پاکستان نے تین ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز کے دوسرے میچ میں آسٹریلیا کو 90 رنز سے ہرا کر سیریز اپنے نام کر لی ہے۔
سنیچر کے روز قذافی سٹیڈیم میں کھیلے جانے والے میچ میں پاکستان نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ اوورز میں پانچ وکٹوں کے نقصان پر 198 رنزبناتے ہوئے آسٹریلیا کو جیت کے لیے 199 رنز کا ہدف دیا۔
یاد رہے کہ تین ٹی ٹوئنٹی میچوں کی اس سیریز میں پاکستان کو پہلے ہی ایک صفر کی سبقت حاصل تھی جب پہلے میچ میں اس نے آسٹریلیا کو 26 رنز سے شکست دی تھی اور آج کے میچ کے بعد اب دو صفر سے پاکستان کو فیصلہ کن برتری مل گئی۔
آج کے میچ میں پاکستان کے کپتان سلمان علی آغا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔
پاکستان کے 199 رنز کے ہدف کے جواب میں آسٹریلیا کی ٹیم پاکستانی بولرز کا سامنا نہ کر سکی اور یکے بعد دیگرے اس کی وکٹیں گرتی گئیں۔
ہدف کے تعاقب میں آسٹریلیا کی ٹیم سولہویں اوورز میں 108 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی تھی۔
پاکستان کی بیٹنگ
آج کے میچ میں پاکستان کی جانب سے صائم ایوب اور صاحبزادہ فرحان نے اوپنر کے طور پر پچ سنبھالی تاہم پاکستان کی پہلی وکٹ دوسرے اوور کی چوتھی گیند پر گر گئی جب صاحبزادہ فرحان پانچ رنز بنا کر میتھیو کوہنیمن کے ہاتھوں آوٹ ہوئے۔
صاحبزادہ فرحان کے بعد پاکستانی کپتان سلمان علی آغا کریز پر آئے۔
دوسری جانب صائم ایوب چھٹے اوور میں ایل بی ڈبلیو ہونے کے باعث پویلین لوٹ گئے۔ انھوں نے 23 رنز بنائے تھے۔
آٹھویں اوور کے آغاز پر پاکستانی کھلاڑی بابر اعظم محض دو رنز بنا کر ایڈم زمپا کے ہاتھوں آوٹ ہو گئے۔
گیارہویں اوور تک تین کھلاڑیوں کے نقصان پر پاکستان کی ٹیم نے 100 رنز بنا لیے تھے۔
اس دوران سلمان علی آغا نے اپنی دھواں دھار اننگز میں آٹھ چوکے اور چار چھکے لگا کر پاکستانی ٹیم کو اچھا سکور دیا تاہم میچ کے تیرھویں اوور میں جب وہ 76 رنز بنا پائے تھے تو انھیں سین ایبٹ نے پویلین کی راہ دکھا دی۔ اس وقت تک پاکستان کا مجموعی سکور 125 رنز تھا۔
عثمان خان نے 36 گیندیں کھیل کر 53 رنز بنائے جس میں چار چوکے اور دو چھکے بھی شامل تھے تاہم بیسویں اوور میں وہ برٹلیٹ کے ہاتھوں آؤٹ ہر کر پویلین کو لوٹے۔
مقررہ اوورز کے اختتام کے باعث فہیم اشرف، نسیم شاہ، عثمان طارق اور ابرار احمد بیٹنگ نہ کر پائے۔
آسٹریلیا کی بیٹنگ
آسٹریلیا کی جانب سے مچل مارش اور ٹریویس ہیڈ نے بطور اوپنر کھیل کا آغاز کیا۔ تیسرے اوور کے اختتام پر آسٹریلیا کی بیٹنگ لائن لڑکھڑا گئی جب ابرار احمد نے مچل مارش کو آوٹ کر دیا۔ تیسرے اوور کے اختتام پر آسٹریلیا کا ایک کھلاڑی کے نقصان پر مجموعی سکور 22 رنز تھا۔
آسٹریلیا کے لیے چوتھے اوور کا آغاز مایوس کن رہا جب ان کی دوسری وکٹ پہلی گیند پر گر گئی۔ صائم ایوب کی اس گیند نے ٹریویس ہیڈ کو آوٹ کر کے پویلین کی راہ دکھا دی۔
ابرار احمد نے اپنی دوسری وکٹ جوش انگلس کو آوٹ کر کے حاصل کی۔
ساتویں اوور میں میٹ رنشا کو محمد نواز نے آؤٹ کیا جبکہ آٹھویں اوور میں شاداب خان نے کوپر کونولی کو آؤٹ کر دیا۔ کیمیرون گرین گیارھویں اوور میں شاداب خان کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے۔
