ضیا الرحمان: جب فوجی افسروں کے ہاتھوں قتل ہونے والے بنگلہ دیش کے سابق صدر کی لاش قبر سے نکالی گئی

بی بی سی اردو  |  Jan 02, 2026

Getty Images

بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی سابق چیئرپرسن خالدہ ضیا کی حال ہی میں وفات ہوئی۔ انھیں ڈھاکہ کے شیر بنگلہ نگر میں ان کے شوہر اور سابق پاکستانی فوجی افسر ضیا الرحمن کی قبر کے قریب دفن کیا گیا۔

بنگلہ دیش کے سابق صدر اور بنگلہ دیش کی ’جنگ آزادی‘ کے اہم کمانڈر ضیا الرحمان کو 30 مئی 1981 کو چٹاگانگ میں ایک فوجی بغاوت کے دوران قتل کر دیا گیا تھا۔

اگرچہ اس وقت کی حکومت نے انھیں ڈھاکہ کےشیر بنگلہ پارک میں سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔ لیکن یہ ان کی پہلی تدفین نہیں تھی۔

ایک گمنام قبر سے ملک کیپارلیمنٹ ہاؤس کے قریب دفن ہونے سے پہلے جانتے ہیں کہ بنگلہ دیش کی آزادی کا اہم کردار کہلانے والے کمانڈر کو قتل کیوں کیا گیا۔

اختلافات اور قتل

اس وقت ملک کے صدر ضیاء الرحمن اپنی پارٹی کے مقامی رہنماؤں کے درمیان اختلافات دور کرنے کے لیے 29 مئی 1981 کو چٹاگانگ کے دو روزہ دورے پر گئے ہوئے تھے۔

اس دورے میں ان کے ساتھ آنے والے پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کی معلومات کے مطابق پہلے دن ضیاء الرحمن نے دن بھر مختلف ملاقاتیں کیں اور رات گئے سو گئے۔

چند گھنٹوں کے اندر، فوجی افسروں کے ایک گروپ نے چٹاگانگ سرکٹ ہاؤس پر حملہ کر دیا اور ضیاء الرحمان پر فائرنگ کر دی، جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

ان کی موت کی خبر سب سے پہلے 30 مئی کی صبح ریڈیو پر نشر ہوئی۔

صدر کے قتل کے بعد ملک میں جو صورتحال پیدا ہوئی اس کے بعد اس وقت کے نائب صدر جسٹس عبدالستار نے عبوری صدر کا عہدہ سنبھال لیا۔

انھوں نے ہی 30 مئی کی سہ پہر کو ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے ضیاء الرحمان کی موت کا باضابطہ اعلان کیا تھا۔

دوسری جانب قتل کے چند گھنٹوں کے اندر ہی ضیاء الرحمان کی لاش کو خفیہ طور پر چٹاگانگ کے پہاڑی علاقے رنگونیا لے جایا گیا۔

اس وقت کئی اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں میں کہا گیا تھا کہ ضیاء الرحمن کو رنگونیا کے علاقے میں ایک پہاڑ کے دامن میں دفن کیا گیا تھا۔

BNPخالدہ ضیا کو سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا’پاکستان کی دوست‘ خالدہ ضیا کی وفات: بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیراعظم کون تھیں؟جنرل ضیا الرحمٰن کا قتل اور بنگلہ دیش میں طاقت کی کشمکشبنگلہ دیش کی فوج میں بغاوت، جوابی بغاوت اور فوجی افسران کے درمیان اقتدار کی جنگ کی داستانڈھاکہ کی ایک خونیں شب: چار سیاست دانوں کا جیل میں قتل اور ایک فوجی بغاوت کی داستان فوجی صدر کی لاش ساتھ لے گئے

30 مئی کو صبح 8-9 بجے کے قریب فوجیوں کا ایک گروپ چٹاگانگ سرکٹ ہاؤس پہنچا جنھوں نے صدر رحمان سمیت تین افراد کی لاشیں ایک گاڑی میں ڈالیں اور انھیں نامعلوم مقام پر لے گئے۔

اس وقت کے آرمی میجر راجا الکریم رضا واقعے کے بعد 30 مئی کی صبح سرکٹ ہاؤس گئے تھے۔ انھوں نے اس واقعے کی تفصیلات بی بی سی کو بھی دی ہیں۔

