برطانوی وزیر اعظم سر کیئر سٹامر کا مستعفی ہونے کا اعلان، لیبر پارٹی کی قیادت بھی چھوڑ دی

بی بی سی اردو  |  Jun 22, 2026

Reutersکیئر سٹامر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ رواں برس مئی میں برطانیہ میں ہونے والے مقامی کونسلز کے انتخابات کے نتائج کے بعد زور پکڑ گیا تھا

برطانوی وزیراعظم سر کیئر سٹامر نے اعلان کیا ہے کہ وہ وزارتِ عظمیٰ اور ملک کی حکمراں جماعت لیبر پارٹی کی قیادت سے مستعفی ہو رہے ہیں۔

سر سٹامر کے مستعفی ہونے کا مطلب ہے کہ برطانیہ کو چار برس میں اب پانچواں نیا وزیرِاعظم ملے گا۔

پیر کو 10 ڈاؤننگ سٹریٹ کے باہر میڈیا کے سامنے اپنے استعفے کا اعلان کرتے ہوئے سر کیئر سٹامر نے کہا کہ ان کا ہر فیصلہ اپنے ملک کے لیے ہوتا ہے۔

مستعفی ہونے والے وزیراعظم نے کہا کہ ان کی جماعت یہ سوال پوچھ رہی ہے کہ کیا اگلے عام انتخابات میں قیادت کے لیے وہ بہترین انتخاب ہیں یا نہیں اورانھوں نے اس سوال پر اپنی پارٹی کا ’جواب سن لیا ہے‘ اور وہ ’اس جواب کو خوش دلی سے قبول کرتے ہیں۔‘

کیئر سٹامر کا کہنا تھا کہ اپنے دو سالہ دور میں انھوں نے معیشت اور دفاع پر اعتماد بحال کیا۔ ان کے مطابق جب لیبر پارٹی کی قیادت ان کے پاس آئی تو اس وقت یہ جماعت ’سیاسی، مالی اور اخلاقی طور پر دیوالیہ ہو چکی تھی۔‘

کیئر سٹامر کے مطابق انھیں بار بار بتایا گیا کہ پارٹی ’ختم ہو چکی ہے‘، مگر ان کے بقول انھوں نے ’ان لوگوں کو غلط ثابت کیا۔‘

کیئر سٹامر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ رواں برس مئی میں برطانیہ میں ہونے والے مقامی کونسلز کے انتخابات کے نتائج کے بعد زور پکڑ گیا تھا۔ ان نتائج نے برطانوی سیاست کو لڑکھڑا دیا تھا اور ملک کی حکمران لیبر پارٹی تیسرے نمبر پر رہی تھی۔

انتخابات میں مایوس کن کارکردگی کے باوجود کیئر سٹامر نے اس وقت استعفی دینے سے انکار کر دیا تھا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ ’میں ملک کو افراتفری کی صورتحال میں چھوڑ کر نہیں جاؤں گا اور اپنی پانچ سالہ مدت پوری کروں گا۔‘

سٹامر کی جگہ کون لے سکتا ہے؟Getty Imagesبرنہم نے 2010 اور 215 میں بھی لیبر پارٹی کی قیادت کے انتخاب میں حصہ لیا تھا لیکن ناکام رہے تھے۔

تاہم گذشتہ ہفتے میکرفیلڈ کے ضمنی انتخاب میں لیبر پارٹی میں ان کے حریف اور اینڈی برنہم کی کامیابی کے بعد سٹامر پر مستعفی ہونے کا دباؤ بڑھتا جا رہا تھا۔

ہفتے کے اختتام پر لیبر پارٹی کے سیاستدان بڑی حد تک خاموش رہے جس کے باعث وزیرِاعظم کو اپنے سیاسی مستقبل پر غور کرنے کا موقع ملا۔

برنہم آج دوپہر ایوانِ عام میں رکنِ پارلیمان کے طور پر حلف اٹھانے والے ہیں اور وہ ممکنہ طور پر ملک کے نئے وزیراعظم بن سکتے ہیں۔

برنہم نو برس سے گریٹر مانچسٹر کے میئر تھے اور وہ ماضی میں 2001 سے 2007 تک لیہہ کے حلقے سے ہاؤس آف کامنز کے رکن رہ چکے ہیں۔

انھوں نے ماضی میں 2010 اور 215 میں بھی لیبر پارٹی کی قیادت کے انتخاب میں حصہ لیا تھا لیکن ناکام رہے تھے۔

