باریکیوں کا بائیکاٹ

اردو نیوز  |  Jul 01, 2020

جب دنیا کے دو سب سے بڑے ملک سرحدوں پر اپنی فوجیں اکھٹی کر رہے ہوں، ان کے جنگی طیارے دن رات سرحدوں کے قریب پروازیں کر رہے ہوں، کہیں بنکر بنائے جا رہے ہوں اور کہیں تیز بہتے ہوئے دریاؤں پر پل۔ جب روس، فرانس، اسرائیل اور امریکہ سے کہا جا رہا ہو کہ بھائی آپ کو جو فوجی ساز و سامان کا آرڈر دیا تھا اس کی جلد سے جلد ہوم ڈیلیوری کرا دیجیے تو پھر اگر ذہن میں یہ خیال آئے کہ حالات سنگین تو پہلے سے ہی تھے اب لگتا ہے کہ اور خراب ہو رہے ہیں تو اس میں کیا غلط ہے؟

مزید پڑھیںچینی فوج لداخ میں داخل، طیارے کی لینڈنگNode ID: 16401انڈیا میں ٹک ٹاک سمیت 59 چینی ایپلی کیشنز پر پابندی Node ID: 488851’انڈینز کا ڈیٹا چین کے ساتھ شیئر نہیں کیا‘Node ID: 488961

اور پھر یہ خبر آئے کہ انڈیا نے 59 چینی ایپس پر پابندی لگا دی ہے تو فکر بڑھنے کے بجائے پریشر تھوڑا ریلیز ہونا فطری بات ہے کیونکہ بائیکاٹ بائیکاٹ کھیلنا جنگ کرنے سے کہیں بہتر آئیڈیا ہے، لیکن بس یہ سمجھ لیجیے کہ یہ بھی 'ورچوئل' آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے۔ڈوبنا اس لیے ضروری ہے کیونکہ اصلی جنگ کی طرح بائیکاٹ کی گیم کھیلنے میں بھی 'کولیٹرل ڈیمیج' بہت ہوتا ہے۔ اس کا ذکر آپ نے اکثر افغانستان یا عراق کی جنگ میں سنا ہوگا، سادہ زبان میں اس کا مطلب یہ ہے کہ تیر نشانوں پر لگے تو ضرور لیکن صرف ان نشانوں پر ہی نہیں جن پر انہیں چلایا گیا تھا۔بائیکاٹ کی گیم میں بہت باریکیاں ہیں۔ انہیں نظرانداز کرنا سمجھداری کی بات نہیں ہے۔ ملک کے اقتدار اعلیٰ اور علاقائی سالمیت کو بچانے کے لیے جن ایپس پر پابندی لگائی گئی ہے ان میں ٹک ٹاک اور 'شیئر اٹ' بھی شامل ہیں۔ ٹک ٹاک کی ہی مثال لیجیے۔ انڈیا میں تقریباً 20 کروڑ صارفین نے یہ ایپ اپنے سمارٹ فونز پر ڈاؤن لوڈ کر رکھی ہے اور ان میں سے 12 کروڑ ہر مہینے اسے استعمال کرتے ہیں۔

ژاؤمی کے جو فون انڈیا میں بنتے ہیں ان میں استعمال ہونے والے کچھ پرزے چین سے آتے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

سننے میں لگتا ہے کہ پابندی کی وجہ سے کمپنی اگلے ہفتے تک دیوالیہ ہو جائے گی، لیکن گذشتہ برس کے آخری تین مہینوں میں انڈیا سے ٹک ٹاک نے صرف 25 کروڑ روپے کمائے تھے جبکہ 2019 میں امریکہ سے تقریباً ساڑھے چھ سو کروڑ اور داخلی چینی کسٹمرز سے ڈھائی ہزار کروڑ روپے۔یہ بائیکاٹ کی گیم کچھ انڈیا پاکستان کے سفارتی گیمز کی ہی طرح ہے۔ آپ نے کل ہی جاسوسی کے الزام میں ہمارے دو سفارت کار نکالے، دیکھیے کیسا اتفاق ہے کہ آج ہم نے آپ کے دو سفارت کار جاسوسی کرتے ہوئے پکڑ لیے۔چین کو جوابی کارروائی کرنے میں ذرا دقت ہوگی کیونکہ وہاں کوئی انڈین ایپ مقبول نہیں ہے۔ ٹوئٹر پر ایک چینی صارف ہو شی جن نے لکھا ہے کہ چینی عوام بھی انڈین مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا چاہتے ہیں لیکن وہاں بائیکاٹ کرنے کے لیے انڈین سامان نظر کہاں آتا ہے؟ بھائی دشمنی کرنی ہے تو اس کے آداب بھی سیکھیے۔ یہ انڈیا کی ذمہ داری نہیں ہے کہ اپنا سامان بائیکاٹ کرانے کے لیے چین کے بازاروں میں بھیجے، کم سے کم یہ انتظام تو آپ کو خود ہی کرنا ہوگا۔

