’اصغر بھائی کہتے تھے کہ بیٹیاں بڑی ہو رہی ہیں اور اب ان کی شادیاں کرنی ہیں۔ عراق جا کر کام کر کے پیسے کماؤں گا تو ہی بیٹیوں کی شادیاں ہو سکیں گی۔ پردیس کوئی شوق سے نہیں کاٹتا، بندہ دن رات اپنے گھر والوں کے لیے مزدوری کرتا ہے تب جا کر گھر کے حالات ٹھیک ہوتے ہیں۔‘
یہ کہنا ہے گوجرانوالہ کے علاقے کنگنی والا کے رہائشی راشد منہاس کا جن کے بڑے بھائی اصغرعلی ایران کے سرحدی علاقے کرمان میں بارڈر کراسنگ کے دوران موت کے منھ میں چلے گئے۔
اصغر علی کی تدفین جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب مقامی قبرستان میں کی گئی۔
اس واقعے میں منڈی بہاؤالدین کے دو لڑکے محمد عبدالباسط اور علیان اسحاق جبکہ گوجرانوالہ کے چار افراد اصغر علی، حمزہ احسان، عدیل حسین اور احمد ایان کے نام سامنے آئے ہیں جنھوں نے دیگر افراد کے ساتھ ایران کے راستے عراق جانے کی کوشش کی۔
ان میں سے تین افراد کی لاشیں جمعرات کو بلوچستان انتظامیہ نے پنجاب بھجوائی تھیں۔ محمد عبدالباسط اور اصغر علی کی تو تدفین کر دی گئی لیکن جس لاش کو حمزہ احسان قرار دے کر بھجوایا گیا تھا، اس کی شناخت بارے میں تنازع پیدا ہونے پر تدفین نہیں کی گئی اور لاش کو سرد خانے میں رکھ دیا گیا۔
ایک لڑکے احمد ایان کا اپنے گھر والوں سے رابطہ ہو گیا کہ وہ زندہ سلامت ہیں اور عراق پہنچ چکے ہیں جبکہ دو لڑکوں (علیان احسان اور عدیل حسین) کے گھر والے اپنے بیٹوں کی زندگیوں کی آس لگائے بیٹھے ہیں کہ شاید ان کے بارے میں کوئی اچھی خبر آجائے۔
ان کے ورثا کا کہنا ہے کہ ان کا اپنے بیٹوں سے 19 دسمبر کے بعد کوئی رابطہ نہیں ہوا۔
اصغر علی اور محمد عبدالباسط کے ورثا نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ 19 اور 20 دسمبر کی درمیانی شب ایران کے شہر کرمان میں لوگوں کی ہلاکت ہوئی جس کی اطلاع اب سات ہفتے بعد ورثا کو دی گئی۔
’ڈنکی موت کا دوسرا نام‘
راشد منہاس نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے بڑے بھائی اصغر علی 13 دسمبر کو گوجرانوالہ سے روانہ ہوئے تھے اور ان کا 19 دسمبر تک گھر والوں کے ساتھ رابطہ رہا۔
اسی دن اصغر علی نے اپنے گھر والوں کو بتایا کہ ’میں آج رات عراق جا رہا ہوں اور وہاں پہنچ کر اب رابطہ کروں گا‘ لیکن پھر ان کا رابطہ نہ ہو سکا۔
راشد منہاس بتاتے ہیں کہ ’یہ 8 فروری اتوار کا دن تھا جب ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ کی طرف سے بھجوایا جانے والا سرکاری اہلکار ہمارے گھر آیا اور اصغر بھائی کا شناختی کارڈ دکھا کر پوچھا کہ یہ آپ کے کیا لگتے ہیں۔ ہم سب گھر والے پریشان ہو گئے اور میں نے کہا کہ یہ میرے بڑے بھائی ہیں اور بھابھی کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ ان کے شوہر ہیں۔‘
’اس پر اہلکار نے بتایا کہ یہ ایران میں وفات پا گئے ہیں، اگر آپ لوگوں نے لاش پاکستان منگوانی ہے تو اس اشٹام پیپر پر دستخط کر دیں۔‘
راشد منہاس کہتے ہیں کہ ’ہمارے گھر میں گویا قیامت آ گئی اور سب زاروقطار رونے لگے۔‘
