’میرے شوہر نے جنسی خواہشات کی تسکین کے لیے چھ لاکھ پاؤنڈ چرائے‘: وہ ادویات جن کے ذیلی اثرات خاندانوں کو تباہ کر رہے ہیں

بی بی سی اردو  |  Feb 16, 2026

فرانسیس ابھی اپنے دفتر پہنچی ہی تھیں کہ انھیں موصول ہونے والی ایک فون کال نے اُن کی زندگی کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔

پولیس نے اُن کے شوہر اینڈیو کو اپنے مؤکلین کو دھوکہ دینے کے الزام میں گرفتار کر لیا تھا جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اُن کے گھر کی تلاشی لے رہے تھے۔

فرانسیس کے شوہر اینڈریو پیشے کے لحاظ سے وکیل تھے۔

اینڈریو کا دفتر کرائم فلموں میں دکھائے جانے والے کسی منظر کے جیسا لگ رہا تھا، یعنی ان کے دفتر کے ارد گرد زرد ٹیپ باندھ دی گئی تھی تاکہ عام عوام جائے وقوعہ سے دور رہے، جبکہ اہلکار ان کے دفتر سے ملنے والے شواہد کو ڈبوں میں بھر رہے تھے۔

اینڈریو جو قانونی فرم چلاتے تھے وہ کئی بزرگ افراد کے لیے پاور آف اٹارنی رکھتی تھی، لیکن بعدازاں پولیس نے دریافت کیا کہ اینڈریو اپنے مؤکلین کے لاکھوں پاؤنڈ ہڑپ کر چکے ہیں اور آگے چل کر انکشاف ہوا کہ انھوں نے یہ رقم بالغ ویب کیم سائٹس، جنسی کارکنوں اور نوادرات کی خریداری پر خرچ کی تھی۔

یہ واقعہ 12 سال پہلے کا ہے۔ بعدازاں عدالتی سماعتوں کے دوران بتایا گیا کہ اینڈریو کا یہ بے قابو رویہ پارکنسنز کی بیماری کے علاج کے لیے دی جانے والی دوائیوں کے زیر اثر تھا۔

انھوں نے اپنے 13 کلائنٹس (مؤکلین) کی رقم غبن کی تھی، جن میں سے زیادہ تر 80 سال سے زائد عمر کے بزرگ تھے اوربیمار تھے۔ مجموعی طور پر اینڈریو نے اپنے 13 کلائنٹس کے اکاؤنٹس سے چھ لاکھ پاؤنڈ نکالے تھے۔

اینڈریو کی ایک مؤکل 87 سالہ بزرگ خاتون تھیں، جو نرسنگ ہوم میں رہتی تھیں اور اپنی رقم کی چوری کے کچھ ہی دنوں بعد ان کی وفات ہو گئی۔ اس موقع پر ان کے اکاؤنٹ میں اتنے پیسے بھی نہیں تھے کہ اُن کی آخری رسومات ادا کی جا سکتیں۔

فرانسیس کہتی ہیں کہ ’یہ خبر سامنے آنے کے بعد لوگ ہم سے دور ہو گئے، وہ ہماری کوئی بات سُننے اور سمجھنے کو تیار نہیں تھے اور میں یہ سب سمجھ سکتی تھی۔‘ اینڈریو کی بیٹی ایلس کے مطابق اُن کے والد نے ’کبھی خود کو معاف نہیں کیا۔‘

اینڈریو کے اس رویے کے سنگین نتائج سامنے آئے۔

یہ کیس غیر معمولی ہے لیکن اس میں کُچھ ایسا نہیں کہ جو پہلی مرتبہ ہوا ہو۔

گذشتہ چند برسوں کے دوران ہم نے درجنوں ایسے خاندانوں سے بات کی جن کی زندگیاں اس نوعیت کی ادویات کے باعث پیدا ہونے والے بے قابو رویوں کے باعث تباہ ہوئیں۔

