فحاشی کا الزام اور پھر ’فتویٰ‘: نورا فتحی پر فلمائے گئے آئٹم سانگ ’سَرکے چُنر تیری‘ پر پابندی کیوں عائد ہوئی؟

بی بی سی اردو  |  Mar 23, 2026

Getty Imagesنوار فتحی کا دعویٰ ہے کہ وہ گانے کے بول کے معنی سے ناواقف تھیں اور جب انھوں نے اُن کی ہندی ٹرانسلیشن سُنی تو ان کے کان کھڑے ہوئے (فائل فوٹو)

انڈیا میں کنڑ زبان میں بننے والی فلم ’کے ڈی: دی ڈیول‘ کے گانے ’سرکے سرکے چُنر تیری سرکے‘ پر تنازع کھڑے ہونے کے بعد انڈین حکومت نے تمام پلیٹ فارمز پر اس کے نشر کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

نورا فتحی اور سنجے دت پر فلمائے گئے اس گانے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بہت سے صارفین نے یہ کہتے ہوئے تنقید کی تھی کہ اس گیت کے بول ’فحش‘ ہیں۔

گذشتہ ایک ہفتے کے دوران یہ معاملہ اس حد تک بڑھ گیا کہ انڈیا کے قومی انسانی حقوق کمیشن نے مرکزی حکومت کو قانونی نوٹس بھیج دیا جبکہ خواتین کے قومی کمیشن نے فلم کے اداکاروں اور پروڈیوسروں کو بھی ادارے کے سامنے پیش ہونے سے متعلق نوٹس جاری کیا۔

انڈین نیوز ایجنسی ’اے این آئی‘ کے مطابق علی گڑھ کے مسلم پرسنل لا کے دارالافتاء نے اس معاملے پر نورا فتحی کے خلاف ایک فتویٰ بھی جاری کیا ہے۔

اس فلم سے وابستہ مختلف فنکاروں نے گانے کے بول کو لے کر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

یہ گانا گانے والے گلوکار مانگلی نے سوشل میڈیا پر صارفین سے معافی مانگتے ہوئے گانے کا نئے ورژن لانے کا وعدہ کیا ہے۔

اس گیت کو لکھنے والے رقیب عالم نے دعویٰ کیا ہے کہ اس گیت میں پیش کیے جانے والا کوئی بھی لفظ ان کا اپنا نہیں ہے بلکہ انھوں نے صرف اس گیت کا کنڑ زبان سے ہندی میں ترجمہ کیا ہے۔

دریں اثنا اداکارہ نورا فتحی، جن پر یہ گانا فلمایا گیا ہے، نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ اپنی ایک ویڈیو میں کہا کہ انھوں نے گانا کنڑ زبان میں شوٹ کیا تھا، اور وہ اس بات سے ناواقف تھیں کہ جو الفاظ وہ بول رہی ہیں اس کے کیا معنی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’جیسے ہی میں نے اس گانے کا ہندی ترجمہ سنا تو میرے کان کھڑے ہو گئے۔ مجھے معلوم تھا کہ گانے کے بول پر اعتراض کیا جائے گا۔ میں نے فلم ڈائریکٹر کو بھی یہی کہا اور میں نے کہیں بھی اس گیت کی تشہیر نہیں کی۔‘

گانے پر پابندیGetty Images'اے این آئی' کے مطابق علی گڑھ کے مسلم پرسنل لا کے دارالافتاء نے اس معاملے پر نورا فتحی کے خلاف ایک فتویٰ بھی جاری کیا ہے

اس گانے کے متعلق تنازع بڑھتے بڑھتے انڈین پارلیمان بھی پہنچا۔

جبکہ 17 مارچ کو انسانی حقوق کمیشن نے مرکزی بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن (سی بی ایف سی) کے چیئرمین پرسون جوشی، وزارت اطلاعات و نشریات کے سیکریٹری اور گوگل انڈیا کو قانونی نوٹس جاری کیے۔

اس کے بعد مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات نے پارلیمنٹ میں اعلان کیا کہ اس گیت کو تمام زبانوں کے پلیٹ فارم سے ہٹا دیا جائے گا۔

دریں اثنا سینسر بورڈ نے کہا ہے کہ اس گیت کو ریلیز کرنے سے قبل منظوری کے لیے پیش نہیں کیا گیا تھا اور انٹرنیٹ پر موجود مواد پر اُن کا براہ راست کنٹرول نہیں ہے۔

