جب امام مہدی کی علامت سمجھے جانے والے کشتی ساز کے بیٹے نے سوڈان میں انقلاب کی بنیاد رکھی

بی بی سی اردو  |  Jan 31, 2026

Getty Imagesفروری 1884 کی ایک تصویر میں مہدی کو اپنی فوج کے ساتھ سواکن کے قریب دکھایا گیا ہے، جہاں اینگلو مصری افواج کا مرکز واقع تھا

26 جنوری 1885 کو مہدی کی فوجیں سوڈان کے دارالحکومت خرطوم پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ یہ واقعہ سوڈان کی جدید تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔

شہر پر حملے کے دوران چھاؤنی کی حفاظت کرنے والے دیگر افراد کے ہمراہ برطانوی کمانڈر چارلس گورڈن بھی مارے گئے۔ اس لمحے کے بعد محمد احمد المہدی کی جانب سے برپا کیا گیا انقلاب مکمل طور پر کامیاب ہو گیا۔

خرطوم کا محاصرہ مارچ 1884 میں شروع ہوا تھا جب المہدی اور ان کے حامیوں نے شہر کا گھیراؤ کر لیا اور رسد کے تمام راستے بند کر دیے، تاکہ شہر میں کسی بھی قسم کی عسکری اور غذائی مدد نہ پہنچائی جا سکے۔

یہ محاصرہ قریب 10 ماہ تک جاری رہا، اس دوران شہر میں محصور فوجیوں کی صحت گرتی گئی اور زندگی دشوار ہوتی گئی۔ جب کہ شہر کے گرد موجود المہدی کے حامی اپنے مورچے مضبوط کرتے رہے اور اثر و رسوخ بڑھاتے رہے۔

خرطوم فتح ہونے کے بعد سوڈان میں حکمران طاقت کے طور پر المہدی کا مقام مضبوط ہو گیا اور ایک ایسی ریاست کا قیام ممکن ہوا جو مذہبی اختیار اور سیاسی قیادت کا امتزاج تھی۔

تو محمد احمد المہدی کون تھے؟ مہدی انقلاب کیسے آیا اور انھیں عروج پر پہنچانے والے حالات کیا تھے؟

المہدیGetty Imagesمحمد احمد بن عبد اللہ: المہدی کی ایک تصویر

محمد احمد بن عبد اللہایک کشتی ساز کے بیٹے تھے اور ڈونگولا کے علاقے سے تعلق رکھتے تھے۔

1880 میں انھوں نے کردوفان صوبے کا دورہ کیا۔ یہاں اُنھوں نے آبادی میں پائے جانے والے عدم اطمینان کا مشاہدہ کیا اور حکومت کا ایسا طرز عمل دیکھا جو اُنھیں اپنے مذہبی عقائد کے خلاف لگا۔

جب اُنھوں نے خود کو مہدی قرار دیا تو ان کے پیروکاروں نے اُنھیں ایک ایسی شخصیت کے طور پر دیکھا جو تاریکی کا دور ختم کرے گی اور روشنی اور انصاف کا نیا دور شروع ہو گا۔

ایک مذہبی اصلاح کار، الہامی رہنما اور روحانی علامت کے طور پر ان کے حامیوں نے سمجھا کہ وہ اُن امام مہدی کے تصور پر پورا اترتے ہیں ( مسلمانوں کے عقائد کے مطابق) جن کا ظہور قیامت کے قریب ہو گا۔

مہدی کے گرد جمع ہونے والے پیروکاروں کو انصار کہا جاتا تھا۔ اُن میں سب سے اہم عبداللہ ابن محمد تھے جو بقارہ عربوں کے شیعہ قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ محمد احمد کی وفات کے بعد وہ مہدی ریاست کے خلیفہ بنے۔

علما، فقہا اور مشائخ نے مہدی کی صورت ایسا موقع دیکھا جسے استعمال کرتے ہوئے سوڈان کو پاک کیا جا سکتا تھا، اُس چیز سے، جسے وہ مصری حکومت کے تحت پیدا ہونے والا مذہبی انحطاط قرار دیتے تھے۔ اُنھوں نے مہدی سے اسلامی اقدار کی تجدید کی بڑی امیدیں وابستہ کر لیں۔

