پہلی عالمی جنگ کے دوران ترک مخالف اتحاد (برطانیہ، روس، فرانس، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ) نہ صرف 400 سالہ سلطنتِ عثمانیہ کو ختم کرنے کے درپے تھا بلکہ استنبول میں بھی ایک کٹھ پتلی حکومت بٹھانا چاہتا تھا۔ چنانچہ اس پانچ رُکنی اتحاد کی کیل کانٹے سے لیس لگ بھگ ساڑھے پانچ لاکھ سپاہ 25 اپریل 1915 میں جزیرہ نما گیلی پولی پر اُتری جہاں بالمقابل صرف ایک ترک رجمنٹ تھی جس کے کمانڈر مصطفیٰ کمال تھے۔
اس رجمنٹ کو تب تک حملہ آوروں کو روکے رکھنا تھا جب تک اضافی کمک نہ آ جائے۔ مصطفیٰ کمال نے رجمنٹ کے جوانوں سے جو خطاب کیا اس کا آخری جملہ تھا ’میں تمہیں حملے کا نہیں، مرنے کا حکم دیتا ہوں۔‘
یہ ایک جملہ اس خطے کو بچا گیا جسے ہم آج جدید ترکی کے نام سے جانتے ہیں۔
گیلی پولی کا معرکہ لگ بھگ دس ماہ تین ہفتے اور دو دن جاری رہا۔ اتحادیوں کے 60 ہزار اور ترکوں کے 87 ہزار فوجی جان سے گئے۔ بالاخر ثابت قدمی جیت گئی۔
جب 13 مارچ 1954 کو ڈین بن پھو میں نوآبادیاتی طاقت فرانس کے گیریژن کا مانگے تانگے کی بندوقوں اور تلواروں سے مسلح ویتنامی دہقانی گوریلوں نے محاصرہ کیا تو پونے دو ماہ کے دوران آٹھ ہزار گوریلوں کی موت کے باوجود محاصرہ نہیں ٹوٹا اور ٹینکوں اور طیاروں سے مسلح 14 ہزار فرانسیسیوں کو ہتھیار ڈالنے پڑ گئے اور پھر اُنکی جگہ امریکی آ گئے۔
ملک کے دو حصے کر دیے گئے (امریکہ نواز جنوبی ویتنام اور کیمونسٹ شمالی ویتنام)۔ اپریل 1975 تک جاری لڑائی میں 30 لاکھ ویتنامی اور 50 ہزار امریکی فوجی مرے۔ مگر ویتنامی اپنی سرزمین کے لیے اور امریکی زمین کے لیے لڑ رہے تھے۔ نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔
(جن لوگوں کو دلچسپی ہو وہ ہوچی منہہ کے دستِ راست اور ان دونوں جنگوں کے ہیرو جنرل گیاپ کی کتاب ’ملٹری آرٹ آف پیپلز وار‘ پڑھ سکتے ہیں)۔
افغانستان کو امریکیوں نے پہلے روسیوں سے بچانے کے لیے مجاہدین اور پھر مجاہدین سے بچانے کے لیے طالبان اور پھر طالبان سے بچانے کی 40 سالہ کوشش میں تین کھرب ڈالر اور نائن الیون کے بعد اپنے اور نیٹو کے لگ بھگ سوا لاکھ فوجی جھونک کے اقتدار 20 برس بعد دوبارہ انھی طالبان کے سپرد کر کے پتلی گلی سے نکلنے میں عافیت جانی اور کروڑوں ڈالر کا اسلحہ بھی پیچھے چھوڑ گئے۔
رجیم چینج کے شوق میں عراق، شام اور لیبیا کا کیا حال کیا گیا۔
عین ناک کے نیچے کیوبا میں فیدل کاسترو کی رجیم گرانے کے لیے وائٹ ہاؤس کے دس مکینوں نے 57 برس تک فیدل کاسترو کو مارنے کی 600 سے زائد بار کوششوں پر سی آئی اے کو مامور کیا۔ مگر فیدل 25 نومبر 2016 کو طبعی عمر پوری کر کے ہی رخصت ہوئے۔
فیدل کی موت کے دس برس بعد بھی طویل ترین امریکی اقتصادی ناکہ بندی کے شکار کیوبا کی رجیم بدلنے کے لیے کبھی چھچھورے انداز میں تیل بند کیا جا رہا ہے، تو کبھی بجلی کٹ رہی ہے۔
20ویں صدی میں چرچل اور مارگریٹ تھیچر سے زیادہ امریکہ پسند کوئی برطانوی وزیرِ اعظم نہیں گزرا۔ چرچل کی روز ویلٹ سے اور تھیچر کی ریگن سے گاڑھی چھنتی تھی۔
قولِ چرچل ہے کہ ’امریکہ تمام دیگر تجربات کرنے کے بعد ہی درست قدم اٹھاتا ہے۔‘ مارگریٹ تھیچر کے بقول اگر آپ کو بار بار جتانا پڑے کہ آپ کتنے طاقتور ہیں تو آخر آپ کتنے طاقتور ہیں؟
