’سبز سونا‘: ترکی کا قدیم شہر جہاں خوشی اور غم دونوں میں پستے سے بنی مٹھائیاں کھائی جاتی ہیں

بی بی سی اردو  |  Mar 22, 2026

گزرتے موسمِ گرما میں ترکی کے شہر غازی عینتاب کے بیکرز اپنے باورچی خانوں کو چھوڑ کر پستوں کے باغات کا رخ کرتے ہیں جو ملک کے جنوب مشرقی گرم میدانوں پر پھیلے ہوئے ہیں۔

مقامی طور پر ’سبز سونا‘ کہلانے والی یہ قیمتی فصل صرف معاشی فائدہ ہی نہیں دیتی بلکہ یہ ترکی کے اس پکوان کے مرکز کا سب سے اہم جزو اور خود غازی عینتاب کی ایک خاص پہچان ہے۔

اگرچہ عام طور پر پستے کی فصل کو تیاری کے بعد ستمبر میں توڑا جاتا ہے تاہم کچھ اقسام کے پستے تقریباً ایک ماہ پہلےاس وقت ہاتھوں سے چُنے جاتے ہیں جب یہ چھوٹے ہوتے ہیں اور ان کا گودا اب بھی زمردی رنگ کا ہوتا ہے۔

غازی عینتاب میں کھانا پکانے کی کتاب اے ٹیسٹ آف سن اینڈ فائر کے ایڈیٹر آئلین اُونی تان کہتے ہیں کہ ’بیکری کے مالکان تمام درختوں کے پاس جاتے ہیں اور چکھتے جاتے ہیں اور جب فصل تیار ہونے کے قریب ہوتی ہے تو وہ موقع پر ہی پورے باغ کا سودا کر لیتے ہیں۔‘

یاد رہے کہ موسم کے آغاز میں چنے جانے والے یہ پستے اپنے غیر معمولی ذائقے کے لیے مشہور ہیں جن سے کاتمر (ناشتے میں لی جانے والی کریمی پیسٹری) اور بکلاوا جیسے میٹھے کے لیے لازم ہیں۔

غازی عینتاب کے یہ خاص ذائقے مٹھائی کے شوقین افراد کے لیے خاص حیثیت رکھتے ہیں۔ مقامی لوگوں کے لیے یہ غذائیں صرف میٹھا نہیں بلکہ دنیا کے قدیم ترین آباد شہروں میں سے ایک کی زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔

Getty Imagesغازی عینتاب دنیا کے قدیم آباد شہروں میں سے ایک ہے

پستوں سے بنی خاص مٹھائی کے بارے میں جاننے کے لیے ہم غازی عینتاب یونیورسٹی میں گیسٹرونومی اور ثقافت پر تحقیق کرنے والی ایسوسی ایٹ پروفیسر ہاتیجے پیکمیز سے ملنے پہنچے، جنھوں نے ہمیں اس میٹھی سوغات کے حوالے سے بتایا۔

’یہ مٹھائیاں صرف میٹھے کے طور پر نہیں کھائی جاتیں، یہ ہماری تقریباً ہر خوشی اور غم کی علامت ہوتی ہیں۔ مٹھاس کی یہ روایت پیدائش سے لے کر موت تک پھیلی ہوئی ہے۔‘

ان کے مطابق ’روایت کے مطابق بچے کی پیدائش کی خوشی میں شیرے میں بھیگے پستے سے تیار شدہ بکلاوے کی ٹرے بانٹنے کا رواج ہے۔ غم کے موقع پر خوشبودار مکھن میں تلی ہوئی نرم سوجی کا حلوہ چکھا جاتا ہے۔‘

پیکمیز نے مزید بتایا کہ ’ان پکوانوں کو بانٹنا ہمارے سماجی رشتوں کو مضبوط بنانے کا ایک طریقہ ہے۔‘

طلوعِ آفتاب سے پہلے شہر میں نان بائی بلوط کی لکڑی سے جلنے والے تندور روشن کرتے ہیں، جنھیں ان کی خالص، بے دھواں حرارت کے لیے پسند کیا جاتا ہے۔

پھر وہ ’کاتمر‘ بناتے ہیں جو باریک بیلے ہوئے آٹے کی تہوں سے بنتا ہے اور اس کے اندر پستہ اور ملائی بھری ہوتی ہے۔

