’یقین نہیں آ رہا بہو نے میرے بیٹے کو قتل کر دیا‘: وہ واردات جس میں ’خاوند نے بیوی کو خود گولی مارنے کو کہا‘

بی بی سی اردو  |  Jan 26, 2026

یہ لگ بھگ شام سوا سات کا وقت تھا جب جاوید اقبال اپنی بیوی کے ساتھ گھر سے پیدل نکلے۔ لیکن اس دن انھوں نے اپنے سسر کے گاؤں جانے کے لیے عام راستے کے بجائے ایک سنسان سڑک کو چنا تھا۔

اس راستے پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ کچھ ہی دیر بعد ایک فائر کی آواز سنائی دی جس کے چند منٹ بعد جاوید اقبال کی بیوی نے لوگوں کو مدد کے لیے پکارنا شروع کر دیا۔

احمد خان روڈ پر واقع اس مقام پر جب لوگ پہنچے تو جاوید اقبال خون میں لت پت تھے۔ ان کی بیوی نے کہا کہ ڈاکو انھیں گولی مار کر فرار ہو گئے ہیں۔ پولیس کو کال کی گئی اور تحقیقات کا آغاز ہوا۔

لیکن اس واقعے کے تقریبا چار گھنٹے کے بعد رات ساڑے گیارہ بجے کے قریب پولیس نے جاوید اقبال کی اہلیہ کو ہی حراست میں لیتے ہوئے اعلان کیا کہ وہی اپنے خاوند کی مبینہ قاتلہ تھیں۔

میانوالی تھانہ صدر پولیس نے مقتول جاوید اقبال کے والد اللہ جوایا کی مدعیت میں ان کی اہلیہ کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے کے بعد انھیں جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا اور انھیں 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر ڈسٹرکٹ جیل میانوالی بھجوا دیا گیا ہے۔

میانوالی پولیس ترجمان کے مطابق آلہ قتل (30 بور کا پستول) اور خاتون کے موبائل فون کا فرانزک کروانے کے لیے دونوں اشیا کو لیبارٹری بھجوا دیا گیا ہے۔

تھانہ صدر میانوالی میں درج ہونے والی ایف آئی آر کے مطابق مقتول کے والد نے پولیس کو بتایا کہ ’میاں بیوی میں پہلے سے گھریلو ناچاقی چل رہی تھی اور ان کی بہو نے اپنے شوہر کو دانستہ قتل کیا۔‘ ایف آئی آر میں کہا گیا کہ ’جاوید اقبال اپنی بیوی کے ساتھ سسر کے گھر جا رہے تھے جب اچانک راستے میں کلثوم بی بی نے اپنے خاوند جاوید اقبال سے پستول چھین کر اس پر فائر کر دیا جو اسے دائیں کندھے کے پچھلی طرف لگا اور گولی چھاتی کے آرپار ہو گئی۔‘

لیکن یہ معاملہ کیا ہے اور جاوید اقبال کی اہلیہ کو حراست میں کس بنیاد پر لیا گیا؟ بی بی سی اردو نے میانوالی پولیس سمیت مقتول جاوید اقبال اور ان کی اہلیہ کے اہلخانہ سے بات چیت کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ اس قتل کے مقدمے کے پیچھے کیا وجہ تھی۔

’موبائل فون چھپانا خاتون کو مشکوک کر گیا‘

اس واقعےکی اطلاع ملنے پر جب تھانہ صدر کی پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی تو جاوید اقبال کی لاش کے ساتھ ہی انھیں آلہ قتل یعنی 30 بور کا پستول بھی مل گیا۔

تفتیشی ٹیم کے انچارج ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس شیخ کاشف مسعود نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ جب پولیس نے خاتون سے پوچھا کہ ’یہ پستول کس کا ہے تو انھوں نے جواب دیا کہ ڈاکو فائر کرنے کے بعد جلد بازی میں پستول پھینک کر بھاگ گئے تھے۔‘