امریکی مزاح نگار مارک ٹوین کی رائے ہے کہ ’خدا نے جنگ اس لیے تخلیق کی تاکہ امریکہ جغرافیہ سمجھ سکے۔‘
آئرش نژاد آسکر وائلڈ کا کہنا ہے کہ ’آپ کسی امریکی رقص گاہ میں رکھے پیانو پر ہی یہ تحریر لگی دیکھ سکتے ہیں کہ براہِ کرم پیانو بجانے والے کو گولی مت ماریے وہ اپنی سی بھرپور کوشش کر تو رہا ہے۔‘
20ویں صدی میں عملی سفارتکاری کے گرو ڈاکٹر ہنری کسنجر کے بقول ’امریکہ کا دشمن ہونا خطرناک اور دوست ہونا جان لیوا ہے۔‘
پاکستان یہ سب نہ کرے تو اور کیا کرے؟’جیلر سے اڑی بازی کا نتیجہ‘
اکثر یورپیوں کی رائے ہے کہ امریکی مزاجاً بے تکلف اور لاؤڈ ہوتے ہیں۔ ٹرمپ غالباً پہلے امریکی صدر ہیں جو بے تکلف بھی ہیں اور لاؤڈ بھی۔
ٹرومین کم گو اور نپی تلی گفتگو کرنے والے صدر تھے مگر انھوں نے اسی مینرازمکے ساتھ جاپان پر ایک نہیں دو ایٹم بم گرا دیے۔ جانسن اور نکسن منجھے ہوئے سیاسی اشراف میں سے تھے مگر ان دونوں نے ویتنام کو نیپام کرنے کے لیے بی 52 طیاروں کا پورا بیڑہ لگا دیا۔
جارج بش جونئیر نے وسیع تر تباہی کے ہتھیار ڈھونڈ کے ختم کرنے کے نام پر عراق جھلسا دیا اور اس راکھ سے داعش نے جنم لیا۔ براک اوباما نے ٹوٹا پھوٹا لیبیا دنیا کو تھما دیا۔
ٹرمپ میں کم ازکم اتنی جرات تو ہے کہ وہ الفاظ کی جلیبی بنائے بغیر سیدھی بات کرتے ہیں۔ جو دل میں وہی زبان پر۔
وہ جمہوریت، روشن خیالی اور انسانی حقوق کے فروغ کی پوشاک پہن کر وار نہیں کرتے بلکہ کُھل کے کہتے ہیں کہ وینزویلا کا تیل میرا ہے، اب میں کیوبا کی طبیعت صاف کروں گا، مجھے کچھ نہیں سُننا بس گرین لینڈ چاہیے، کینیڈا کے حق میں یہی بہتر ہے کہ امریکہ میں شامل ہو جائے، پانامہ کنال امریکہ نے ہی بنائی تھی لہذا امریکہ کی ہی ہے، نیٹو کو اپنا بوجھ خود اٹھانا پڑے گا۔ امریکہ کی پیٹھ پر مفت میں سواری کرنے کے دن گئے۔ سیدھی کھری سلیس ٹھکی بات۔
ایپسٹین فائلز میں کچھ بھی پوشیدہ ہو مگر ٹرمپ ایک مذہبی آدمی ہیں۔ وہ دعاؤں پر بھی یقین رکھتے ہیں اور بددعاؤں پر بھی۔ گذشتہ صدور وائٹ ہاؤس کے کسی کونے کھدرے میں عبادت کرتے تھے۔ ٹرمپ کیمرے کے سامنے علماِ کرام کے جلو میں خصوصی دعاکے قائل ہیں۔
اُن کے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگزتھ نہ صرف اپنے فوجیوں کی مجلس میں مقدس جنگ کے فضائل و برکات کا مفصل بیان کرتے ہیں بلکہ مسلمانوں بالخصوص ایرانیوں کے بارے میں وہی جذبات رکھتے ہیں جو مسلمان پیٹ ہیگزتھ اور ٹرمپ کے بارے میں رکھتے ہیں۔
ٹرمپ دوستوں کے دوست ہیں۔ نیتن یاہو سے ٹرمپ کی اس لیے بھی گاڑھی چھنتی ہے کہ وہ بھی اپنی تقاریر میں بالخصوص اسرائیل دشمنوں کے قتال سے متعلق الہامی فرمان و ہدایات کا حوالہ دینا کبھی نہیں بھولتے۔ نیتن یاہو یہ بات کسی سے نہیں چھپاتے کہ ٹرمپ دراصل میری 40 سالہ تپسیا کا ثمر ہے۔
یہ ایسی سہہ طرفہ جنگ ہے جو خدا کے نام پر خدا کی مخلوق سے لڑی جا رہی ہے۔ خدا جانے کیا نتیجہ نکلے گا۔
جب لوگ یہ کہتے ہیں خدا دیکھ رہا ہے
میں دیکھنے لگتا ہوں کہ کیا دیکھ رہا ہے
(سئید مبارک شاہ)
پاکستان یہ سب نہ کرے تو اور کیا کرے؟’جیلر سے اڑی بازی کا نتیجہ‘قومی کھیل کی ہاکیوں سے ٹھکائیخواجہ میرے خواجہ، دل میں سما جاجنگ ہم کریں اور چھڑوائیں دوسرے