پنجاب کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی میں کام کرنے والے طبّی عملے کے موبائل فون کے استعمال پر پابندی: ’حکومت وسائل دے، کارروائی کی دھمکی نہیں‘

بی بی سی اردو  |  Jan 26, 2026

BBCڈاکٹرز کے مطابق پابندی سے پنجاب کے ہسپتالوں میں مریضوں کی دیکھ بھال پر منفی اثر پڑ سکتا ہے: فائل فوٹو

پاکستان کے صوبے پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز نے دو روز قبل اپنے ایکس اکاؤنٹ سے ایک پوسٹ کی جس میں انھوں نے کہا کہ ’پنجاب کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی میں کام کرنے والا عملے اور ڈاکٹروں کے موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ ’مریضوں کا وقت اور ان کی دیکھ بھال ڈاکٹروں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ میری ٹیم ہسپتالوں کے اچانک دورے کرے گی اور اگر کوئی موبائل فون استعمال کرتا ہوا پکڑا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔‘

یاد رہے کہ تقریبا تین ہفتے قبل وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی صدارت میں ہونے والے ایک اجلاس میں یہ فیصلہ لیا گیا تھا کہ نرسوں اور ہسپتال عملے کو باڈی کیم لگائے جائیں گے جبکہ ڈاکٹرز اور ہسپتال عملے پر موبائل فون کے استعمال پر پابندی لگائی جائے گی۔

مریم نواز کے اس پیغام کے بعد سوشل میڈیا پر ڈاکٹرز کمیونٹی کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے جبکہ دوسری جانب عوام نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے اس فیصلے پر ملا جلا ردِ عمل دیا۔

اس فیصلے پر بات کرتے ہوئے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائے ڈی اے) پنجاب کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر حسیب کا کہنا تھا کہ ’دینا بھر میں ایسی مثال نہیں ملتی ہے اور جہاں ایسی پابندیاں ہیں وہاں حکومت وسائل بھی دیتی ہے جو ہمارے پاس نہیں ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ایسا فیصلہ لینے سے پہلے کسی سٹیک ہولڈر سے بات یا مشورہ نہیں کیا گیا، نہ یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ اس فیصلے کے نقصانات کیا ہو سکتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم مانتے ہیں کہ حکومت اگر ہسپتالوں کے معاملات بہتر کرنا چاہتی ہے تو اس کے بہت سے اور طریقے بھی ہیں۔ ہم موبائل فون کا استعمال اپنے کام کے لیے کرتے ہیں اور اگر کوئی ایسا ڈاکٹر یا عملہ ہے جو دوران ڈیوٹی موبائلٹک ٹاک یا کسی اور سوشل میڈیا استعمال کرتا ہے تو اسے بھی مانیٹر کیا جا سکتا ہے۔‘

’حکومت ڈاکٹرز کو وسائل دے نہ کہ ان کے خلاف کارروائی کی دھمکی دے جو اپنے وسائل سرکاری کاموں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔‘

ایک اور ڈاکٹر ڈاکٹر ابتحاج علی نے اس معاملے پر بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’سرکاری ہسپتالوں میں پہلے ہی ہمارے پاس کمیونیکیشن کے مسائل رہتے ہیں۔ جیسا کہ جب کوئی مشکل کیس ایمرجنسی میں آتا ہے تو اس مریض کا علاج وہاں موجود ڈاکٹر اکیلا نہیں کرتا ہے۔ ہمیں دوسرے شعبوں میں کال بھیج کر ڈاکٹرز کو بلانا پڑتا ہے یا پھر ان سے مشورہ کرنا پڑتا ہے جس کے لیے سرکاری ہسپتالوں میں کوئی ڈیجیٹل نظام موجود نہیں ہے۔‘

وہ ڈاکٹر جنھوں نے مریضوں کا پاخانہ کھا کر ثابت کیا کہ اُن کی بیماری کی وجہ جراثیم نہیں200 سے زائد مریضوں کا قاتل ڈاکٹر ٹائپ رائٹر کی ایک غلطی سے کیسے پکڑا گیا؟’کوئی پاکستانی کہتا ہے، کوئی انڈین‘: 16 سال قبل پاکستان سے انڈیا منتقل ہونے والے ڈاکٹر جو اب کسی ملک کے شہری نہیں’ڈرگ رزسٹینس‘ کیا ہے جو پاکستان سمیت دنیا بھر میں لاکھوں بچوں کی اموات کی وجہ ہے؟