اس وقت کی حکومت نے کہا تھا کہ قتل کی اطلاع ملنے کے بعد اسی دن صدر رحمان کی لاش ڈھاکہ لانے کی کوشش کی گئی۔

اس وقت کے وزیر اعظم نے صحافیوں کو بتایا کہ بین الاقوامی تنظیم ریڈ کراس کے ذریعے صدر کی میت ڈھاکہ بھیجنے کی درخواست کی گئی تھی کیونکہ مقامی حکام سے براہ راست رابطہ ممکن نہیں تھا۔

لیکن بعد میں، حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ چٹاگانگ چھاؤنی کے اس وقت کے جی او سی میجر جنرل ابوالمنظور نے اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔

31 مئی 1981 کو ’دینک سمواد‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، عبوری صدر جسٹس عبدالستار کی کابینہ کا پہلا باضابطہ اجلاس 30 مئی کو ہوا جس میں تعزیتی تحریک کی منظوری دی گئی۔

BBCضیاء الرحمان کے قتل کے بعد جسٹس عبدالستار نے عبوری صدر کے عہدے کا حلف اٹھایا

اسی دن ڈھاکہ میں عبدالستار نے کہا کہ ’ہم نے ریڈ کراس کے ذریعے صدر کی میت چٹاگانگ سے لانے کی کئی کوششیں کیں لیکن انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا، اسی لیے ہم نے نماز جنازہ وہیں ادا کی جب میت وہاں نہیں تھی۔‘

لیکن 31 مئی کو بغاوت میں حصہ لینے والے فوجیوں اور افسروں میں اختلافات پیدا ہو گئے۔

بہت سے لوگوں نے بغاوت کے منصوبہ سازوں کو چھوڑ کر عبوری صدر عبدالستار کی حکومت کے ساتھ اپنی وفاداری ظاہر کرنا شروع کر دی۔ اس کے ساتھ ہی حکومت نے فوج میں شامل باغی افسروں اور سپاہیوں کو ہتھیار ڈالنے کا حکم دیا۔

جیسے جیسے واقعات تیزی سے بدل رہے تھے، میجر جنرل منظور اور کرنل مطیع الرحمان سمیت کئی فوجی افسران 31 مئی کی رات چٹاگانگ کیمپ سے فرار ہو گئے۔

میجر جنرل منظور کے فرار ہونے کے بعد چٹاگانگ فوجی کیمپ دوبارہ حکومت کے کنٹرول میں آ گیا۔ اس کے بعد پولیس منظور کو گرفتار کر کے کیمپ لے آئی لیکن اسے بھی بعد میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

BBCحکومت کے اقدام پر ضیاء الرحمن کو سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیااندازے سے ایک تازہ قبر کھودی تو لاش مل گئی

یکم جون کو اس وقت کے بریگیڈیئر حنان شاہ کو ضیاء الرحمان کی لاش ملی تھی۔

بعد ازاں بی بی سی بنگلہ کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ ضیاء الرحمان کی لاش ڈھونڈنے کے لیے کپتائی روڈ گئے تھے۔ نئی قبر صرف اندازے کی بنیاد پر دریافت ہوئی۔

مقامی دیہاتیوں نے ایک چھوٹی پہاڑی کی طرف اشارہ کیا اور بریگیڈیئر حنان اور ان کی ٹیم کو بتایا کہ فوجی افسران نے چند دن پہلے وہاں ایک شخص کو دفن کیا تھا۔

گاؤں والوں سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق حنان شاہ فوج کے جوانوں کے ساتھ موقع پر پہنچے اور دیکھا کہ وہاں ایک قبر پر تازہ مٹی نظر آ رہی ہے۔

وہاں کی کھدائی سے صدر ضیاء الرحمن اور دو دیگر فوجی افسران کی لاشیں برآمد ہوئیں۔

ضیا الرحمان کی لاش کو وہاں سے چٹاگانگ فوجی کیمپ لے جایا گیا اور یکم جون کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے دارالحکومت ڈھاکہ پہنچایا گیا۔

اگلے دن 2 جون کو رحمان کی میت کو پارلیمنٹ ہاؤس میں صبح 11 بجے تک رکھا گیا تاکہ عام لوگ ان کی تعزیت کر سکیں۔

