وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا دورہ لاہور: کیا پی ٹی آئی پنجاب کو متحرک کرنے میں کامیاب ہوئی اور کیا یہی اس کا مقصد تھا؟

بی بی سی اردو  |  Jan 04, 2026

پاکستان میں ایک صوبے کی حاکم اور ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف سمجھتی ہے کہ وہ ملک کے سیاسی اعتبار سے سب سے اہم صوبے پنجاب میں اپنے کارکنان کو متحرک کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔

صوبہ خیبرپختونخوا میں سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی کی حکومت ہے اور اس کے سربراہ سہیل خان آفریدی نے حال ہی میں اپنی جماعت کے رہنماوں کے ہمراہ پنجاب کے دارالخلافہ لاہور کا دورہ کیا جہاں انھوں نے کچھ روز قیام کیا۔

پی ٹی آئی کے ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’جو خوف تھا کافی عرصے سے، جو انھوں (حکومت) نے پھیلایا ہوا تھا، وہ خوف ختم ہوا ہے، لوگ باہر نکلے ہیں۔‘

پی ٹی آئی کی قیادت کے مطابق خیبرپختونخوا وزیراعلیٰ کے لاہور کے اس دورے کا مقصد ’لوگوں یا کارکنان کو متحرک کرنا تھا۔‘

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے لاہور کے دورے کے دوران وہ پی ٹی آئی کے جیلوں میں قید رہنماؤں کے گھروں پر گئے اور ان کے اہل خانہ سے ملے۔ کسی بڑے پیمانے پر سیاسی سرگرمی یا سیاسی سطح پر کارکنان کو متحرک کرنے کی کوئی بڑی کوشش نظر نہیں آئی۔

اس کے برعکس ان کے لاہور میں قیام کے دوران بہت سے تنازعات سامنے آئے۔ ان کی پنجاب اسمبلی آمد پر ان کے وفد میں شامل افراد اور سکیورٹی کے درمیان بدمزگی کا واقعہ پیش آیا۔

پنجاب حکومت نے وزیراعلی سہیل آفریدی کے ابتدائی طور پر ’پنجاب میں خوش آمدید‘ کہا۔ پنجاب حکومت کے چند رہنماؤں نے کہا کہ ’اگر وہ وزیراعلیٰ کے طور پر آ رہے ہیں تو انھیں خوش آمدید ہے، وہ یہاں گھومیں پھریں، کھانے کھائیں۔۔ ۔پنجاب کی ترقی اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔‘

تاہم پی ٹی آئی کے رہنما شوکت یوسفزئی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو لبرٹی چوک میں اجتماع کرنے اور لوگوں سے ملنے نہیں دیا گیا۔‘

’یہ کہتے تھے پنجاب کی ترقی دیکھیں لیکن جب ہم فوڈ سٹریٹ کھانا کھانے بھی گئے تو وہاں لائٹیں بجھا دی گئیں۔ ہم نے تو اندھیرے میں ہی دیکھا۔ اور جو بھی وہاں ہم نے دیکھا اس میں تو کوئی ترقی نظر نہیں آئی۔‘

خیال رہے کہ پنجاب میں حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی سیاسی سطح پر حریف ہیں۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے لاہور قیام کے دوران چند مواقع پر ان سے اور ان کے وفد کے لوگوں سے کچھ صحافیوں کی جانب سے ’نامناسب‘ سوالات کیے گئے۔

ایسے سوالات، ان کے جواب میں ان کے وفد کے ممبران کے بیانات اور چند سیاسی رہنماؤں کے بیانات بھی تنازعات کا سبب بنے۔ تو سوال یہ ہے کہ ایسے ماحول میں پی ٹی آئی ’لوگوں کو تحریک دینے یا متحرک کرنے‘ کے اپنے مقصد میں کس حد تک کامیاب ہوئی۔

اور کیا پی ٹی آئی واقعی یہی چاہتی تھی یا پھر اس کا مقصد محض حکومت پر دباؤ ڈالنا تھا۔

