’شدت پسندوں سے کہا تھا کہ ہمارے علاقے سے نکل جائیں‘: بنوں میں مسافر گاڑیوں کے قریب دھماکوں میں سات افراد کی ہلاکت اور مقامی آبادی کے خدشات

بی بی سی اردو  |  Jun 20, 2026

Getty Images

خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں کے قریب ڈومیل کے علاقے میں مسافر گاڑیوں کے قریب وقفے وقفے سے دو دھماکوں میں سات افراد ہلاک جبکہ چھ زخمی ہو گئے ہیں۔

ضلعی پولیس افسر یاسر آفریدی نے مقامی صحافیوں سے گفتگو میں دھماکوں سے ہونے والی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ اُن کے بقول یہ واقعہ سنیچر کو ڈومیل کے علاقے میں تھانہ احمد زئی کی حدود میں پیش آیا ہے۔

علاقے سے تعلق رکھنے والےامن کمیٹی کے رہنما نور دراز نےصحافیوں کو بتایا کہ مقامی ڈرائیور اللہ نور کی گاڑی سواریوں کو لے کر روانہ ہوئی تھی اور جیسے ہی یہ مرکہ بیرہ کے پاس پہنچی وہاں دھماکہ ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس گاڑی میں ڈرائیور کے خاندان کے لوگ بھی تھے اور باقی سواریاں بھی موجود تھیں جن پر دھماکہ خیز مواد سے حملہ کیا گیا ہے۔

پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مسافر گاڑی پر دھماکے کے بعد زخمیوں کو لے جانے والی گاڑی پر بھی کچھفاصلہ پر ریموٹ کنٹرول سے دھماکہ کیا گیا ہے اس میں میں بھی جانی نقصان ہوا ہے۔

وزیرِ داخلہ محسن نقوی، وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے بنوں دھماکوں کی مذمت کی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ نے واقعے کی رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔

بنوں میں محکمہ صحت کے ترجمان نعمان خان نے بی بی سی کو بتایا کہ تین زخمیوں کو خلیفہ گل نواز ہسپتال لایا گیا ہے جنھیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

تاحال ان دھماکوں کی ذمہ داری کسی گروہ نے قبول نہیں کی ہے۔

Getty Images

ڈومیل کا علاقہ بنوں شہر سے کوئی 18 کلومیٹر کے فاصلے پر بنوں پشاور روڈ پر واقع ہے جبکہ مرکہ بیرہ کا مقام ڈومیل سے آٹھ کلومیٹر دور ہے۔

مرکہ بیرہ بنیادی طور پر ایک بڑا درخت ہے اور مقامی سطح پر مرکہ بیرہ جرگے کا مقام ہے جہاں علاقے کے لوگ مل بیٹھ کر اپنے مسائلپر جرگے کرتے ہیں۔ مرکہ مشاورت کو کہا جاتا ہے جبکہ بیر کے درخت کو بیرہ کہا جاتا ہے۔

اس دھماکے کی نوعیت کے بارے میں متضاد اطلاعات موصول ہوئی ہیں ابتدائی طور پر پولیس بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ریموٹ کنٹرول سے دھماکے کیے گئے ہیں جبکہ مقامی لوگوں نے ان خدشات کا اظہار بھی کیا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ مسلح شدت پسندوں نے بارودی سرنگیں نصب کی ہوں تاہم پولیس اس بارے میں تحقیقات کر رہی ہے۔

پولیس کی ٹیمیں شواہد اکٹھے کر رہی ہیں جبکہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔

ریجنل پولیس افسر کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بکتر بند گاڑیاں، بم ڈسپوزل سکواڈ اور پولیس کی نفری جائے وقوعہ پر موجود ہے، جہاں سرچ اور کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بم ڈسپوزل ٹیموں نے کسی بھی ممکنہ خطرے کو ختم کرنے کے لیے علاقے کی مکمل تلاشی لی ہے۔