2 جون کے اخبارات نے خبر رساں اداروں کے حوالے سے خبریں شائع کیں۔ اس میں کہا گیا کہ ’سابق صدر ضیاء الرحمان کی نماز جنازہ آج بروز منگل 12.30 بجے مانک میاں ایونیو میں ادا کی جائے گی، اس کے بعد ان کی میت کو دوپہر ایک بجے نئے پارلیمنٹ ہاؤس کے قریب جھیل کے کنارے سپرد خاک کیا جائے گا۔‘

نئی جائے تدفین کے نام پر تنازع

اگلے دن 3 جون کو روزنامہ اتفاق نے خبر دی کہ ’سابق صدر کی تدفین کے لیے شیر بنگلہ نگر پارک کا انتخاب کیا گیا ہے۔ یہ پارک نئے پارلیمنٹ ہاؤس اور جھیل کے شمال میں اور گان بھون کے مشرق میں واقع ہے۔‘

محقق محی الدین احمد نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا ’اس وقت جسٹس ستار کی عبوری حکومت نے ضیاء الرحمان کو سیاسی اعزاز کے ساتھ دفن کرنے سمیت بہت سے فیصلے کیے تھے۔ انھوں نے تدفین کے لیے جگہ کا بھی فیصلہ کیا تھا۔‘

اے بی ایم روح الامین حولدار کا کہنا ہے کہ ’ضیاء الرحمان کو پارلیمنٹ کے احاطے میں دفن کرنے کے فیصلے پر سب کا اتفاق تھا۔ جنازے میں عوامی لیگ کے بہت سے اراکین پارلیمنٹ بھی موجود تھے۔ پارٹی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے جنازے میں شرکت کی۔‘

بعد ازاں حسین محمد ارشاد کی حکومت کے دوران پارلیمنٹ کے قریب شیر بنگلہ نگر میں واقع اس پارک کا نام چندریما ادیان رکھا گیا۔ بعد ازاں بی این پی حکومت نے اس پارک کا نام تبدیل کر کے ’ضیاء اُدیان‘ رکھ دیا۔

بعد میں اقتدار میں آنے والی عوامی لیگ کی حکومت نے اس پارک کا نام پھر سے تبدیل کر کے ’چندریما ادیان‘ رکھ دیا۔ تاہم، عوامی لیگ کی حکومت کے خاتمے کے بعد، اب وہاں ایک تختی ’ضیاء باغ‘ کے نام سے دکھائی دے رہی ہے۔

سیاسی تاریخ دان اور مصنف محی الدین احمد کہتے ہیں ’اس پارک کا نام تبدیل کرنے کی وجہ کچھ بھی ہو، ضیاء الرحمان کو سرکاری اعزاز کے ساتھ دفن کرنے کا فیصلہ اس وقت کے عبوری صدر جسٹس عبدالستار کی قیادت میں حکومت نے کیا تھا۔‘

عبدالستار کی کابینہ میں نائب وزیر رہنے والے اے بی ایم روح الحولدار امین بھی ضیاء الرحمان کی نماز جنازہ اور تدفین کے موقع پر موجود تھے۔

امین نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ ’یہ تجویز جسٹس عبدالستار نے پیش کی تھی۔ کابینہ نے متفقہ طور پر اس کی منظوری دی تھی۔ بعد میں آرمی چیف ارشاد نے بھی اس فیصلے کی حمایت کی تھی۔‘

’ضیاء الرحمن نے ملک میں کثیر الجماعتی جمہوریت کا آغاز کیا تھا، اسی لیے انھیں پارلیمنٹ ہاؤس کے قریب دفن کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔‘

اب تقریباً 44 سال بعد ضیاء الرحمان کی اہلیہ خالدہ ضیا کو اسی قبر کے پاس دفن کیا گیا ہے۔

’پاکستان کی دوست‘ خالدہ ضیا کی وفات: بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیراعظم کون تھیں؟ڈھاکہ کی ایک خونیں شب: چار سیاست دانوں کا جیل میں قتل اور ایک فوجی بغاوت کی داستان جنرل ضیا الرحمٰن کا قتل اور بنگلہ دیش میں طاقت کی کشمکشبنگلہ دیش کی فوج میں بغاوت، جوابی بغاوت اور فوجی افسران کے درمیان اقتدار کی جنگ کی داستانکیا مشرقی پاکستان میں جنرل امیر عبداللہ نیازی نے یہ تصویر دیکھ کر ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ کیا تھا؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More