یہی جواب شک کی بنیاد بن گیا۔

تفتیشی آفیسر کا کہنا تھا کہ ’ڈاکو اپنا ہتھیار پھینک کر نہیں بھاگتے اور اس وقوعہ میں تو انھیں بظاہر مزاحمت کا بھی سامنا نہیں تھا، ایسے میں انھوں نے اپنا ہتھیار کیوں سڑک پر پھینکنا تھا؟‘

کاشف مسعود نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جاوید اقبال کے گھر سے ان کے سسر غلام رسول کے گھر کو جو راستہ جاتا ہے وہ آبادی کے بیچ سے ہو کر گزرتا ہے لیکن انھوں نے لمبا راستہ اختیار کیا جو ایک سنسان سڑک (احمد خان روڈ) تھی۔‘

ملزمہ نے پولیس کو بتایا کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ اپنے والد کو تین لاکھ روپے کی رقم لوٹانے جا رہے تھے جو ان سے ڈاکو چھین کر فرار ہو گئے۔

پولیس افسر کے مطابق خاتون سے جب یہ پوچھا گیا کہ انھوں نے شام سات بجے کے بعد سنسان راستے کا انتخاب کیوں کیا تو اس کا بھی وہ کوئی واضح جواب نہیں دے پائیں اور ’انھوں نے صرف یہ کہا کہ میرا خاوند ہی اس راستے سے لے آیا تھا۔‘

تفتیشی آفیسر نے دعویٰ کیا کہ ’خاتون سے ان کا موبائل فون مانگا گیا تو انھوں نے کہا کہ موبائل فون ڈاکو چھین کر لے گئے ہیں لیکن جب لیڈیز پولیس نے خاتون کی تلاشی لی تو زیرجامہ سے موبائل فون برآمد ہو گیا۔ کاشف مسعود کے مطابق اس پر ملزمہ نے موقف اختیار کیا کہ وہ بھول گئی تھی کہ اس نے موبائل فون کہاں رکھا تھا۔‘

میانوالی پولیس کے مطابق یوں چند گھنٹوں میں اندھا قتل ٹریس کر لیا گیا۔

’طوطوں اور پیسوں‘ کا جھانسہ دے کر بچوں کا ریپ: کراچی میں ویک اینڈ پر گھناؤنی وارداتیں کرنے والے ملزم کی ڈرامائی گرفتاریشوہر کے قتل کے الزام میں بیوی گرفتار: ’وہ زہر دینے کے بعد پورن ویڈیوز دیکھتی رہی‘تین بچوں کے قتل اور لاشیں نذر آتش کرنے کے الزام میں والدہ گرفتار: پولیس ملزمان تک پہنچنے میں کیسے کامیاب ہوئی؟گمشدہ بریف کیس، خون کے دھبے اور کھوجیوں کی خدمات: سلطان راہی کا قتل سازش تھی یا ڈکیتی کی واردات؟

لیکن جاوید اقبال کی بیوی نے انھیں کیوں قتل کیا اور اس معاملے کے پیچھے کیا کہانی چھپی ہوئی تھی؟

’ہم کہہ دیں گے ڈکیتی کی واردات ہوئی ہے‘

ضلع میانوالی کے گاؤں وانڈھا غلب لیانوالہ کے رہائشی غلام رسول اونٹوں کی خریدوفروخت کا کام کرتے ہیں۔ ان کی بیٹی کی شادی غلام رسول کے بھائی اللہ جوایا کے بیٹے جاوید اقبال کے ساتھ ہوئی اور ان کے چار بچے ہیں۔

پولیس کے مطابق غلام رسول نے لگ بھگ ساڑے سات ماہ قبل چھ لاکھ روپے اپنے داماد کے پاس بطور امانت رکھوائے تھے۔

میانوالی کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کیپٹن (ر) رائے محمد اجمل نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ پولیس کی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ ’غلام رسول نے داماد جاوید اقبال سے تین لاکھ روپے لیے ہوئے تھے، اور باقی تین لاکھ روپے جاوید اقبال کے پاس تھے۔‘ ان کے مطابق ’چند دن قبل جب غلام رسول نے بقایا تین لاکھ روپے بھی واپس مانگے تو جاوید اقبال پریشان ہو گیا۔‘

