طاقت میں اضافے سے یادداشت میں بہتری تک، ایک ٹانگ پر کھڑے رہنے کے حیران کن فوائد

بی بی سی اردو  |  Jan 24, 2026

جب تک کہ آپ فلیمنگو (ایک ٹانگ پر کھڑا رہنے والا پرندہ) نہیں ہیں، ایک ٹانگ پر کھڑے رہنا ایسی چیز نہیں ہے جس میں آپ شاید بہت زیادہ وقت صرف کریں۔

جب ہم جوان ہوتے ہیں تو عام طور پر ایک ٹانگ پر توازن رکھنا بہت زیادہ مشکل نہیں ہوتا۔ عام طور پر اس پوز کو رکھنے کی ہماری صلاحیت نو سے 10 سال کی عمر میں پختہ ہو جاتی ہے۔ پھر ہمارا توازن گرنے سے پہلے 30 کی دہائی کے آخر میں عروج پر ہوتا ہے۔

اگر آپ کی عمر 50 سال سے زیادہ ہے، تو آپ کی ایک ٹانگ پر چند سیکنڈ سے زیادہ توازن رکھنے کی صلاحیت آپ کی عمومی صحت اور آپ کی بڑھتی عمرکے بارے میں حیران کن چیزوں کی نشاندہی کر سکتی ہے۔

لیکن کچھ اچھی وجوہات بھی ہیں جن کی وجہ سے آپ ایک ٹانگ پر کچھ وقت کے لیے کھڑے رہنا پسند کریں گے۔ اس سے آپ کے جسم اور دماغ کو بہت سے فوائد مل سکتے ہیں، جیسے گرنے کے خطرے کو کم کرنے میں مدد، آپ کی طاقت کو بڑھانا اور آپ کی یادداشت کو بہتر بنانا۔

یہ سادہ ورزش آپ کی عمر کے ساتھ ساتھ آپ کی صحت پر بہت زیادہ اثر ڈال سکتی ہے۔

امریکن اکیڈمی آف فزیکل میڈیسن اینڈ ری ہیبلیٹیشن کی ماہر ٹریسی ایسپیریٹو میکے کہتی ہیں کہ ’اگر آپ کو لگے کہ یہ آسان نہیں ہے تو وقت آ گیا ہے کہ آپ اپنا توازن برقرار رکھنے کی مشق شروع کر دیں۔ (اس تحریر میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ کس طرح ایک ٹانگ پر توازن برقرار رکھا جا سکتا ہے۔)

توازن کا خیال رکھنا کیوں ضروری ہے؟Getty Images

ڈاکٹرز کی جانب سے ایک ٹانگ پر کھڑے ہونے کو صحت کے پیمانے کے طور پر جانچنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کا تعلق وقت کے ساتھ ساتھ پٹھوں کے ٹشوز کے کمزور پڑنے سے ہے۔

تیس سال کی عمر کے بعد مسلز آٹھ فیصد فی دہائی کی شرح سے کمزور پڑتے ہیں۔ جب ہم 80 برس کی عمر کو پہنچتے ہیں تو ماہرین کے مطابق 50 فیصد افراد پٹھوں کے درد کا شکار ہو جاتے ہیں۔

اس کا تعلق بلڈ شوگر کے کم ہونے سے لے کر بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت میں کمی تک ہر چیز سے ہے، لیکن چونکہ یہ پٹھوں کے مختلف گروپوں کی طاقت کو متاثر کرتا ہے، اس لیے یہ آپ کی ایک ٹانگ پر توازن رکھنے کی صلاحیت سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔

اس لیے تحقیق میں یہ سامنے آیا ہے کہ جو لوگ ایک ہی ٹانگ پر کھڑے ہونے کی مشق کرتے ہیں، ان کے بعد کی دہائیوں میں پٹھوں کے درد یا کھچاؤ کا خطرہ کم رہتا ہے۔ کیونکہ یہ سادہ سی ورزش ٹانگوں اور کولہے کے پٹھوں کو مضبوط رکھنے میں مدد دیتی ہے۔

امریکی ریاست منیسوٹا میں میو کلینک لیب میں ڈائریکٹر کینٹن کافمین کہتے ہیں کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ایک ٹانگ پر کھڑے ہونے کی صلاحیت بھی کم ہو جاتی ہے۔

