ماہرین اور عینی شاہدین کے مطابق ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہرے ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جو ملک میں 1979 کے انقلاب کے بعد ایسا پہلا موقع ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب متعدد شہروں میں ایرانی عوام کی بڑی تعداد کو حکومت مخالف مظاہروں میں شرکت کرتے دیکھا گیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایرانی حکام نے مظاہرین سے سختی سے نمٹنے کی کوشش کی تو ’امریکہ مدد کے لیے تیار ہے۔‘
اس کے جواب میں ایرانی حکام نے کہا ہے کہ وہ بھی خطے میں امریکی مفادات اور اتحادیوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
تو آخر حالیہ مظاہرے اور حکومت کا ردعمل ماضی میں ایران میں ہونے والے مظاہروں سے کیسے مختلف ہے؟
وسعت
ماہرین کا ماننا ہے کہ ان مظاہروں کا پھیلاؤ غیر معمولی ہے۔ علی خرسندفر کا کہنا ہے کہ ’مظاہرے چھوٹے شہروں تک پھیل چکے ہیں جن کے نام بھی لوگوں نے آج سے پہلے نہیں سنے ہوں گے۔‘
BBCعلی خرسندفر کا کہنا ہے کہ ’مظاہرے چھوٹے شہروں تک پھیل چکے ہیں جن کے نام بھی لوگوں نے آج سے پہلے نہیں سنے ہوں گے‘
ایسا نہیں کہ ایران میں اس سے پہلے حکومت مخالف مظاہرے نہیں ہوئے۔ 2009 میں الیکشن فراڈ کے خلاف احتجاج ہوا۔ تاہم یہ بڑے شہروں تک محدود رہا تھا۔ اس کے علاوہ 2017 اور 2019 میں ہونے والے مظاہرے ملک کے ایسے علاقوں تک محدود رہے جو غریب تصور کیے جاتے ہیں۔
شاید حالیہ مظاہروں کی مماثلت 2022 میں ہونے والے مظاہروں سے ہو سکتی ہے جب 22 سالہ مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد حکومت کے خلاف احتجاج شروع ہوا تھا۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ مظاہرے زیادہ بڑی سطح پر ہیں اور تسلسل کے ساتھ ان کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ٹرمپ کے شکرگزار اور بادشاہت کی بحالی کے حامی: جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے ایران کے سابق ولی عہد رضا پہلوی کون ہیں؟’شیر اور سورج کو ہٹایا جائے‘: خمینی کی طرف سے ممنوعہ قرار دیا گیا جھنڈا جو ایرانی مظاہرین نے تھام لیا’خطروں کا سوداگر‘: پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نام ایران کے جوہری پروگرام سے کیوں جوڑا جاتا ہے؟مغرب سے ’ڈکٹیشن‘ لینے والا ایران اسلامی انقلاب کے بعد امریکہ اور اسرائیل کا ’ازلی دشمن‘ کیسے بنا
2022 کی طرح ہی حالیہ مظاہروں کی جڑ بھی ایک ایسی مخصوص شکایت میں ہے جو نظام کی تبدیلی کے مطالبوں میں بدل چکی ہے۔
علی کا کہنا ہے کہ 2022 کی تحریک خواتین کے معاملے سے شروع ہوئی لیکن اس میں دیگر مسائل بھی اجاگر ہوئے۔ 2025 دسمبر میں جو مسائل پہلے سامنے آئے وہ معاشی نوعیت کے تھے لیکن بہت جلد ان دونوں مظاہروں کے مرکزی پیغام میں مماثلت دیکھنے کو ملی۔
دسمبر کے اختتام پر تہران میں تاجر اس وقت ہڑتال پر چلے گئے تھے جب امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایرانی ریال کی قیمت میں تیزی دے تبدیلی آئی۔
پھر احتجاج ملک کے مغربی علاقوں میں پھیلا اور دسمبر میں ہی ہزاروں کی جگہ لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ ان میں ملک کی وہ مڈل کلاس بھی شامل تھی جو افراط زر اور معاشی بحران کا سامنا کر رہی ہے۔
تاہم مظاہروں کے دوران اب ایک نعرہ جو اکثر سننے کو ملتا ہے وہ ایرانی رہبر اعلی آیت اللہ خامنہ ای کو ہٹانے اور ان کی سربراہی میں چلنے والی حکومت کے خاتمے سے متعلق ہیں۔
پہلوی عنصر
2022 میں ہونے والے مظاہروں میں کوئی قیادت نظر نہیں آئی اور یہ جلد ہی زور کھو بیٹھے تھے۔
اس کے برخلاف موجودہ مظاہروں میں جلا وطن رضا پہلوی، جو سابق شاہ ایران کے بیٹے ہیں، اس کوشش میں نظر آئے کہ وہ حکومت مخالف مظاہروں کو ملک سے باہر بیٹھ کر متاثر کر سکیں۔ شاید یہ بھی ایک وجہ ہے کہ حالیہ مظاہرے زیادہ دیر تک جاری رہے ہیں۔