بنوں کے پولیس تھانے پر خودکش حملے میں ہلاک ہونے والا خاندان: ’بارود سے بھری گاڑی اسی مقام پر لائی گئی جہاں 13 سال پہلے دھماکہ ہوا تھا‘باڑہ میں سکول پر ’قبضے کی کوشش‘، سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 10 شدت پسند ہلاک’ملبے سے آواز آئی کہ مجھے نکالو‘: جس شخص کی تدفین کی گئی وہ 17 دن بعد زندہ مل گیا طورخم سرحد پر چار روز سے پڑی لاش کا معمہ: عارضی سیز فائر اور مبینہ شناخت کے باوجود میت کیوں نہ اٹھائی جا سکی؟’شدت پسندوں سے کہا تھا کہ وہ ہمارے علاقے سے نکل جائیں‘

ڈومیل کے اس علاقے میں ہاتھی خیل قوم اور دیگر اقوام رہائش پذیر ہیں اور اس علاقے میں مقامی لوگوں نے مسلح شدت پسندوں سے کہا ہے کہ وہ اس علاقے میں نہ آئیں۔

نور دراز نے صحافیوں کو بتایا کہ مسلح تنظیم میں مقامی علاقے کے لوگ شامل ہیں اور ’ہمنے ان سے کہا ہے کہ وہ اس علاقے سے نکل جائیں کیونکہ ان کی موجودگی میں پھرعلاقے میں آپریشن ہو سکتے ہیں اور اس سے ان کے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔‘

اس علاقے میں مقامی اقوام اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپوں کے علاوہ پولیس نے بھی کارروائیاں کی ہیں لیکنکشیدگی بدستور پائی جاتی ہے۔

بنوں کے قریب واقع تحصیل ڈومیلمیں اپریل 2026 میں ڈومیل پولیس سٹیشن کو ایک خودکش کار بم حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچے سمیت پانچ افراد ہلاکاور متعدد زخمی ہو گئے تھے جبکہ قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا تھا۔

Getty Imagesمئی میں فتح خیل پولیس چوکی پر بارود سے بھری گاڑی ٹکرانے سے متعدد پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے

سکیورٹی حکام کے مطابق پولیس کی بروقت کارروائی کے باعث حملہ آور اپنے ہدف تک مکمل طور پر پہنچنے میں ناکام رہا، تاہم دھماکے کے اثرات مقامی آبادی تک محسوس کیے گئے۔

گذشتہ ماہ بنوں میں نورڑ روڈ پر واقع فتح خیل پولیس چیک پوسٹ پر مسلح شدت پسندوں نے حملہ کیا تھا جس میں متعدد پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

ان واقعات کے بعد سکیورٹی فورسز نے ڈومیل اور ملحقہ علاقوں میں سرچ اور کلیئرنس آپریشنز میں اضافہ کیا، جن کے دوران کئی مشتبہ شدت پسندوں کو ہلاک یا گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔

بنوں کے ساتھ لکی مروت میں بھی تشدد کے واقعات پیش آ رہے ہیں گذشتہ روز لکی مروت میں غزنی خیل کے علاقے خیرو خیل میں امن کمیٹی کے رہنما کے حجرے پر کواڈ کاپٹر سے حملہ کیا گیا تھا جس میں 13 افراد زخمی ہوئے تھے۔

خیرو خیل میں ایک ہفتہ پہلے جمعے کے روز ہی مسجد کے قریب دھماکہ ہوا تھا جب لوگ جمعے کی نماز ادا کر رہے تھے۔

بنوں میں پولیس چوکی پر حملہ: پاکستان کا افغانستان میں حملے کی منصوبہ بندی ہونے کا دعویٰ، افغان طالبان کی تردیدبنوں کے پولیس تھانے پر خودکش حملے میں ہلاک ہونے والا خاندان: ’بارود سے بھری گاڑی اسی مقام پر لائی گئی جہاں 13 سال پہلے دھماکہ ہوا تھا‘طورخم سرحد پر چار روز سے پڑی لاش کا معمہ: عارضی سیز فائر اور مبینہ شناخت کے باوجود میت کیوں نہ اٹھائی جا سکی؟باجوڑ میں افغانستان کا مبینہ حملہ: عید کے لیے گھر آنے والے چار بھائی مارٹر گولے سے ہلاک ’والدہ اتنا بڑا غم برداشت کرنے کے قابل نہیں‘’یہ خاموش اکثریت تک رسائی کی کوشش ہے‘: بلوچستان میں عید کے اجتماعات سے مسلح افراد کے خطاب کی ’وائرل ویڈیوز‘ کیا ظاہر کرتی ہیں؟
مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More