Getty Images’لفاظی گولہ باری ناکام رہی۔۔۔ ہم مقصد میں کامیاب ہوئے‘

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی کا پنجاب اور لاہور جانے کا مقصد سابق وزیراعظم عمران خان کی ہدایات پر لوگوں کے حوصلے بنانا اور انھیں متحرک کرنا تھا۔

’دونوں صورتوں میں ہم اس میں کامیاب ہوئے۔ لوگ امڈ امڈ کر آ رہے تھے حالانکہ پنجاب حکومت نے لوگوں کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ شروع میں ہمیں چکری کے پاس روکنے کی کوشش کی گئی۔‘

شوکت یوسفزئی نے کہا کہ لاہور میں حکومت نے دانستاً تنازعات بنانے کی کوشش کی۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’اسمبلی میں بھی ایک جعلی فلم چلائی گئی‘ اور ’چند جعلی صحافیوں کو اندر لایا گیا اور ایسے اقدامات کے ذریعے لفاظی گولہ باری کرنے کی کوشش کی گئی۔‘

پی ٹی آَئی کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ ’ان کی لفاظی گولہ باری ناکام رہی۔ ان کی اپنی فرسٹریشن سامنے آئی، پنجاب حکومت خود ایکسپوز ہوئی، ساری دنیا نے دیکھا۔ ہم نے تو اپنا مقصد حاصل کر لیا۔‘

شوکت یوسفزئی نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو لوگوں کے حوصلے بلند کرنے کا کام سابق وزیراعظم عمران خان نے حوالے کیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ تنازعات بنانے کی تمام تر کوششوں کے باوجود سہیل آفریدی اس کام کو انتہائی اطمینان کے ساتھ اور سیاسی طریقے سے آگے بڑھا رہے ہیں۔

’نامناسب رویہ‘ اور مہمان نوازی نہ ہونے کا شکوہ: کیا وزیرِ اعلی خیبر پختونخوا کے دورہ لاہور سے سیاسی تلخی مزید بڑھ گئی؟’سٹریٹ موومنٹ‘ کے ساتھ ساتھ بات چیت پر ’آمادگی‘: وزیرِاعظم کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش حکومت اور پی ٹی آئی کے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو: ’جن لوگوں کے پاس طاقت ہے ان کا رویہ مزید سخت ہو گیا ہے‘’قومی سلامتی کے لیے خطرہ‘ اور ’نئی سُرخ لکیر‘: ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس فوج اور پی ٹی آئی کے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟’جب لوگوں کو نکلنا ہوتا ہے۔۔۔ کوئی بھی انتظامیہ ان کو نہیں روک پاتی‘

دوسری جانب صوبہ پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمی بخاری ان الزامات کی تردید کرتی ہیں کہ حکومت کی طرف سے دانستاً صحافیوں کے ذریعے یا ویسے کوئی تنازع بنانے کی کوشش کی گئی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صحافیوں کے جن سوالات کے حوالے سے زیادہ بات ہو رہی ہے اگر وہ سوال کیے گئے تھے ’تو یہ ان کا جواب دے دیتے کہ یہ غلط ہے۔ اس کے جواب میں زد و کوب کرنا یا تشدد کرنا کہاں کی حکمت عملی ہے۔‘

اس الزام کے جواب میں کہ لبرٹی چوک میں وزیراعلی خیبرپختونخوا کو لوگوں سے ملاقات نہیں کرنے دی گئی، عظمی ٰبخاری نے کہا کہ ’ظاہر ہے ان کو جو پروٹوکول اور سیکیورٹی ہم نے دی۔۔۔ایک طرف تو یہ کہتے ہیں کہ ہمیں حد سے زیادہ پروٹوکول اور سکیورٹی دی اور دوسری طرف کہتے ہیں کہ ہمیں سکیورٹی نہیں ملی۔ تو ان کی ہر بات میں خود سے تضاد موجود ہے۔‘