مہدی کے حامیوں میں تاجروں کی بھی بڑی تعداد موجود تھی۔ اُن میں سے بعض غلاموں کی تجارت سے وابستہ رہ چکے تھے اور اس تجارت کے خلاف جنرل گورڈن کی مہم سے متاثر ہوئے تھے۔ مہدی کی تحریک نے اُنھیں مذہبی جہاد تلے اپنا معاشی اثر و رسوخ پھر سے بحال کرنے کی امید دلائی۔

لیکن اُن میں سے کوئی بھی گروہ صرف اپنے طور پر وسیع انقلاب نہیں برپا کر سکتا تھا۔

جب تیمور کے سپاہیوں نے دلی میں سروں کا مینار بنا دیاحیدر علی : انگریزوں کے خلاف ڈٹ جانے والے ٹیپو سلطان کے والدجن کی فوج نے 'راکٹ کا پہلا استعمال' کیاہٹلر کے ڈی این اے ٹیسٹ پر اٹھتے سوال اور نازی آمر کے جنسی اعضا سے متعلق ایک صدی پرانی افواہلاہور میں ہونے والی اس شادی کی کہانی جس میں ’سونے کے سکوں کی بارش‘ نے انگریزوں کو حیران کر دیا

فیصلہ کن قوت بقارہ عربوں کے پاس تھی۔ وہ کردوفان اور دارفر کے خانہ بدوش تھے، مویشی پالتے تھے اور ٹیکسوں اور حکومت سے اپنی نفرت کی وجہ سے جانے جاتے تھے۔ یہ عرب مہدی فوج کی ریڑھ کی ہڈی اور اصل طاقت بنے۔ تعداد اور جوش میں اُن کی زیادتی نے اسلحے اور تنظیم میں کمی کی تلافی کر دی۔

مہدی کو گرفتار کرنے اور ان کی سرگرمیاں محدود کرنے میں حکومت کی ناکامیوں نے اُنھیں مزید مضبوط کر دیا۔ ستمبر 1882 تک ان کے حامی کردوفان صوبے پر مکمل قبضہ کر چکے تھے۔

پانچ نومبر 1883 کو شیکان کے مقام پر ہوئے معرکے میں اُنھوں نے برطانوی افسر ہکس پاشا کی قیادت میں لڑنے والے تقریباً 10 ہزار مصری فوجی کچل کر رکھ دیے۔

معرکہ شیکان کے بعد مصری حکومت کا قائم رہنا تقریباً ناممکن ہو گیا۔ جنرل چارلس جارج گورڈن کو آخری کوشش کے طور پر خرطوم بھیجا گیا تھا، لیکن وہ بھی تبدیل ہوتے حالات کے آگے بند نہ باندھ سکے۔

26 جنوری 1885 کو مہدی کی فوجیں خرطوم پر چڑھ دوڑیں، گورڈن سمیت شہر کا دفاع کرنے والے کئی افراد مار دیے گئے۔

خرطوم فتح کرنے کے بعد مہدی نے اپنی حکومت قائم کی اور نیل کے دوسرے کنارے واقع شہر ام درمان کو اس کا دارالخلافہ بنایا۔

یہ حکومت اُن کی کرشماتی شخصیت اور ایسے نظام پر قائم تھی جو مذہبی حاکمیت اور سیاسی قیادت کا امتزاج تھا۔ اُنھوں نے فوجی اور سول عہدیدار مقرر کر کے ایسے احکامات اور ضابطے بنائے، جن کا مقصد گذشتہ حکومتوں کے مختلف اسلامی قوانین کے مطابق معاشرے کی از سر نو تشکیل تھا۔

عبدالله التعائیشیGetty Imagesسوڈان میں 2 ستمبر 1898 کو ام درمان کی جنگ سے قبل عبداللہ التعائيشی کی قیادت میں مہدی افواج کی ایک تصویر