انڈیا میں 20 کروڑ صارفین نے ٹک ٹاک ڈاؤن لوڈ کر رکھی ہے (فوٹو: اے ایف پی)اور ہاں کولیٹرل ڈیمیج کی بات بیچ میں ہی رہ گئی۔ وال سٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق ٹک ٹاک کے انڈیا میں تقریباً دو ہزار ملازمین ہیں، اور کمپنی نےآئندہ چند برسوں میں اپنے انڈیا آپریشنز پر ایک ارب ڈالر خرچ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ دونوں کا کیا ہوگا، اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں ہے۔ جواب میں چین کیا کارروائی کرے گا فی الحال کہنا مشکل ہے لیکن کچھ نہ کچھ کرے گا ضرور۔ افسوس کہ یہ ہی دنیا کا دستور ہے۔آج کل چین سے امپورٹ کیے جانے والے سامان کی کسٹم کلیئرنس میں کافی دیر لگتی ہے اور اس لیے نہیں کہ کورونا وائرس کی وجہ سے پورا عملہ کام پر نہیں پہنچ رہا۔ سنا ہے کہ امپورٹڈ سامان کا ہر ڈبہ کھول کر اس کا معائنہ کیا جا رہا ہے جو عام حالات میں نہیں ہوتا۔ عام طور پر رینڈم چیکنگ ہوتی ہے۔ امپورٹرز شکایت کر رہے ہیں کہ اس تاخیر سے ان کے کاروبار متاثر ہو رہے ہیں۔ حکومتیں اس طرح کی کارروائی کا باضابطہ اعلان نہیں کرتیں۔ آپ کو کوئی ایسا حکم نامہ نظر نہیں آئے گا جس میں کسی ایک ملک کا نام لے کر لکھا ہوا کہ وہاں سے امپورٹ کیے جانے والے سامان کو کلیئر کرنے کی کوئی جلدی نہیں ہے، جب فرصت ملے تو کردیں۔ اب کچھ اسی طرح کی شکایت انڈین ایکسپورٹرز بھی کر رہے ہیں۔ چین میں بھی کسی نے اشارتاً کہا ہوگا کہ یار خود ہی فیصلہ کرلیں کہ کون سا کنسائنمنٹ کلیئر کرنا زیادہ ضروری ہے۔انڈیا میں چینی سامان کے بائیکاٹ کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ حکومت نے بظاہر ای کامرس کے پلیٹ فارمز سے کہا ہے کہ وہ جو بھی سامان بیچیں، صارفین کو صاف طور پر بتائیں کہ وہ کس ملک میں بنایا گیا تھا لیکن مثال کے طور پر ژاؤمی کے جو فون انڈیا میں بنتے ہیں لیکن جن میں استعمال ہونے والے کچھ پرزے چین سے آتے ہیں اور کچھ یہیں بنائے جاتے ہیں، وہ فون میڈ ان انڈیا ہیں یا میڈ ان چائنا؟ اور انہیں بائیکاٹ کرنے سے کس کا نقصان زیادہ ہوگا؟ یہ حساب کون لگائے گا کہ قوم پرستی کے جوش میں جو فون آپ نے نہیں خریدا وہ چینی تھا بھی یا نہیں؟ اور چینی ہو بھی تو کیا، بیچنے والا تو لوکل ہی ہے اور وہ سامان امپورٹ کرچکا ہے۔

انڈیا نے 59 چینی ایپس پر پابندی لگائی ہوئی ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پیژاؤمی کا کہنا ہے کہ انڈیا میں بکنے والے اس کے تقریباً 99 فیصد فون انڈیا میں ہی بنائے جاتے ہیں۔ اسی لیے ایک سرکردہ صنعت کار نے ایک ٹی وی پروگرام پر کہا کہ انڈیا کو چین سے لاحق خطرے کے پیش نظر احتیاط بھی کرنی چاہیے اور تدارک کی کارروائی بھی لیکن کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہیے جسے دیکھ کر لگے کہ ہم خود اپنے ہی پیر پر کلہاڑی چلا رہے ہیں۔جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ ایپس کے بائیکاٹ کا چین پر کوئی فرق نہیں پڑے گا تو انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ فرق تو پڑے گا۔ چین دنیا کی فیکٹری بھی ہے اور دنیا میں اس سے ناراض ملکوں کی کمی بھی نہیں ہے، لیکن کاروباری رشتے دو طرفہ ہوتے ہیں اس لیے کارروائی کرنے والے کو بھی نقصان اٹھانے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ کیا انڈیا اس پوزیشن میں ہے کہ چین کو اتنا مالی نقصان پہنچا سکے کہ اس کی فوج ہی کہنے لگے کہ چلو گھر ہی چلتے ہیں۔ یہاں سردی بھی زیادہ ہے اور اب نقصان حد سے بڑھ رہا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ نہیں۔ اگر موجودہ محاذ آرائی میں چین کو مالی نقصان کی فکر ہوتی تو اس نے اس وقت یہ نیا محاذ کھولا ہی نہیں ہوتا۔ صاف ظاہر ہے کہ وہ اس نقصان کو برداشت کرنے کے لیے تیار ہے۔ کوئی بھی ملک وار گیمنگ کے بغیر ایسے راستے پر نہیں نکلتا جس میں ایک بھی غلط موڑ آپ کو میدان جنگ تک پہنچا دے۔

بہت سے تجزیہ کاروں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا اس اقدام سے ایل اے سی کی صورت حال بدل جائے گی؟ جواب صاف ہے: نہیں۔ کیا چین پر اتنا مالی بوجھ بڑھے گا کہ وہ متنازع سرحدی علاقوں سے پیچھے ہٹ جائے؟ نہیں۔ کیا انڈیا میں ان لوگوں کو کوئی پیغام جائے گا جو اس انتظار میں ہیں کہ حکومت چین کو سبق سکھائے۔ یقیناً اس فیصلے میں ایک پیغام ہندوستانی عوام کے لیے ہے کہ آپ سکون سے بیٹھیے، چین کو سبق سکھایا جا رہا ہے۔ دوسرا اور شاید زیادہ اہم پیغام یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ حکومت اس پیچیدہ اور خطرناک صورت حال سے نکلنے کا غیر فوجی راستہ تلاش کر رہی ہے.

اور یہ اچھی خبر ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More