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ جب لوگوں نے باہر نکلنا ہوتا ہے تو کوئی پولیس کتنی بھی کوشش کر لے ’اگر ہزاروں لوگ باہر نکل آئیں تو کبھی بھی کوئی بھی انتظامیہ ان کو نہیں روک پاتی۔‘

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ’اب اگر لوگ نہیں نکلے تو اس کے اوپر یہ الزام لگانا کہ وہ ہم نے روک دیا تھا درست نہیں ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’خوف کی فضا‘ جیسی باتیں محض حیلے بہانے ہیں، پنجاب کے لوگ فساد کی سیاست میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

انھوں نے کہا کہ جب لاہور نکلتا ہے تو پتہ چلتا ہے جیسا کہ لوگ کرسمس کے موقع پر اور نئے سال کے موقع پر نکلے۔

وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ایک ’سٹریٹ موومنٹ کرنے آئی تھی۔ اس سٹریٹ موومنٹ میں خاص طور پر لاہور کے لوگوں نے ان کو انٹرٹین نہیں کیا تو اس کے اوپر اب یہ اپنا ایک غلط بیانیہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ نہیں۔‘

Getty Imagesاس وقت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے دورہِ پنجاب کا کیا مقصد ہو سکتا ہے؟

پاکستان تحریک انصاف کا موقف واضح ہے۔ وہ اس دورے سے ’لوگوں کا حوصلہ بڑھانے اور جماعت کے کارکنان کو متحرک کرنا چاہتے ہیں۔‘

صوبہ پنجاب میں گذشتہ چند برسوں سے خصوصاً 9 مئی 2023 کے پرتشدد مظاہروں کے بعد سے پی ٹی آئی کی قیادت اور کارکنان زیادہ متحرک نظر نہیں آئے۔

اس تمام وقت میں پی ٹی آئی اپنی احتجاجی تحریکوں کے لیے پنجاب سے زیادہ شمولیت حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ مقدمات اور عدالتی کارروائیوں کے خوف سے پی ٹی آئی کی پنجاب کی قیادت کے چند رہنما خیبرپختونخوا میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔

اس لیے تجزیہ نگار ماجد نظامی سمجھتے ہیں کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی لاہور آمد کے دو مقاصد نظر آتے ہیں۔ ان میں سے ایک تو پنجاب میں جماعت اور کارکنان کو دوبارہ سے فعال اور متحرک کرنا ہے۔

’یہ ایک طرح کا پیغام بھی تھا جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ سہیل آفریدی کی قیادت کے اندر کوئی سیاسی مہم چلائی جاتی ہے تو پنجاب کے دورے سے انھوں نے اپنا ایک آغاز کیا ہے۔‘

ماجد نطامی کہتے ہیں کہ ساتھ ہی انھوں نے ’حکومت کو اور خاص طور پر پنجاب حکومت کو یہ پیغام دیا ہے کہ پنجاب سے بھی سیاسی سرگرمی کی جا سکتی ہے۔‘

صحافی اور تجزیہ کار سلمان غنی سمجھتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف از خود کنفیوژن کا شکار نظر آتی ہے۔ ایک طرف وہ مزاکرات کی بات کرتے ہیں اور ساتھ ہی مزاحمت کی بات بھی کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’وزیراعلی خیبرپختونخوا کا لاہور کا دورہ حکومت پر مذاکرات کے لیے دباؤ ڈالنے کی ایک کوشش نظر آتا ہے۔‘

سلمان غنی کہتے ہیں کہ سہیل آفریدی ایک صوبے کے وزیراعلی کے طور پر پنجاب نہیں آئے تھے، وہ ایک سیاسی رہنما کے طور پر وہاں آئے۔ اگر وہ وزیراعلیٰ کے طور پر آتے تو پھر پنجاب حکومت پر ان کا استقبال فرض بنتا تھا۔

