ٹرمپ کا اعلان، ’حملوں میں وقفہ‘ اور تہران کی بے چینی: کیا امریکہ اور ایران میں جنگ بندی ممکن ہے یا تنازع شدت اختیار کر سکتا ہے؟

بی بی سی اردو  |  Mar 24, 2026

Reutersٹرمپ نے حال ہی میں کہا کہ وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں مرحلہ وار ختم کرنے پر غور کر رہے ہیں

امریکہ اور اسرائیل کئی ہفتوں سے مسلسل یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ایران کی عسکری صلاحیت بالکل کمزور ہو چکی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ بارہا کہہ چکے ہیں کہ مسلسل حملوں نے ایران کے کمانڈ ڈھانچے کو مفلوج کر دیا ہے اور اس کی جوابی کارروائی کی صلاحیت کمزور پڑ گئی ہے۔

ان کے مطابق تو یہ تنازع اب اختتام کی طرف بڑھنا چاہیے تھا۔

لیکن صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ کشیدگی تیزی سے، زیادہ شدت کے ساتھ اور کم واضح نکاتِ اختتام کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔

سنیچر کو یہ بات سامنے آئی کہ ایران نے بحیرہ ہند میں امریکی۔برطانوی اڈے ڈیگو گارسیا کی جانب دو میزائل داغے، جو تقریباً 3,800 کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ اگرچہ یہ میزائل جزیرے تک نہیں پہنچ سکے تاہم اس واقعے نے ایران کی صلاحیتوں کے بارے میں نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔

تاحال ایران کی میزائل رینج تقریباً 2,000 کلومیٹر سمجھی جاتی تھی۔

چاہے یہ ایک پہلے سے پوشیدہ صلاحیت ہو یا مسلسل حملوں کے دوران تیار کی گئی ہو، مفہوم ایک ہی ہے کہ عسکری دباؤ نے ایران کی پیشرفت کو نہیں روکا۔

اس کی اعلیٰ قیادت کا بڑا حصہ واقعی ختم کیا جا چکا ہے جن میں رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای، علی لاریجانی جیسے سینئر رہنما، پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر، مسلح افواج کے چیف آف سٹاف، اور اہم میزائل سازی کے مراکز شامل ہیں۔

تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس مہم کی سربراہی کون کر رہا ہے اور ایران شدید دباؤ کے باوجود اپنی صلاحیتیں کیسے برقرار رکھے ہوئے ہے؟

یہ غیر یقینی سب سے اوپر سے شروع ہوتی ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای مبینہ طور پر اس حملے میں بچ گئے تھے جس میں ان کے والد اور قریبی اہلِ خانہ مارے گئے تھے۔ انھیں نیا رہنما نامزد کیا گیا تھا۔

لیکن وہ تاحال عوام کے سامنے نہیں آئے۔ دو تحریری پیغامات کے علاوہ ان کی طرف سے کچھ سنا یا دیکھا نہیں گیا۔

ان کی موجودہ حالت واضح نہیں اور نہ ہی یہ کہ وہ قیادت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں۔

ایک ایسا نظام جو مرکزی اختیار پر قائم ہو، اس میں یہ خاموشی اقتدار کے مرکز میں ہی غیر یقینی پیدا کر رہی ہے۔

Reuters/Getty Images

ایران کے اقدامات کسی بھی طرح سے زوال کی علامت نہیں۔

سنیچر کو ایران نے اسرائیل کے نیگیو صحرا میں واقع شہر دیمونا پر بھی حملہ کیا جو اسرائیل کے غیر اعلانیہ جوہری پروگرام سے منسلک علاقہ سمجھا جاتا ہے۔

یہ حملہ ایران کے بوشہر کے قریب توانائی کے ڈھانچے پر اسرائیلی حملوں کے بعد ہوا جہاں ایران کا جوہری پاور پلانٹ بھی موجود ہے۔

پیغام واضح تھا کہ تناؤ میں اضافہ کیا جائے گا تو جواب بھی ملے گا اور اہم جگہیں اب محفوظ نہیں رہیں گی۔

یہ اقدامات انتشار کے بجائے ہم آہنگی کا اشارہ دیتے ہیں۔

امریکی اور اسرائیلی حکمت عملی کا بنیادی تصور یہ تھا کہ اعلیٰ قیادت کو ہٹا دینے سے نظام مفلوج ہو جائے گا لیکن اب یہ بات غیر یقینی دکھائی دیتی ہے۔