انھوں نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں کاغذ پر لکھ کر کال بھیجی جاتی ہے یعنی کے ایک بندہ پیدل دوسرے ڈیپارٹمنٹ میں جاتا ہے، کال تلاش کرتا ہے اور وہاں سے جا کر ڈاکٹر کو بلا کر لاتا ہے۔ جس میں بہت وقت لگ جاتا ہے جو مریض کے لیے مزید نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

ان کے مطابق ’دوسرا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنے فون سے سینیئر ڈاکٹرز یا ڈیپارٹمنٹ میں ڈاکٹرز سے ان کے نمبر پر رابطہ کرتے ہیں اور ان سے مشورہ کرکے علاج اور ادویات کے بارے میں مشورہ لے کر علاج شروع کر دیتے ہیں۔اسی طرح جب ہم لوگوں کو ٹیسٹ کے لیے لیب بھیجتے ہیں تو کاغذی رپورٹ آنے میں وقت لگ جاتا ہے۔ اس لیے ہم لیبز والوں سے ڈیجیٹل رپورٹ منگوا لیتے ہیں اس سے وقت بچ جاتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہمارے پاس سرکاری ہسپتالوں میں وسائل کی کمی ہے جیسا کہ ڈیجیٹل نظام کا نہ ہونا۔ ایکسرے فلمز کی کمی جس کی وجہ سے ریڈیولوجی والے بھی ہمارے نمبر پر ہی رپورٹ بھیج دیتے ہیں۔‘

دنیا کے جن ممالک میں ڈاکٹرز کے موبائل فون استعمال کرنے پر پابندی ہے وہاں ریاست انھیں سرکاری فون، لیپ ٹاپ، ایپلیکیشنز اور ڈیٹا بیس بنا کر دیتی ہے تاکہ دوران ڈیوٹی وہ ماڈرن میڈیکل طریقوں اور علم کا استعمال کر سکیں۔

موبائل فون کے استعمال پر پابندی کیوں لگائی گئی ہے؟Getty Imagesڈاکٹرز کا دعویٰ ہے کہ حکومت انھیں وسائل نہیں دے رہی

بی بی سی کی جانب سے وزیر صحت پنجاب اور سیکریٹری صحت پنجاب سے رابطہ کیا گیا اور یہ سوال پوچھا گیا کہ ہسپتالوں میں عملے اور ڈاکٹرز موبائل فون کے استعمال پر بابندی کیوں لگائی گئی ہے، اور ڈاکٹرز کی جانب سے بتائے جانے سے ظاہر کیے جانے والے خدشات کے بارے میں سوال کیا گیا لیکن انھوں نے کسی قسم کا کوئی جواب نہیں دیا۔

تاہم دوسری جانب نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے محکمہ صحت پنجاب کے ایک افسر نے بتایا کہ ’سی ایم کی معائنہ ٹیم نے سرکاری ہسپتالوں کا دورہ کیا اور ڈاکٹرز اور عملے کی موبائل استعمال کرتے ہوئے تصاویر کھینچی جس کے بعد یہ معاملہ زیر بحث آیا۔‘

ان کے مطابق ’اس میں پہلے تجویز یہ پیش کی گئی تھی کہ ایمرجنسی میں جیمرز لگا دیے جائیں جس پر چیف سیکرٹری نے کہا کہ اس سے مریضوں کو بھی مشکل ہو گی۔ اس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ ڈاکٹرز اور عملے کے موبائل کے استعمال پر پابندی لگانا جیمرز لگانے سے بہتر ہے۔‘

’مکمل پابندی طبی حقائق کو نظر انداز کرتی ہے‘: سوشل میڈیا پر ردعمل

کئی سوشل میڈیا صارفین نے اس معاملے پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے اس فیصلے سے مریضوں کو بہتر طریقے سے علاج ملے گا اور ڈاکٹرز ان پر زیادہ توجہ دیں گے۔