سی بی ایف سی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’سی بی ایف سی ایک ذمہ دار ادارہ ہے۔ اس کے ممبران سنیما میں خواتین کی تصویر کشی کو سنجیدگی سے لیتے ہیں اور تنازعات کو بات چیت سے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘

سی بی ایف سی کی ویب سائٹ کے مطابق، جب بھی کوئی فلم سرٹیفیکیشن کے لیے عرضی داخل کرتی ہے تو اسے کلیئرنس کے لیے الگ الگ گیت، ان کے بول اور ٹائم کوڈ جمع کروانے ہوتے ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب انڈیا میں کسی آئٹم سانگ پر پابندی لگائی گئی ہے۔ حال ہی میں گلوکار بادشاہ کا ہریانوی گیت ’تاتیری‘ بھی پابندی کے بعد تمام پلیٹ فارمز سے ہٹا دیا گیا تھا۔

اس سے پہلے کھلنائیک (1993) اور راجہ بابو (1994) فلموں کے گیت آل انڈیا ریڈیو اور دوردرشن جیسے سرکاری پلیٹ فارمز پر نشر نہیں کیے جاتے تھے۔

بالی وڈ اور 'آئٹم سانگ

بالی وڈ میں آئٹم سانگ یا آئٹم نمبرز کی روایت کافی پرانی ہے۔

صحافی اور فلمی نقاد سپرنا شرما کا کہنا ہے کہ 1940 کی دہائی میں مرد اداکار خواتین کے لباس میں رقص کرتے تھے۔ اس کے بعد 1940 اور 50 کی دہائیوں میں اداکارہ کوکو نے ’پتلی کمر ہے‘ (فلم برسات 1949) اور ’بے چین دل کھوئی سی نظر‘ (یہودی، 1958) جیسے ہٹ گیتوں پر پرفارم کیا۔

سپرنا شرما نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اداکارہ کوکو کے دور کے بعد ہیلن نے بالی وڈ میں ڈانسنگ کوئین کے طور پر راج کیا، لیکن انھیں کبھی بھی ’آئٹم گرل‘ نہیں کہا گیا۔‘

ہیلن کے دور میں ’یہ میرا دل پیار کا دیوانہ‘ (ڈان 1967) اور ’پیا تو اب تو آجا‘ (کارواں 1971) جیسے کئی ہٹ گانے سامنے آئے۔

اکنامک اینڈ پولیٹیکل ویکلی میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق ’آئٹم نمبر‘ کی اصطلاح بالی وڈ میں 1990 کی دہائی میں استعمال ہونا شروع ہوئی۔

’اوباش مردوں کی گھورتی نظروں کو جھکانے والا‘ آئٹم سانگ تنقید کی زد میں کیوں؟'سنجے سنی لیونی کے گانے میں شامل ہونا چاہتے تھے'

آرٹیکل کے مطابق ’آئٹم گرل‘ کی اصطلاح سب سے پہلے ملائکہ اروڑا کے لیے ’چھیاں چھیاں‘ گيت کے بعد استعمال کی گئی۔

فلم ناقد سپرنا شرما نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’بالی وڈ میں آئٹم گرلز اکثر صرف ایک گانے میں رقص کرتی نظر آتی ہیں۔ انھیں پرفارم کرنے کے لیے رکھا جاتا ہے۔ فلم میں ان کا کوئی بڑا یا الگ کردار نہیں ہوتا ہے۔‘

چنّئی میں مقیم فلم کریٹک رمیش بالا نے کہا کہ آج کی اداکارائیں ’آئٹم نمبر‘ کی اصطلاح استعمال کرنے کے بجائے ’سپیشل سانگ‘ کی اصطلاح کے استعمال کو ترجیح دیتی ہیں۔

انھوں نے وضاحت کی کہ جنوبی ہند کے سنیما میں بھی اداکارائیں پہلے ایسے گیتوں سے گریز کرتی تھیں اور سلک سمتھا یا ڈسکو شانتی جیسی رقاصائیں ایسے کردار ادا کرتی تھیں۔

بی بی سی ہندی سے بات چیت میں انھوں نے کہا کہ ’ایسا نہیں ہے کہ ایسے گانے پہلے نہیں بنتے تھے۔ لیکن اس وقت کے نغمہ نگاروں میں لفظوں کے ذریعے معانی چھپانے کا ہنر تھا۔ آج کل کے بول بہت واضح اور بے ہودہ ہو گئے ہیں۔‘