صبح آٹھ بجے جب میں تقریبا ایک صدی پرانی خاندانی بیکری 'کاتمرجی زکریا اُستا‘ پہنچا تو مقامی لوگ چھوٹی لکڑی کی میزوں کے گرد جمع تھے اور ٹھنڈے دودھ کے جگ اور تندور سے نکلے گرم، کرارے کناروں والے کاتمر کی پلیٹوں کے ساتھ ناشتے میں مصروف تھے۔

اس تاریخی بیکری کو اب تیسری نسل چلا رہی ہے۔ یہاں کے موجودہ مالک محمت اوزسیمتچی نے بتایا کہ ’نئے شادی شدہ جوڑے اپنا پہلا ناشتہ کاتمر سے کرتے ہیں، اس سوچ کے تحت کہ وہ اپنی نئی زندگی کو میٹھے انداز سے گزاریں گے۔

محمت اوزسیمتچی نے چھوٹی عمر سے ہی اپنے والد کے ساتھ اس خاندانی بیکری میں کام کرنا شروع کیا تھا اور اب 65 برس کی عمر میں بھی وہ ہر دن کا آغاز اپنے ماہر بیکرز کے تیار کردہ کاتمر سے کرتے ہیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ غازی عینتاب کے کاتمر کا ذائقہ خاص ہے، جو قریبی باغات کے پستے اور آس پاس کے پہاڑوں میں چرنے والے ریوڑوں سے حاصل ہونے والے خالص مکھن کے بغیر تیار کرنا ناممکن ہے۔

محمت اوزسیمتچی کا دعویٰ ہے کہ غازی عینتاب میں اجزا کی بہت عزت کی جاتی ہے۔ کاتمرجی زکریا اُستا کے تندوروں سے خوشبو نکل کر شہر کے علاقوں کی گلیوں میں پھیل جاتی ہے۔

بعض محققین کا خیال ہے کہ یہ شہر 10 ہزار سال پہلے نوَیلیتھک دور کی بستی کے طور پر بسایا گیا تھا۔

مجھے پتا چلا کہ تین ہزار سال قبل مسیح کے دور کے پستے کے آثار اویلوم ہویوک میں ملے ہیں، جو غازی عینتاب سے 50 کلومیٹر جنوب میں واقع ایک قدیم مقام ہے، جہاں 3400 قبل مسیح سے مسلسل آبادی کے آثار ملتے ہیں۔

شہر کے قدیم ڈھکے ہوئے بازاروں کی دکانوں میں پستوں کے ڈھیر لگے ہوتے ہیں۔ کچھ تازہ، جن پر اب بھی گلابی پنکھڑی جیسی بیرونی تہہ ہوتی ہے اور کچھ بھُنے ہوئے، جو فوراً کھانے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔

باقرچیلار چارشی (کاپرس میتھس بازار) کے سٹالز پر پستے کے میٹھے رولز سجے ہیں، جنھیں اپنے ساتھ پیک کر کے بھی رکھا جا سکتا ہے۔

بیکریوں کے باہر نیون سائن چمکتے ہیں جن پر ’فستک‘ (پستہ) چمکدار لائم گرین حروف میں لکھا ہوتا ہے۔

پیار کے اظہار کے لیے پستے سے تشبیہ دینا

ستک (پستہ) غازی عینتاب میں رہنے والوں کے لیے ایک اہم لفظ ہے۔ اگر آپ کسی دوست کو یہ کہنا چاہیں کہ وہ بہت پیارے لگ رہے ہیں، تو آپ کہہ سکتے ہیں ’فستک گبیسن‘ یعنی ’تم پستے جیسے ہو۔‘

کسی کو ’فستغم‘ یعنی ’میرا پستہ‘ کہنا بھی پیار کا اظہار سمجھا جاتا ہے۔

آج بھی مقامی لوگ ہر سال ستمبر میں پستے کی فصل کا جشن سالانہ ’گاسترو عینتاب فیسٹیول‘ مناتے ہیں، جس میں مختلف ورکشاپس اور خصوصی ڈنرز کا اہتمام ہوتا ہے۔

