ٹرمپ کے عالمی ٹیرف منصوبے کو دھچکا: ’کئی ملکوں پر عائد ٹیکس صدر کے ایمرجنسی اختیارات سے تجاوز ہیں‘ امریکی عدالت

بی بی سی اردو  |  Aug 31, 2025

Getty Images

امریکہ کی ایک عدالت نے فیصلہ سنایا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپکی جانب سے لگائے گئے بیشتر ٹیرف صدر کے طور پر ان کے ایمرجنسی اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں۔

امریکی عدالت نے جمعے کے روز کہا کہ امریکہ کے ساتھ تجارت کرنے والے تقریباً ہر ملک پر عائد کیے جانے والے ’نام نہاد باہمی محصولات‘ غیر قانونی طور پر عائد کیے جا رہے ہیں۔

یہ فیصلہ مئی میں دیے گئے کورٹ آف انٹرنیشنل ٹریڈ کے اُس فیصلے کی توثیق کرتا ہے جس میں ٹرمپ کا یہ مؤقف مسترد کر دیا گیا تھا کہ ان کے عالمی ٹیرف اقتصادی ایمرجنسی ایکٹ کے تحت قانونی ہیں۔

اس فیصلے سے وہ ٹیرف متاثر ہوں گے جو اپریل میں ٹرمپ کے اُس اعلان کے بعد لگائے گئے تھے جس کے تحت ہر ملک کی درآمدات پر یکساں 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا تھا۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اس سے امریکہ کے ساتھ ’غیر منصفانہ‘ تجارتی تعلقات کو متوازن کیا جائے گا۔

تاہم عدالت نے فوری طور پر ٹیرف ختم کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ انھیں اکتوبر کے وسط تک برقرار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ اس کے بعد امریکی سپریم کورٹ میں اس معاملے کو مزید قانونی نکات کے تحت دیکھا جائے گا۔

فی الحال بہت کچھ غیر واضح ہے، لیکن اتنا طے ہے کہ یہ فیصلہ امریکی صدر کی نمایاں پالیسی پر بڑے سوالات کھڑا کرتا ہے۔

عدالتی فیصلے میں کیا کہا گیا ہے؟

گیارہ ججز پر مشتمل عدالتی بینچ نے اپنے اس 7-4 کے فیصلے میں اپنی ماتحت عدالت کے اس فیصلے کی حمایت کی کہ ٹرمپ کے پاس عالمی محصولات عائد کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

اس کی بڑی وجہ ٹرمپ کی جانب سے پالیسیوں کا جواز پیش کرنے کے لیے استعمال کیے جانے والا قانون انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (آئی ای ای پی اے) تھا، جس کے بارے میں ججوں کا کہنا تھا کہ اس میں ’محصولات، ڈیوٹیز یا اس طرح کی چیزیں عائد کرنے کا اختیار یا ٹیکس لگانے کا اختیار‘ نہیں دیا گیا تھا۔

امریکی کورٹ آف اپیلز نے ٹرمپ کی اس دلیل کو مسترد کر دیا کہ محصولات کی اجازت ان کے ہنگامی معاشی اختیارات کے تحت دی گئی تھی۔

ٹرمپ نے فوری طور پر اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ٹروتھ سوشل کا سہارا لیا جس کے چند گھنٹوں بعد ہی انھوں نے عدالت کو ’انتہائی جانبدارانہ‘ اور اس فیصلے کو ملک کے لیے ’تباہی‘ قرار دیا تھا۔

انھوں نے لکھا کہ ’اس طرح کے فیصلے درحقیقت امریکہ کو تباہ کر دیں گے۔‘

Getty Imagesانٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ یا آئی ای پی اے کیا ہے؟

دہائیوں پرانا یہ قانون جسے ٹرمپ نے اپنے دونوں ادوار کے دوران بار بار نافذ کیا ہے، امریکی صدر کو قومی ہنگامی صورتحال یا بیرون ملک سے کسی بڑے خطرے کا جواب دینے کا اہم اختیار دیتا ہے۔

1977 کے قانون کے تحت امریکی صدر کو اختیار ہے کہ وہ قومی سلامتی، خارجہ پالیسی یا معیشت کو لاحق کسی بھی ’غیر معمولی حد تک سنگین خطرے‘ جس کا ماخذ جزوی طور پر یا مکمل طور پر بیرونِ ملک ہو، سے نمٹنے کے لیے مختلف معاشی اقدامات کر سکتا ہے۔

اسے صدر براک اوباما اور جو بائیڈن دونوں نے استعمال کیا ہے جنھوں نے سنہ 2014 میں کریمیا کے غیر قانونی الحاق کے بعد اور پھر آٹھ سال بعد یوکرین پر مکمل حملے کے بعد روس پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے اس قانون کا استعمال کیا تھا۔