’ایسے گیت فلموں کی کشش بڑھانے کے لیے لکھے جاتے ہیں‘Getty Images

تازہ گیت پر اٹھنے والے تنازع کے بعد بی بی سی ہندی نے فلم سازوں، ناقدین اور نوجوان نسل سے ان کے خیالات کو سمجھنے کے لیے بات کی۔

فلم ناقد ایشیتا سینگپتا نے کہا کہ ایسے گیت فلموں کی کشش بڑھانے کے لیے لکھے جاتے ہیں۔

بی بی سی کے ساتھ بات چیت میں انھوں نے کہا: ’فلم کے ڈی: دی ڈیول گذشتہ ایک ہفتے سے خبروں میں ہے، اگر گانے کے بول اتنے متنازع نہ ہوتے تو کوئی بھی اس فلم کے بارے میں اتنی بات نہ کرتا۔‘

’انارکلی آف آرا‘ (2017) اور ’ان گلیوں میں‘ (2025) کے ہدایتکار اویناش داس نے کہا: ’یہ گانا اس فلم کو سپاٹ لائٹ میں لانے کی دانستہ کوشش ہے۔‘

داس کے مطابق ’سرکے چُنر تیری‘ کے بول کافی خراب ہیں اور ان میں جمالیات کی کمی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ معاشرے میں رائج پارٹی کلچر میں شاید گانے کے بول زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔

وہ کہتے ہیں: ’پارٹی کلچر میں لوگ دھنوں کی اتنی پرواہ نہیں کرتے جتنی وہ اونچی آواز میں موسیقی کی کرتے ہیں۔‘

بی بی سی نے دہلی یونیورسٹی کے کچھ طلبا سے بالی وڈ آئٹم نمبرز پر نوجوان نسل کے خیالات کو سمجھنے کے لیے بھی بات کی۔

پولیٹیکل سائنس کی ایک طالبہ کومل نے کہا کہ اگرچہ ڈانس نمبرز کا میوزک پرجوش ہو سکتا ہے، لیکن اُن کے بول افسوسناک ہیں۔

ان کی دوست انوشکا نے کہا کہ نورا فتحی کے نئے گانے کے بول بہت خراب ہیں، اس پر پابندی لگانا بالکل درست ہے۔

انگریزی ادب کی طالبہ جے شری نے کہا: ’ڈانس نمبرز مقبول ہو سکتے ہیں، لیکن آج کے دور میں ان کی کوئی جگہ نہیں ہے۔‘

انگریزی ادب میں پوسٹ گریجویٹ کرنے والی طالبہ روپالی پوچھتی ہیں کہ ’ایسے گانے ایسے ملک میں کیوں بنائے جا رہے ہیں جہاں صنفی حساسیت کی ضرورت ہے؟ ایسے گانے بالکل نہیں لکھے جانے چاہییں۔‘

تاہم کچھ طلبا نے اس پابندی کے خلاف بھی بات کی۔

طالبعلم راہل نے کہا: ’مجھے واقعی ڈانس نمبر پسند ہیں۔ جو لوگ انھیں سننا نہیں چاہتے، انھیں نہیں سننا چاہیے۔‘

ڈیپ فیک، اے آئی اور ’شخصی حقوق‘: وہ رجحان جس سے بالی وڈ کے بڑے نام بھی پریشان ہیںجنس سے متعلق روایتی تصورات توڑتی ’بالی وڈ مخالف‘ فلمیں: ’مرد کچھ بھی کھا لیتے ہیں بس اس میں نمک مرچ ڈال دو‘فواد خان کی بالی وڈ فلم ’عبیر گُلال‘ کے ٹیزر پر ہنگامہ: ’پاکستانی اداکاروں کو مشورہ دوں گا وہ انڈین مارکیٹ میں نہ گھسیں، اپنے ملک میں کام کریں‘انڈیا میں دھورندھر کے ناقد ’منظم حملوں اور ہراسانی‘ کی زد میں: ’فلم پاکستان کو بے قابو اور وحشی معاشرے کے طور پر پیش کرتی ہے‘ابتدا میں فلاپ قرار دی گئی فلم ’شعلے‘ جس کے رقص، رومانس اور کہانی کے مداح اسے بھولے نہیں بھول پاتے
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More