ترکی کی 70 فیصد سے زیادہ پستے کی پیداوار اب بھی اسی علاقے سے آتی ہے، جہاں پتھریلی زمین سے درختوں کی گہری جڑیں نکلتی ہیں اور گرمیوں کی تپش پستوں کو بہترین حد تک پکا دیتی ہے۔

مصطفیٰ اوزگُلر غازی عینتاب کے ریسٹورینٹ ’اورکیدے‘ کے ایگزیکٹو شیف ہیں، جہاں شوکیس پستے سے بنی کوکیز اور بکلاوا سے بھرے ہوتے ہیں۔

مصطفیٰ اوزگُلر کہتے ہیں کہ ’غازی عینتاب میں اگنے والے پستے دوسرے علاقوں کے مقابلے میں زیادہ میٹھے اور زیادہ سبز ہوتے ہیں۔‘

اس ریستوران کے پچھلے حصے میں ایک کاریگر آرڈر کے مطابق کاتمر تیار کرتا ہے۔

ناشتے میں میرے ساتھ کاتمر کھانے کے بعد اوزگُلر اور ان کے بیٹے امیر میرے ساتھ شہر کے وسط میں ایک پہاڑی پر واقع پستے کے باغ کی سیر کرنے گئے جو اورکیدے سے زیادہ دور نہیں تھا۔

وہاں موجود ایک گارڈ نے بتایا کہ یہاں کے 500 درخت کئی دہائیوں پرانے ہیں اور 2023 میں آنے والے تباہ کن زلزلوں میں اس کے مالک کی موت کے بعد یہ زمین شہر کے نام وقف کر دی گئی تھی۔

امیر نےکہا کہ ’بہت سے لوگوں کے پاس پستے اور اخروٹ کے درختوں سے بھرا باغ ایک ایسی جگہ ہوتی ہے جہاں آپ ویک اینڈ گزارتے ہیں۔‘

اس باغ میں ہم قطاروں میں چل رہے تھے اور گرے ہوئے پتوں کی چرچراہٹ ہمارے قدموں کے نیچے سنائی دے رہی تھی۔

امیر کے مطابق ’پرانے زمانے میں غازی عینتاب میں دولت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا تھا کہ آپ کے پاس کتنی پستے کی زمین ہے۔‘

ریشم اور سونے کے شامیانے،عالیشان دعوتیں، کھیل تماشے: مغل اور عثمانی حکمران عید کیسے مناتے تھے؟میٹھا کھانے کی خواہش کیوں پیدا ہوتی ہے اور اسے کیسے کم کیا جا سکتا ہے؟ام علی: ’ناقابل فراموش‘ میٹھا پکوان جس کے پیچھے قتل کی پراسرار داستان چھپی ہےلالٹین کی کہانی: جو فاطمی دور سے رمضان کی پہچان بنی

عینتاب کی پستے والی مٹھائیوں کی تمام اقسام میں بکلاوے کو پیسٹریوں کی دنیا کا بے تاج بادشاہ کہا جاتا ہے۔

الماجی بازار کے اندر 1871 میں قائم ہونے والی چھوٹی سی دکان ’گُلّو اوغلو کا دعویٰ ہے کہ وہ ملک کی سب سے پرانی مسلسل چلنے والی بکلاوا بیکری ہے۔

اس دکان کے شوکیس میں کلاسک چوکور بکلاوا ، ٹرن اوور جیسی شکل والے بکلاوا اور گاجر کے ٹکڑے جیسی پتلی ’ہَوُچ دلیمی‘ بکلاوا کی ٹرے سجی ہوتی ہیں۔ ہر ایک میں پستے کی چمکتی ہوئی بھرپور فلنگ نظر آتی ہے۔

انیسویں صدی کے وسط میں مکہ کے سفرِ کے دوران گُلّو اوغلو کے بانی گُلّو چیلَبی دمشق اور حلب کی مٹھائی کی دکانوں میں اخروٹ سے بھرے بکلاوا سے بہت متاثر ہوئے تھے۔ گھر لوٹ کر انھوں نے اس ترکیب میں تبدیلی کرتے ہوئے اخروٹ کی جگہ پستے استعمال کیے اور یہی تبدیلی ان کے شہر کی کھانوں کی روایت کو ہمیشہ کے لیے بدل دینے والی ثابت ہوئی۔

