’26 وارداتوں میں مطلوب اشتہاری ملزم‘ جو 60 فٹ اُونچے کھجور کے درخت پر بیٹھ کر ’لائیو کوریج‘ کرتا رہا

بی بی سی اردو  |  Jun 12, 2026

پاکستان میں سوشل میڈیا پر تقریباً ساٹھ فٹ اونچے درخت پر چڑھے ملزم اور پولیس اہلکار کے مکالموں کے مختلف کلپس وائرل ہیں۔

ایک کلپ میں تھانہ چوٹی کے ایس ایچ او حمید اللہ، ملزم کو وارننگ دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

پولیس آفیسر ملزم کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ ’کلیم پانچ منٹ میں درخت سے نیچے اتر آؤ ورنہ ہم تمہارے خلاف کارروائی کریں گے‘ جس کے جواب میں درخت کے اوپر موجود ملزم کہتا ہے کہ ’میرے خلاف جھوٹے مقدمات ہیں۔‘

پولیس کی پانچ منٹ کی دی گئی اس وارننگ پر لگ بھگ ڈیڑھ گھنٹے کے بعد عملدرآمد ہوا جب گیارہ بج کر 31 منٹ پر ریسکیو 1122 کو پولیس کی طرف سے کال کی گئی اور ریسکیو ٹیم موقع پر پہنچ گئی۔

اس واقعہ کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ ملزم درخت پر موجودگی کے دوران سوشل میڈیا کا استعمال کرتا رہا اور درخت کے نیچے کھڑے پولیس اہلکاروں سے متعلق ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر شئیر بھی کرتا رہا۔

یہ واقعہ پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان کا ہے۔ یہ 10 جون کی گرم دوپہر تھی جب گیارہ بجے کے قریب ڈیرہ غازی خان کے تھانے چوٹی کی پولیس نے کلیم ڈمرہ کی گرفتاری کے لیے اس کے گھر پر چھاپہ مارا۔

مگر ملزم گرفتاری سے بچنے کے لیے کھجور کے درخت پر چڑھ گیا۔

پولیس نے ساٹھ فٹ اونچے درخت پر چڑھ کر پولیس اور ریسکیو 1122 کے اہلکاروں کو گھنٹوں پریشان کرنے والے اس شخص کلیم اللہ ڈمرہ کے خلاف گرفتاری میں مزاحمت کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔

تھانہ چوٹی پولیس نے ملزم کو جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کر کے تین روزہ جسمانی ریمانڈ بھی حاصل کر لیا ہے۔

پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ملزم اس سے قبل تین مقدمات میں عدالت سے اشتہاری قرار دیا جا چکا اور مبینہ طور پر یہ ڈکیتی و راہزنی کی لگ بھگ 26 وارداتوں میں مختلف تھانوں کی پولیس کو مطلوب ہے، ملزم کے قبضے سے مسروقہ مال برآمد کیا جانا ہے اور اس کے ساتھ گروہ میں شامل دیگر افراد کے بارے میں بھی پوچھ گچھ کی جانی ہے۔

ایف آئی آر میں ملزم کلیم کے 21 ساتھی بھی نامزد

تھانہ چوٹی میں درج ہونے والی ایف آئی آر کے مدعی ایس ایچ او انسپکٹر حمید اللہ ہیں جبکہ مقدمے میں تعزیرات پاکستان کی آٹھ دفعاتلگائی گئی ہیں جن میں 324، 353، 186، 506 بی، 427، 440، 148، 149 شامل ہیں جو کہ پولیس کے ساتھ مقابلہ اور مزاحمت کرنے، جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے، اقدام قتل اور شارع عام پر نقص امن کا سبب بننے سے متعلق ہیں۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق ’مخبر سے اطلاع ملی کہ تین مقدمات میں مطوب ملزمکلیم بستی ملانہ میں موجود ہے جس پر ریڈنگ پارٹی تشکیل دی گئی اور جب بستی ملانہ میں پولیس ٹیم پہنچی تو ملزم محمد کلیم پولیس پارٹی کو آتا دیکھ کر موٹرسائیکل پر فرار ہونے لگا جس کا تعاقب کیا گیا، جوکہ اپنے گھر کے نزدیک بستی ڈمرہ میں موٹرسائیکل کو پھینک کر کھجور کے درخت پر چڑھ گیا۔‘