’لوگ 50 یا 60 سال کی عمر میں یہ محسوس کرتے ہیں کہ انھیں ایک ٹانگ پر کھڑے ہونے میں مشکل ہو رہی ہے۔۔آنے والی دہائیوں میں اس میں کافی حد تک اضافہ ہو جاتا ہے۔‘

ایک اور زیادہ دلچسپ وجہ یہ بھی ہے کہ ایک ٹانگ پر توازن رکھنے کی ہماری صلاحیت کا تعلق ہمارے دماغ سے بھی ہے۔

اُن کے بقول بظاہر اس سادہسے پوز کے لیے نہ صرف پٹھوں کی طاقت اور لچک کی ضرورت ہوتی ہے۔ بلکہ آپ کا دماغ آپ کی آنکھوں سے معلومات کو یکجا کرنے کی صلاحیت، کان کے اندرونی حصے میں توازن کا مرکز جسے ویسٹیبلر اور سومیٹوسینسری سسٹم بھی حرکت میں آتا ہے۔

یوگا کی آٹھ پوزیشنز جو نجات کے آٹھ دروازے کھول دیںلاہور کے پارک میں یوگا: ’مجھے روکنے کے بجائے مردوں کو یہاں سے جانے کا کیوں نہیں کہتے؟آنکھوں کا یوگا: کیا ورزش بینائی کو بہتر بنانے میں مدد کر سکتی ہے؟ہمیں ایک دن میں کتنا پانی پینا چاہیے اور ضرورت سے زیادہ پانی پینا صحت کے لیے کتنا بڑا خطرہ ہے؟

یہ اعصاب کا ایک پیچیدہ نیٹ ورک ہے جو ہمیں جسم کی پوزیشن اور ہمارے نیچے کی زمین دونوں کو محسوس کرنے میں مدد کرتا ہے۔

کافمین کا کہنا ہے کہ ’یہ تمام نظام عمر کے ساتھ مختلف مرحلوں پر تنزلی کا شکار ہوتے ہیں۔‘

اُن کے بقول اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی ایک ٹانگ پر کھڑے ہونے کی صلاحیت دماغ کے اہم حصوں کی بنیادی حالت کے بارے میں بہت کچھ ظاہر کر سکتی ہے۔ اس میں وہ حصے بھی شامل ہیں جو آپ کے ردِعمل کی رفتار کے ذمے دار ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہم سب کو ایک خاص مقدار میں دماغی ایٹروفی یا عمر کے ساتھ پٹھے سکڑ جانے کا تجربہ ہوتا ہے، لیکن اگر یہ بہت جلد ہونا شروع ہو جائے، تو یہ آپ کے جسمانی طور پر متحرک رہنے، اپنے بعد کے سالوں میں آزادانہ زندگی گزارنے اور آپ کے گرنے کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔‘

ہسپتالوں سے جمع ہونے والے ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ غیر ارادی طور پر گرنا، جو عام طور پر توازن کھونے سے ہوتا ہے۔ یہ امریکہ میں 65 سال سے زائد عمر کے افراد کے زخمی ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ ایک ٹانگ کی مشقیں گرنے کے اس خطرے کو کم کرنے کا ایک اچھا طریقہ ہو سکتا ہے۔

Getty Images

حیرت انگیز طور پر ایک ٹانگ پر کھڑے ہونے کی صلاحیت آپ کی قبل از وقت موت کے قلیل مدتی خطرے کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ سنہ 2022 کی ایک تحقیق کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ جو لوگ درمیانی عمرمیں 10 سیکنڈ تک ایک ٹانگ پر توازن نہیں رکھ پاتے، ان کے اگلے سات برسوں میں کسی بھی وجہ سے مرنے کا امکان 84 فیصد سے زیادہ تھا۔

ایک اور تحقیق میں 50 برس کی عمر کے 2760 مردوں اور عورتوں کے مختلف ٹیسٹس کیے گئے۔ اُن میں گرفت کی طاقت، ایک منٹ میں اٹھک بیٹھک، آنکھیں بند کر کے کتنی دیر تک کھڑے رہ سکتے ہیں۔۔۔۔ یہ سب دیکھا گیا۔