مہدی کے بعد ان کے جانشین عبداللہ التعائیشی نے اقتدار سنبھالا۔ اُن کی پہلی ذمہ داری اپنی طاقت کو مستحکم کرنا تھی، کیوں کہ مہدی ریاست کے اثر و رسوخ کے مراکز میں اختلافات اور تنازعات پائے جاتے تھے۔

اُنھوں نے مہدی کے کچھ رشتہ داروں کی جانب سے اپنی قانونی حیثیت چیلنج کرنے کی کوشش ناکام بنائی اور ام درمان میں موجود اپنے نمایاں مخالفین کو اُن کی افواج اور مصاحبین سے محروم کر دیا۔ اس سے اُنھیں ریاست کے حاکم کے طور پر اپنا اختیار مستحکم کرنے میں مدد ملی۔

اپنی داخلی پوزیشن مضبوط کرنے کے بعد خلیفہ نے اُس منصوبے کو آگے بڑھانے پر کام شروع کیا جو مہدی کے نام سے جڑا تھا۔ جس کا مقصد مہدی کی دعوت کو ایک توسیع پسند جہاد کے ذریعے سوڈان کی سرحدوں سے پار بھی پہنچانا تھا، تاکہ اسلام کا اِحیا ہو اور ریاست کا نفوذ بڑھے۔

دینی اخلاص کے ساتھ ساتھ سیاسی عزم اور عسکری توسیع کے جذبے سے عبداللہ التعائیشی نے کئی منازل کی طرف مہم جو بھیجے۔ تاہم، یہ پالیسی ایک پیچیدہ عسکری اور جغرافیائی حقیقت سے ٹکرا گئی۔ ریاست کے وسائل خطے کی طاقتوں کے مقابلے میں محدود تھے۔ یوں، 1880 کی دہائی کے آخر میں توسیع پسندی کی لہر اپنا جوش و خروش کھونے لگی۔

مغرب میں مہدی کی ریاست نے اپنا دائرہ کار دارفر تک پھیلایا، لیکن یہ زیادہ مستحکم نہ رہا اور کئی شورشیں جنم لیتی رہیں۔ مشرق میں مہدی کی فوجوں کا ایتھوپیا کے ساتھ ٹکراؤ ہوا اور چند کامیابیاں بھی ملیں۔ لیکن وہ توسیع مستقل نہ رہ سکی اور نہ ہی ریاست میں کوئی علاقہ شامل ہو سکا۔

جنوب میں مہدی کی فوجوں نے کچھ علاقوں میں محدود مدت کے لیے محدود پیمانے پر اثر و رسوخ قائم تو کیا لیکن اُن کی موجودگی کمزور اور غیر مستحکم رہی۔ یہاں تک کہ یہ 19 ویں صدی کے آخر میں وادی نیل کے بالائی علاقے میں بیرونی طاقتوں کی مداخلت سے زوال پذیر ہو گئی۔

اگست 1889 میں شمالی محاذ پر ہوئے معرکہ توشکی میں مہدی ریاست کو اپنی سب سے بڑی شکستوں میں سے ایک کا سامنا کرنا پڑا، جب اینگلو مصری فوج نے مہدی کی بڑی فوج کو تباہ کرکے رکھ دیا۔ اس سے مصر کی جانب پیش قدمی کے عزائم خاک میں مل گئے۔

جاری عسکری مہمات سے ریاست کے وسائل کم ہو رہے تھے، اور یہ اُس وقت ہوا جب زرعی پیداوار بھی کئی برسوں تک کمزور رہی۔ نتیجتاً، 1880 کی دہائی کے آخر اور 1990 کی دہائی کے شروع میں سوڈان کو بڑے پیمانے پر قحط اور وبا کا سامنا کرنا پڑا، اس سے بہت جانی نقصان ہوا۔

سنہ 1892 کے بعد زرعی حالات نسبتاً بہتر ہوئے اور ریاست محدود پیمانے پر داخلی استحکام دوبارہ حاصل کرنے لگی۔ خلیفہ بھی اپنی انتظامی گرفت دوبارہ قائم کرنے میں کامیاب ہوئے اور مہدی کی وفات کے بعد والے مشکل دور کے بعد ان کا اقتدار عوام کے کچھ حصوں کے لیے زیادہ قابل قبول ہو گیا۔

