پاکستان کے ساتھ تعلقات کشیدہ لیکن انڈیا سے قربتیں: افغان طالبان کی خارجہ پالیسی میں کیا ڈرامائی تبدیلیاں آئیں؟

بی بی سی اردو  |  Jan 01, 2026

Getty Images

سنہ 2025 میں خطے میں ایسی سرگرمیاں ہوئیں، جن میں سے کچھ افغانستان میں طالبان حکومت کے لیے فائدہ مند تھیں لیکن کچھ کو ان کے لیے نقصان دہ سمجھا جاتا ہے۔

طالبان حکومت نے گذشتہ برس جرمنی اور سویڈن میں اپنے نمائندے بھیج کر یورپ میں قدم جمانے کی کوشش کی، تاکہ دُنیا کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر کیے جا سکیں لیکن کابل اور قندھار پر پاکستان کے فضائی حملوں نے بہت سے لوگوں کو حیران کر دیا۔

اگرچہ کابل اور اسلام آباد کے درمیان جنگ بندی ہو چکی ہے لیکن دوحہ، استنبول اور ریاض میں ہونے والے مذاکرات کے چار ادوار کے باوجود دونوں ممالک بنیادی مسائل کا حل تلاش نہیں کر سکے۔

اسلام آباد چاہتا ہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کارروائی شروع کرے۔ اسلام آباد کا دعویٰ ہے کہ یہ گروپ افغان سرزمین استعمال کر کے پاکستان پر حملے کرتا ہے لیکن طالبان حکومت ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے ٹی ٹی پی کی افغانستان میں موجودگی سے بھی انکاری ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان ڈیورنڈ لائن کے اطراف تجارت اور آمدورفت بھی معطل ہے۔

طالبان حکومت کے نائب وزیر اعظم ملا عبدالغنی برادر نے افغانستان کی تاجر برادری پر زور دیا کہ وہ پاکستان پر انحصار کرنے کے بجائے تجارت کی متبادل راہداریاں تلاش کریں۔

رپورٹس کے مطابق تجارت معطل ہونے سے دونوں جانب لاکھوں ڈالرز کا نقصان ہو رہا ہے لیکن بظاہر ایسا لگتا ہے کہ حالیہ برسوں کے دوران افغانستان، پاکستان پر تجارتی انحصار تیزی سے ختم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

طالبان حکومت وسطی ایشیائی ریاستوں، بشمول ایران، انڈیا اور روس کے ساتھ اپنے تجارتی روابط کو فروغ دے رہی ہے۔

ریاض مذاکرات سے اُمیدیں

پاکستان کی حکومت اور طالبان کے وفود کے درمیان ریاض میں ہونے والے مذاکرات کے چوتھے دور میں بھی کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی۔

پاکستان نےکابل اور قندھار میں اس دن فضائی حملے کیے جب طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی، انڈین حکام کے ساتھ تعلقات کو بڑھانے پر بات چیت کے لیے دہلی میں تھے۔

امیر خان متقی نے انڈیا کا دورہ ایسے وقت میں کیا تھا، جب اسلام آباد اور دہلی کے درمیان تعلقات بھی انتہائی نچلی سطح پر تھے اور مئی میں دونوں ممالک نے چار روزہ لڑائی میں ایک دوسرے پر میزائل حملے بھی کیے تھے۔

بعض مبصرین کے مطابق ایسے وقت میں افغان سرزمین پر پاکستان کے حملے ایک طرح سے پیغام تھے۔

کابل میں انڈین سفارت خانہ بھی فعال ہو چکا جبکہ کابل اور دہلی کے درمیان متعدد تجارتی معاہدوں پر بھی دستخط ہوئے ہیں۔

متقی نے چار دسمبر کو کابل میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کو ہمیں یہ حکم دینے کا کوئی حق نہیں کہ ہمیں دوسرے ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کیسے رکھنے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’پاکستان نے ہم پر ٹی ٹی پی کی حمایت کا الزام لگایا، مذاکرات کے دوران بات کچھ آگے بڑھی تو پھر بلوچ تحریک کا مسئلہ اُٹھا دیا گیا۔ جب ہم تھوڑا مزید آگے بڑھے تو انڈیا کی مداخلت کا الزام لگا دیا گیا۔‘

EPA

امیر خان متقی کا کہنا تھا کہ انڈیا کے ساتھ ہمارے تعلقات سیاسی اور معاشی ہیں، ہماری آزاد اور خود مختار خارجہ پالیسی ہے۔ ہم کسی بھی ملک کے ساتھ اپنے تعلقات رکھ سکتے ہیں۔

اُنھوں نے پاکستان کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ آپ کا دہلی میں سفارت خانہ ہے، آپ کے اُن کے ساتھ بھی کسی نہ کسی طرح کے رابطے ہیں۔ تو آپ کو ہم پر اعتراض کیوں ہے؟

رواں برس 22 اپریل کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے 26 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

انڈیا نے اس کا الزام پاکستان پر عائد کرتے ہوئے سات مئی کو پاکستان میں آپریشن سندور کے نام سے کارروائی کا دعوی کیا تھا۔ انڈیا نے دعوی کیا تھا کہ اس کارروائی میں لشکر طیبہ اور جیش محمد کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

