پنجاب کے دریاؤں میں سیلاب کی کیفیت برقرار ہے، سیلابی ریلے نے مزید کئی دیہات ڈبو دیے، صوبے میں سیلاب کے دوران حادثات میں ہلاکتوں کی تعداد 33 ہوگئی۔
دریائے چناب میں ہیڈ تریموں پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 49 ہزار کیوسک ہوگیا۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق دریائےچناب میں ہیڈ خانکی اور قادرآباد پر اونچے درجے کے سیلاب ہیں، خانکی پر 2 لاکھ 29 ہزار جبکہ قادرآباد پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ3 ہزارکیو سک ریکارڈ کیا گیا۔
دریائے چناب کا سیلابی ریلا سیالکوٹ، وزیرآباد اور چنیوٹ میں تباہی پھیرنے کے بعد جھنگ میں داخل ہوگیا جس کے باعث جھنگ میں 180 دیہات ڈوب گئے اور سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ اور رابطہ سڑکیں بھی پانی میں غائب ہوگئیں۔
سیلاب میں پھنسے لوگوں کو کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، متاثرہ خواتین اور بچوں نے رات کھلے آسمان تلے گزاری۔
متاثرین کے مطابق ان کے پاس کھانے پینے کےلیے بھی کچھ نہیں جبکہ ان کے پاس کوئی مدد کو نہیں آیا، انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے فوری مدد کی اپیل کی ہے۔
ملتان کی تحصیل شجاع آباد کی فصلوں میں سیلابی پانی داخل ہوگیا، سیلاب سے 140 دیہات متاثر ہوئےہیں۔ کمشنر ملتان کے مطابق پیر کو دریائے چناب میں ملتان سے تقریباً 8 لاکھ کیوسک کا ریلا گزرنے کا خدشہ ہے، ہیڈ تریموں سے 7 لاکھ کیوسک جبکہ راوی سے 90 ہزار کیوسک پانی ملتان میں داخل ہوگا، انہوں نے بتایا کہ ضرورت پڑنے پر ہیڈ محمد والا پر شگاف ڈالا جائے گا، ہیڈ محمد والا کی گنجائش 10 لاکھ کیوسک ہے۔
دریائےستلج میں گنڈاسنگھ والا کے مقام پر انتہائی اونچے درجےکا سیلاب بر قرار ہے جہاں پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 53 ہزار 68 کیوسک ریکارڈ کیا گیا، ہیڈ سلیمانکی پر بھی اونچے درجےکا سیلاب ہے جہاں پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 54 ہزار 219 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
دریائے ستلج میں ہیڈ گنڈا سنگھ والا کے مقام پر کئی دیہات تاحال زیرآب ہیں، بہاولنگر میں سیلاب متاثرین نے گھر خالی کرنے سے انکار کردیا۔
دریائے راوی میں بلوکی ہیڈ ورکس پر پانی کے بہاؤ میں اضافے کے بعد تمام اسپل ویز کھول دیے گئے جس کے بعد ہیڈ بلوکی پر پانی کے بہاؤ میں کمی آنا شروع ہوگئی، بہاؤ 2 لاکھ 11 ہزار 395 کیوسک ہو گیا تاہم اب بھی انتہائی اونچے درجےکا سیلاب برقرار ہے۔
نارووال اور ننکانہ صاحب میں بند ٹوٹنے سے پانی شہری اور دیہی علاقوں کی جانب بڑھنے لگا ہے۔ عارف والا کے مقام پر دریا کا پانی نورا بند تک پہنچ گیا ہے، پاکپتن متاثرین کےلیے بھی کشتیوں کے ذریعے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی پی ڈی ایم پنجاب عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ پنجاب میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی تعداد 20 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کی تاریخ میں سب سے بڑا ریسکیو آپریشن کیا گیا، متاثرہ علاقوں سے ساڑھے 7 لاکھ افراد کا انخلا کیا۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں سیلاب کے باعث 2200 دیہات سیلاب سے متاثر ہوئے، متاثرین کے مویشیوں کو محفوظ مقام تک پہنچانے کے لیے بیڑوں کا انتظام بھی کیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ بارشوں کے نئے اسپیل سے بھی تباہی ہوئی ہے اور بارش سے پیدا ہونے والی اربن فلڈنگ کی صورتحال سے بھی نمٹنا پڑ رہا ہے، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہونے والے واقعات سے ہلاکتوں کی تعداد اب 33 ہوگئی ہے۔