پاکستان نے انڈین وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے پاکستان کے بارے میں ایک حالیہ بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انڈیا ایک بار پھر پڑوسی کے طور پر دہشت گردی کو فروغ دینے اور علاقائی عدم استحکام میں حصہ ڈالنے کے اپنے تشویشناک ریکارڈ سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔
پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’خطے میں، خاص طور پر پاکستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں انڈیا کا کردار کسی سے پوشیدہ نہیں۔ کمانڈر کلبھوشن یادو کا کیس ریاستی سرپرستی میں منظم دہشت گردی کی ایک واضح مثال ہے جو پاکستان کے خلاف کی گئی۔‘
خیال رہے جمعہ کو انڈین وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی مدراس میں طلبا سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو ’بُرا ہمسایہ‘ قرار دیا تھا اور پاکستان پر دہشت گدی میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔
جے شنکر: ’آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ پانی کی بھی تقسیم ہو مگر دہشت گردی بھی جاری رکھیں‘
جمعہ کے روز تمل ناڈو میں انڈیا کی اپنے ہمسایہ ممالک سے متعلق پالیسی پر سوال کے جواب میں وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر کہ کہنا تھا کہ ’اگر آپ کا پڑوسی اچھا ہے آپ کو نقصان نہیں پہنچا رہا تو آپ قدرتی طور پر اس سے مہربانی سے پیش آئیں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ انڈیا اپنی خارجہ پالیسی میں پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے، تاہم بعض اوقات مشکلات بھی پیش آتی ہیں۔
’اچھے پڑوسی بھی ہو سکتے ہیں اور بُرے بھی۔ بدقسمتی سے ہمارے پاس بُرے پڑوسی ہیں۔ اگر مغرب کی طرف دیکھیں تو ایک ایسا ہی ملک ہے جو دانستہ، مسلسل اور بے شرمی کے ساتھ دہشت گردی کو جاری رکھتا ہے۔‘
’کرکٹرز ہاتھ نہیں ملاتے لیکن یہ ساتھ کھڑے ہیں‘: دبئی ایئر شو میں پاکستان اور انڈین فضائیہ کے افسران کی تصاویر پر بحثپاکستان انڈیا کشیدگی کے بعد دہلی کی سفارت کاری پر سوال کیوں اٹھ رہے ہیں؟پاکستان اور انڈیا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کیا رُخ اختیار کر سکتی ہے؟انڈین ایئرچیف کا پاکستانی طیارے گرانے کا دعویٰ اور میڈیا پر بحث: ’چلیں انڈیا نے یہ تو مانا کہ 2019 میں کوئی ایف 16 طیارہ نہیں گرا تھا‘
انڈیا کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے کہا تھا کہ ’ہمیں اپنی عوام کو دہشت گردی سے بچانے کا حق حاصل ہے اور ہم یہ حق ضرور استعمال کریں گے۔ یہ فیصلہ ہمارا ہو گا کہ کس طرح اس حق کو استعمال کریں، کوئی ہمیں یہ نہیں بتا سکتا کہ کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’کئی برس پہلے پانی کی تقسیم کا معاہدہ ہوا تھا، لیکن اگر دہائیوں تک دہشت گردی جاری رہے تو پھر اچھے پڑوسیوں جیسا تعلق نہیں رہتا اور جب اچھا پڑوسی پن نہیں ہوتا تو اس کے فوائد بھی نہیں ملتے۔‘
انڈیا کے وزیرِ خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ’آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ پانی کی بھی تقسیم ہو مگر دہشت گردی بھی جاری رکھیں، یہ دونوں باتیں یکجا نہیں ہو سکتیں۔‘
Getty Imagesپاکستانی دفترِ خارجہ کا ردِعمل: ’پاکستان اپنے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا‘
انڈین وزیرِ خارجہ کے پاکستان کے بارے میں بیانات پر میڈیا کے سوالات کے جواب میں پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے جے شنکر کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’غیر ملکی حدود میں قتل، ثالثوں کے ذریعے تخریب کاری اور دہشت گرد نیٹ ورکس کو خفیہ تعاون کی بار بار وارداتیں تشویشناک ہیں۔ یہ تمام رجحانات ہندو توا کے انتہا پسندانہ نظریات اور پرتشدد حامیوں سے ہم آہنگ ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’انڈیا جموں و کشمیر پر اپنا غیر قانونی اور پرتشدد فوجی قبضہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ پاکستاناقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو ان کے جائز حق خود ارادیت کے حصول کی جدوجہد میں مکمل سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔‘
وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جو اعتماد اور بڑے وسائل کے سے طے پایا۔ اگر انڈیا اس معاہدے کی یکطرفہ خلاف ورزی کرتا ہے تو یہ نہ صرف علاقائی استحکام کو خطرے میں ڈالے گا بلکہ اس سے بین الاقوامی قوانین کے احترام کے دعوے پر بھی سوال اٹھیں گے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان اپنے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔
انڈین ایئرچیف کا پاکستانی طیارے گرانے کا دعویٰ اور میڈیا پر بحث: ’چلیں انڈیا نے یہ تو مانا کہ 2019 میں کوئی ایف 16 طیارہ نہیں گرا تھا‘پاکستان اور انڈیا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کیا رُخ اختیار کر سکتی ہے؟پاکستان انڈیا کشیدگی کے بعد دہلی کی سفارت کاری پر سوال کیوں اٹھ رہے ہیں؟پاکستان اور انڈیا کی فوجی طاقت کا موازنہ: لاکھوں کی فوج سے جدید طیاروں، بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز تک’کرکٹرز ہاتھ نہیں ملاتے لیکن یہ ساتھ کھڑے ہیں‘: دبئی ایئر شو میں پاکستان اور انڈین فضائیہ کے افسران کی تصاویر پر بحث