5 ماہ بعد 100انڈیکس 40 ہزار پوائنٹس کی سطح پر بحال

ہم نیوز  |  Aug 06, 2020

کراچی: کاروباری ہفتے کے چوتھے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار میں زبردست تیزی دیکھنے میں آئی، 5 ماہ بعد 100انڈیکس 40ہزار پوائنٹس کی سطح پر بحال ہوگیا۔

جمعرات کے روز اسٹاک مارکیٹ میں انڈیکس 290پوائنٹس اضافے کے ساتھ 40ہزار177 پرٹریڈ کرنے لگا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز صرافہ بازار میں سونے کی قیمت پاکستان کی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔

آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق سونے کی فی تولہ قیمت میں 4ہزار750روپے کااضافہ ہوا تھا۔ پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت ایک لاکھ 28ہزار 750روپے ہوگئی۔

آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق مارکیٹ میں 10گرام سونے کی قیمت میں 4ہزار 72روپے کا اضافہ ہوا تھا۔ 10گرام سونے کی قیمت ایک لاکھ 10ہزار382روپے ہوگئی۔

خیال رہے کہ دو روز  قبل کراچی کے صرافہ بازار میں کاروباری ہفتے کے دوسرے روز سونے کی فی تولہ قیمت میں 400 روپے کا اضافہ ہوگیا تھا۔

مزید پڑھیں: 

آل پاکستان صرافہ بازار ایسوسی ایشن کے مطابق گزشتہ روز مارکیٹ میں فی تولہ سونے کی قیمت 400 روپے اضافے کے بعد ایک لاکھ 23 ہزار 900 روپے ہوگئی تھی۔

آل پاکستان صرافہ بازار ایسوسی ایشن کے مطابق مارکیٹ میں دس گرام سونے کی قیمت 343روپے اضافے کے بعد نئی قیمت ایک لاکھ 6ہزار224روپے ہوگئی۔

خیال رہے کہ  گزشتہ ماہ معاشی تھنک ٹینک کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کورونا نے پاکستان سمیت عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت کی پالیسی وبا سے عوام کا تحفظ اور اقتصادی سرگرمیوں کے درمیان توازن ہے۔ معاشرے کے انتہائی پسماندہ طبقات کو امداد کی فراہمی اولین ترجیح ہے۔

وزیراعظم نے کہا تھا کہ غربت کے خاتمے کے لیے حکومت کا احساس پروگرام کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ انتہائی مستحق افراد کی مدد کے لیے احساس پروگرام میں توسیع کی ضرورت ہے۔

انہوں کا کہنا تھا کہ تعمیراتی شعبے میں راعات کا مقصد روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ حکومت غریب عوام کو سستی رہائش فراہم کرنا چاہتے ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More