رائے محمد اجمل کے مطابق ’جاوید اقبال یہ رقم خرچ کر بیٹھا تھا۔ اس نے بیوی کو اعتماد میں لیا اور دونوں نے اس بارے پلاننگ کرنا شروع کردی کہ کسی طرح رقم کی واپسی نہ کرنا پڑے۔‘

ڈی پی او کیپٹن ریٹائرڈ رائے محمد اجمل نے بتایا کہ ’جاوید اقبال نے 15 ہزار روپے کا پستول خریدا اور گھر آ کر بیوی کو کہا کہ اگر ہم یہ کہہ دیں کہ ہمارے ساتھ ڈکیتی کی واردات ہو گئی ہے اور ڈاکو مجھے زخمی کرکے ہم سے پیسے چھین کر لے گئے ہیں تو غلام رسول ہماری بات پر اعتبار کر لیں گے۔ اس نے بیوی سے کہا کہ زخم تو کچھ دنوں میں ٹھیک ہو جائے گا۔‘

’انھوں نے گھر میں قرآن پاک پر باری باری ہاتھ رکھ کر ایک دوسرے کو قسم دی کہ اس بات کا کسی کو پتہ نہیں چلے گا اور دونوں کسی سے اس بات کا مستقبل میں ذکر نہیں کریں گے۔‘

’خاتون نے آنکھیں بند کر کے گولی چلائی‘

مقتول جاوید اقبال کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ، جو سول ہسپتال میانوالی سے جاری کی گئی ہے، میں کہا گیا ہے کہ مقتول کو دو فٹ سے بھی کم فاصلے سے گولی ماری گئی۔

تھانہ صدر کے ایس ایچ او رانا عبدالحق نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’خاتون نے پولیس کے روبرو جو بیان قلمبند کروایا اس میں بتایا گیا کہ اس کے خاوند نے مبینہ طور پر بازو کے اوپر والے حصے کی نشاندہی کرکے کہا تھا یہاں فائر کرنا تاکہ گولی گوشت کے آرپار ہو جائے اور ہڈی متاثر نہ ہو۔‘

’خاتون نے پولیس کو اپنے بیان میں بتایا کہ چونکہ وہ زندگی میں پہلی بار پستول چلا رہی تھی اس لیے ڈری ہوئی تھی اور گولی چلانے سے پہلے اس نے اپنی آنکھیں بند کر لی تھیں جو اس کی سنگین غلطی تھی۔ جب فائر ہوا تو پریشر سے اس کا ہاتھ ہل گیا اور گولی خاوند کی کمر پر لگ گئی جو سینے کے آرپار ہو گئی۔‘

’یقین نہیں آ رہا بہو نے میرے بیٹے کو قتل کر دیا‘

مقتول کے والد اللہ جوایا نے بی بی سی اردو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’جب ہمیں بیٹے کو گولی لگنے کے واقعہ کا علم ہوا تو سول ہسپتال میانوالی پہنچے جہاں بیٹے کی لاش موجود تھی۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’رات بارہ بجے کے قریب پولیس کی طرف سے مجھے کال آئی کہ آپ لوگ تھانے پہنچیں آپ کی بہو نے اعتراف جرم کر لیا ہے۔‘ ان کے مطابق ’ہم نے تھانے میں ہی بہو سے بات چیت کی، اس وقت وہ گھبرائی ہوئی تھی اور مسلسل رو رہی تھی۔‘

اللہ جوایا نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان کے بھائی اور جاوید اقبال کے سسر غلام رسول نے ایک اونٹ فروخت کرکے جاوید اقبال کو چھ لاکھ روپے بطور امانت دیے تھے جس میں سے تین لاکھ روپے واپس دے دیے گئے تھے اور تین لاکھ روپے جاوید اقبال کے پاس تھے۔

لیکن وہ کہتے ہیں کہ ’پولیس جو بات بتا رہی ہے وہ ہضم نہیں ہو رہی، اس نے تین لاکھ روپے کہاں خرچ کر لینے تھے۔‘

