بنگلہ دیش کے شہریوں کی اوسط عمر میں فضائی آلودگی کے باعث ساڑھے 5 سال کی کمی

اردو نیوز  |  Aug 31, 2025

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق فضائی آلودگی بنگلہ دیشی کے لوگوں کی اوسط عمر 5.5 سال کم کر دیتی ہے، جس کے باعث یہ دنیا کا سب سے زیادہ متاثرہ ملک بن چکا ہے۔

حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ سال کے آخر تک اس مسئلے پر کارروائی کرے گی۔

گزشتہ ہفتے جاری ہونے والی یونیورسٹی آف شکاگو کے انرجی پالیسی انسٹیٹیوٹ کی ’ایئر کوالٹی لائف انڈیکس‘ رپورٹ کے مطابق، ’فضائی آلودگی بنگلہ دیش میں انسانی عمر کے لیے سب سے بڑا بیرونی خطرہ ہے، اور فی الوقت یہ دنیا کا سب سے زیادہ آلودہ ملک ہے۔

بنگلہ دیش کے تمام 166.8 ملین افراد ایسی جگہوں پر رہتے ہیں جہاں ہوا میں باریک ذرات کی سالانہ اوسط مقدار عالمی ادارۂ صحت کی 5 مائیکرو گرام فی مکعب میٹر کی ہدایت اور ملکی حد 35 مائیکرو گرام سے بھی زیادہ ہے۔ دارالحکومت ڈھاکہ جیسے شہروں میں یہ تناسب 76 مائیکروگرام سے بھی زیادہ پایا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’اگر فضائی آلودگی عالمی ادارہ صحت کی ہدایات کے مطابق ہو جائے تو ایک بنگلہ دیشی شہری اوسطاً 5.5 سال زیادہ زندہ رہ سکتا ہے۔‘

خاص طور پر ڈھاکہ میں زہریلی ہوا کی شدت اوسط عمر میں 6.9 سال کی کمی کا باعث بن رہی ہے۔

رپورٹ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ حکومت کی کوششوں کے باوجود ہوا کا معیار تیزی سے خراب ہو رہا ہے۔

اس صورتحال پر ماحولیاتی سائنس کے ماہر اور ڈھاکہ کی سٹامفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر احمد کامروززمان مجمدر نے کہا کہ ’یہ ہمارے لیے انتہائی تشویشناک ہے۔ میرے خیال میں دنیا کے کسی اور ملک نے ایسی سنگین صورتحال کا سامنا نہیں کیا ہوگا۔‘

’یہاں فضائی آلودگی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ اسے پہچاننے کے لیے کسی تحقیق کی ضرورت نہیں، اسے کھلی آنکھ سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔‘

دھند اور سموگ بنگلہ دیشی شہروں کے مکینوں کی روزمرہ کی حقیقت بن چکی ہے، جو تقریباً ہر صبح شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ تاہم زیادہ خطرناک وہ آلودگی ہے جو آنکھ سے نظر نہیں آتی۔

مجمدر کا کہنا ہے کہ ’گزشتہ سال کی AQLI رپورٹ میں ہماری اوسط عمر میں 4.8 سال کی کمی بتائی گئی تھی، جبکہ اس سال یہ کمی 5.5 سال ہے۔‘

’یہ صورتحال نہایت خطرناک ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ بنگلہ دیش نے اس رپورٹ کو مسترد نہیں کیا، جس کا مطلب ہے کہ حکومت بھی اس کے نتائج سے متفق ہے۔ ریاست اس سے جان نہیں چھڑا سکتی۔‘

انہوں نے آلودگی کے اہم ذرائع میں فوسل فیولز کا بڑھتا ہوا استعمال اور اینٹوں کے بھٹوں کا دھواں بتایا، جو کوئلہ یا لکڑی جلا کر اینٹیں تیار کرتے ہیں۔

’ہر سال تقریباً ایک لاکھ نئی گاڑیاں ڈھاکہ کی سڑکوں پر آتی ہیں۔ ان میں سے کئی بغیر کسی فٹنس ٹیسٹ کے چلتی ہیں، جو فضائی آلودگی میں نمایاں حصہ ڈالتی ہیں۔‘

ان کے مطابق ہمیں پڑوسی ممالک سے آنے والی سرحد پار فضائی آلودگی کا بھی سامنا ہے۔ ناقص فضلہ مینجمنٹ، خاص طور پر کھلے عام جلانے کا عمل، بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

تازہ رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے حکومت نے سال کے اختتام تک کوششوں میں تیزی لانے کا وعدہ کیا ہے، تاہم یہ کام آسان نہیں۔ ماحولیات کے شعبۂ فضائی معیار کے ڈائریکٹر، ڈاکٹر ضیاء الحق نے اعتراف کیا کہ بنگلہ دیش کے ماحول میں فضائی آلودگی کا ہر ممکنہ ذریعہ موجود ہے۔

انہوں نے عرب نیوز کو بتایا ’ہم بغیر فٹنس کے چلنے والی گاڑیوں کو سڑکوں سے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن اس شعبے میں اب تک کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔‘

’ہم ان بڑی صنعتوں کو مسلسل نگرانی میں لائیں گے جو فضائی آلودگی کی ذمہ دار ہیں۔ ان کے بھٹوں میں ایک آلہ نصب کیا جائے گا، اور ہمارے افسران مرکزی سطح پر اس سے نکلنے والے اخراج کا مسلسل جائزہ لیں گے۔ اگر کسی قسم کی خلاف ورزی دیکھی گئی تو فوراً مداخلت کی جائے گی۔ یہ کام آئندہ دو ماہ میں ‘بنگلہ دیش کلین ایئر’ منصوبے کے تحت شروع ہوگا۔‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More