ان مظاہروں میں پہلوی خاندان کی واپسی کا مطالبہ بھی پہلے سے زیادہ سنا گیا ہے۔ یاد رہے کہ رضا پہلوی نے خود کو جلا وطنی میں ہی شاہ ایران قرار دیا ہے۔ وہ امریکہ میں موجود ہیں۔
ایران میں سوشل میڈیا پر نوجوانوں کو ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کرتے دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ ان مظاہروں میں شرکت کریں۔ اور تہران جیسے بڑے شہروں میں ہونے والے مظاہروں کا حجم رضا پہلوی کی جانب سے سامنے آنے والے پیغامات کی افادیت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایک جانی پہچانی شخصیت کی موجودگی کی وجہ سے مظاہرین کے اس مطالبے کو تقویت ملی ہے کہ موجودہ حکومت کے خاتمے کے بعد کوئی متبادل موجود ہے۔
تاہم دیگر تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ رضا پہلوی کی حمایت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ملک میں بادشاہت کے دور میں واپسی کی خواہش بڑے پیمانے پر موجود ہے۔ ان کے مطابق یہ موجودہ حکومت سے مایوسی کا اظہار ہے۔
ٹرمپ کی دھمکی
حالیہ مظاہروں کی سب سے اہم چیز امریکہ ہے۔ اس سال ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت مخالف مظاہروں کو امریکی حمایت حاصل ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ وہ حکومتی عہدیداران کو نشانہ بنا سکتے ہیں جو پہلے کبھی نہیں ہوا ہے۔
2009 میں الیکشن فراڈ کے خلاف مظاہروں کے دوران ایران میں ’اوباما‘ کے نام کے نعرے لگے تھے جن میں سابق امریکی صدر کو پکارتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ’آپ ہمارے ساتھ ہیں یا خلاف۔‘
بعد میں اوباما نے کہا تھا کہ انھیں ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کی زیادہ پرجوش طریقے سے حمایت نہ کرنے کا دکھ تھا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ حالیہ مظاہروں کو ’ایران کے دشمن استعمال‘ کر رہے ہیں۔ لیکن ان کے لیے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ایران کے دوستوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔
ایران شام میں بشار الاسد کی حمایت کھو چکا ہے جبکہ لبنان میں حزب اللہ بھی اسرائیلی کارروائیوں کی وجہ سے کمزور ہو چکی ہے۔
اسرائیل
حالیہ مظاہرے اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے بعد ہوئے ہیں جب امریکہ نے بھی ایران پر حملہ کیا تھا۔
صحافی عباس عابدی کا ماننا ہے کہ اس کی وجہ سے ’ایرانی حکام کے پاس ایک موقع تھا کہ وہ عوام میں اتحاد پیدا کر سکیں لیکن حکومت اس جنگ کا فائدہ اٹھانے میں ناکام رہی۔‘
چند ماہرین کا ماننا ہے کہ اسرائیل سے جنگ کی وجہ سے پاسداران انقلاب کی شہرت اور ساکھ کو نقصان پہنچا جو ملک کی مرکزی عسکری طاقت سمجھی جاتی ہے۔
بی بی سی نیوز فارسی، بی بی سی گلوبل جرنلزم اور مشرق وسطی کی صحافی ندا سنجی کی رپورٹنگ اور تجزیے کے ساتھ
’شیر اور سورج کو ہٹایا جائے‘: خمینی کی طرف سے ممنوعہ قرار دیا گیا جھنڈا جو ایرانی مظاہرین نے تھام لیاٹرمپ کے شکرگزار اور بادشاہت کی بحالی کے حامی: جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے ایران کے سابق ولی عہد رضا پہلوی کون ہیں؟ایرانی جوہری پروگرام کے تناظر میں پاکستان، پرویز مشرف اور ڈاکٹر عبدالقدیر کا تذکرہ: پوتن، بُش ملاقاتوں میں کیا بات ہوئی؟اس رات کی کہانی جب امریکی پائلٹوں نے اسرائیل پر ایرانی حملہ ناکام بنایا’خطروں کا سوداگر‘: پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نام ایران کے جوہری پروگرام سے کیوں جوڑا جاتا ہے؟مغرب سے ’ڈکٹیشن‘ لینے والا ایران اسلامی انقلاب کے بعد امریکہ اور اسرائیل کا ’ازلی دشمن‘ کیسے بنا