انڈین پارلیمان کی طرف سے سنہ 2019 میں آرٹیکل 370 منسوخ کیے جانے کے بعد سے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں حالات مجموعی طور پر پُرسکون رہے ہیں تاہم جموں میں واقع ’چناب‘ اور ’پیر پنچال‘ نامی ہمالیائی وادیوں میں گذشتہ برسوں کے دوران انڈین فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر حملے ہوئے جن میں سکیورٹی فورسز کو جانی نقصان بھی اُٹھانا پڑا۔
تاہم اِن واقعات میں ملوث عسکریت پسندوں کو گرفتار کرنے کی کوششوں کے دوران کیے گئے طویل آپریشنز اور محاصروں کے دوران اکثر اوقات یہ ملزمان اس علاقے میں موجود گھنے جنگلوں اور دشوار گزار پہاڑی درّوں کا فائدہ اُٹھا کر فرار ہو جانے میں کامیاب رہے۔
واضح رہے رواں سال کے آغاز میں جموں کے ضلع کشتواڑ میں عسکریت پسندوں کو گرفتار کرنے کی غرض سے شروع کیا گیا آپریشن، جسے سکیورٹی فورسز نے ’تراشی ون‘ کا نام دیا ہے، گذشتہ سات ہفتوں سے جاری ہے۔اس آپریشن کے دوران سات مواقع پر فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں ایک پیرا کمانڈو ہلاک بھی ہوا۔
تاہم گذشتہ ہفتے جموں کشمیر پولیس نے بتایا کہ ہمالیائی وادیوں کے جنگلاتی علاقوں اور پہاڑی درّوں سے عسکریت پسندوں کو پکڑنے کے لیے پولیس کی دو خاص بٹالین پونچھ، راجوری، ادھم پور، کشتواڑ اور کٹھوعہ میں تعینات کی گئی ہیں۔
’مارخور‘ اور ’سنو لیپرڈ‘ نامی یہ بٹالینز برفانی اور جنگلاتی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ان دونوں بٹالینز میں اکثریت اُن جوانوں کی ہے جو ہمالیائی علاقوں سے ہی تعلق رکھتے ہیں اور جنگلاتی راستوں اور پہاڑی درّوں سے واقف ہیں۔
پولیس کے ایک سینیئر افسر کے مطابق ’ان جوانوں کو خاص طور سے جنگل وار فئیر کے لیے ٹرین کیا گیا ہے۔ اور انکی تربیت جموں اور کشمیر میں ماہر افسروں کے علاوہ انڈین ریاست آندھرا پردیش کے گرے ہاؤنڈز نامی سپیشل یونٹ کے کمانڈروں نے کی ہے۔‘
واضح رہے کہ گرے ہاؤنڈز انڈین نیم فوجی ادارے ’سی آر پی ایف‘ کا ایک دستہ ہے، جس نے وسطیٰ انڈیا میں ماؤ نواز عسکریت پسندی کے خلاف کامیاب آپریشن کیے ہیں۔
’عسکریت پسندوں نے حکمت عملی بدل دی‘
شیش پال وید کشمیر پولیس کے سابق سربراہ ہیں اور انھوں نے دہائیوں تک کشمیر اور جموں میں عسکریت پسندوں کے خلاف کیے جانے والے آپریشنز کی قیادت کی ہے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جنگل وار فئیر ایک چیلنج بن چکا تھا۔ عسکریت پسندوں نے اب حکمت عملی بدل دی ہے اور وہ شہری علاقوں کی بجائے جموں کے پہاڑی اور گھنے جنگلات والے علاقوں میں سرگرم ہوئے ہیں۔‘
’چند سال سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ درجنوں مرتبہ دہشت گرد سکیورٹی فورسز کا محاصرہ توڑ کر فرار ہونے میں کامیاب ہو جاتے تھے۔ نئی بٹالینز بنانے کا فیصلہ وقت کی اہم ضرورت ہے، اور اس سے اچھے نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ نئی اور مناسب تربیت والی اس فورس کی وجہسے جموں کے بھلاور، بسنت گڑھ اور ڈوڈہ میں چند کامیاب آپریشن بھی ہوئے ہیں۔‘
سابق پولیس سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ رپورٹس کے مطابق جموں کے پہاڑی اور جنگلاتی علاقوں میں ابھی بھی دو درجن سے زیادہ ’خطرناک‘ عسکریت پسند سرگرم ہیں جن کے خلاف مختلف سطحوں پر آپریشن جاری ہے۔