رمضان کے اختتام پر بکلاوا سے تواضح

اس تاریخی شہر میں پلنے بڑھنے اور گیسٹرونومی کی ماہر فلز ہوسوکوغلو کہتی ہیں ’بکلاوا بنانے پر یہاں بہت فخر کیا جاتا ہے۔ یہ ویسا ہی ہنر ہے جیسا مایکل اینجلو نے فلورنس میں دکھایا تھا، غازی عینتاب میں بکلاوا کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے۔‘

جب ہوسوکوغلو بچی تھیں تب ان کے والد رمضان کے اختتام پر پستے کے بکلاوا کی ٹرے خریدتے تھے اور جشن منانے کے لیے آنے والے ہر مہمان کو پیش کرتے تھے۔ خاندان اپنے پسندیدہ بیکرز کے ساتھ دیرپا وابستگی رکھتے ہیں۔

گُلّو اوغلو میں چند اقسام چکھنے کے بعد میں نے شہر کے نئے حصے میں واقع ’کوچاک بکلاوا‘ تک ٹیکسی لی، جہاں محل نما ڈائننگ روم میں خوش لباس لوگ خوبصورتی سے پیش کی گئی مٹھائیوں کا لطف لینے آتے ہیں۔

سفر کے آخری دنوں میں ایک صبح سویرے میں 1887 میں قائم ہونے والی بیکری’امام چاغداش‘ کی اوپری منزل میں موجود بکلاواا ورکشاپ تک پہنچ گیا۔

وہاں سفید ایپرن پہنے بیکرز آٹے سے اٹے ہوئے ماحول میں باریک لکڑی کے بیلن سے آٹے کو اتنا پتلا بیل رہے تھے کہ اس کے پار دیکھا جا سکتا تھا۔ وہ دھاتی ٹرے صبح کی آگ کے نارنجی انگاروں سے جلتے ہوئے پتھریلے تندوروں میں اندر تک سرکا دیتے تھے۔ بڑے دیگچوں میں چاشنی اُبل رہی تھی۔ اور جب بکلاوا تندور سے نکلتا تو شیف اس پر وہ محلول ڈال رہے تھے۔

بُرہان چاغداش 12 سال کی عمر میں خاندانی کاروبار میں شامل ہوئے تھے۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ ان میں سے کچھ بیکرز پچاس سال سے زیادہ عرصے سے یہاں کام کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’ایک بہترین بکلاوا ماسٹر تیار کرنے میں کم از کم پانچ سال لگتے ہیں۔‘

اب 63 سالہ چاغداش ریستوران کے پچھلے حصے میں میرے ساتھ بکلاوا کی پلیٹ پر بیٹھے تھے اور مجھے ہدایت دے رہے تھے کہ ہر ٹکڑا الٹا کر کے کھاؤں تاکہ نیچے والا شربتی حصہ اوپر آجائے اور اوپر کی کراری تہیں دانتوں سے نہ چپکیں۔

انھوں نے کہا کہ خاندانی کاروبار صرف کھانے تک محدود نہیں۔ یہ انھیں پیدائش سے لے کر شادی، مذہبی تقریبات اور جنازوں تک شہر کی روایات سے جوڑتا ہے۔ یہ ایک ثقافت ہے، ایک مکمل طرزِ زندگی جس میں ہوا ہے، پانی ہے اوربکلاوا ہے۔‘

ریشم اور سونے کے شامیانے،عالیشان دعوتیں، کھیل تماشے: مغل اور عثمانی حکمران عید کیسے مناتے تھے؟لالٹین کی کہانی: جو فاطمی دور سے رمضان کی پہچان بنیدرگاہ حضرت نظام الدین: گلاب اور عود سے مہکتا صوفی مزار جو دلی کو روحانی سکون دیتا ہےمیٹھا کھانے کی خواہش کیوں پیدا ہوتی ہے اور اسے کیسے کم کیا جا سکتا ہے؟افطار دسترخوان پر جلیبیاں، امرتی، سویّاں اور میٹھے مشروبات: رمضان میں میٹھے سے ہاتھ کیوں نہیں رکتاام علی: ’ناقابل فراموش‘ میٹھا پکوان جس کے پیچھے قتل کی پراسرار داستان چھپی ہے
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More