پاکستان نے بھی جوابی کارروائی میں انڈیا کے تین رفال طیاروں سمیت چھ طیارے گرانے کا دعوی کیا تھا۔

دہلی اور اسلام آباد کے کشیدہ تعلقات نے کابل کو بھی ایک مشکل پوزیشن میں لا کھڑا کیا تھا۔

پاکستان نے افغانستان میں اپنی کارروائی کا آغاز نو اکتوبر کو کابل میں فضائی کارروائی سے کیا تھا، جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان نو روزہ جھڑپوں کا آغاز ہو گیا تھا۔

امریکہ بگرام فوجی اڈہ کیوں حاصل کرنا چاہتا ہے اور اس پر چین کو تشویش کیوں ہے؟افغانستان کا وہ الگ تھلگ خطہ جہاں داعش اور طالبان بھی نہیں پہنچ پاتےافغانستان کی بادشاہت سے جمہوریت بننے کی کہانیسٹنگر میزائل: افغان جنگ کا فیصلہ کن ہتھیار جو روسی افواج پر قیامت بن کر ٹوٹاپاکستانی ادویات پر انحصار

افغانستان نے گندم کی درآمد کے معاملے پر پاکستان پر اپنا انحصار کم کیا۔ عالمی اور ایشیائی مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے سنہ 2015 میں افغانستان کو 30 کروڑ ڈالر سے زائد کی گندم برآمد کی تھی لیکن اب یہ صفر ہو گئی ہے۔

یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ افغانستان کو اب پاکستانی گندم اور آٹے کی ضرورت نہیں رہی اور اس نے اب اس کے لیے نئے اور قابل اعتماد شراکت دار تلاش کر لیے ہیں، جن کے ساتھ اس کے تعلقات بتدریج بہتر ہو رہے ہیں۔

افغانستان نے سنہ 2024 میں تقریباً 60 کروڑ ڈالر سے زائد کی گندم، ازبکستان، قازقستان اور روس سے درآمد کی تھی۔

دوسری جانب طالبان حکام نے کہا تھا کہ پابندی کے باوجود اب بھی پاکستان سے ادویات سمگل ہو کر افغانستان پہنچتی ہیں۔

افغانستان میں ادویات کی کمی کی شکایات عام ہیں اور فی الحال اسے ادویات کے معاملے پر پاکستان پر ہی انحصار کرنا پڑتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق پابندی سے پہلے تک افغانستان میں دستیاب ادویات کا 80 فیصد پاکستان سے منگوایا جاتا تھا۔

کابل پبلک ہیلتھ ڈائریکٹر خوشحال نبی زادہ نے بی بی سی کو بتایا کہ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستانی ادویات اچھی اور سستی ہیں۔ اُنھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ عام لوگوں کے لیے صحت کی خدمات کو سیاست سے منسلک نہیں کرنا چاہیے۔

Getty Imagesایران کے ساتھ یورپی ممالک کے مقابلے میں زیادہ تجارت

طالبان حکومت جو متبادل راستے اختیار کر رہی ہے، اس میں ایران کے ساتھ تجارت میں اضافہ بھِی شامل ہے۔

ان تجارتی روابط کا مغربی پابندیوں کے شکار ایران کے لیے بھی فائدہ ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران کی افغانستان کے ساتھ تجارتی یورپی ممالک کے مقابلے میں بھی زیادہ ہے۔

طالبان کی وزارت صنعت اور کامرس کے مطابق گذشتہ چھ ماہ کے دوران ایران کے ساتھ تجارت کا حجم ایک ارب 60 کروڑ ڈالر سے بڑھ چکا، جو پاکستان سے زیادہ ہے۔

لیکن اس کے باوجود افغان طالبان نے علاقائی مذاکرات کے لیے اپنا نمائندہ تہران نہیں بھیجا تھا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ طالبان کے نمائندوں نے تہران اجلاس میں شرکت اس لیے نہیں کی کیونکہ پاکستان کے ساتھ سعودی ثالثی میں جاری مذاکرات میں مداخلت کے شبہات تھے۔

طالبان حکومت دُنیا کے اُن چند ممالک میں شامل تھی، جس نے ایران اور اسرائَیل کے درمیان گذشتہ برس 12 روز تک جاری رہنے والی جنگ کے دوران تہران کی حمایت کی تھی۔ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایران کو اس جنگ کا فاتح قرار دیا تھا۔

اس جنگ کے اختتام پر ایران نے بڑے پیمانے پر افغان مہاجرین کے انخلا کا عمل شروع کر دیا تھا۔ اس دوران افغان مہاجرین پر تشدد، ہراسانی اور جاسوسی کے الزامات بھی عائد کیے گئے تھے۔

چین کی مدد کے بغیر تیل نکالنے کا منصوبہ

طالبان کی وزارت برائے کان کنی اور پیٹرولیم کے مطابق سنہ 2025 میں 60 ہزار ٹن خام تیل نکال کر مقامی کمپنیوں کو فروخت کیا گیا۔

