پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت آغاز، 303 پوائنٹس کا اضافہ

نوائے وقت  |  Jun 02, 2020

کراچی: پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں آج کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہوا۔

اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کے دوسرے روز منگل کا کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہوا۔ کے ایس ای 100 انڈیکس میں کاروبار کا آغاز 34 ہزار 21 پوائنٹس پر ہوا اور ابتدائی ایک گھنٹے کے دوران انڈیکس میں 303 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور انڈیکس 34 ہزار 325 پوائنٹس کی سطح پر ٹریڈ کر رہا تھا۔ پی آئی اے کی خصوصی پرواز پاکستانیوں کو لیکر نیو جرسی سے اسلام آباد کیلئے روانہ

پی آئی اے کی خصوصی پرواز پاکستانیوں کو لیکر نیو جرسی سے اسلام آباد کیلئے روانہ

کے ایس ای 100 انڈیکس میں کاروبار کے ابتدائی ایک گھنٹے کے دوران 27,367,091 شیئرز کی لین دین ہوئی جس کی مالیت پاکستانی روپوں میں 1,483,816,683 بنتی ہے۔

گزشتہ روز پیر کو کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہوا اور 100 انڈیکس 90 پوائنٹس اضافے سے 34 ہزارکی سطح پر بحال ہوا۔ رو مانیہ کے وزیر اعظم ،چار وزراءکو ماسک کے بغیر پارٹی میں شرکت ،سگریٹ پینے پر 600 یورو کے جرمانے کی سزائیں

رو مانیہ کے وزیر اعظم ،چار وزراءکو ماسک کے بغیر پارٹی میں شرکت ،سگریٹ پینے پر 600 یورو کے جرمانے کی سزائیں

گزشتہ ہفتے کاروبار کے اختتامی روز بھی اسٹاک مارکیٹ میں ملا جُلا رجحان رہا تاہم کاروبار کا اختتام منفی زون میں ہوا جبکہ اس سے قبل جمعرات کو بھی 141 پوائنٹس کی کمی پر ہوا تھا۔

واضح رہے کہ کورونا وائرس کے باعث اکثر ممالک کی اسٹاک مارکیٹ میں مندی چھائی ہوئی ہے اور کاروباری حضرات نئی سرمایہ کاری سے احتیاط کر رہے ہیں۔

کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے تمام ممالک کی حکومتیں اقدامات کر رہی ہیں، دنیا بھر میں صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

اے ڈی بی کی کورونا وائرس کے باعث معاشی نقصان سے متعلق جاری رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ وائرس سے دنیا بھر میں سیاحت، سرمایہ کاری کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک پہنچانے کی ہدایت

وزیراعلیٰ پنجاب کی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک پہنچانے کی ہدایت

ایشیائی ترقی بینک کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ وائرس کے باعث تجارت اور صنعتوں کی پیداوار میں کمی ہوئی اور سفری پابندیوں، لاک ڈاؤن، سرحدوں کی بندش سے معاشی نقصان ہوا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More