگ میری طرح کا حلیہ بنا کر سٹیڈیمز میں آجاتے ہیں۔ لیکن ان میں سے زیادہ تر صرف مشہور ہونے، سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے اور سپانسرز ڈھونڈنے کے چکروں میں پڑے ہوئے ہیں۔ میں انھیں یہی مشورہ دوں گا کہ سپورٹ ایسی کریں جس سے پاکستان ٹیم جیت کی طرف گامزن ہو سکے، البتہ یہ بھی ضروری ہے کہ کبھی بھی حریف کھلاڑی، ٹیم یا ملک کے بارے میں کچھ غلط مت کہیں۔‘

چاچا کا کہنا ہے کہ انھوں نے ساری عمر کبھی کسی حریف ٹیم یا کھلاڑی کے بارے میں کوئی تلخ بات نہیں کہی اور آج کے دور کے شائقین کو بھی وہ یہی مشورہ دیتے ہیں کہ سوشل میڈیا کے ویوز کے لیے اپنی اخلاقیات نہ کھویں۔

چاچا کرکٹ، جن کی ریٹائرمنٹ 4 جون 2026 کو آسٹریلیا کے خلاف لاہور میں ہونے والے میچ کے بعد طے ہے، اب اپنی زندگی کا ایک نیا باب شروع کرنے جا رہے ہیں۔

اس سلسلے میں انھوں نے کہا کہ ’اپنی زندگی کے اس آخری میچ کو یادگار بنانے کے لیے، میری خواہش ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ تمام سابقہ کھلاڑیوں کو ایک اعزازی عشائیے پر مدعو کرے۔ میں اس تقریب میں بورڈ اور کرکٹرز کے ساتھ ساتھ میڈیا، کرکٹ سے جڑے احباب اور اپنے دوستوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جنھوں نے میرے مشن کی ساری عمر حمایت کی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’خدا گواہ ہے کہ میرے دل میں کیا ہے، چاچا کرکٹ نے جو کچھ کیا، صرف پاکستان کے لیے کیا اور جو کچھ بھی آگے کروں گا، وہ بھی اسی ملک کے لیے ہوگا۔ میں نے پی سی بی سے گزارش کی ہے کہ وہ میرے اس آخری میچ کے موقع پر میری خدمات کا اعتراف کرے۔

’پی سی بی خود دیکھ سکتا ہے کہ کس نے پاکستان کی خدمت میں کتنا وقت گزارا ہے۔ میرا مشن کسی یونیورسٹی یا این جی او کے ذریعے کسی نہ کسی شکل میں جاری رہے گا۔‘

صوفی عبدالجلیل سیالکوٹ میں ایک میوزیم قائم کرنا چاہتے ہیں جہاں ان کی 54 سالہ یادیں، تصاویر اور وہ انمول تحائف محفوظ ہوں گے جو انھیں دنیا بھر کے مداحوں نے دیے ہیں۔

کراچی سے کریئر شروع کرنے والے تندولکر جو عمران خان کی قیادت میں پاکستان کی طرف سے بھی کھیلےحنین شاہ نے آخری اوور میں ’سلو اوور ریٹ‘ پر ملنے والی سزا کو اپنی چال میں کیسے بدل دیا’میں غلطی پر تھا کہ یہ شہر کی ثقافت ہے‘: کراچی میں ’پان کی پچکاریوں‘ سے متعلق بیان پر عامر سہیل کی معذرتبس پر پتھر سے حملہ: جب انضمام الحق ’بال بال بچے‘ اور پاکستان نے انڈیا میں ون ڈے سیریز کے باقی تمام میچ جیتےبال ٹیمپرنگ کا الزام، پی سی بی نے فخر زمان پر دو میچوں کی پابندی لگا دی
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More