’شاک اینڈ آ‘ نامی عسکری حکمت عملی کا تصور اسی بات پر منحصر ہے کہ فیصلہ سازی کے ڈھانچے فوراً ٹوٹ جائیں۔ لیکن اگر یہ ڈھانچے توقع سے زیادہ مضبوط نکلیں تو؟

اگر ایسا ہے تو ایک زیادہ فوری مسئلہ سامنے آتا ہے کہ بات چیت کس سے کی جائے؟

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے خود کو نمایاں نہیں رکھا۔ تنازعے کے ابتدائی مرحلے میں انھوں نے پڑوسی ممالک سے معذرت کی جن پر ایرانی حملوں کا اثر پڑا تھا اور بتایا جاتا ہے کہ اس اقدام نے پاسدارانِ انقلاب کے بعض حلقوں کو ناراض کیا۔

مجتبیٰ خامنہ ای کے اقتدار میں آنے کے بعد سے انھوں نے مزید خاموشی اختیار کر لی ہے جس سے سفارتی راستے مزید محدود ہو گئے ہیں۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی شیعہ علما سے ملاقات کا احوال: ’ایران کے وفاداروں کی پاکستان سے نکل جانے کی بات ہوئی مگر اس کا پسِ منظر تھا‘ٹرمپ سے ’خائف‘ خلیجی بادشاہتیں: کیا دبئی اور قطر جیسی امیر ریاستوں میں سکیورٹی کا تصور محض سراب تھا؟کیا ایرانی میزائل واقعی لندن، پیرس اور برلن تک پہنچ سکتے ہیں؟ایران جنگ پر شرطیں: جب علی خامنہ ای کی ہلاکت کی پیش گوئی سے کچھ افراد نے ہزاروں ڈالر کمائے

تہران کے نقطۂ نظر سے حالیہ واقعات کسی بھی قسم کی بات چیت پر اعتماد کے لیے بہت کم جواز فراہم کرتے ہیں۔

گذشتہ 14 ماہ میں، جب سے ٹرمپ دوبارہ منصبِ صدارت پر آئے ہیں دو الگ الگ سفارتی سلسلوں میں جوہری معاہدے کی طرف پیش رفت کے آثار دکھائی دیے۔

لیکن ہر بار اس کے فوراً بعد عسکری کارروائی ہوئی۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ 27 فروری کو جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور میں انھوں نے امریکہ کے زیادہ تر تحفظات دور کر دیے تھے۔

ویانا میں تکنیکی بات چیت کی تیاری جاری تھی۔ لیکن ٹرمپ نے کہا کہ وہ مذاکرات کے طریقۂ کار سے ’خوش نہیں‘ ہیں اور اگلے ہی دن حملے شروع ہو گئے۔

ایرانی فیصلہ سازوں کے لیے پیغام واضح ہے کہ مذاکرات حملوں کو نہیں روکتے بلکہ شاید انھیں دعوت دیتے ہیں۔

Getty Imagesڈیاگو گارسیا میں امریکہ اور برطانیہ کا مشترکہ فوجی اڈہ ہے

لیکن صرف ایران ہی نہیں جو تنازع میں اضافہ کر سکتا ہے۔ ٹرمپ نے بھی ہفتہ کی رات صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔

انھوں نے 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم جاری کیا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے حکم نہ مانا تو امریکہ ایرانی پاور پلانٹس کو ’مٹا‘ دے گا۔

ایران نے یہ مطالبہ مسترد کر دیا اور جواب میں اسی نوعیت کی دھمکی دی کہ توانائی کے ڈھانچے پر کسی بھی حملے کا جواب خطے بھر میں حملوں سے دیا جائے گا۔

ایران کی سپریم کونسل آف ڈیفنس نے خلیج فارس کے کچھ حصوں میں بارودی سرنگیں بچھانے کے امکان کا بھی ذکر کیا۔

یہ تبادلہ آنے والے خطرات کو نمایاں کرتا ہے۔ ٹرمپ تیزی سے ایسے راستے پر بڑھ رہے ہیں جس میں آپشنز کم ہوتے جا رہے ہیں۔ زمینی فوج کے بغیر امریکہ اور اسرائیل صرف فضائی حملوں تک محدود ہیں جو نقصان تو پہنچا سکتے ہیں لیکن لازمی نہیں کہ مکمل سرینڈر کا مقصد حاصل ہو۔

ساتھ ہی ایسے حملوں سے وسیع تر جوابی ردعمل بھی بھڑک سکتا ہے، جبکہ ہرمز بھی دوبارہ نہیں کھلتا۔