تاہم، ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج یورپ کی نو آبادیاتی طاقتوں، بالخصوص برطانیہ سے مقابلہ تھا، جو ہر لحاظ سے برتر تھیں۔ جن کے پاس اسلحہ بھی تھا، عسکری صلاحیت بھی تھی اور اُن کی فوج بھی منظم تھی۔ انصار کی بہادری، اُن کا مذہبی ولولہ اور اُنھیں متحرک کرنے کی خلیفہ کی صلاحیت، یہ سب مل کر بھی یورپی برتری کم نہ کر سکے۔

19 ویں صدی کے اختتام کے قریب مہدی ریاست کا اُس اینگلو مصری فوج کے ساتھ براہ راست ٹکراؤ ہوا جو سوڈان پر دوبارہ قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس ٹکراؤ سے وہ عمل شروع ہوا جس کے نتیجے میں چند سال بعد مہدی ریاست بھی ختم ہو گئی اور سوڈان کی جدید تاریخ کا سب سے نمایاں سیاسی اور مذہبی منصوبہ بھی اپنے انجام کو پہنچا۔

برطانوی یلغارGetty Imagesہوراشیو ہربرٹ کچنر نے ایک اینگلو مصری فوجی مہم کی قیادت کی، جس کا مقصد مہدی ریاست کا خاتمہ تھا

1882 میں برطانوی افواج نے حملہ کر کے مصر پر قبضہ کر لیا تاکہ غیر ملکی مفادات کے خلاف چلنے والی قومی تحریک کو دبایا جا سکے۔ اس کے بعد برطانوی فوجیں یہاں ہی موجود رہیں تاکہ خدوی حکومت کو کسی نئے خطرے کا سامنا نہ کرنا پڑے اور کسی دوسری یورپی طاقت کی جانب سے ممکنہ مداخلت کا راستہ بھی روکا جا سکے۔ اس کے دور رس نتائج نکلے۔

مصر پر برطانیہ کے مستقل قبضے کا تقاضا تھا کہ دریائے نیل کے آبی وسائل پر تصرف بھی یقینی بنایا جائے، جن کے بغیر مصر رہ ہی نہیں سکتا تھا، اور اِنھیں دیگر یورپی طاقتوں کے ہاتھ جانے سے بھی روکا جائے، کیوں کہ وہ دریا کا بہاؤ متاثر کر سکتی تھیں۔

لہذا برطانوی حکومت نے سفارتی اور عسکری داؤ پیچ کا سہارا لیا تاکہ اٹلی اور جرمنی کو وادی نیل سے باہر رکھنے کے لیے معاہدے کیے جا سکیں۔ لیکن فرانس کے ساتھ معاملات طے کرنے میں اس قدر کامیابی نہ مل سکی کیوں کہ اُس نے مصر سے برطانوی فوجوں کے انخلا کا مطالبہ کر دیا۔

جب یہ واضح ہو گیا کہ برطانیہ یہاں ہی قیام کے لیے پُرعزم ہے تو فرانس اُسے وادی نیل سے نکالنے کے طریقے سوچنے لگا۔ 1893 میں ایک فرانسیسی مہم کا ایسا پیچیدہ منصوبہ تیار کیا گیا جس کے تحت مغربی ساحل سے افریقہ عبور کرتے ہوئے وادی نیل کے بالائی مقام فاشودا تک پہنچنا تھا۔ خیال تھا کہ یہاں ایک ڈیم بنا کر دریائے نیل کا بہاؤ روکا جا سکتا ہے۔

منصوبہ عملی شکل تک پہنچنے سے پہلے کئی بار تاخیر کا شکار ہوا، اور آخر کار، جون 1886 میں کیپٹن ژاں بپتیستہ مخشاں کی قیادت میں فرانسیسی مہم شروع ہوئی۔

