امریکی سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگستھ کا کہنا ہے کہ بحرِ ہند میں ایک امریکی آبدوز نے تارپیڈو فائر کر کے ایران کا جنگی بحری جہاز ڈبو دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ منگل کو کیا گیا یہ تارپیڈو حملہ ایک ’خاموش موت‘ جیسا تھا۔
ہیگستھ نے جہاز کا نام نہیں بتایا مگر یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنا آیا ہے کہ جب سری لنکن حکام نے بدھ کو اپنی سمندری حدود کے قریب ڈوبنے والے ایرانی جہاز آئی آر آئی ایس دینا سے 32 افراد کو ریسکیو کرنے کی تصدیق کی ہے۔ ان کے مطابق 80 لاشیں نکالی گئی ہیں۔
سری لنکن بحریہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جہاز کی دستاویزات کے مطابق اس پر قریب 180 افراد سوار تھے۔
سری لنکا کی وزیرِ خارجہ وجیتھا ہیراتھ کا کہنا ہے کہ بچ جانے والے افراد ’شدید زخمی‘ تھے اور انھیں جنوبی بندرگاہ گالے میں ہسپتال میں منتقل کیا گیا تھا۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد آبدوز کے ذریعے پہلا جنگی جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ
امریکی سیکریٹری دفاع ہیگستھ نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ سمندر میں کسی بحری جہاز کو ڈبونے کا واقعہ دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی مرتبہ پیش آیا تھا۔
مگر یہ دعویٰ درست نہیں ہے۔
سنہ 1971 کے دوران پاکستانی آبدوز نے انڈین جہاز آئی این ایس کھکری پر تارپیڈو حملہ کر کے اسے ڈبو دیا تھا۔
سنہ 1982 کی فاکلینڈ جنگ کے دوران جنوبی اٹلانٹک میں برطانوی جوہری صلاحیت کی حامل آبدوز نے دو ٹائیگر تارپیڈو کے ذریعے ارجنٹینا کے واحد جنگی جہاز جنرل بلگرانو کو غرق کیا تھا۔
اگر حالیہ امریکہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو 1945 کے بعد ایسا پہلا بار ہوگا کہ کسی امریکی آبدوز نے دشمن جہاز گرایا ہو۔
سری لنکن بحریہ کا کیا کہنا ہے؟
اس سے قبل سری لنکن بحریہ کے ترجمان بدھیکا سمپتھ نے اطلاعات کی تردید کی تھی کہ ایرانی جہاز کو کسی آبدوز نے نشانہ بنایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ریسکیو آپریشن کے وقت سری لنکن اہلکاروں نے نہ اس بحری جہاز کو دیکھا اور نہ ہی کسی اور جہاز کو، بلکہ انھیں وہاں تیل اور جان بچانے والی چھوٹی کشتیاں پانی پر تیرتی ہوئی نظر آئی تھیں۔
آبنائے ہرمز کی بندش: پاکستان میں تیل اور گیس کی قیمتیں کیسے متاثر ہو سکتی ہیں؟ایران میں کہاں کہاں بمباری ہوئی اور کن امریکی اتحادیوں کے خلاف جوابی حملے کیے گئے؟خلیجی ممالک پر حملہ آور ایرانی شاہد ڈرونز جن کی امریکہ نے ’نقل‘ تیار کی ہے’میں نے میزائل تباہ ہوتے اور عمارتوں سے دھواں نکلتے دیکھا‘: کیا دبئی ایک محفوظ مقام ہونے کا درجہ کھو رہا ہے؟
سری لنکن بحریہ کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ اس بحری جہاز کی لوکیشن 'ہماری سمندری حدود سے' باہر تھی لیکن ’یہ اس جگہ تھی جہاں سرچ اور ریسکیو آپریشن ہماری ذمہ داری ہے۔ اس لیے ہم نے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے وہاں کام کیا۔‘
کیا ایرانی جہاز انڈیا سے واپس آ رہا تھا؟
حال ہی میں آئی آئی ایس نامی بحری جہاز نے انڈیا کی میزبانی میں عسکری مشق انٹرنیشنل فلیٹ ریویو میں شرکت کی تھی۔
انڈین بحریہ کی ایسٹرن نیول کمانڈ نے 17 فروری کو ایکس پر ایک پوسٹ بھی کی تھی، جس سے تصدیق ہوتی ہے کہ گذشتہ مہینے یہ ایرانی جہاز وشاکاپٹنم میں موجود تھا۔