اس کے اثرات میں بے ربط جنسی خواہشات کا پیدا ہونا شامل ہے، جیسے فحش مواد دیکھنے اور جنسی کارکنوں کی لت، اس کے ساتھ ساتھ بے قابو خریداری اور جوا کی لت بھی، جس نے بہت سے متاثرہ افراد کو لاکھوں پاؤنڈ کے نقصان سے دوچار کیا۔

یہ ادویات جنھیں ’ڈوپامین ایگونسٹ‘ کہا جاتا ہے پارکنسنز، ریسٹ لیس لیگ سنڈروم اور دیگر بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ صرف انگلینڈ میں ڈاکٹروں نے ان ادویات کو گذشتہ سال کے دوران 15 لاکھ مرتبہ مختلف لوگوں کو تجویز کیا۔

برطانوی ادارہ صحت ’این ایچ ایس‘ کی ہدایت واضح ہے کہ اگر آپ یہ ادویات استعمال کر رہے ہیں اور ان کی وجہ سے آپ کو کوئی پریشانی یا تشویش ہے تو فوراً اپنے ڈاکٹر سے بات کریں۔ ایک تحقیق کے مطابق پارکنسنز کے مریضوں میں سے ہر چھ میں سے ایک شخص ان دوائیوں کے اثر سے امپلس کنٹرول ڈس آرڈر کا شکار ہوتا ہے۔

ہمارے انکشافات کے بعد برطانیہ کی ہیلتھ سلیکٹ کمیٹی کے چیئرمین نے ان ادویات کو ’تباہ کن‘ قرار دیا اور ادویات کے ریگولیٹر کو سرکاری وارننگز پر نظرثانی کرنے کے لیے خط لکھا۔

کئی متاثرہ افراد نے بتایا کہ ان کی زندگی میں پہلے کبھی ایسے رویے نہیں تھے اور انھیں یہ اندازہ بھی نہیں ہوا کہ یہ سب ان کی دوائیوں کی وجہ سے ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں نے نہ انھیں مناسب طور پر خبردار کیا اور نہ ہی ان کے اثرات پر نظر رکھی۔

اپنی گرفتاری سے چند برس قبل اینڈریو کو پارکنسنز کی بیماری کی تشخیص ہوئی تھی اور جب انھیں کپکپاہٹ شروع ہوئی تو ڈاکٹروں نے انھیں پرامی پیکسل نامی دوا تجویز کی۔فرانسیس کے مطابق اس دوا کے اینڈریو پر اثرات ’معجزاتی‘ تھے۔

پرامی پیکسل اور اس جیسی دوائیں دماغ میں ڈوپامین کی سرگرمی کو بڑھاتی ہیں۔ ڈوپامین ایک ایسا کیمیکل ہے جو ہماری حرکات کو قابو میں رکھنے کے ساتھ ساتھ خوشی کے احساس کو بھی بڑھاتا ہے۔

اینڈریو کی کپکپاہٹ نمایاں طور پر کم ہو گئی اور جلد ہی وہ دوبارہ ٹینس کھیلنے لگے۔ لیکن ایک روز جب اینڈریو بے ہوش ہو کر گرے ایک ڈاکٹر نے فرانسیس سے پوچھا کہ کیا وہ جانتی ہیں کہ پرامی پیکسل لینے والوں میں بے قابو رویے پیدا ہو سکتے ہیں۔

فرانسیس کہتی ہیں کہ یہ ان کے لیے ’بہت بڑا صدمہ‘ تھا۔ وہ سمجھ نہیں پا رہی تھیں کہ انھیں کبھی کیوں اس بارے میں نہیں بتایا گیا کہ اس دوا کے اُن کے شوہر پر کیا اثرات ہو سکتے ہیں، حالانکہ وہ اینڈریو کی ڈاکٹروں کے ساتھ ہونے والی تمام ملاقاتوں میں شریک رہتی تھیں۔ دوا کے ممکنہ مضر اثرات نے آخرکار اینڈریو کے بے قابو رویوں کیوضاحت کی۔