کیا پی ٹی آئی بنیادی سطح پر کارکنان کو متحرک کرنے میں کامیاب رہی؟

تجزیہ کار ماجد نظامی کہتے ہیں کہ تاثر درست ہے کہ بنیادی سطح پر کارکنان پر اس کا کیا اثر ہو گا اس کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔

ان کا کہنا تھا کہ عام انتخابات میں الیکشن والے روز پنجاب میں پی ٹی آئی کے ورکرز یا عمران خان کے سپورٹرز نے ووٹ کے ذریعے اس بات کا اظہار کیا تھا کہ وہ عمران خان کے ساتھ ہیں۔

’لیکن اس کے بعد مزاحمتی تحریکی گرفتاریوں میں ان کا وہ کردار نہیں رہا۔ اگرچہ پی ٹی آئی اس کی وجہ یہ بیان کرتی ہے کہ پنجاب میں سب سے زیادہ ریاستی انتقام کا سامنا کرنا پڑا تحریک انصاف کو، اس بنیاد پر تحریک انصاف پنجاب میں کمزور ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ اس لیے یہ بات درست ہے کہ گراس روٹ لیول موبیلائیزیشن ایک پیچیدہ کام ہے جو تحریک انصاف ابھی تک کرتی نظر نہیں آ رہی۔

صحافی اور تجزیہ نگار سلمان غنی کہتے ہیں کہ اس دورے سے اگر پی ٹی آئی کا مقصد کسی احتجاجی تحریک کے لیے راہ ہموار کرنا تھا تو وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئی۔

’وہی لوگ زیادہ متحرک تھے جو ان کے ساتھ آئے تھے۔ اپنے کارکنان میں خوف کی فضا کم کرنے میں بھی وہ کامیاب نظر نہیں آئے اور پی ٹی آئی کا سیاسی ماحول بحال نہیں ہو پایا۔‘

سلمان غنی کے خیال میں اس کی ایک وجہ یہ بھی نظر آتی ہے کہ پنجاب میں پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کی انتظامی گرفت مضبوط ہے۔

Getty Imagesکیا پی ٹی آئی کسی بڑی تحریک کے لیے رفتار پکڑنے میں کامیاب ہوئی؟

صحافی اور تجزیہ نگار سلمان غنی سمجھتے ہیں کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے حالیہ دورے کے بعد تو ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ وہ کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے لیے اس دورے کا مقصد کارکنان کو کسی بڑی تحریک کے لیے متحرک کرنا تھا تاہم بنیادی سطح پر کارکنان کو متحرک کرنے کی کوئی کوشش نظر نہیں آئی۔

سلمان غنی کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی پہچان ایک احتجاجی اور مزاحمتی جماعت کی تھی۔ ’تاہم یہ اس وقت تک تھا جب ان کے پاس وسائل تھے اور ان کے ساتھ حکومتی مشینری تھی۔‘

تجزیہ کار ماجد نظامی سمجھتے ہیں کی میڈیا اور جماعت کے ڈھانچے کی بحالی کی حد تک تو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی یہ سرگرمی بہت فائدہ مند تھی۔

’لیکن کیا اس سرگرمی کی وجہ سے احتجاجی تحریک میں پنجاب سے شامل ہونے والوں کی تعداد میں فرق پڑے گا، میرا خیال ہے یہ امید خوش فہمی پر مبنی ہو سکتی ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’ابھی بھی پاکستان تحریک انصاف کو پنجاب میں گراس روٹ لیول پر بہت کام کرنے کی ضرورت ہے تا کہ وہ تمام لوگ جو ان کو سپورٹ کرتے اور ان کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں وہ احتجاج میں بھی ان کے ساتھ شریک ہو سکیں۔‘

تجزیہ نگار ماجد نظامی کے خیال میں کوئی بڑی احتجاجی تحریک خود پاکستان تحریک انصاف کے لیے بھی ایک امتحان ہو گا۔

’اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر پی ٹی آئی یہ سمجھتی ہے کہ انھیں اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے تحریک چلانی ہے تو انھیں 26 نومبر سے بڑا اجتماع کرنا پڑے گا۔ اگر وہ ایسا نہیں کر پائیں گے تو شاید وہ ایک مرتبہ پھر ریاستی جبر کا شکار ہو جائیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ اس حالیہ دورے کے بعد تاہم رابطہ عوام مہم، پارٹی کے اندرونی اختلافات کو دور کرنا اور مستقبل کی تحریک کے لیے کچھ نہ کچھ منصوبہ بندی کرنا شامل ہے۔ جیسے جیسے دورے ہوں گے اور ان کا ایک فیڈ بیک آئے گا جماعت کے اندر بھی اور باہر بھی۔

’اس کے بعد اس بات کا تعیّن کیا جا سکتا ہے کہ کیا واقعی 26 نومبر سے بڑا مجمع پاکستان تحریک انصاف جمع کر پائے گی یا نہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’فی الحال وزیراعلی خیبرپختونخوا کے دورے کو ایک عام سیاسی دورے کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے۔‘

’مذاکرات کی فضا بنانے میں حکومت کو پہل کرنی چاہیے‘Getty Images

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے حالیہ دورہ لاہور اور اس کے بعد آنے والے دنوں میں کراچی اور دیگر دوروں کے بعد ’مومینٹم‘ بن جائے تو اس کے بعد جماعت کسی بڑی تحریک کے حوالے سے فیصلہ کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’تاہم یہ بات واضح ہے کہ یہ {حکومت} پی ٹی آئی کو نہیں روک سکتے۔ البتہ اس لڑائی میں ملک کا نقصان ہو گا۔‘

شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ حکومت ایک طرف مذاکرات کی پیشکش کرتی ہے لیکن مذاکرات کے لیے ماحول بنانے کی کوشش نہیں کرتی۔

’نہ عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جاتی ہے، نہ ہی قومی اسمبلی میں قائد حزِب اختلاف کی تقرری ہو رہی ہے اور کسی بھی قسم کا کوئی ریلیف نہیں دیا جا رہا تو ایسے ماحول میں مذاکرات کیسے ہو سکتے ہیں۔‘

ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات پی ٹی آئی شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ اس مرتبہ ان کی جماعت کے اندر جو فیصلہ ہو رہا ہے وہ پہلے جیسا نہیں ہو گا۔

’اب تو یہ فیصلہ ہو رہا ہے کہ ہم نے پر امن طور پر جمہوری طریقے سے اپنا اجتجاج کرنا ہے اور بیٹھ جانا ہے۔ حکومت کو جو طاقت کا استعمال کرنا ہے کرے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ’مذاکرات کے لیے حکومت کو پہل کرنا چاہیے اور وہ ماحول بنانا چاہیے جس میں مذاکرات ممکن ہو سکتے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’صرف طاقت کا استعمال ہی حکومت کے پاس ایک آپشن نہیں ہوتا۔‘

نورین خان کے انڈین میڈیا کو انٹرویوز اور ’آپریشن سندور ٹو‘ کی بازگشت: وائرل کلپ کی حقیقت کیا ہے؟’قومی سلامتی کے لیے خطرہ‘ اور ’نئی سُرخ لکیر‘: ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس فوج اور پی ٹی آئی کے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو: ’جن لوگوں کے پاس طاقت ہے ان کا رویہ مزید سخت ہو گیا ہے‘’سٹریٹ موومنٹ‘ کے ساتھ ساتھ بات چیت پر ’آمادگی‘: وزیرِاعظم کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش حکومت اور پی ٹی آئی کے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟’نامناسب رویہ‘ اور مہمان نوازی نہ ہونے کا شکوہ: کیا وزیرِ اعلی خیبر پختونخوا کے دورہ لاہور سے سیاسی تلخی مزید بڑھ گئی؟
مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More