دوسری جانب ڈاکٹر اس فیصلے پر شدید تنقیدکر ہے ہیں۔

ڈاکٹر احمد ریحان نے مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ’کیا اچانک فیصلہ لینے سے پہلے پریکٹس کرنے والے ڈاکٹروں سے کوئی مشاورت کی گئی تھی؟ اگر ایسا ہوتا تو آپ کو بتایا جاتا کہ سمارٹ فونز اب ادویات میں لگژری نہیں رہے، یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں ایک لازمی طبی ٹول ہیں۔‘

Getty Imagesڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ حکومت نے یہ فیصلہ لینے سے قبل ان سے مشاورت نہیں کی

ڈاکٹر احمد ریحان کے مطابق ’ادویات کی خوراکوں، تعاملات اور ضمنی اثرات کی جانچ کرنے سے لے کر علاج کے تازہ ترین رہنما خطوط کا جائزہ لینے تک، اپ ڈیٹ ڈیٹ جیسے پلیٹ فارم کا استعمال، طبی مسائل کے حل کے لیے اے آئی کا فائدہ اٹھانا، فوری رہنمائی کے لیے ایکس رے، سی ٹی سکین اور ای سی جی کا اشتراک اور یہاں تک کہ پرنٹ شدہ فلموں کی عدم دستیابی کی وجہ سے مریضوں کو سکین کے امیجز بھیجنا، مریضوں کی دیکھ بھال کرنے والی فلموں میں موبائل فونز کی جدید ترین فلمیں ہیں۔‘

تاہم انھوں نے مزید کہا کہ ’ہاں، غیر ضروری استعمال، سیلفیز، یا طریقہ کار کی تصویریں لینا ناقابل قبول ہے اور اس کے ساتھ سختی سے نمٹا جانا چاہیے۔ براہ مہربانی اس نوٹیفکیشن پر نظر ثانی کریں اور اسے واپس لیں کیونکہ اس کے جاری رہنے سے پنجاب کے ہسپتالوں میں مریضوں کی دیکھ بھال پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔‘

ڈاکٹر وقاص نے ایکس اکاؤنٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’اگر حکومت ہسپتالوں میں موبائل فون کے استعمال پر پابندی لگانے کا ارادہ رکھتی ہے تو اخلاقی اور پیشہ ورانہ طور پر اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ مؤثر اور عملی متبادل فراہم کرے، جیسے کہ ہسپتال سے جاری کردہ سمارٹ فونز، آئی پیڈ، پیجرز، یا محفوظ اندرونی مواصلاتی نظام۔ فعال متبادل فراہم کیے بغیر مکمل پابندی کا نفاذ لاپرواہی ہے اور مریضوں کو شدید خطرہ لاحق ہے۔‘

ایک صارف حسن نے اس معاملے پر لکھا کہ ’ڈاکٹرز کے لیے موبائل فون پر پابندی‘ کے بارے میں سب سے مزاحیہ بات یہ ہے کہ لاہور کا سب سے بڑا ٹرسٹی کیئر ہسپتال مریضوں کو ریڈیولوجی فلمیں فراہم نہیں کرتا اور ڈاکٹروں سے اسے فون پر واٹس ایپ کے ذریعے حاصل کرنے کو کہا جاتا ہے۔ ان بیوقوف بیوروکریٹس کا زمینی حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ۔‘

پنجاب کے ہسپتالوں میں نرسوں اور وارڈ بوائز کو باڈی کیم لگانے پر اعتراض: ’کون ضمانت دے گا کہ یہ ڈیٹا لیک نہیں ہوگا؟‘پاکستان میں خواتین ڈاکٹرز اور نرسز کو درپیش ہراسانی اور مشکلات: ’سب سے زیادہ خطرہ آپریشن تھیٹر میں ہوتا ہے‘برطانیہ میں ڈاکٹرز کی بڑھتی خودکشیاں: ’بھائی کی میت دیکھی تو ایسے شخص کی شکل دکھائی دی جو بہت پریشان تھا‘’شکر کریں میں آپ کو گرفتار نہیں کروا رہی‘: مریم نواز کے لاہور میو ہسپتال کے ’اچانک‘ دورے کے دوران کیا ہوا؟کولکتہ میں ریپ اور قتل کی گئی ڈاکٹر کے والدین: ’اس کے آخری الفاظ تھے کہ بابا اپنی دوائی وقت پر لیں، میری فکر نہ کریں‘سرکاری کالج پر مریم نواز کی تصویر والا جھنڈا لگانے پر پرنسپل کو وارننگ: ’کِس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں؟‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More