جب سنہ 1896 اور 1897 میں مخشاں کی فاشودا کی طرف پیش قدمی کی خبریں لندن پہنچیں تو برطانیہ وادی نیل کی حفاظت کے لیے اپنی صلاحیت کے بارے میں زیادہ پُر اعتماد نظر نہ آیا۔ برطانوی حکام نے فرانس سے پہلے فاشودا پہنچنے کے متعدد منصوبے بنائے، لیکن اُن کی سبھی کوششیں ناکام ہوئیں۔

سنہ 1897 کے موسم خزاں میں برطانوی حکام اس نتیجے پر پہنچے کہ سوڈان پر چڑھائی ضروری ہے تاکہ دریائے نیل کے پانیوں کو فرانس سے بچایا جائے۔ اکتوبر 1897 میں جنرل سر (جنھیں بعد میں لارڈ کا خطاب دیا گیا) ہوراشیو ہربرٹ کچنر کی قیادت میں اینگلو مصری فوج سوڈان پر حملے کے لیے روانہ ہوئی۔

کچنر احتیاط اور ثابت قدمی سے دریائے نیل کے ساتھ ساتھ پیش قدمی کرتے رہے اور اُن کی اینگلو مصری فوج نے آٹھ اپریل 1898 کو دریائے عطبرہ کے مقام پر مہدی فوج کی بڑی تعداد کو شکست دی۔ پھر ام درمان پر حتمی پیش قدمی سے پہلے تقریباً چار ماہ کی تیاری کی گئی۔ 2 ستمبر 1898 کو شہر سے باہر، 25 ہزار سپاہیوں اور خوب مسلح کچنر کی فوج کا سامنا عبداللہ التعائیشی کی 60 ہزار افراد پر مشتمل فوج سے ہوا۔

دوپہر تک ام درمان کی جنگ ختم ہو چکی تھی۔ مہدیوں کو بھاری نقصان اور فیصلہ کُن شکست ہو چکی تھی۔ خلیفہ عبداللہ التعائیشی جنوب میں سوڈان کی پہاڑیوں اور نیل کے خطے کی طرف فرار ہو گئے۔

چند دن ام درمان میں قیام کے بعد کچنر نے مختصر دستے کے ساتھ دریائے نیل کے کنارے رہتے ہوئے فلوشیدا کی طرف پیش قدمی شروع کر دی۔ 18 ستمبر 1898 کو ان کا سامنا مخشاں سے ہوا جِنھوں نے پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا۔ یوں، فاشودا کا وہ بحران شروع ہوا جس کی طویل عرصے سے توقع کی جا رہی تھی۔

فرانس اور برطانیہ، دونوں کی حکومتیں جنگ کے لیے تیاری کرنے لگیں، لیکن فرانسیسی فوج اور بحریہ لڑائی کے قابل نہ تھیں اور فرانس کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ مارچ 1899 میں برطانیہ اور فرانس کے درمیان معاہدہ طے پایا کہ افریقہ میں مشرق کی طرف فرانسیسی توسیع دریائے نیل کے بیسن تک رک جائے گی۔

اسی دوران جب عبداللہ التعائیشی اپنی باقی ماندہ فوج کو منظم کرنے کی کوشش کر رہے تھے، 24 نومبر 1899 کو ام دبيكرات کے معرکے میں اینگلو مصری فوجیں اُن پر حملہ آور ہو گئیں۔ اس لڑائی میں خلیفہ عبداللہ التعائیشی مار دیے گئے اور مہدی ریاست کی آخری مزاحمت بھی ختم ہو گئی۔ یوں، سوڈان میں برطانیہ اور مصر کے مشترکہ انتظام کا راستہ کھل گیا۔

دوہرا نظام حکومت Getty Imagesلارڈ کرومر نے برطانوی حکومت کی جانب سے دوہری حکومت کے معاہدے پر دستخط کیے

سوڈان میں حملے کے بعد برطانیہ کو اس کا انتظام سنبھالنے کی ذمہ داری کا سامنا تھا۔ لیکن برطانوی یلغار کے ساتھ جڑے قانونی اور سفارتی مسائل نے اس قدر وسیع علاقے کا انتظام سنبھالنا ایک پیچیدہ عمل بنا دیا۔