انھوں نے پاکستان اور چین پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ عسکریت پسندوں کے پاس پاکستان کے ہتھیار اور چین کے ایسے مواصلاتی آلات ہوتے ہیں جنھیں اکثر اوقات ٹریک کرنا مشکل ہوتا ہے۔
’مارخور اور سنو لیپرڈ میں شامل نئے جوان نہ صرف جنگل وارفئیر کے لیے خصوصی طور ٹرین کیے گئے ہیں بلکہ وہ ان پہاڑوں اور جنگلوں سے اچھی طرح واقف بھی ہیں۔‘
’فورس کتنی بھی ایلیٹ ہو، مقامی لوگوں کی حمایت ناگزیر ہے‘
شیش پال وید ’مارخور‘ اور ’سنو لیپرڈ‘ دستوں کی تشکیل کو ہمالیائی خطوں میں درپیش سیکورٹی چیلنج سے نمٹنے کے لیے اہم قدم قرار دیتے ہیں۔
تاہم وہ ساتھ ہی کہتے ہیں کہ ’فورس کتنی بھی ایلیٹ کیوں نہ ہو، جب تک مقامی لوگوں کی حمایت حاصل نہ ہو، تب تک کامیابی نہیں مل سکتی۔ دہشت گرد جنگلوں میں ضرور رہتے ہیں، لیکن انھیں کھانا، کپڑے اور بعض اوقات دوائیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ تو مقامی دکاندار سے ہی آتی ہیں۔ اس لیے عام لوگوں کا تعاون نہایت اہم ہے۔‘
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسداد دہشت گردی کے ساتھ وابستہ رہ چکے سکیورٹی امور کے ماہر لَو پُوری کے مطابق انسدادی کارراوئیوں میں تربیت، پُھرتی اور جدید ٹیکنالوجی سے زیادہ اہم مقامی لوگوں کی حمایت ہے۔
لو پوری نے چند برس قبل ’ملیٹینسی اِن جموں اینڈ کشمیر‘ کے عنوان سے کتاب بھی لکھی ہے۔
لو پُوری کہتے ہیں کہ ’افغانستان کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ سپرپاور امریکہ کی فوج کے پاس کیا کچھ نہیں تھا، دنیا کے بہترین ہتھیار، اعلیٰ ٹیکنالوجی، معیاری تربیت ، پھُرتی اور یہاں تک کہ سیٹلائٹس کی مدد بھی۔ لیکن مقامی لوگوں کی مدد کے بغیر ان کے آپریشنز کا جو کچھ ہوا وہ آپ جانتے ہیں۔ نئے دستوں کی تشکیل اچھی بات ہے، لیکن زمینی حقائق کو بھی سمجھا جائے۔‘
لَو پوری کے مطابق پونچھ، راجوری، ڈوڈہ اور کشتواڑ میں جب کوئی حملہ ہوتا ہے تو شک کی بنا پر درجنوں نوجوانوں کو حراست میں لیا جاتا ہے۔
’ظاہر ہے یہ ایک مجبوری ہے، لیکن اُن کے ساتھ کبھی کبھی ایسا برتاؤ کیا جاتا ہے کہ اُن کی ہمدردی فورسز کی بجائے دہشت گردوں کی طرف ہو جاتی ہے۔ چند سال قبل راجوری میں یہی ہوا، جب ایک حملے کے بعد فوج نے حراست میں لیے گئے چند نوجوانوں کے ساتھ مار پیٹ کی اور ان میں ایک نوجوان کی موت بھی ہو گئی۔‘
اُن کا کہنا ہے نئی وردیاں، نئے ہتھیاروں اور نئی تربیت سے زیادہ اہم مقامی آبادیوں کی حمایت ہے۔
واضح رہے گذشتہ برس انڈیا کی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ انالِسز ونگ یعنی ’را‘ کے سابق سربراہ امرجیت سنگھ دُلت نے معروف انڈین صحافی کرن تھاپر کے ساتھ جموں میں بڑھتی عسکریت پسندی کے بارے میں گفتگو کی تھی جو ’دی وائر‘ پر نشر ہوئی تھی۔
اس انٹرویو میں مسٹر دُلت نے کہا تھا کہ ’ان خطوں میں ہماری انٹیلیجنس خشک ہو چکی ہے۔ وہاں کے جنگلوںاور پہاڑی وادیوں میں دہشت گردوں کو فری ہینڈ مل چکا ہے۔ آپریشن کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں، لوکل انٹیلیجنس کے بغیریہ مسلہ حل نہیں ہو سکتا۔‘
کیا جموں میں عسکریت پسندی کوئی نئی بات ہے؟Getty Images