’اشٹام پیپر پر دستحظ کر دیے تو وہ اپنا فون نمبر دے کر چلا گیا۔ دو روز بعد منگل کو جب میں نے اسے فون کیا اور بھائی کی لاش کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا کہ ابھی انتظار کریں کیونکہ جن لوگوں کی ہلاکت کی اطلاعات آئی تھیں ان میں سے کچھ زندہ ہیں۔‘
’یہ ایسی بات تھی جس نے ہمیں اندھیرے میں روشنی دکھائی۔ سب گھر والے مصلے پر بیٹھ گئے اور رو رو کر اللہ سے اصغر علی کی زندگی کی دعائیں مانگنے لگے لیکن انہونی کو کون ٹال سکتا ہے۔ اگلے ہی روز یعنی 11 فروری کے روز ڈی سی آفس سے کال آ گئی کہ کل رات آپ کے بھائی کی لاش آ رہی ہے، اس کی تدفین کا بندوبست کر لیں۔ ہمارے رکے ہوئے آنسو ایک بار پھر رواں ہو گئے، سب گھر والوں نے اصغر بھائی کی زندگی کی جو امید دلوں میں بنا لی تھی وہ یک دم ختم ہو کر رہ گئی۔‘
راشد منہاس کہتے ہیں کہ پہلے یہ اطلاعات آ رہی تھیں کہ ایران کے بارڈر پر سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے پاکستانی ہلاک ہوئے ہیں جن میں اصغر علی بھی شامل ہیں تاہم جب ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ کی ٹیم لاش لے کر ہمارے گھر پہنچی تو ان کا کہنا تھا کہ ان کو بلوچستان انتظامیہ کی طرف سے جو ڈاکومنٹس بھجوائے گئے ہیں ان کے مطابق یہ لوگ برفانی طوفان کی زد میں آ گئے تھے۔
’اصغر کی میت کو غسل بھی نہ دیا جا سکا کیونکہ ضلعی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ تابوت کو کھولنے کی اجازت نہیں۔ آپ لوگ شیشے سے چہرہ دیکھ سکتے ہیں۔ اگر لاش کو غسل دیا جاتا تو اس سے یہ پتہ چل سکتا تھا کہ جسم پر گولیوں کے نشان موجود ہیں یا نہیں۔‘
راشد منہاس کہتے ہیں کہ اصغر بھائی کی عمر پچاس سال سے زیادہ تھی اور ان کے چھ بچے ہیں۔ ’تینوں بیٹیاں بڑی ہیں جس وجہ سے وہ چاہتے تھے کہ بیٹیوں کی شادیوں کے فرض سے جلد سبکدوش ہو جائیں۔‘
’اصغر بھائی ایران میں کام کرتے رہے ہیں تاہم وہ دس ماہ پہلے پاکستان واپس آ گئے اور یہاں ایک فیکٹری میں کام کرنے لگے۔ یہاں نوکری سے گھر کا گزر بسر بمشکل پورا ہوتا تھا جس پر ایک روز انھوں نے کہا کہ مجھے پتہ چلا ہے کہ عراق میں کافی امریکی کمپنیاں آئی ہوئی ہیں اور وہ اچھی تنخواہ بھی دیتی ہیں، میں اب عراق جانا چاہتا ہوں تاکہ وہاں پانچ سات سال لگا کر گھر کے حالات ٹھیک کر لوں۔‘
راشد منہاس کہتے ہیں کہ ’میں نے بھائی کو منع کیا کہ آپ کی عمر زیادہ ہے آپ ڈنکی نہ لگانا لیکن انھوں نے مجھے تسلی دی اور کہا کہ ایجنٹ کہہ رہا ہے کہ آپ کو ایران سے بذریعہ سڑک لے کر عراق جاؤں گا، اس میں خطرے والی کوئی بات نہیں۔ ان کا ایجنٹ کے ساتھ تین لاکھ ستر ہزار روپے میں عراق لے جانے والا معاملہ طے پایا تھا۔‘
راشد منہاس کے کہتے ہیں کہ ’اصغر بھائی کی موت سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ ڈنکی موت کا دوسرا نام ہے۔ جو لوگ ڈنکی لگاتے ہیں ان کی زندگی کی ضمانت نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔‘
’کوئٹہ سے آگے ہم بار بار بِکتے ہیں‘: ڈنکی‘ کیا ہوتا ہے اور پاکستان سے لوگ کس طرح بیرون ملک سمگل ہوتے ہیں؟سوشل میڈیا پر پاکستانی نوجوانوں کو یورپ کے خواب دکھانے والے ایجنٹ: ’جس دن گیم ہو گی آپ کو کوئٹہ آنا ہو گا‘بھوک، پیاس اور سمندر میں پھینکے جانے کا خوف: پاکستانی تارکین وطن کے لاوارث کشتی پر گزرے 13 دن’اگر میں مر بھی گیا تو یہ خدا کی مرضی ہو گی‘: ڈنکی لگا کر یورپ کے کنیری جزائر پہنچنے کا پُرخطر سفرڈنکی لگانے والے تین لڑکوں میں سے ایک عراق پہنچ گیا، دو لاپتہ
