ڈیرن سیمی امریکہ میں نسل پرستی کے خلاف بول پڑے

ہم نیوز  |  Jun 02, 2020

وسیٹ انڈیز کے معروف کرکٹر ڈیرن سیمی امریکہ میں سیاہ فام شہریوں کے خلاف ہونے والی زیادتیوں، ناانصافیوں اور نسل پرستانہ برتاو کے خلاف میدان میں آگئے۔

اپنے ٹوئٹر پیغام میں ڈیرن سیمی نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور دیگر کرکٹ بورڈز پر زور دیا ہے کہ وہ امریکہ میں سیاہ فام لوگوں کے ساتھ ہونے والی نسل پرستانہ رویے کے خلاف اپنی آواز اٹھائیں۔

اپنے ٹوئٹر پیغام میں انہوں نے کہا کہ اب بھی اگر کرکٹ کی دنیا امریکہ میں سیاہ فام شہریوں سے کی جانے والی زیادتی اور نفرت کے خلاف کھڑی نہیں ہوتی ہے تو اسے بھی ان نسل پرستوں کا ہمنوا تصور کیا جائے گا۔

. and all the other boards are you guys not seeing what’s happening to ppl like me? Are you not gonna speak against the social injustice against my kind. This is not only about America. This happens everyday now is not the time to be silent. I wanna hear u

— Daren Sammy (@darensammy88) June 2, 2020

گزشتہ ہفتے پولیس اہلکار کے ہاتھوں سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد پورے امریکہ میں لوگ شدید غم و غصہ کے عالم میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ امریکہ کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں۔

سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ کھلاڑی بھی جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے خلاف سراپا احتجاج ہیں اور شوشل میڈیا پر اپنے جذبات اور غ٘م و غصے کا اظہار کررہے ہیں۔

ڈیرن سیمی کا کہنا ہے کہ اس سیاہ فام امریکن کا گردن دبوچ کر مارنے کی ویڈیو دیکھنے کے بعد بھی دنیائے کرکٹ خاموش رہتی ہے تو سمجھے کہ اپ بھی اس مسئلے کا حصہ ہیں۔ کیا آپ اس سماجی انصاف  کے خلاف نہیں بولیں گے جو سیاہ فام لوگوں کے ساتھ  روزانہ  رواں رکھا جاتا ہے۔ یہ صرف امریکہ کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے، میں کوکٹ کی دنیا سے اس نسل پرستی کے خلاف سننا چاہتا ہوں۔ سیاہ فام لوگوں کی زندگی معنی رکھتی ہے۔

مزید پڑھیں: سیاہ فام شخص کی ہلاکت پر امریکہ میں فسادات، املاک نذر آتش

خیال رہے کہ سیاہ فام شخص کی ہلاکت کے بعد امریکہ میں شروع ہونے والے ہنگاموں کے باعث 13 شہروں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور متعدد ریاستیں میدان جنگ کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ ملک بھر میں پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور مشتعل افراد نے صدر ڈونلڈٹرمپ کی تنبیہ کو نظرانداز کر دیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ حکومت پرتشدد مظاہروں کے ساتھ سختی سے نمٹے گی۔ 

لاس انجلیس سمیت تیرہ شہروں میں کرفیو نافذ ہے اور نیشل گارڈز بھی تعینات کر دیے گئے ہیں جب کہ  وائٹ ہاؤس کے سامنے بھی مظاہرہ کیا گیا جس کے بعد انتظامیہ نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر وائٹ ہاؤس کو کچھ دیر کے لیے بند کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:سیاہ فام شخص کی ہلاکت پر امریکہ میں فسادات، املاک نذر آتش

امریکی ریاست مینیسوٹا میں سیاہ فام شخص کی ہلاکت کے بعد مظاہروں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ واشنگٹن، نیویارک، لاس اینجلس، ہوسٹن، اٹلانٹا اور لاس ویگاس  سمیت کئی شہروں میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More