’پولیس کو چاہیے تھا کہ وہ جیل بھجوانے کے بجائے اسے تھانے رکھ کر کیس کی مکمل تحقیقات کرتی تاکہ اگر کوئی اور بات بھی ہو تو اس کا بھی پتہ چلایا جا سکے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’اگر بہو قصوروار ہے تو اسے سزا ملے اور اگر واقعی بیٹے کو ڈاکوؤں نے لوٹ کر گولی ماری ہے تو ان ڈاکوؤں کو پکڑا جانا چاہیے۔‘

ایف آئی آر کے حوالے سے اللہ جوایا کہتے ہیں کہ ’پولیس نے ہمیں جو درخواست لکھ کر دی تھی ہم نے اس پر دستخط کر دیے اور ایف آئی آر درج ہو گئی لیکن جب تک موبائل فون کا ریکارڈ اور مکمل ثبوت مہیا نہیں کیے جائیں گے ہم کیسے یقین کر لیں کہ قاتل اس کی بیوی ہی ہے۔‘

دوسری جانب ملزمہ کے والد غلام رسول نے اس بات کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے کہ ان کی بیٹی نے اپنے خاوند کو قتل کیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اگر میری بیٹی یا داماد کو پیسوں کی ضرورت ہوتی تو وہ مجھ سے مانگ سکتے تھے، میرا دونوں کے ساتھ خون کا رشتہ ہے، بیٹی تو بیٹی ہے، داماد بھی میرا سگا بھتیجا ہے، میں دونوں کو کیسے انکار کر سکتا تھا۔‘

غلام رسول کہتے ہیں کہ ’میں ان پڑھ ہوں، میرا کوئی بینک اکاؤنٹ نہیں اس وجہ سے میں اپنی رقم اکثر اپنے داماد کے پاس امانت کے طور پر رکھواتا تھا، اس نے آج تک کبھی ہیرا پھیری نہیں کی اور نہ ہی مجھ سے کبھی رقم کا تقاضا کیا۔ ہمارے گھر تو قیامت آگئی ہے، داماد قبر میں اور بیٹی جیل میں چلی گئی۔‘

ڈسٹرکٹ بار کے نائب صدر اور فوجداری قوانین کے ماہر شاہد اسلام کمبوہ ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ قتل عمد کا کیس ہے تاہم ملزمہ کے وکیل ٹرائل کے دوران اسے قتل خطا قرار دلوانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’جن کیسوں میں مقتول اور ملزم کا تعلق ایک ہی فیملی سے ہو وہاں کسی نہ کسی سطح پر معاملہ صلح صفائی پر ختم ہو جاتا ہے۔‘

’جاوید اقبال کے والدین اور بچے اس کے قانونی اور شرعی وارثان ہیں جو ملزمہ کو معاف کرنے یا نہ کرنے کا شرعی اور قانونی حق رکھتے ہیں۔‘

جاوید اقبال: ’100 بچوں‘ کا سفاک قاتل کیا شہرت کا بھوکا ذہنی مریض تھا؟’طوطوں اور پیسوں‘ کا جھانسہ دے کر بچوں کا ریپ: کراچی میں ویک اینڈ پر گھناؤنی وارداتیں کرنے والے ملزم کی ڈرامائی گرفتاریشوہر کے قتل کے الزام میں بیوی گرفتار: ’وہ زہر دینے کے بعد پورن ویڈیوز دیکھتی رہی‘گمشدہ بریف کیس، خون کے دھبے اور کھوجیوں کی خدمات: سلطان راہی کا قتل سازش تھی یا ڈکیتی کی واردات؟تین بچوں کے قتل اور لاشیں نذر آتش کرنے کے الزام میں والدہ گرفتار: پولیس ملزمان تک پہنچنے میں کیسے کامیاب ہوئی؟ریپ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کا ڈی این اے نامزد ملزم سے نہ ملنے پر پولیس اصل والد تک کیسے پہنچی؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More