گوجرانوالہ شہر کے قریب معافی والا کے علاقے سے 13 دسمبر کو تین لڑکے ڈنکی لگانے کے لیے ایک ساتھ نکلے جن میں سے ایک لڑکے کا اپنے گھر والوں سے رابطہ ہو گیا۔
احمد ایان نے اپنے گھر والوں کو بتایا کہ ’وہ عراق پہنچ گیا ہے‘ تاہم باقی دو لڑکوں کا اپنے گھر والوں سے آخری بار رابطہ 19 دسمبر کو ہوا جس کے بعد سے ان کا کچھ پتہ نہیں۔
قصبے معافی والا کے رہائشی غلام رسول نے بتایا کہ احمد ایان پہلے بھی عراق میں کام کر چکا ہے اور اس کا بہنوئی بھی وہاں مقیم ہے۔
’احمد ایان نے ہی عدیل حسین اور حمزہ احسان کو کہا تھا کہ اگر مستقبل بنانا ہے تو پاکستان چھوڑو اورعراق میں کام کرو اور وہاں پیسے کما کر یورپ نکل جاؤ۔‘
’تینوں نے کسی ایجنٹ کے ساتھ عراق جانے کا معاملہ مجموعی طور پر ساڑھے آٹھ لاکھ روپے میں طے کیا جس نے ان کے ایران میں زیارتوں کے ویزے لگوائے جس کے بعد یہ تینوں لڑکے 13 دسمبر کو معافی والا سے روانہ ہو گئے۔‘
عدیل کے والد محمد اسلم کا کہنا ہے کہ ان کا اگرچہ 19 دسمبر کے بعد اپنے بیٹے کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہوا لیکن وہ پرامید ہیں کہ ان کا بیٹا جہاں بھی ہو گا خیریت سے ہو گا اور جب اسے موقع ملے گا وہ گھر والوں سے رابطہ قائم کر لے گا۔
عدیل حسین کے ایک دوست عمر فاروق نے بتایا کہ عدیل معافی والا میں الیکٹریشن کا کام کرتا تھا اور جانے سے پہلے اپنے دوستوں کو کہہ کر گیا تھا کہ وہ جا تو عراق رہا ہے لیکن اس کی منزل یورپ ہے۔
میرے بیٹے کا اپنڈکس کا آپریشن ہوا تھا، یہ اس کی لاش نہیں
عدیل حسین اور حمزہ احسان ہمسائے ہیں۔ حمزہ کے والد چھ سات سال پہلے وفات پا گئے تھے اور ان کی معمر والدہ شہناز بی بی گھر کے قریب ہی کریانے کی دکان چلاتی ہیں۔
ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ کی طرف سے جمعرات کی شام حمزہ کی والدہ کو پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کے ساتھ جو لاش بھجوائی گئی تھی وہ ان کی والدہ نے وصول کرنے سے انکار کر دیا تھا اور کہا تھا کہ پاسپورٹ اور شناختی کارڈ تو ان کے بیٹے حمزہ کے ہی ہیں لیکن لاش ان کے بیٹے کی نہیں۔
ضلعی انتظامیہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ خاتون نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ ایک تو لاش کی شکل ان کے بیٹے سے بالکل بھی نہیں ملتی، دوسرا یہ کہ ان کے بیٹے حمزہ کا اپینڈکس کا آپریشن ہوا تھا لیکن لاش کے جسم پر اپینڈکس آپریشن کی کوئی علامات نہیں۔
ضلعی انتظامیہ نے خاتون کی طرف سے لاش وصولی سے انکار کے بعد لاش کو امانتاً سرد خانے میں رکھوا دیا اور اس بارے میں بلوچستان کی متعلقہ انتظامیہ کو بھی معاملے سے آگاہ کر دیا۔
حمزہ احسان کے ایک محلے دار حسن علی نے بتایا کہ حمزہ کی والدہ اور بڑی بہن، لوگوں کی آمدورفت اور غیرضروری سوال و جواب سے تنگ آ کر اپنے گھر کو تالہ لگا کر پسرور کے علاقے میں رشتے داروں کے گھر چلی گئی ہیں۔