برطانیہ نے اپنے نو آبادیاتی مقام کے دفاع اور وادی نیل کے آبی وسائل کی حفاظت کے لیے عسکری مہم شروع کی تھی لیکن اس کے اخراجات کا زیادہ تر حصہ مصری خزانے سے ادا کیا گیا اور اس اینگلو مصری فوج میں برطانوی فوجیوں کے مقابلے میں مصری فوجیوں کی تعداد بھی زیادہ تھی۔

اس کے باوجود برطانیہ سوڈان کا انتظام مصر کے حوالے کرنے کو تیار نہ تھا۔ بہت سے برطانوی حکام اس بات کے قائل تھے کہ گذشتہ 60 سال تک جاری مصری حکمرانی نے وہ حالات پیدا کیے جن سے مہدی کی تحریک اُبھری۔

اس مسئلے کے حل کے لیے سنہ 1899 میں برطانوی مصری دوہری حکومت کا نظام قائم کیا گیا۔ 19 جنوری 1899 کو مصر اور برطانیہ نے دوہری حکمرانی کے معاہدے پر دستخط کیے۔ مصر کی جانب سے اس معاہدے پر دستخط کرنے والے مصری وزیر خارجہ بطرس پاشا غالی تھے، برطانیہ کی جانب سے لارڈ کرومر نے دستخط کیے۔

اس انتظام کے تحت سوڈان کو ایسا سیاسی درجہ ملا جن میں اس کی خود مختاری کو مصر کی خدوی حکومت اور تاج برطانیہ نے آپس میں بانٹ لیا، مصر اور برطانیہ کے پرچم ساتھ ساتھ لہرائے جاتے تھے، جب کہ عسکری اور سویلین حکومت کا انتظام ایسے گورنر جنرل کے ہاتھ میں تھا جس کی تعیناتی تو خدوی حکومت کرتی تھی لیکن اُسے نامزد حکومت برطانیہ کی جانب سے کیا جاتا تھا۔

لیکن شروع سے ہی اس دوہرے نظام حکومت پر برطانیہ نے اپنا تسلط قائم کر لیا۔ ایسی مذہبی بغاوتیں دبائی جانے لگیں جو برطانوی حکام کے لیے باعث تشویش تھیں لیکن ان کی حکمرانی کے لیے کوئی بڑا خطرہ نہیں تھیں۔

شمالی سوڈان میں نظم و نسق جلد بحال کر دیا گیا۔ سنہ 1900 شروع ہونے کے بعد سے انتظام فوج سے لے کر سول انتظامیہ کے حوالے کیا جانے لگا، جنھوں نے انتظامی اور بنیادی ڈھانچے میں بہتری لائی۔ اس نئے نظام کے خلاف جنوب میں مزاحمت زیادہ دیر تک جاری رہی، تو وہاں ترقیاتی کاموں کے بجائے انتظامی سرگرمیاں زیادہ تر امن و امان قائم رکھنے تک محدود رہیں۔

وائسرائے کا تحفہ: گولڈن ٹیمپل کی 122 سال پرانی گھڑی دوبارہ چل پڑیخلیفہ المتوکل کا قتل جس کے بعد ان کے غلام ترک سپاہی پہلے عباسی خلیفہ گر اور پھر مملوک خلیفہ بنےسلطنت عثمانیہ کے آخری سلطان جو قتل ہونے کے خوف سے اپنی جیب میں ہمیشہ پستول رکھتے تھےایک سلطنت کو تلواروں یا توپوں سے نہیں بلکہ کتوں کی مدد سے فتح کرنے کی کہانی: ’وہ اتنے بڑے تھے کہ لوگوں کو لگا شیر ہیں‘ہٹلر کے بہترین دوست اور نازی وزیر کی وہ ’حکمتِ عملی‘ جس نے انھیں پھانسی کے پھندے سے بچایاحسن بن صباح، قلعہ الموت اور جنت نما باغات میں رہنے والے فدائین: رازوں میں لپٹے نزاری فرقے کے عروج و زوال کی داستان
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More