یہ لفظی جنگ دونوں فریقوں کو براہِ راست زیادہ خطرناک مرحلے کی طرف بڑھاتی دکھائی دے رہی تھی۔

لیکن اپنی ہی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے چند گھنٹے پہلے ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے۔ ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں انھوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ ’بہت اچھی اور نتیجہ خیز‘ بات چیت ہوئی ہے اور ایرانی توانائی کے ڈھانچے پر کسی بھی حملے کو پانچ دن کے لیے روکنے کا اعلان کیا۔

وقت اہم ہے۔ الٹی میٹم سے فوراً پہلے کیا گیا یہ اقدام کم از کم فی الحال ایک ممکنہ فرار فراہم کرتا ہے۔

مارکیٹ کا ردعمل محتاط تھا۔ تیل کی قیمتیں کچھ کم ہوئیں جو معمولی اطمینان کا اظہار تھا مگر اس میں حد سے زیادہ خوش فہمی شامل نہیں تھی۔

اعلان کو عملی طور پر پرکھا جانا باقی ہے اور یہ غیر واضح ہے کہ یہ وقفہ کب تک برقرار رہے گا یا کیا یہ واقعی مذاکرات کی طرف پیش رفت کی علامت ہے۔

بنیادی طور پر سوال اب بھی باقی ہے کہ ایران میں اصل میں بات کون کر رہا ہے اور آئی آر جی سی اور سکیورٹی فورسز پر اختیار کس کے ہاتھ میں ہے جو بظاہر ’مرضی سے فائر کرو‘ کی پالیسی کے تحت چل رہے ہیں؟

اگر یہی صورتحال برقرار رہی اور ہرمز متنازع رہا تو دونوں فریق دوبارہ اپنی دھمکیوں کی طرف لوٹ سکتے ہیں اور اس کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔

پورے خطے کے تقریباً 17 کروڑ افراد، جن میں سے نو کروڑ سے زیادہ ایران میں ہیں، بجلی اور دیگر ضروری خدمات میں شدید تعطل کا سامنا کر سکتے ہیں۔

بات چیت کے محدود راستوں کے ساتھ صدر ٹرمپ کے پاس آپشنز بھی سکڑتی جا رہی ہیں۔ تناؤ میں مزید اضافہ تباہی کے ایک ایسے چکر میں بدل سکتا ہے جو حکمتِ عملی کے لحاظ سے بہت کم فائدہ دے اور یوں میز پر صرف انتہائی اقدامات ہی بچ جائیں۔

ایران کے لیے بھی صورتحال مشکل ہے۔ ملک پہلے ہی معاشی دباؤ اور وسیع سطح کی بےچینی کے سائے میں اس تنازعے میں داخل ہوا تھا۔

فی الحال جنگ نے اس دباؤ کو کچھ کم کیا ہے جس سے حکام کو اندرونی کنٹرول سخت کرنے کا موقع ملا ہے۔

یہ ایک نازک توازن پیدا کرتا ہے۔

ایران کے لیے کشیدگی میں اضافہ بیرونی خطرات کا جواب دینے اور اندرونی بےچینی پر قابو پانے کا ذریعہ ہے۔ لیکن اس سے ایک مہنگی غلطی کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔

اب دونوں فریق اپنے انتخاب میں محدود ہو چکے ہیں۔

ایران آسانی سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا کیونکہ ایسا کرنے سے کمزوری کا تاثر ملے گا جبکہ امریکہ اور اسرائیل صرف فضائی طاقت کے ذریعے فیصلہ کن نتیجہ حاصل نہیں کر سکتے۔

کیا ایرانی میزائل واقعی لندن، پیرس اور برلن تک پہنچ سکتے ہیں؟’گلف نیٹو‘ کا خواب: خلیجی ممالک کی رقابتیں، امریکی اثر و رسوخ اور پاکستان کا ممکنہ کردارایران جنگ پر شرطیں: جب علی خامنہ ای کی ہلاکت کی پیش گوئی سے کچھ افراد نے ہزاروں ڈالر کمائےفیلڈ مارشل عاصم منیر کی شیعہ علما سے ملاقات کا احوال: ’ایران کے وفاداروں کی پاکستان سے نکل جانے کی بات ہوئی مگر اس کا پسِ منظر تھا‘ٹرمپ سے ’خائف‘ خلیجی بادشاہتیں: کیا دبئی اور قطر جیسی امیر ریاستوں میں سکیورٹی کا تصور محض سراب تھا؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More