اپنی مختصر تقریر میں کیئر سٹامر کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ لیبر پارٹی کی قومی ایگزیکٹو کمیٹی سے کہیں گے کہ ٹائم ٹیبل ترتیب دیا جائے تاکہ لیبر پارٹی کے نئے سربراہ کے لیے نامزدگیوں کا سلسلہ نو جولائی سے شروع ہو سکے اور موسمِ گرما کے وقفے تک یہ کام مکمل ہو سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ اس امر کو یقینی بنائے گا کہ پارٹی کے اندر مقابلے کی صورت میں نیا رہنما ستمبر میں پارلیمان کی واپسی سے قبل اپنی جگہ موجود ہو گا۔

سٹامر کے جانشین کے لیے مقابلہ ممکن تو ہے لیکن سیاسی مبصرین کے مطابق بلامقابلہ تقرری کا امکان بڑھتا جا رہا ہے جس سے غالباً برنہم فائدہ اٹھائیں گے۔

اپنے بعد آنے والے وزیراعظم کے لیے اپنی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کیئر سٹامر نے کہا کہ وہ اقتدار کی منظم منتقلی کو یقینی بنانے کے لیے ان کے بس میں جو ہوا وہ کریں گے اور اپنے جانشین کو مکمل حمایت فراہم کریں گے۔

انھوں نے مزید کہا کہ نیا رہنما ایک ایسے برطانیہ کی ذمہ داری سنبھالے گا جو دو سال پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہے۔

Getty Imagesکیئر سٹامر کون ہیں؟

جولائی 2024 کے دوران برطانیہ کے عام انتخابات میں لیبر پارٹی کی کامیابی کے بعد اس کے سربراہ سر کیئر سٹامر ملک کے نئے وزیراعظم بنے تھے۔

سٹامر نے چار سال قبل انتہائی بائیں بازو کے خیالات کے حامی جیریمی کوربن کی جگہ لیبر پارٹی کی قیادت سنبھالی تھی۔

لیبر پارٹی ان انتخابات میں فتح کے نتیجے میں 14 برس بعد اقتدار میں آئی اور اس سیاسی جماعت کو بائیں بازو سے مرکز کی جانب لانے کے لیے سٹامر نے کافی کوشش کی تاکہ وہ الیکشن میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکے۔

50 کے پیٹے میں پہلی بار برطانوی دارالعوام کا رکن بننے سے پہلے سٹامر نے وکالت کے شعبے میں اپنا نام بنایا تھا تاہم انھیں ہمیشہ سے سیاست میں دلچسپی تھی اور اپنی جوانی میں وہ بائیں بازو کی سخت گیرسیاست کے حامی تھے۔

وہ سنہ 1962 میں لندن میں پیدا ہوئے اور ان کا بچپن جنوب مشرقی انگلینڈ میں سری کاؤنٹی میں گزرا۔ ان کی دو بہنیں اور ایک بھائی ہیں۔

سٹامر نے 2007 میں شادی کی۔ ان کی بیوی وکٹوریہ الیگزینڈر این ایچ ایس کے لیے کام کرتی ہیں جبکہ ان کے دو بچے ہیں۔

مخبری اور ’مہارت سے زیادہ قسمت‘: فوٹوگرافر نے سابق برطانوی شہزادے اینڈریو کی گرفتاری کی تصویر کیسے کھینچی؟برطانیہ داخلے کا نیا نظام اور پیچیدگیاں: اب آپ کو ویزا چاہیے یا ’ای ٹی اے‘؟پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں کشیدگی پر برطانوی اراکینِ پارلیمنٹ کا خط اور دفتر خارجہ کا جواب: ’بہتر ہوگا وہ اپنے ملک میں مثبت کردار ادا کریں‘برطانیہ میں ’نائٹ کلب کے باہر خاتون پر حملے‘ کی افواہ جو پُرتشدد مظاہروں میں بدل گئی

سٹامر اکثر کہتے ہیں کہ وہ مزدور طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے والد ایک کارخانے میں اوزار بناتے تھے اور ان کی والدہ ایک نرس تھیں۔

ان کے گھر والے لیبر پارٹی کے پرانے حامی تھے بلکہ سٹامر کا نام بھی پارٹی کے پہلے سربراہ، جو ایک کان کن تھے، کیئر ہارڈی کے نام پر رکھا گیا تھا۔

سٹامر کے گھر میں سکون نہیں تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کہ والد سرد مہر تھے اور زیادہ بات نہیں کرتے تھے۔ ان کی والدہ کی زیادہ تر زندگی سٹل ڈزیز نامی آٹو امیون بیماری سے لڑتے ہوئے گزری۔

بیماری سے لڑتے لڑتے بالآخر وہ چلنے اور بولنے سے قاصر ہو گئیں اور اسی بیماری کی وجہ سے ان کی ایک ٹانگ بھی کاٹنی پڑی۔

سٹامر نے 16 سال کی عمر میں لیبر پارٹی کی مقامی یوتھ برانچ میں شمولیت اختیار کی۔ کچھ عرصے کے لیے انھوں نے ایک انتہا پسند بائیں بازو کے میگزین 'سوشلسٹ الٹرنیٹیوز' کے مدیر کے طور پر بھی کام کیا۔

