نیو یارک کے میئر زہران ممدانی کے چیف کونسل جو القاعدہ کے رکن احمد الدربی کا کیس لڑ چکے ہیں

بی بی سی اردو  |  Jan 02, 2026

نیو یارک کے نومنتخب سوشلسٹ میئر زہران ممدانی نے منگل کو اعلان کیا کہ وہ رمزی قاسم کو شہر کے چیف کونسل یعنی سب سے بڑے قانونی عہدے پر مقرر کر رہے ہیں۔ رمزی قاسم اپنے کیریئر میں کالعدم شدت پسند تنظیم القاعدہ کے رکن احمد الدربی کا دفاع کر چکے ہیں۔

ممدانی نے یکم جنوری کو حلف اٹھانے کے بعد نیو یارک کے میئر کا عہدہ سنبھال لیا ہے۔

اس موقع پر انھوں نے بتایا کہ رمزی قاسم کو نیویارک سٹی کا چیف کونسل بنایا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ انھوں نے سٹیون بینکس کو کارپوریشن کونسل اور ہیلن آرٹیگا کو ڈپٹی میئر برائے صحت اور انسانی خدمات مقرر کرنے کا اعلان کیا۔

رمزی قاسم سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے دور میں وائٹ ہاؤس ڈومیسٹک پالیسی کونسل پر امیگریشن کے لیے سینیئر پالیسی ایڈوائزر کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔

قاسم نے احمد الدربی کے دفاع میں بطور لیڈ کونسل کام کیا تھا۔ 2014 میں الدربی نے امریکی فوجی کمیشن کے سامنے القاعدہ کے دہشت گردانہ منصوبے میں فرانسیسی آئل ٹینکر ایم وی لمبرگ کو یمن کے ساحل پر بم دھماکے سے اڑانے کی سازش کے جرم کا اعتراف کیا تھا۔

اس حملے میں ایک شہری ہلاک اور کئی زخمی ہوئے تھے۔

انھیں 2017 میں جرم کا مرتکب قرار دیا گیا اور 2018 میں ٹرمپ انتظامیہ نے انھیں سعودی عرب کے حوالے کر دیا تھا۔

اس وقت قاسم نے کہا تھا کہ اگرچہ وہ انھیں مکمل انصاف نہیں دے سکے لیکن انھیں امید ہے کہ ’وطن واپسی کم از کم احمد کے لیے ناانصافی کا خاتمہ کرے گی۔‘

انھوں نے مزید کہا تھا کہ ان کے موکل نے 16 طویل اور تکلیف دہ سال قید میں گزارے۔

’کیا آپ کو لگتا ہے کہ ٹرمپ فاشسٹ ہیں؟‘: امریکی صدر کی ممدانی سے خوشگوار ملاقات اور کڑے سوالوں پر بھی ایک دوسرے کی تعریفزہران ممدانی: نیویارک کے پہلے مسلمان میئر کون ہیں اور ان کا سیاسی سفر کیسا رہازہران ممدانی نے نیویارک کے میئر کا حلف اٹھا لیا: تقریب میں قرآن کے دو نسخوں پر سوالرما دواجی: نیویارک کے میئر زہران ممدانی کی اہلیہ جنھیں ان کے دوست ’دور جدید کی شہزادی ڈیانا‘ قرار دیتے ہیں

https://twitter.com/ZohranKMamdani/status/2006202253263200462

رمزی قاسم کون ہیں؟

2025 میں قاسم نے اسرائیل مخالف سماجی کارکن اور کولمبیا یونیورسٹی کے طالب علم محمود خلیل کی نمائندگی کی تھی۔ خلیل کو امریکی امیگریشن حکام نے کیمپس میں یہودی مخالف مظاہروں کی قیادت کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ انھیں بعد میں رہا کر دیا گیا تاہم ان کے خلاف مقدمہ زیر التوا ہے۔

ممدانی نے اپنی تقرری کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’میں رمزی کے شاندار تجربے اور ان کی اس وابستگی پر انحصار کروں گا، وہ ان لوگوں کے دفاع میں کام کرتے ہیں جنھیں ہمارا قانونی نظام اکثر نظرانداز کر دیتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ان کے ساتھ سٹی ہال مزید مضبوط ہ وگا اور سب کے لیے خوشحال شہر بنانے کا ہمارا کام ایک طاقتور وکیل کے ساتھ آگے بڑھے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’امید ہے کہ نیویارک کے وہ لوگ جو طویل عرصے سے خود کو اس شہر کے کنارے پر محسوس کرتے ہیں، جیسے بے گھر سابق فوجی جو زندہ رہنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے، وہ مریض جو دیکھ بھال کے منتظر ہیں یا وہ تارکین وطن جو گزر بسر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، سب یہ محسوس کریں گے کہ اب ان کے پاس ایسے رہنما ہیں جو ان کی مشکلات کو سمجھتے ہیں اور ان کے لیے لڑتے ہیں۔‘

’یہی وہ شہر ہے جو میں بنانا چاہتا ہوں، وہ خوشحالی جو میں دینا چاہتا ہوں اور وہ قیادت جو طویل عرصے سے غائب رہی ہے۔‘

رمزی قاسم نے ممدانی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسے ’شہر کی خدمت فرض‘ سمجھتے ہیں اور وہ اس شہر کو اپنا گھر کہتے ہیں۔

قاسم نے کہا کہ ’میں مشرق وسطیٰ کے جنگ زدہ ممالک اور آمرانہ حکومتوں میں پلا بڑھا اور نیویارک سٹی واقعی میرا پہلا مستحکم اور مستقل گھر تھا۔‘

’یہ میرے لیے اس قرض کو چکانے کا موقع ہے۔ میں اس قرض کو چکانے کی کوشش تب سے کر رہا ہوں جب سے میں اس ملک میں آیا، جب سے میں نے ہجرت کی۔‘

قاسم ’کریٹنگ لا انفورسمنٹ اکاؤنٹیبلٹی اینڈ ریسپانسبلٹی‘ (کلیئر) کے بانی ہیں جو اپنی ویب سائٹ کے مطابق اس مقصد کے لیے کام کرتا ہے کہ ’مسلمان اور دیگر تمام کمیونٹیز اور تحریکوں کو سپورٹ کرے جو قومی سلامتی اور انسداد دہشت گردی کے نام پر نیویارک سٹی اور اس سے باہر مقامی، ریاستی یا وفاقی حکومتی اداروں کے نشانے پر ہیں۔‘

زہران ممدانی نے نیویارک کے میئر کا حلف اٹھا لیا: تقریب میں قرآن کے دو نسخوں پر سوالزہران ممدانی: نیویارک کے پہلے مسلمان میئر جو کبھی ’مسٹر الائچی‘ کے نام سے جانے جاتے تھےرما دواجی: نیویارک کے میئر زہران ممدانی کی اہلیہ جنھیں ان کے دوست ’دور جدید کی شہزادی ڈیانا‘ قرار دیتے ہیںزہران ممدانی: نیویارک کے پہلے مسلمان میئر کون ہیں اور ان کا سیاسی سفر کیسا رہا’کیا آپ کو لگتا ہے کہ ٹرمپ فاشسٹ ہیں؟‘: امریکی صدر کی ممدانی سے خوشگوار ملاقات اور کڑے سوالوں پر بھی ایک دوسرے کی تعریف
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More