اس حوالے سے انڈین حکومت کی جانب سے کوئی بیان تاحال سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم انڈین چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق آئی آر آئی ایس دینا پر اس وقت حملہ ہوا جب وہ انٹرنیشنل فلیٹ ریویو میں حصہ لینے کے بعد انڈیا سے واپس جا رہی تھی۔
انڈیا ٹوڈے کے مطابق یہ ایرانی جہاز 18 سے 25 فروری تک خلیج بنگال میں تھا اور اس پر بین الاقوامی پانیوں میں اس وقت حملہ ہوا جب یہ وشاکاپٹنم سے واپس جا رہی تھی۔
یہی وجہ ہے کہ انڈیا میں اس بحری جہاز کی تباہی پر شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔
انڈین سیاسی جماعت پاون کھیرا نے ایکس پر ایک بیان میں لکھا کہ 'انڈیا کی مہمان آئی آر آئی ایس' دینا پر اس وقت حملہ ہوا جب وہ انڈیا میں انٹرنیشنل فلیٹ ریویو کے بعد واپس جا رہی تھی۔
’سوال یہ ہے کہ کیا نریندر مودی اس معاملے پر تنقید کرنے، ایران سے تعزیت کرنے اور سری لنکا کو ریسکیو مشن میں مدد فراہم کرنے کی پیشکش کرنے کی اخلاقی جرات رکھتے ہیں۔‘
دی اکنامسٹ کے ڈیفینس ایڈیٹر ششانک جوشی نے بھی لکھا کہ اس واقعے 'نئی دہلی میں خدشات' پیدا ہو رہے ہیں۔
ساگریکا گھوس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’کیا نریندر مودی ناپسندیدگی کا اظہار کریں گے کہ ان کے دوست ڈونلڈ ٹرمپ نے انھیں نہیں بتایا کہ ایک امریکی آبدوز انڈیا کے پانیوں کے قریب گھوم رہی ہے اور جنگی جہازوں کو نشانہ بنا رہی ہے؟‘
ایک اور صارف نے نئی دہلی پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ’کیا انڈیا میں اتنا دم بھی نہیں کہ وہ امریکہ کو بتا سکے کہ اس کو آبدوز کا استعمال کر کے ایک ایرانی جہاز کو، جو انڈیا میں بحری مشق سے واپس آ رہا تھا، غرق کر کے 80 اہلکاروں کو مارنے کا کوئی حق نہیں؟‘
آئی آر آئی دینا کے بارے میں ہم اور کیا جانتے ہیں؟
آئی آر آئی ایس دینا ایرانی بحریہ کی 86 ویں فلیٹ کا حصہ ہے۔ یہ جہاز سنہ 2022 اور 2023 میں اس وقت خبروں میں آئی تھی جب اس نے 63 ہزار کلومیٹر پر مشتمل سمندری سفر مشن مکمل کیا تھا اور ایران کی بحری صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا تھا۔
یہ جہاز مکمل طور پر ایران میں ہی بنایا گیا تھا۔ اسے بندر عباس میں شاہد درویش شپیارڈ پر تیار کیا گیا تھا۔
اس جہاز کا وزن 1500 ٹن ہے اور یہ 95 میٹر لمبا ہے۔
اس جہاز کے اندر اینٹی شپ میزائل، ایک 76 ایم ایم بحری گن، ایک 30 ایم ایم ویپن سسٹم، تارپیڈوز اور پانی سے فضا میں مار کرنے والے میزائل نصب ہیں۔
ایرانی بحریہ نے ماضی میں کہا تھا کہ یہ جہاز بین الاقوامی تجارت کو تحفظ دینے، سمندری لوٹ مار کو روکنے اور طویل بحری آپریشنز سر انجام دینے کے لیے بنائی گئی ہے۔
سعودیہ، قطر کو حملوں کا سامنا اور آبنائے ہرمز کی بندش: پاکستان میں تیل اور گیس کی فراہمی اور قیمتیں کیسے متاثر ہو سکتی ہیں؟آیت اللہ خامنہ ای: ایران کے رہبرِ اعلیٰ کی ہلاکت کا مسلم دنیا پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟’تہران وہی کر رہا ہے جس کا اس نے وعدہ کیا‘: ایران مشرق وسطیٰ کے ممالک پر میزائل حملوں سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟امریکی اڈوں پر ایران کے جوابی حملوں کے بعد امریکہ کے فضائی دفاعی نظام پر اٹھنے والے سوالات’وار آف چوائس‘:امریکہ اور اسرائیل ایک ’موقع‘ دیکھ رہے ہیں جسے وہ ہاتھ سے نہیں جانے دیں گےمناب میں ایرانی طالبات کے اجتماعی جنازے