دوا شروع کرنے سے پہلے اینڈریو ہفتے میں تقریباً ایک بار ویب کیم اور چیٹ سائٹس استعمال کرتے تھے لیکن دوا شروع کرنے کے بعد ایک سال میں انھیں نے تقریباً 500 آن لائن ادائیگیاں کیں۔ انھوں نے صرف ایک ویب سائٹ پر ہی ایک لاکھ پاؤنڈ سے زیادہ پیسے خرچ کیے جو انھوں نے اپنے کلائنٹس کے چرائے تھے۔

اور پھر چار ماہ کے عرصے میں انھوں نے تقریباً 80,000 پاؤنڈز جنسی کارکنوں پر خرچ کیے اور گرفتاری کے وقت اُن کے فون میں 90 مختلف سکارٹس کے نمبرز موجود تھے۔

اینڈریو جو ہمیشہ تاریخ کے شوقین تھے، نے قدیم قلم، برتن اور کرکٹ کی یادگار اشیا بھی خریدنا شروع کر دیں۔ اپنی گرفتاری سے قبل کے چھ ماہ میں انپوں نے ای بے پر 85,000 پاؤنڈ خرچ کیے۔

اینڈریو کی بیٹی ایلس کہتی ہیں کہ ’پولیس کارروائی کے بعد میرے والد اتنے شرمندہ تھے کہ وہ گھر سے باہر ہی نہیں نکلے۔‘

اینڈریو کا خاندان ایک سال سے زیادہ عرصہ تک اس کیس میں فیصلے کا انتظار کرتا رہا اور پھر بلآخر اینڈریو پر دھوکہ دہی کی فرد جرم عائد کی گئی۔

فرانسیس کہتی ہیں کہ ان کا بیٹا ہیری اپنے والد سے بہت محبت کرتا تھا لیکن گرفتاری کے بعد کے حالات اس کے لیے ’بہت مشکل اور تکلیف دہ‘ ثابت ہوئے۔

ہیری کی ذہنی صحت اتنی خراب ہو گئی کہ اسے ہسپتال میں داخل کرنا پڑا۔ وہ گھر واپس آیا اور پھر غائب ہو گیا۔ چند ہفتوں بعد اس کی لاش ملی اور پتہ یہ چلا کہ اُس نے اپنی جان لے لی تھی۔

سنہ 2015 میں عدالت میں اینڈریو نے اپنا جرم قبول کر لیا۔ سزا سناتے وقت جج نے کہا کہ انھوں نے اپنے کلائنٹس کے پیسے ’بے وقوفانہ فضول خرچیوں‘ پر ضائع کیے۔

جج نے کہا کہ وہ مانتے ہیں کہ اینڈریو کا رویہ ادویات کے زیر اثر تھا لیکن وہ ایک وکیل تھے جو دیگر معاملات میں اپنا کام درست طریقے سے کر رہے تھے۔ جج کے مطابق ایک شخص کے طور پر جس کے پاس خاندان، دوست اور مشیر موجود تھے اینڈریو کو چاہیے تھا کہ وہ مدد لیتے اور دوائی کے اثرات کو سمجھنے کی کوشش کرتے۔

اینڈریو کو چار سال قید کی سزا سنائی گئی اور انھیں بھیج دیا گیا۔

Getty Imagesاینڈریو نے اپنی زندگی کے دو برس اس جیل میں گزارے تھے

تحقیقات کے دوران اینڈریو کے تمام اثاثے منجمد کر دیے گئے تاکہ اُن کے کلائنٹس سے چرائے گئے کچھ پیسے واپس لیے جا سکیں۔

