والدین کا خیال نہ رکھنے والی اولاد کی تنخواہ سے 15 فیصد کٹوتی کا قانون: ’والدین بے توجہی کا شکار ہوں گے تو قانون اُن کے ساتھ کھڑا ہو گا‘

بی بی سی اردو  |  Apr 01, 2026

Getty Imagesوہ والدین جنھیں سہارے کی ضرورت ہے اور جن کے بچے ان کے بڑھاپے میں ان کا خیال نہیں رکھ رہے ہیں وہ اپنے علاقے کے کلکٹر سے شکایات درج کرا سکتےہیں

انڈیا کی جنوبی ریاست تلنگانہ میں ریاستی اسمبلی نے ایک قانون کو منظوری دی ہے جس کے تحت ایسے تمام ملازمت پیشہ افراد کی تنخواہوں سے 15 فیصد کٹوتی کی جائے گی جو خود اپنے والدین کی دیکھ بھال نہیں کر سکتے۔ تنخواہ سے کاٹی جانے والی رقم والدین کو فراہم کی جائے گی۔

اس قانون کا اطلاق سرکاری اور غیر سرکاری کمپنیوں میں کام کرنے والے ایسے تمام مرد و خواتین پر ہو گا جو مختلف وجوہات کی بنا پر اپنے ماں، باپ کا خیال نہیں رکھ رہے۔ قانون کے مطابق بچوں کی تنخواہوں کی کاٹی جانے والی رقم والدین کو اپنی دیکھ بھال اور اخراجات پورے کرنے کے لیے ادا کی جائے گی۔

گذشتہ اتوار کو ریاستی اسمبلی میں منظور کیے گئے اس قانون میں کہا گیا ہے کہ ایسے تمام افراد کی تنخواہ کا 15 فیصد یا (زیادہ سے زیادہ) دس ہزار روپے ماہانہ اُن کے والدین کی دیکھ بھال کے لیے اُن کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کیا جائے گا۔

اس قانون کے دائرے میں سرکاری اور نجی کمپنیوں میں کام کرنے والے سبھی ملازمین شامل ہوں گے۔ اس کا اطلاق صرف عام لوگوں پر ہی نہیں بلکہ اراکین پارلیمان اور اراکینِ اسمبلی پر بھی ہو گا۔

یہ بِل پیش کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی اور قانون پر عملدرآمد کیسے ہو گا؟Getty Imagesوزیر اعلیٰ تلنگانہ ریونٹت ریڈی: ’ماں باپ کو اُن کی زندگی کے آخری ایّام میں بے سہارا اور بے بس نہیں چھوڑا جانا چاہیے‘

والدین کے معاشی حقوق کے تحفظ کے لیے بنائے گئے اس قانون کے تحت یہ طے کیا گیا ہے کہ ایسے والدین جنھیں سہارے کی ضرورت ہے اور جن کے بچے اُن کا بڑھاپے میں خیال نہیں رکھ پا رہے ہیں، وہ اپنے علاقے کے کلکٹر آفس میں اپنے بچوں کے خلاف شکایات درج کروا سکتے ہیں۔

کلکٹر آفس والدین اور بچوں کو طلب کر کے کیس کی شنوائی کرے گا۔ شکایت کنندہ والدین کو اس موقع پر اپنی پوری آمدن کی تفصیل بھی جمع کروانی ہو گی۔

قانون کے مطابق کلکٹر آفسکو شکایت موصول ہونے کے دو ماہ کے اندر اس پر فیصلہ کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔

ریاست کے وزیر اعلیٰ ریونٹت ریڈی نے اس بل کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’والدین کے حققوق کا تحفظ خیر سگالی کے جذبے سے ہونا چاہیے۔ یہ بل اس بات کو یقینی بنائے گا کہ جب کوئی والدین بے توجہی کا شکار ہوں تو قانون ان کے ساتھ کھڑا ہو۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ قانون حکومت کی سماجی ذمہ داری کا حصہ ہے۔

وزیر اعلیٰ نے اس بل پر ہونے والی بحث مین حصہ لیتے ہوئے کہا کہ حکومت کا مقصد صرف قانون بنانا نہیں ہے بلکہ بوڑھے والدین کے اندر یہ اعتماد بھی پیدا کرنا ہے کہ اُن کے ساتھ بڑھاپے میں ناانصافی نہیں ہونے دی جائے گی۔

انھوں نے کہا ’کسی بھی ماں باپ کو اُن کی زندگی کے آخری ایّام میں بے سہارا اور بے بس نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔‘

وزیر اعلی نے کہا کہ بدلتی ہوئی انسانی قدریں اور مادہ پرستی انسانی اور خاندانی رشتوں کو بہت نقصان پہنچا رہی ہیں۔