’تھانہ چوٹی سے مزید پولیس نفری کو طلب کیا گیا اور ملزم کلیم کو نیچے اترنے کے لیے کافی سمجھایا گیا، ریسکیو 1122 کو بھی موقع پر طلب کیا گیا ، ریسکیو کی کارروائی کے بعد ملزم جونہی درخت سے نیچے اترا تو پولیس پارٹی کے ساتھ مزاحمت کرنا شروع کردی۔‘

ایف آئی آر میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’ملزم کو چھڑانے کے لیے اس کے ساتھیوں محمد ندیم، یقین محمد، امین، حیدر علی، نادر، شاکر، فیصل، خضر عباس ، دلشاد ، نواب، اظہر، غلام مہدی اور دیگر نو افراد جن کے ہاتھوں میں پستول اور ڈنڈے تھے، انھوں نے ملزم کلیم کے ساتھ مل کر پولیس پارٹی پر دھاوا بولا اور مزاحمت کی۔‘

مزید دعویٰ کیا گیا کہ ’حملہ آوروں نے پولیس پارٹی کو جان سے مار دینے کی نیت سے سیدھے فائر کیے جو کہ سرکاری گاڑی کو لگے، حملہ آور پولیس پارٹی کو جان سے مار دینے کی دھمکیاں بھی دیتے رہے اور موقع سے فرار ہو گئے۔‘

300 فٹ بلند درخت پر پھنسا تیندوا اور 1000 فٹ گہری کھائی: ’ڈر تو لگ رہا تھا مگر سوچا کہ میرا رزق اس جنگلی حیات کی وجہ سے ہے‘’اوپر کوبرا تھا اور نیچے 10 فٹ پانی‘: سیلاب سے بچاؤ کے لیے 24 گھنٹے درخت پر گزارنے والے شخص کی کہانیکینیڈا کی تاریخ کی سب سے بڑی سونے کی ڈکیتی: ایک اہم گرفتاری کے بعد پولیس کو انڈین پنجاب میں مقیم ملزم کی تلاشآلائی میں کیبل کار میں پھنسے لوگوں کو نکالنے والے ریسکیو ورکرز: ’وہ میرے ساتھ ایسے لپٹے جیسے بچے ماں سے لپٹتے ہیں‘ملزم کو ساٹھ فٹ اونچے درخت سے کیسے اتارا گیا؟

چٹھہ سرکل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس کبیر احمد نے بی بی سی اردو سے بات چیت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ملزم کلیم ڈمرہ کا ماضی کا ریکارڈ کوئی اچھا نہیں۔

’ملزم کے خلاف 26 ڈکیتی، راہزنی و منشیات کے مقدمات درج ہیں، یہ کچھ ماہ پہلے ایک پولیس مقابلے میں بھی زخمی ہو چکا اور اس کے بھائی اور سسر بھی پولیس کو مختلف مقدمات میں مطلوب ہیں، ان کا پورا خاندان ہی جرائم پیشہ ہے۔‘

ڈی ایس پی بتاتے ہیں کہ ’ملزم اس سے قبل تین چار بار ایسا کر چکا ہے کہ جب بھی پولیس نے اس کو گرفتار کرنے کی کوشش کی، یہ بھاگ کر کھجور کے اونچے درخت پر چڑھ جاتا تھا، جس وجہ سے پولیس اسے گرفتار کرنے میں ناکام رہی۔‘

’پولیس کی چھاپہ مار ٹیم نے اس بار بھی اس کے گرد گھیرا ڈالنے کی بھرپور کوشش کی لیکن اس کی فیملی نے اسے فرار کرانے میں اس کی مدد کی جس وجہ سے یہ درخت پر چڑھنے میں کامیاب ہو گیا۔‘

ریسکیو 1122 کے ترجمان نے بتایا کہ ریسکیو 1122 کنٹرول روم ڈیرہ غازی خان کو بستی ڈمبرا نزد بستی نصیر کوٹ چھٹہ سے ایک ایمرجنسی کال موصول ہوئی جس میں کالر اسسٹنٹ سب انسپیکٹر مقصود نے بتایا کہ ایک شخص کھجور کے بلند درخت پر چڑھا ہوا ہے اور خود سے نیچے اترنے سے قاصر ہے، اسے اتارنے کے لیے ریسکیو سروسز درکار ہیں۔