طالبان حکومت کے مطابق زیادہ تر تیل دریائے آمو کے قریبی علاقوں سے نکالا گیا۔

طالبان حکومت کے مطابق چینی کمپنی افچین کی جانب سے بار بار خلاف ورزیوں کی وجہ سے اُسے تیل نکالنے سے روک دیا گیا تھا۔

حکام کے مطابق دریائے آمو کے قریب تیل کے 18 کنویں ہیں اور یہاں سے یومیہ 1100 ٹن خام تکل نکالا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق افغانستان اور چین کے درمیان تاریخی عینک تانبے کی کان کے معاہدے پر دستخط کے سترہ سال بعد بھی کان کنی کا آغاز نہیں ہوسکا۔

ماہرین اور اس منصوبے کے قریبی لوگوں نے بی بی سی کو بتایا کہ عینک تانبے کی کان کنی شروع کرنے کے لیے چین رضامند نہیں لیکن طالبان حکومت پراُمید ہے کہ کان کنی شروع ہو جائے گی۔

Getty Imagesطالبان حکومت کے زیر کنٹرول 44 افغان سفارت خانے

ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں بین الاقوامی فوجداری عدالت نے ’انسانیت کے خلاف جرائم‘ کے الزام میں طالبان رہنما ہبت اللہ اخوندزادہ اور طالبان حکومت کی سپریم کورٹ کے سربراہ عبدالحکیم حقانی کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔

طالبان حکومت نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے اقدام کی ’مذمت‘ کی اور کہا کہ وہ ادارے کو ’تسلیم نہیں کرتے۔‘

واضیح رہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت جرم ثابت ہونے پر ان افراد کو 30 سال تک قید یا بعض صورتوں میں عمر قید کی سزا سنا سکتی ہے۔ عدالت متاثرین کو معاوضے کا حکم بھی دے سکتی ہے۔

جرمنی کے شہر بون اور میونخ میں افغان قونصل خانوں میں طالبان حکومت کی وزارت خارجہ کے متعدد نمائندوں کا استقبال کیا گیا۔

سٹاک ہوم اور اوسلو میں افغان سفارت خانوں کے قونصلر سیکشن بھی طالبان حکومت کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔

جرمنی، طالبان حکومت کے ساتھ تعاون میں، اب تک درجنوں افغان مجرموں کے دو گروپوں کو کابل ڈی پورٹ کر چکا ہے تاہم، لندن، واشنگٹن اور اوٹاوا میں افغانستان کے سفارت خانے اب بھی بند ہیں اور کوئی سرکاری قونصلر یا سفارتی تعلقات نہیں۔

اٹلی، کینیڈا اور آسٹریلیا جیسے اہم ممالک میں کئی اہم افغان سفارت خانے اور نیویارک اور جنیوا میں اقوام متحدہ میں افغانستان کی نمائندگی اب بھی سابق حکومت کے دور میں تعینات سفیروں کے ہاتھ میں ہے۔

طالبان کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ صرف سفارت خانوں یا نمائندوں کی طرف سے جاری کردہ دستاویزات ہی قابل قبول ہیں جن کے ان کی حکومت کے ساتھ معاملات ہیں۔

طالبان کی حکومت اب 44 افغان سفارت خانوں اور قونصل خانوں کو کنٹرول کرتی ہے، جن میں سے زیادہ تر ایشیا میں ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ اور بگرام ایئر بیس

طالبان حکومت کو امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دور کے آغاز پر مختلف چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔

صدر ٹرمپ نے اقتدار میں آتے ہی یو ایس ایڈ کو بند کرنے کا اعلان کیا، جس کا اثر افغانستان پر بھی پڑا۔ یو ایس ایڈ کے تحت چلنے والے کئی پروگرام افغانستان میں بند ہو گئے۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ افغانستان سے اربوں ڈالر کے امریکی ہتھیاروں کی واپسی کا بھی مطالبہ کر چکے ہیں اور طالبان کی جانب سے ان ہتھیاروں کی پریڈ کے دوران نمائش پر بھی مایوسی کا اظہار کر چکے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے بگرام ایئر بیس کا کنٹرول واپس لینے کے اعلان کی بھی افغان طالبان نے مذمت کی تھی۔

’ایکسیلنسی، آپ کو تعارف کروانے کی ضرورت نہیں‘: ایس جے شنکر اور سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی ملاقات میں کیا ہوا؟افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی اسلحہ ’طالبان کا دفاعی ڈھانچہ بن چکا ہے‘، امریکی رپورٹ کے انکشافات اور پاکستان کی تشویشسکندر اعظم سے امریکی حملے تک: افغانستان ’سلطنتوں کا قبرستان‘ یا ’فتح کی شاہراہ‘؟افغانستان کے جغرافیے میں چھپا وہ راز جو اسے ’سلطنتوں کا قبرستان‘ بناتا ہےافغانستان میں چھوڑا گیا امریکی اسلحہ ’طالبان کا دفاعی ڈھانچہ بن چکا ہے‘، امریکی رپورٹ کے انکشافات اور پاکستان کی تشویش
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More