ایک ٹانگ پر کھڑے ہونے کا ٹیسٹ بیماری کے خطرے کو جانچنے کے لیے سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہوا۔ وہ لوگ جو صرف دو سیکنڈ یا اس سے کم وقت کے لیے ایک ٹانگ پر کھڑے رہ سکے، اگلے 13 برسوں میں اُن کے مرنے کا امکان اُن لوگوں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ تھا جو 10 سیکنڈ یا اس سے زیادہ دیر تک کھڑے رہ سکے۔

ایسپیریٹو میکے کے مطابق یہی رجحان ڈیمنشیا کے مریضوں میں بھی دیکھا گیا ہے۔

جو لوگ ایک ٹانگ پر توازن برقرار رکھ پاتے ہیں، اُن میں دماغی صلاحیت میں کمی نسبتاً سست ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ الزائمر کے مریض اگر پانچ سیکنڈ تک بھی ایک ٹانگ پر کھڑے نہ رہ سکیں، تو یہ عام طور پر سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت میں تیز کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔

توازن برقرار رکھنے کی مشق

بہتر خبر یہ ہے کہ تحقیق سے ظاہر کرتی ہے کہ ہم ایک ٹانگ پر کھڑے ہونے کی سرگرمی سے مشق کرکے عمر سے متعلق ان مسائل کے خطرات کو کم کرنے کے لیے بہت کچھ کرسکتے ہیں۔

اس طرح کی مشقیں جسے سائنسدان ’سنگل لیگ ٹریننگ‘ کہتے ہیں، نہ صرف آپ کی ریڑھ کی ہڈی بلکہ آپ کے کولہے اور ٹانگوں کے پٹھوں اور دماغی صحت کو بھی بہتر بناتی ہے۔

Getty Images

ماہرین کے مطابق ایک ٹانگ پر کھڑے ہونا دماغ کے افعال کو بہتر بنانے اور ہماری ذہانت بڑھانے میں بھی فائدہ مند ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق یہ صحت مند نوجوان بالغوں کی کام کرنے والی یادداشت کو بھی بہتر بنا سکتا ہے۔

ایسپیریٹو میکے کے بقول 65 سال سے زائد عمر کے لوگوں کو اپنی نقل و حرکت کو بہتر بنانے کے لیے ہفتے میں کم از کم تین بار سنگل لیگ کی مشقیں شروع کر دینی چاہییں۔ ساتھ ہی ان کے مستقبل میں گرنے کے خطرے کو بھی کم کرتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اسے روزمرہ کے معمول میں شامل کرنا چاہیے۔

ریو ڈی جنیرو کے کلینیمیکس کلینک میں محقق کلاڈیو گل اراجو تجویز کرتے ہیں کہ 50 سال سے زیادہ عمر کے افراد کو 10 سیکنڈز تک ایک ٹانگ پر کھڑے ہونے کی صلاحیت کا خود جائزہ لینا چاہیے۔

اُن کا کہنا تھا کہ آپ ایک ٹانگ پر 10 سیکنڈ تک کھڑے رہ سکتے ہیں اور پھر دانت برش کرتے ہوئے دوسری ٹانگ پر جا سکتے ہیں۔ میں اسے ننگے پاؤں اور جوتے دونوں کے ساتھ کرنے کی بھی تجویز کرتا ہوں، کیونکہ وہ قدرے مختلف ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ روزانہ کی سرگرمیاں جیسے سنک پر کھڑے ہو کر برتن دھوتے ہوئے یا دانت صاف کرتے ہوئے ایک ٹانگ پر کھڑے ہونے کی صلاحیتوں کا بہترین ذریعہ ہیں۔

یوگا کی آٹھ پوزیشنز جو نجات کے آٹھ دروازے کھول دیںآنکھوں کا یوگا: کیا ورزش بینائی کو بہتر بنانے میں مدد کر سکتی ہے؟لاہور کے پارک میں یوگا: ’مجھے روکنے کے بجائے مردوں کو یہاں سے جانے کا کیوں نہیں کہتے؟ہمیں ایک دن میں کتنا پانی پینا چاہیے اور ضرورت سے زیادہ پانی پینا صحت کے لیے کتنا بڑا خطرہ ہے؟وہ پانچ غذائیں جو جسمانی تھکاوٹ اور سُستی کا خاتمہ کرتی ہیں
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More