’ریسکیو کنٹرول روم نے فوری طور پر قریبی ریسکیو سٹیشن کوٹ چھٹہ سے ایکفائر وہیکل اور ایک موٹر بائیک سروس کو جائے وقوعہ کی طرف روانہ کیا، ریسکیو سٹاف جب موقع پر پہنچا تو ایک شخص کھجور کے بلند درخت پر چڑھا ہوا تھا اور پولیس بھی موقع پر موجود تھی۔‘

ترجمان کے مطابق ریسکیو سٹاف نے ابتدائی طور پر لیڈر (سیڑھی) کی مدد سے اس شخص تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی تاہم درخت کی غیر معمولی بلندی کے باعث سیڑھی مطلوبہ مقام تک نہ پہنچ سکی۔

’صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ریسکیو ٹیم نے تمام ضروری حفاظتی اقدامات کو مدنظر رکھتے ہوئے درخت کو نچلے حصے سےکاٹنے کے بعد مذکورہ شخص کو نیچے اتار لیااور ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد پولیس کے حوالے کر دیا۔‘

ریسکیو حکام کے مطابق مذکورہ شخص ملزم تھا جو گرفتاری کے خوف سے کھجور کے درخت پر چڑھ گیا اور نیچے اترنے سے انکار کر رہا تھا۔

سوشل میڈیا پر ردِعمل

سوشل میڈیا پر کئی صارفین درخت کاٹے جانے پر سخت نالاں ہیں۔

صحافی بلال ڈار کہتے ہیں کہ ’ڈی آئی خان میں مجرم پولیس سے بچنے کے لیے درخت پر چڑھ گیا اور پولیس اہلکاروں نے ہرے بھرے درخت کو کاٹ کر قتل کر دیا اور ملزم کی زندگی کو بھی خطرے میں ڈالا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’واقعہ میں ملوث اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق مقدمہ درج کرایا جائے۔‘

چودھری آصف ہمایوں نے ویڈیو شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ ’آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا تو سنا تھا لیکن پولیس کے ڈر سے کھجور میں لٹکا پہلی بار دیکھا۔ ڈیرہ غازی خان میں پولیس کو مطلوب شخص کھجور کے درخت پر چڑھ گیا اور اوپر بیٹھ کر لائیو کوریج بھی کرتا رہا۔‘

عبدالاحد لکھتے ہیں کہ ’ملزم کھجور کے درخت پر چڑھ کر اعلان کر رہا ہے کہ میرے خلاف جھوٹا مقدمہ ہے، میں نیچے نہیں آؤں گا‘ اور نیچے پولیس والے سمجھا رہے ہیں کہ ’بھائی، کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں، آرام سے نیچے آ جاؤ‘۔۔ جب بات نہ بنی تو آخری وارننگ ’اگر نیچے نہ آئے تو درخت ہی کاٹ دیں گے‘ یہ واقعہ کم اور کامیڈی فلم کا سین زیادہ لگ رہا ہے۔‘

انھوں نے لکھا کہ واقعی کبھی کبھی ایسے مناظر دیکھ کر لگتا ہے کہ دنیا میں عقل سے زیادہ حیران کرنے والی چیزیں موجود ہیں۔

300 فٹ بلند درخت پر پھنسا تیندوا اور 1000 فٹ گہری کھائی: ’ڈر تو لگ رہا تھا مگر سوچا کہ میرا رزق اس جنگلی حیات کی وجہ سے ہے‘’اوپر کوبرا تھا اور نیچے 10 فٹ پانی‘: سیلاب سے بچاؤ کے لیے 24 گھنٹے درخت پر گزارنے والے شخص کی کہانیایک ٹیوب کے ذریعے حافظ آباد کے درجنوں لوگوں کو بچانے والے ’ملنگ‘: ’میرے لیے ایک ہزار روپے انعام کروڑوں سے بہتر ہے‘کینیڈا کی تاریخ کی سب سے بڑی سونے کی ڈکیتی: ایک اہم گرفتاری کے بعد پولیس کو انڈین پنجاب میں مقیم ملزم کی تلاشآلائی میں کیبل کار میں پھنسے لوگوں کو نکالنے والے ریسکیو ورکرز: ’وہ میرے ساتھ ایسے لپٹے جیسے بچے ماں سے لپٹتے ہیں‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More