بعدازاں اینڈریو کی اہلیہ فرانسیس نے بھی ان سے طلاق حاصل کر لی۔ دو سال قید کاٹنے کے بعد اینڈریو پیرول پر رہا ہوئے اور انھیں اولڈ ہوم بھیج دیا گیا۔

خاندان کے مطابق جیل کے اندر کے حالات نے اینڈریو پر گہرا اثر ڈالا اور کورونا لاک ڈاؤنز نے ان کی زندگی مزید مشکل بنا دی۔ جب انھیں اس کے اثرات کا پتہ چلا تو اُنھوں نے ڈوپامین ایگونسٹ دوائی فوراً چھوڑ دی مگر اس کے نتیجے میں اُن میں پارکنسنز کی علامات بڑھ گئیں۔

اُن کی بیٹی ایلس کہتی ہیں کہ ’میرا خیال ہے کہ میرے والد کی پوری زندگی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی۔ ہاں پارکنسنز کی وجہ سے بھی، لیکن اصل میں ان ادویات کی وجہ سے جو وہ اس بیماری کے اثرات کو کم کرنے کے لیے لیتے تھے۔‘

اکتوبر سنہ 2020 میں اینڈریو نے اپنے ہاتھوں اپنی جان لے لی۔

ڈوپامین ایگونسٹ ادویات سے خاندانوں کو پہنچنے والا بالواسطہ نقصان شاید کبھی بھی ریکارڈ نہیں ہو گا۔ کچھ لوگوں نے بتایا کہ انھوں نے اپنی زندگی کی جمع پونجی یا حتیٰ کہ اپنے گھر بھی کھو دیے کیونکہ مریضوں میں جوا کھیلنے، خریداری یا دیگر رویے بے قابو ہو گئے تھے۔

کئی افراد نے یہ بھی کہا کہ انھیں انصاف حاصل کرنے کا کوئی راستہ نہیں ملا کیونکہ برطانیہ میں اجتماعی مقدمات دائر کرنا مشکل ہے اور کلینیکل نیگلیجنس کیس میں یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ انھیں پہلے سے خبردار نہیں کیا گیا تھا۔

یہ ادویات بے قابو رویے پیدا کرتی ہیں، یہ حقیقت سامنے آئے ہوئے بیس سال سے زیادہ ہو چکے ہیں۔

BBCلیلا موران: ’یہ صرف ایک فرد کو متاثر کرنے والا ضمنی اثر نہیں ہے، بلکہ خاندانوں اور کمیونٹیز کو متاثر کر رہا ہے‘

گذشتہ سال بی بی سی نے انکشاف کیا تھا کہ جی ایس کے (GSK)، برطانوی دوا ساز کمپنی جس نے سب سے پہلے پارکنسنز کے علاج کے لیے اس دوا کو برطانیہ میں لائسنس کیا، نے سنہ 2003 ہی میں اپنی دوا اور ’غیر معمولی‘ جنسی رویوں کے درمیان تعلق دریافت کر لیا تھا۔

اس حوالے سے تین سال بعد انتباہات جاری کیے گئے، لیکن ان میں صرف ’جنسی خواہش میں اضافہ‘، ’نقصان دہ رویہ‘ اور ’جنسی دلچسپی میں تبدیلی‘ کا ذکر کیا گیا تھا۔ مریضوں کے لیے فراہم کردہ معلوماتی پرچوں میں آج بھی یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ امپلس کنٹرول ڈس آرڈر کتنے عام ہیں۔

اب ایم پی ہیلتھ سلیکٹ کمیٹی کی چیئر لیلا موران مطالبہ کر رہی ہیں کہ انتباہات میں واضح طور پر بتایا جائے کہ یہ رویے کتنے عام ہیں اور ان کی مخصوص اقسام، جیسے فحش مواد دیکھنے کی لت، بھی درج کی جائے۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ صرف ایک فرد کو متاثر کرنے والا ضمنی اثر نہیں ہے، بلکہ خاندانوں اور کمیونٹیز کو متاثر کر رہا ہے اور نئے متاثرین پیدا کر رہا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’امپلسو رویہ‘ کا مطلب کیا ہے اور مریضوں میں اس کا امکان کتنا ہے؟ فی الحال مریضوں کے پاس یہ معلومات نہیں ہیں، اور اس کے بغیر وہ اس کے اثرات کو کیسے کم کر سکتے ہیں؟‘