’میڈ مین تھیوری‘: ٹرمپ کے غیر متوقع مزاج اور نئی امریکی ڈاکٹرائن نے دنیا کو کیسے بدل دیاٹرمپ کا ’بِگ بیوٹی فل بجٹ‘ اور 370 کھرب ڈالر امریکی قرض: کیا عالمی کرنسی خطرے میں پڑ سکتی ہے؟ٹرمپ اور مودی کی ملاقات میں جوابی محصولات اور اڈانی سے متعلق سوال زیرِ بحثٹرمپ، پوتن ملاقات اور انڈیا کا ’انتظار‘: ’لگتا ہے امریکی صدر دلی کو نیچا دکھانا چاہتے ہیں‘

تاہم اپیل کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ایمرجنسی قانون نے صدر کو ٹیرف عائد کرنے کا وسیع اختیار نہیں دیا۔

عدالت کے مطابق انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (ای ای پی اے) میں نہ تو ٹیرف یا اس کے مترادفات کا ذکر ہے اور نہ ہی ایسے طریقہ کار یا حفاظتی ضوابط موجود ہیں جو صدر کے ٹیرف عائد کرنے کے اختیار پر واضح حدود قائم کریں۔

ٹرمپ نے جب اپنے عالمی محصولات کا اعلان کیا تو انھوں نے دلیل دی کہ تجارتی عدم توازن امریکی قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہے اور اس وجہ سے یہ ایک قومی ہنگامی صورتحال ہے۔

لیکن عدالت نے فیصلہ دیا کہ محصولات عائد کرنا صدر کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا اور ’رقوم کی نگرانی کا اختیار (جس میں ٹیکس لگانے کا اختیار بھی شامل ہے) کانگریس کے پاس ہے۔‘

یہ کیوں اہم ہے؟

یہ فیصلہ نہ صرف ٹرمپ کی مرکزی پالیسی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے بلکہ اس کے فوری اثرات امریکی معیشت پر پڑ سکتے ہیں، جن کے اثرات بالآخر عالمی منڈیوں تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔

محصولات وہ ٹیکس ہیں جو کمپنیوں کو کچھ مخصوص غیر ملکی اشیا درآمد کرنے پر ادا کرنے پڑتے ہیں۔ اس لیے یہ فروخت اور منافع کے مارجن پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

آکسفورڈ یونیورسٹی اور لندن بزنس سکول کی ماہرِ معاشیات ڈاکٹر لنڈا یوہ نے بی بی سی ریڈیو فور کے پروگرام ٹوڈے میں بتایا کہ ’کاروبار غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو جائیں گے۔‘

محصولات کا مقصد ملکی کمپنیوں کو غیر ملکی اشیا خریدنے سے روکنا ہے جو بالآخر بین الاقوامی تجارت پر اثر ڈالتا ہے۔

چونکہ یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکی سپریم کورٹ اس مقدمے کی سماعت کرے گی، کئی ممالک فیصلے کا انتظار کرتے ہوئے امریکہ کے ساتھ کاروباری معاملات عارضی طور پر روکنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔

اگر ایسا ہوا تو ڈاکٹر یوہ کے مطابق یہ ’عمل معاشی سرگرمی کو سست کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔‘

سیاسی میدان میں بھی اس کے بڑے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

مثال کے طور پر اگر سپریم کورٹ وفاقی اپیل کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر ٹرمپ انتظامیہ کے حق میں فیصلہ دیتی ہے تو ایسے میں صدر کے جارحانہ اقدامات میں مزید اضافہ ہو گا اور وہ آئی ای ای پی اے کو پہلے سے زیادہ پُر زور طریقے سے استعمال کرنے کی جانب بڑھ سکتے ہیں۔

اب آگے کیا ہو گا؟

اب امکان ہے کہ یہ مقدمہ امریکی سپریم کورٹ میں جائے گا، جس کا عندیہ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر دیا ہے۔

ٹرمپ نے لکھا کہ ’محصولات ہمارے خلاف استعمال کیے گئے کیونکہ ہمارے لاپرواہ اور نااہل سیاست دانوں نے ایسا ہونے دیا۔ اب امریکی سپریم کورٹ کی مدد سے ہم انھیں اپنی قوم کے فائدے کے لیے استعمال کریں گے اور امریکہ کو دوبارہ امیر، مضبوط اور طاقتور بنائیں گے!‘

امریکی سپریم کورٹ میں قدامت پسند اکثریت ممکنہ طور پر صدر کے موقف کے حق میں فیصلہ کرنے کے امکانات بڑھا سکتی ہے۔

نو ججوں میں سے چھ کو ریپبلکن صدور نے مقرر کیا، جن میں تین وہ جج بھی شامل ہیں جنھیں ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اپنی پہلی مدت کے دوران منتخب کیا تھا۔