حسن علی بتاتے ہیں کہ ’خالہ شہناز اپنی زندگی انتہائی مشکل حالات میں لیکن صبر سے بسر کر رہی ہیں۔ ان کا خاوند محنت مزدوری کرتا تھا تو یہ بھی ان کا ہاتھ بٹاتی تھیں، چھ سات سال پہلے خاوند فوت ہو گیا تو انھوں نے کریانے کی چھوٹی سے دکان کھول لی۔ حمزہ اس سے پہلے دو دفعہ ڈنکی لگانے کی کوشش کر چکا ہے لیکن وہ دونوں بار ناکام واپس آ گیا اور ماں کی جمع پونجی اجاڑ بیٹھا۔‘
’بیٹے کو قانونی طریقے سے باہر بھجوانا چاہتا تھا لیکن وہ ایجنٹ کے ہتھے چڑھ گیا‘
منڈی بہاؤالدین کے رہائشی محمد منشا گوندل کا بیٹا محمد عبدالباسط یورپ جانے کی کوشش میں ایران کے سرحدی شہر کرمان کے قریب ہلاک ہو گیا۔
محمد منشا کہتے ہیں کہ ’عبدالباسط میرے بڑھاپے کا سہارا اور میرا سب سے پیارا بیٹا تھا۔ وہ کہتا تھا کہ ایک دن آئے گا جب میں آپ کو اتنے پاؤنڈز بھجواؤں گا کہ آپ کو کام کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ مجھے کیا پتہ تھا کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہمیں چھوڑ کر چلا جائے گا۔‘
محمد منشا گوندل نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ وہ بسلسلہ روزگار جرمنی میں مقیم رہے ہیں تاہم وہ کچھ سال سے مستقل طور پر وطن واپس آ چکے تھے۔
ان کی خواہش تھی کہ ان کا بیٹا عبدالباسط ان کے پاس گاؤں میں ہی رہے اور یہاں کھیتی باڑی یا کوئی اور کاروبار کر لے لیکن عبدالباسط کے سر پر جنون سوار تھا اور ’وہ یہی کہتا تھا کہ جب اتنے سارے لوگ یورپ جا چکے ہیں تو میں کیوں نہیں جا سکتا۔‘
’میں اسے ہمیشہ کہتا تھا کہ تم میری آنکھوں کے سامنے رہا کرو، اگر وہ دیر سے گھر آتا تو میں پریشان ہو جاتا تھا۔‘
منشا گوندل نے بتایا کہ انھوں نے بیٹے کا جنون دیکھ کر کہا کہ وہ اسے قانونی طریقے سے ویزہ لگوا کر ملک سے باہر بھجوائیں گے۔
’اس کی عمر ابھی اٹھارہ سال نہیں ہوئی تھی اور اس نے سات مارچ کو اٹھارہ سال کا ہونا تھا۔ میں نے اس کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنوا لیا تھا اور ایک کنسلٹنٹ سے بات کر لی تھی جس نے کہا تھا کہ وہ کچھ عرصے بعد بیٹے کے ڈاکومنٹس تیار کرے گا کیونکہ اس کی کم عمر اس وقت سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔‘
محمد منشا گوندل بتاتے ہیں کہ اس کا اپنے دوست علیان اسحاق سے رابطہ ہوا تو اس نے کہا کہ تم پیسوں کا بندوبست کرو میں تمہیں ملک سے باہر جانے کا طریقہ بتاتا ہوں۔
انھوں نے بتایا کہ میں اس بات سے لاعلم ہوں کہ کب میرے بیٹے اور اس کے دوست علیان کا رابطہ گجرات کے ایجنٹ سے ہوا اور ان کا معاملہ کتنی رقم میں طے پایا۔ مجھے تو اس وقت معاملے کا پتہ چلا جب عبدالباسط گھر سے اچانک پراسرار حالات میں غائب ہوا۔‘
’میں نے گھر میں موجود رقم چیک کی تو اٹھارہ لاکھ روپے غائب تھے، جس سے میری پریشانی میں اضافہ ہو گیا۔ مجھے پیسوں کے جانے کا دکھ نہیں تھا بلکہ پریشانی اس بات کی تھی کہ عبدالباسط نے آج تک ایسی کوئی حرکت نہیں کی تھی کہ وہ یوں گھر سے رقم لے کر فرار ہوا ہو۔‘
’پھر 14 دسمبر کو ایک روز اچانک کسی دوسرے ملک کے نمبر سے کال آئی تو دوسری طرف عبدالباسط بول رہا تھا۔‘