موران نے ایم ایچ آر اے کی یلو کارڈ سکیم کو ’غیر مؤثر‘ قرار دیا، کیونکہ لوگ شرمناک ضمنی اثرات کی اطلاع دینے سے گریز کرتے ہیں۔ حکومت نے بھی ان انکشافات کو ’انتہائی تشویشناک‘ قرار دیا ہے۔

تاہم ایم ایچ آر اے کا کہنا ہے کہ انتباہات میں تبدیلی کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ ادارے کے مطابق یہ جنسی رویے ہر فرد کے حساب سے مختلف ہوتے ہیں، اس لیے معلوماتی پرچوں میں ان کی مکمل فہرست دینا ممکن نہیں۔ ادارہ پہلے بھی کہہ چکا ہے کہ امپلس کنٹرول ڈس آرڈر کی شرح درج نہیں کی جاتی کیونکہ زیادہ تر لوگ انھیں رپورٹ ہی نہیں کرتے۔

جی ایس کے نے کہا ہے کہ اُن کی لائسنس یافتہ دوا کا وسیع پیمانے پر تجربہ کیا گیا، دنیا بھر کے ریگولیٹرز نے بار بار اس کے استعمال کی منظوری دی، اور اسے 1.7 کروڑ سے زائد بار مریضوں کو تجویز کیا گیا۔ کمپنی نے بتایا کہ اس نے اپنی حفاظتی رپورٹ ریگولیٹرز کے ساتھ شیئر کی تھی۔

اینڈریو کو تجویز کی گئی دوا پرامی پیکسل ’بوہرنگر انجلہائم‘ نامی کمپنی تیار کرتی ہے، لیکن کمپنی نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

سنہ 2017 میں ڈاکٹروں کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ پارکنسنز کے مریضوں اور ان کے خاندانوں کو امپلسو رویوں کے خطرات کے بارے میں زبانی اور تحریری معلومات فراہم کریں اور ان کی باقاعدہ نگرانی کریں، یہ ہدایات نائس (NICE) یعنی نیشنل انسٹیٹیوٹ فار ہیلتھ اینڈ کیئر ایکسیلینس نے جاری کی تھیں۔

تاہم بی بی سی سے بات کرنے والے کئی مریضوں نے بتایا کہ ان ہدایات کے باوجود انھیں خطرات کے بارے میں مناسب طور پر آگاہ نہیں کیا گیا۔ کچھ مریضوں کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت بھی ان رویوں کا شکار ہیں۔

ایلس اور فرانسیس اپنے گاؤں سے سینکڑوں میل دور منتقل ہو گئے ہیں، لیکن ان کا درد آج بھی باقی ہے۔ فرانسیس کہتی ہیں کہ ’میری زندگی مجھ سے چھین لی گئی، میرا گھر، میری کمیونٹی اور سب سے بڑھ کر میرا بیٹا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ یہ بیان کر سکوں کہ یہ کتنا تباہ کن ہے۔‘

وہ دوا جو خواتین کو انجانے میں سیکس کی ’خطرناک لت‘ میں مبتلا کر سکتی ہےاچھی سیکس لائف کیسی ہوتی ہے اور اس میں موجود خرابیاں کیسے دور کی جائیں؟سیکس میں لذت بڑھانے کی غرض سے منشیات کا استعمال: ’پہلے پہل تو خوشگوار آزادی کا احساس ہوا، مگر پھر میں زندہ لاش بن گیا‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More