سٹامر اپنے خاندان میں یونیورسٹی جانے والے پہلے فرد تھے۔ انھوں نے لیڈز اور آکسفرڈ سے قانون کی تعلیم حاصل کی اور پھر انسانی حقوق کے ماہر وکیل کی حیثیت سے کام کیا۔

اس دوران انھوں نے کیریبین اور براعظم افریقہ کے ممالک میں سزائے موت ختم کرنے کے لیے کام کیا۔

نوّے کی دہائی میں انھوں نے ایک مشہور کیس میں دو ماحولیاتی کارکنوں کی نمائندگی کی تھی جن پر ملٹی نیشنل ریستوران میکڈونلڈز نے ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا تھا۔

سنہ 2008 میں سٹامر کو پبلک پراسیکیوشن کا ڈائریکٹر اور کراؤن پراسیکیوشن سروس کا سربراہ بنایا گیا جس کے بعد وہ برطانیہ اور ویلز میں سب سے سینیئر پراسیکیوٹر بن گئے تھے۔

سنہ 2013 میں انھوں نے یہ ملازمت ترک کی جبکہ سنہ 2014 میں انھیں 'سر' کا خطاب دیا گیا۔

لیبر پارٹی کا سربراہ بننے تک کا سفر

سٹامر سنہ 2015 میں لندن کے حلقے ہولبرن اور سینٹ پینکریاز سے رکن پارلیمنٹ کے طور پر دارالعوام کا حصہ بنے۔

اس وقت لیبر پارٹی بائیں بازو کے سیاست دان جیریمی کوربن کی قیادت میں اپوزیشن میں تھی۔ ترک وطن جیسے شعبوں میں حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے کوربن نے سٹامر کو ہوم آفس کا 'شیڈو منسٹر' بنایا۔

برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کے حق میں ووٹ دینے کے بعد سٹامر کو بریگزٹ کا 'شیڈو سیکرٹری' بنا دیا گیا۔ اپنے عہدے کا استعمال کرتے ہوئے انھوں نے دوسرا ریفرینڈم کروانے کی کوشش کی۔

سٹامر کو سنہ 2019 میں عام انتخابات کے بعد لیبر پارٹی کا سربراہ بننے کا موقع ملا جب عام انتخابات میں سنہ 1935 کے بعد پارٹی کو اب تک کی بدترین شکست ملی۔ اسی شکست نے جیریمی کوربن کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا۔

سٹامر نے بھی لیبر پارٹی کی قیادت بائیں بازو کے پلیٹ فارم سے ہی حاصل کی۔ انھوں نے توانائی اور پانی کی کمپنیوں کو قومیانے اور یونیورسٹی کے طلبا کے لیے مفت تعلیم کی وکالت کی تھی جبکہ کوربن نے لیبر کو بائیں بازو اور اعتدال پسندوں کے درمیان تقسیم کر دیا تھا۔

سٹامر کہتے تھے کہ وہ پارٹی کو متحد کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ کوربن کے سخت گیر موقف کو بھی برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے 'مرکز کی طرف زیادہ جھکنے کے رجحان' کے بارے میں خبردار کیا تھا۔

تاہم بعد میں سٹامر نے کوربن کو لیبر پارٹی کی پارلیمانی پارٹی سے معطل کر دیا تھا کیونکہ کوربن کی قیادت کے دور میں ایک یہود مخالف تنازع سامنے آیا تھا۔

لیبر پارٹی میں بائیں بازو کے خیالات کے حامی بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ سٹامر پارٹی کے اندر ایک طویل عرصے سے اس بات کی کوشش کر رہے تھے کہ صرف اعتدال پسند اراکین انتخابات میں بطور امیدوار کھڑے ہوں۔

برطانیہ کا بدلتا سیاسی منظر نامہ کیا تارکینِ وطن کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے؟برطانیہ میں ’نائٹ کلب کے باہر خاتون پر حملے‘ کی افواہ جو پُرتشدد مظاہروں میں بدل گئیپاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں کشیدگی پر برطانوی اراکینِ پارلیمنٹ کا خط اور دفتر خارجہ کا جواب: ’بہتر ہوگا وہ اپنے ملک میں مثبت کردار ادا کریں‘برطانیہ داخلے کا نیا نظام اور پیچیدگیاں: اب آپ کو ویزا چاہیے یا ’ای ٹی اے‘؟مخبری اور ’مہارت سے زیادہ قسمت‘: فوٹوگرافر نے سابق برطانوی شہزادے اینڈریو کی گرفتاری کی تصویر کیسے کھینچی؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More