محمد منشا گوندل کہتے ہیں کہ بیٹے کی آواز سن کر میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ ’اس نے بتایا کہ وہ ایران میں ہے اور یہاں سے عراق جائے گا، پھر مختلف ملکوں سے ہوتے ہوئے ہم اٹلی پہنچ جائیں گے۔‘
محمد منشا گوندل کہتے ہیں کہ ’میرا اپنے بیٹے کے ساتھ رابطہ 19 دسمبر تک رہا تاہم میری راتوں کی نیند اڑ گئی۔‘
انھوں نے بتایا کہ جب بیٹے کے ساتھ رابطہ بالکل منقطع ہو گیا تو اس دوران محمد منشا نے پریشانی کے عالم میں اپنے طور پر چھان بین کی تو پتہ چلا کہ وہ ایک دوسرے گاؤں ساہنا کے علیان اسحاق بٹ کے ساتھ ملک سے باہر گیا تھا۔
’میرا ایک ماہ بعد یعنی 19 جنوری کو علیان کے گھر والوں سے رابطہ ہوا جس کے بعد ایجنٹ کا پتہ لگایا گیا تو یہ بات سامنے آئی کہ ایجنٹ کا تعلق ضلع گجرات کے گاؤں لکھنوال سے ہے لیکن وہ ان دنوں قطر میں مقیم ہے اور وہاں سے ہی اپنا نیٹ ورک چلا رہا ہے۔‘
’میں دن رات بیٹے کی زندگی کی دعا مانگتا رہا، مجھے روپے پیسے کی تمنا نہیں تاہم میں بیٹے کے شوق اور جنون کے ہاتھوں مجبور تھا۔ ایک روز مجھے وہ کال آ گئی جسے سننے کا دھڑکا لگا رہتا تھا۔ کال کرنے والے نے اپنا تعارف ایران میں تعینات پاکستانی مندوب محمد صدیق کے طور پر کروایا اور بتایا کہ میرا بیٹا ایرانی سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے مارے جانے والوں میں شامل ہے۔ بعد میں جو کالز آئیں ان میں کہا گیا کہ یہ لوگ برفانی سرد ہواؤں میں پھنس گئے تھے۔‘
منشا گوندل نے بتایا کہ ایف آئی اے کے کچھ افسران گھر آئے اور انھوں نے مجھ سے ایجنٹ اور میرے بیٹے کے باہر جانے کے بارے میں تفصیلات پوچھیں۔
’مجھے کچھ علم ہوتا تو میں بتاتا۔ میرا تو بیٹا مجھے بتا کر نہیں گیا۔ میں کسی اور سے کیا گلہ شکوہ کروں۔ میری تو دنیا ہی اجڑ گئی۔ میں سب سے کہتا ہوں کہ روکھی سوکھی کھا لو لیکن کبھی ڈنکی نہ لگاؤ۔‘
وفاقی تحقیقاتی ادارے گوجرانوالہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے نے غیرقانونی طور پر لڑکوں کو ایران بھجوانے والے مرکزی ملزم کے ترکی فرار ہونے کی کوشش ناکام بنا دی اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے اسے لاہور ائیرپورٹ سے گرفتار کر لیا۔
ترجمان کے مطابق گرفتار مرکزی ملزم نے نوجوانوں کو غیر قانونی طور پر ایران بھجوانے کے لیے دو لاکھ 70 ہزار روپے فی کس وصول کیے جس میں سے کچھ لڑکے عراق پہنچ گئے۔
ترجمان کے مطابق اس گروہ میں شامل دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
ڈنکی سے یورپ جانے کا خواب: ’پاکستان میں بھوکے رہ لو، میں بیٹا گنوا بیٹھی ہوں‘ سوشل میڈیا پر پاکستانی نوجوانوں کو یورپ کے خواب دکھانے والے ایجنٹ: ’جس دن گیم ہو گی آپ کو کوئٹہ آنا ہو گا‘’گرین ہیل‘: وہ خطرناک راستہ جو ڈنکی لگا کر امریکہ پہنچنے والوں کے لیے موت کا گھاٹ ثابت ہوایونان کشتی حادثہ: ’ایجنٹوں کا گاؤں‘ جہاں بچہ بچہ ڈنکی لگا کر یورپ جانے کا خواب دیکھ رہا ہےڈنکی: ’امریکہ جانے کے لیے 33 لاکھ روپے ضائع کیے، زمین بیچ دی اور کئی ماہ جیل میں گزارے لیکن اب اپنے ملک میں رہنا چاہتا ہوں‘’اگر میں مر بھی گیا تو یہ خدا کی مرضی ہو گی‘: ڈنکی لگا کر یورپ کے کنیری جزائر پہنچنے کا پُرخطر سفر