تاہم عدالت عام طور پر صدور پر زیادہ تنقیدی رویہ بھی اختیار کرتی ہے خاص طور پر ایسی صورتحال میں جب یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایسے اقدامات کر رہے ہیں جو کانگریس کی براہِ راست منظوری سے ماورا ہیں۔

مثال کے طور پر جو بائیڈن کے دورِ صدارت میں عدالت نے ’میجر کویسچنز ڈاکٹرن‘ کو وسعت دی اور اس کی بنیاد پر ڈیموکریٹس کی کوششیں مسترد کر دیں جن میں پاور پلانٹس سے پیدا ہونے والی گرین ہاؤس گیسز کو کم کرنا اور لاکھوں امریکی طلبہ کے قرضے معاف کرنا شامل تھا۔

Getty Imagesاگر ٹیرف غیر قانونی قرار دیے جائیں تو کیا ہو گا؟

فیڈرل اپیل کورٹ کے فیصلے میں 7-4 کے تناسب سے تقسیم دکھائی دی۔ وفاقی اپیلز کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ ٹرمپ کے لگائے گئے زیادہ تر ٹیرف (درآمدی ٹیکس) غیر قانونی ہیں۔ حکومت کے پاس اکتوبر کے وسط تک کا وقت ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرے۔ یہ فیصلہ امریکی معیشت اور دنیا کے ساتھ اس کے تجارتی تعلقات پر بڑا اثر ڈال سکتا ہے۔

اگر سپریم کورٹ بھی یہ فیصلہ برقرار رکھتی ہے تو مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی حالات پیدا ہو جائیں گے۔

یہ سوال پیدا ہو گا کہ آیا امریکہ کو ان مصنوعات پر عائد درآمدی ٹیکس سے جمع ہونے والے اربوں ڈالر واپس کرنے ہوں گے یا نہیں۔

اس سے یہ بھی سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ کیا برطانیہ، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے بڑے ملک وہ تجارتی معاہدے برقرار رکھیں گے جو انھوں نے امریکہ کے ساتھ اگست کی آخری تاریخ سے پہلے کیے تھے یا نہیں۔ اور وہ نئے معاہدے جو ابھی زیرِ بحث ہیں، وہ بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

اگر یہ فیصلہ برقرار رہا تو یہ ٹرمپ کی سیاسی طاقت اور ’ڈیل میکر‘ کے طور پر ان کی ساکھ کے لیے بڑا دھچکا ہو گا۔ لیکن اگر سپریم کورٹ اسے مسترد کر دے تو اس کا اثر بالکل الٹ ہو گا۔

کیا ٹیرف ابھی بھی لاگو ہیں؟

یہ فیصلہ ٹرمپ کے ’جوابی ٹیرف‘ پر اثر انداز ہوتا ہے جن میں دنیا کے بیشتر ممالک پر مختلف شرح کے ٹیکس شامل ہیں۔ اس میں چین، میکسیکو اور کینیڈا سے آنے والے مال پر لگے ٹیکس بھی شامل ہیں۔

عدالت نے کہا ہے کہ تقریباً ہر ملک سے ہونے والی تجارت پر لگنے والے یہ ٹیرف اکتوبر کے وسط تک برقرار رہیں گے۔

14 اکتوبر کے بعد یہ ٹیرف نافذ ختم ہو جائیں گے۔

دوسری طرف سٹیل، ایلومینیم اور کاپر پر لگے ٹیرف، جو صدر کے دوسرے اختیارات کے تحت لگائے گئے تھے، جوں کے توں برقرار رہیں گے اور اس عدالتی فیصلے سے متاثر نہیں ہوں گے۔

ٹرمپ کا ’بِگ بیوٹی فل بجٹ‘ اور 370 کھرب ڈالر امریکی قرض: کیا عالمی کرنسی خطرے میں پڑ سکتی ہے؟ٹرمپ، پوتن ملاقات اور انڈیا کا ’انتظار‘: ’لگتا ہے امریکی صدر دلی کو نیچا دکھانا چاہتے ہیں‘’میڈ مین تھیوری‘: ٹرمپ کے غیر متوقع مزاج اور نئی امریکی ڈاکٹرائن نے دنیا کو کیسے بدل دیاٹرمپ اور مودی کی ملاقات میں جوابی محصولات اور اڈانی سے متعلق سوال زیرِ بحثٹرمپ کا امن کی ثالثی میں گزرا مصروف ہفتہ جو ان کے ارادوں کی جھلک دکھاتا ہے’ٹیرف کنگ‘ پر 25 فیصد محصول اور اضافی جرمانے: کیا امریکی صدر کا دباؤ انڈیا کو روس سے دور کر پائے گا؟کیا امریکی قانون صدر ٹرمپ کو قطر کی جانب سے 40 کروڑ ڈالر کے لگژری جہاز کا تحفہ قبول کرنے کی اجازت دیتا ہے؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More