چودھواں اوور بھی آسٹریلیا کے لیے مایوس کن رہا جب شاداب خان نے یکے بعد دیگرے آسٹریلیا کے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کر دیا۔
شاداب خان کے ہاتھوں آؤٹ ہونے والوں میں سین ایبٹ نے صفر اور زیویر بارٹلیٹ نے 10 رنز بنائے تھے اور اس وقت تک آسٹریلیا کا مجموعی سکور محض 98 رنز تھا۔
پندرھویں اوور میں شاداب احمد نے میتھو شارٹ کو آؤٹ کیا۔کیمرون گرین 35 اور میتھو شارٹ 27 رنز بنا سکے۔
تھرڈ امپائر کی ’کنفیوژن‘ اور صائم ایوب کی تعریفیں: سات سال بعد آسٹریلیا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی فتح میں کیا ہوا؟پاکستان نے ٹی 20 ورلڈ کپ یا انڈیا کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کیا تو آئی سی سی کو کتنا نقصان ہو سکتا ہے؟پی ایس ایل 11: نیلامی کے طریقہ کار کا اعلان، پاکستانی روپے میں ادائیگی اور غیر ملکی کھلاڑیوں کو راغب کرنے کے لیے بجٹ میں اضافہپاکستان کے ٹی20 ورلڈ کپ سکواڈ میں ’خوش قسمت بابر‘ شامل اور حارث رؤف ٹیم سے باہر: ’بے خوف ہو کر کرکٹ کھیلنا ہو گی‘سوشل میڈیا پر رد عمل
عروج جاوید نامی صارف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’لاہور میں تاریخ رقم ہو گئی۔ پاکستان نے سات سال بعد آسٹریلیا کے خلاف ٹی20 سیریز میں شاندار فتح حاصل کر لی۔‘
انھوں نے مزید لکھا کہ ’یہ جیت لاہور میں پاکستانی کرکٹ کے شائقین کے لیے یادگار لمحہ ہے۔ ٹیم نے بہترین کارکردگی دکھاتے ہوئے حریف ٹیم کو ہر محاذ پر پیچھے چھوڑ دیا۔‘
کرکٹ تجزیہ کار ریحان الحق نے عثمان خان کے کھیل کو خوب سراہا اور ان کی نصف سنچری لکھا کہ ’عثمان خان کی شاندار نصف سنچری، ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے ارتقا کے ساتھ مڈل اوورز میں بیٹنگ کرنا خاص طور پر مشکل ہوتا جا رہا ہے اور ایسی پچز پر کھیلنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔‘
عماد نامی صارف نے لکھا کہ ’عثمان آج 50 کے سکور کے بعد اگلے 10 سے 15 ٹی ٹوئنٹی میں پکا سمجھیں۔‘
بابر اعظم کی کارکردگی پر سوشل میڈیا پر کافی تنقید کی گئی۔
اینکر اجمل جامی نے لکھا کہ ’کیا بابر اعظم کا وقت گزر گیا؟ یا وہ اب بھی کچھ کمالات دکھا سکتے ہیں؟ اُن کی بیٹنگ تکنیک میں اصل مسئلہ کیا ہے؟
ایک صارف نے جواباً لکھا کہ ’بابر کبھی بھی ٹی ٹوئنٹی کھلاڑی نہیں تھے۔ وہ ون ڈے اور ٹیسٹ کرکٹ کھیل سکتے ہیں لیکن جب انھوں نے ٹی ٹوئنٹی کے مطابق اپنا انداز بدلنے کی کوشش کی تو اپنی تکنیک کھو بیٹھے۔‘
تھرڈ امپائر کی ’کنفیوژن‘ اور صائم ایوب کی تعریفیں: سات سال بعد آسٹریلیا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی فتح میں کیا ہوا؟پاکستان نے ٹی 20 ورلڈ کپ یا انڈیا کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کیا تو آئی سی سی کو کتنا نقصان ہو سکتا ہے؟پی ایس ایل 11: نیلامی کے طریقہ کار کا اعلان، پاکستانی روپے میں ادائیگی اور غیر ملکی کھلاڑیوں کو راغب کرنے کے لیے بجٹ میں اضافہپاکستان کے ٹی20 ورلڈ کپ سکواڈ میں ’خوش قسمت بابر‘ شامل اور حارث رؤف ٹیم سے باہر: ’بے خوف ہو کر کرکٹ کھیلنا ہو گی‘ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: انڈیا میں کھیلنے سے انکار بنگلہ دیش کو کتنا مہنگا پڑے گا؟رانا فواد اور لاہور قلندرز کی ملکیت پر بھائیوں کے درمیان تنازع: ’وہ ہمارے بڑے بھائی ہیں‘