مسلح شورش 1990 میں وادی سے ضرور شروع ہوئی تھی لیکن چند سال بعد ہی اس کا دائرہ جموں کے راجوری، پونچھ، ڈوڈہ اور کشتواڑ اضلاع تک پھیل گیا تھا۔
لَو پُوری اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ’2007 تک پورے جموں کشمیر میں جتنے بھی دہشت گردی کے واقعات ہوتے تھے ان میں سے 35 فیصد واقعات جموں کے ان ہی علاقوں میں رونما ہوتے تھے۔ ایسا نہیں ہے کہ جموں ہمیشہ سے دہشت گردی سے آزاد رہا ہے۔ البتہ بعد میں کچھ پالیسیاں بنائی گئیں، جن کی وجہ سے وہاں نسبتاً امن رہا۔‘
واضح رہے 2000 کے اوائل میں اُس وقت کے پولیس سربراہ کُلدیپ کھُڈا نے جموں میں ایک نیا انسدادی فارمولہ تجویز کیا جس کے تحت مقامی باشندوں کو مسلح کر کے ہر گاؤں میں ’ویلیج ڈیفنس کمیٹی‘ یا وی ڈی سی بنائی گئی تھی۔
یہ مسلح سِول فورس فوج اور نیم فوجی اہلکاروں کی آپریشن کے دوران مدد بھی کرتے تھے اور بستیوں میں گشت بھی کرتے تھے۔ اس فارمولہ کی وجہ سے چند سال کے اندر ہی جموں میں مسلح عسکریت پسندوں کی کارروائیاں بہت کم ہو گئیں۔
تاہم ان کمیٹیوں پر فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے، کرپشن اور عام لوگوں کے ساتھ زیادتیاں کرنے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔
لَو پُوری کہتے ہیں کہ سنہ 2019 کے بعد عسکریت پسندوں نے بستیوں کی بجائے جنگلوں اور پہاڑی درّوں میں پناہ لے لی اور گوریلا وار کا ایک خطرناک مرحلہ شروع ہوا، جس سے نمٹنے کے لیے اب انڈیا بھی نئی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
’آج کے پس منظر میں وی ڈی سی فارمولہ ہو سکتا ہے کارگر نہ ہو، کیونکہ دہشت گرد بستیوں میں نہیں جنگلوں میں ہیں۔‘
کشمیر کے معروف انگریزی روزنامہ ’گریٹر کشمیر‘ میں گذشتہ دو دہائیوں سے سیکورٹی امور پر لکھنے والے صحافی شبیر ابن یوسف کا کہنا ہے کہ کشمیر پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ یا ایس او جی میں تربیت یا عزم کی کمی نہیں۔
’پولیس کا ایس او جی پورے انڈیا میں اپنی کارکردگی کے لیے جانا جاتا ہے۔ اس گروپ کے پاس دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کا وسیع تجربہ ہے۔ مجھے ایک بار ایک سیینئر فوجی افسر نے بتایا کہ وہ حیران ہو گئے جب ایس او جی دستے کو خفیہ اطلاع ملی تو وہ کھانا کھا رہے تھے، وہ پھرتی سے آپریشن پر نکلے اور ایک گھنٹہ بعد واپسی پر باقی کھانا کھایا۔‘
شبیر کا کہنا ہے کہ فورسز کو نئی وردیاں پہنانے سے زمینی حقائق نہیں بدلتے۔
’جنگل وار فئیر کے خلاف کوئی بھی حکمت عملی بناتے وقت ان علاقوں میں رہنے والے باشندوں کی مشاورت ضروری ہے۔ آپریشن کے دوران مہنگے ہتھیار یا اضافی تربیت والے کمانڈوز سے فرق ضرور پڑتا ہے، لیکن لوکل سپورٹ کے بغیر ایسے آپریشن بھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔‘
کشمیر میں ’جنگل وار فیئر‘: انڈین فورسز کو دشوار گزار علاقوں میں آپریشن کے دوران مشکلات کا سامناانڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر: کوکر ناگ کے جنگلوں میں جدید ٹیکنالوجی کے باوجود عسکریت پسندوں کی تلاش مشکل کیوں؟’آپریشن مہادیو‘: انڈین سکیورٹی فورسز پہلگام کے مبینہ پاکستانی حملہ آوروں تک کیسے پہنچیں؟کشمیر: ’جعلی‘ مقابلوں میں ہلاکتیں، لواحقین کو لاشوں کا انتظار