انھوں نے زور دیا کہ کہ ’معمر والدین کا تحفظ اور وقار بحال کیے جانے کی ضرورت ہے۔‘

انھوں نےکہا کہ صرف قانونی اقدام سے سارے مسائل حل نہیں ہوں گے، تاہم یہ والدین سے روا رکھے جانی والی بے توجہی کو روکنے میں مؤثر ثابت ہو گا۔

انھوں نے اس سلسلے میں ملک کے سرکردہ صنعت کار اور رمینڈ گروپ کے سابق چیئرمین وجے پت سنگھانیا کا ذکر کیا، جنھوں نے اپنے آخری ایّامایک اولڈ ہوم میں بہت تکلیف میں گزارے۔

اولڈ ہوم کے 75 سالہ دولہا اور 70 سالہ دلہن: ’شادی محض جسمانی لذّت نہیں ہے‘یہ کون خاتون ہیں جنھوں نے راہل گاندھی کو اپنی تمام جائیداد کا وارث بنا دیا’کیا ماں کا حق نہیں تھا کہ بیٹا اس کا سہارا بنتا؟‘

تلنگانہ اسمبلی نے جو نیا قانون پاس کیا ہے اس میں ایک سینیئر سٹیزن کمیشن قائم کرنے کی بھی تجویز ہے۔

اس کمیشن کی سربراہی ہائیکورٹ کے ایک سابق جج کریں گے۔

یہ کمیشن کلکٹر آفس کی جانب سے دیے گئے ابتدائی فیصلے کے خلاف والدین یا اولاد کی جانب سے دائر کردہ اپیلوں کی سماعت کرے گا۔

انڈیا میں اربنائزیشن، مشترکہ خاندانوں کے بکھرنے، خواتین کے کام کرنے اور نقل مکانی کے سبب بزرگ ماں باپ کی توجہ ایک پیچیدہ سماجی مسئلہ بن کر سامنے آیا ہے۔

تلنگانہ کے اس نئے قانون کا خیر مقدم کیا جا رہا ہے۔

Getty Imagesانڈیا میں اس وقت تقرییآ سات فیصد آبادی 60 برس سے زیادہ عمر کے افراد پر مشتمل ہے

حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ محمد ناظم علی نے اس نئے قانون کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ بہت اچھا قدم ہے۔ ‘

انھوں نے کہا کہ ’ضعیفی میں ماں باپ بہت بے سہارا ہو جاتے ہیں۔ انھیں مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔‘

’ماں باپ اپنی فعال زندگی میں اپنے سے زیادہ بچوں کا خیال رکھ کر اُن کی پرورش کرتے ہیں ۔ لیکن اب نئے ماحول میں بچے اپنے ماں باپ سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ ماں باپ کو اولڈ ہوم میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس لیے یہ نیا قانون اچھا ہے اور بزرگ ماں باپ کے لیے یہ بہت مفید ثابت ہو گا۔‘

ایک اور شہری عبدالحمید منان نے کہا کہ ’ماں باپ کی مدد کے لیے حکومت نے جو قانون وضع کیا ہے اس کے لیے سبھی والدین شکر گزار ہوں گے۔ یہ ایک ایسا قدم ہے جو ضعیف ماں باپ کے لیے ایک نایاب تحفہ ہے۔‘

’بوڑھا ہوتا ہوا ملک‘

اقوام متحدہ نے انڈیا کو ’بوڑھا ہوتا ہوا ملک‘ کے زمرے میں رکھا ہے۔

انڈیا میں اس وقت تقرییآ سات فی صد آبادی 60 برس سے زیادہ عمر کے لوگوں کی ہےـ سنہ 2050 تک یہ تعداد 20 فیصد پہنچنے کا تخمینہ ہے۔

ٹاٹا ٹرسٹ اور اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کے ادارے کی ایک مشترکہ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ بزرگ آبادی کے لیے پالیسی اور پروگرامز کی بہت سخت ضرورت ہے لیکن ‎ابھی اس کی طرف بہت کم توجہ دی جاتی ہے۔

بعض رپورٹس مین بتایا گیا ہےاس وقت ملک میں بزرگوں کی دیکھ بھال کے لیے این جی اوز اور پرائیوٹ اداروں کے تحت ڈیڑھ ہزار سے زیادہ اولڈ ہوم چل رہے ہیں جہاں اپنے بچوں سے دور 15 سے 20 لاکھ بزرگ افراد رہائش پذیر ہیں۔

’کیا ماں کا حق نہیں تھا کہ بیٹا اس کا سہارا بنتا؟‘اولڈ ہوم کے 75 سالہ دولہا اور 70 سالہ دلہن: ’شادی محض جسمانی لذّت نہیں ہے‘یہ کون خاتون ہیں جنھوں نے راہل گاندھی کو اپنی تمام جائیداد کا وارث بنا دیاپسند کی شادی سے انکار پر والدین کو انجیکشن لگا کر قتل کرنے کا الزام: ’توقع نہیں تھی بہن ایسی حرکت کرے گی‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More