Toronto Star via Getty Images
کلیئر بروسو سٹیج پر کامیڈی اور ٹی وی شوز، فلموں اور ڈراموں میں کام کرنے کے دوران دنیا بھر کا سفر کر چکی ہیں۔
ٹورنٹو کی رہائشی کلیئر بروسو کم عمری سے شدید ذہنی بیماری کا شکار بھی رہی ہیں، اور پچھلے 30 سال میں شمالی امریکہ کے چار بڑے شہروں میں ماہرینِ نفسیات سے علاج کروا چکی ہیں۔
بروسوکہتی ہیں کہ انھوں نے بائی پولر ڈس آرڈر اور پی ٹی ایس ڈی کے مریضوں کے لیے موجود تھیراپی، دوائیں اور دماغ کو برقی جھٹکے دینے سمیت تقریباً ہر علاج آزما لیا ہے۔
تاہم 49 سالہ کلیئر بروسو کے مطابق کوئی علاج ان کے لیے مؤثر ثابت نہیں ہوا۔ وہ خود کو ’عملاً آخری مرحلے میں‘ قرار دیتی ہیں اور اب نہ کام کر سکتی ہیں، نہ گھر سے باہر جا سکتی ہیں اور نہ اپنے پیاروں سے بات کر سکتی ہیں۔
وہ اس وقت ایک مقامی ہسپتال کے ایسے پروگرام میں شامل ہیں جو اُن لوگوں کے لیے مخصوص ہے جن کی ذہنی بیماری شدید ہے اور ان پر کوئی علاج کارگر نہیں ہوتا۔
انھوں نے بی بی سی سے گفتگو کے دوران کہا کہ ’اب آزمانے کے لیے کچھ باقی نہیں رہا اور میں اپنی زندگی کے آخری حصے میں ہوں۔‘
بروسو طبی معاونت سے موت (میڈیکلی اسسٹڈ ڈائینگ)، جسے یوتھینزیا بھی کہا جاتا ہے، کے ذریعے مرنا چاہتی ہیں۔ یہ کینیڈا میں قانونی ہے اور اسے میڈ(MAID) کا نام دیا گیا ہے تاہم ابھی اُن لوگوں کے لیے دستیاب نہیں جن کو صرف ذہنی بیماری لاحق ہو۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میں ہر صبح آنکھ کھولتی ہوں تو فوراً خوف اور بے چینی کا شکار ہو جاتی ہوں۔ میں ایک محفوظ موت چاہتی ہوں اور کوئی خوفناک قدم نہیں اٹھانا چاہتی۔‘
کینیڈا اس قانون کو اُن لوگوں تک بڑھانے کا منصوبہ بنا رہا تھا جن کی شدید اور لاعلاج ذہنی بیماری ہو لیکن یہ فیصلہ دو بار مؤخر کیا جا چکا ہے اور حال ہی میں اگلے سال تک اسے موخر کیا گیا۔
اس کی وجہ یہ خدشہ ہے کہ نظامِ صحت ابھی اس کے لیے تیار نہیں۔ اب حکومت اس پر دوبارہ غور کر رہی ہے کہ اس منصوبے کو آگے بڑھنا چاہیے یا نہیں۔
تاہم بروسو کا دعویٰ ہے کہ ان کی بیماری مسلسل بڑھ رہی ہے اور وہ مزید انتظار نہیں کر سکتیں۔ انھوں نے اونٹاریو کی ایک عدالت سے درخواست کی ہے کہ انھیں قانون سے استثنا دے کر طبی معاونت سے موت کی اجازت دی جائے۔
رائے عامہ کے جائزے بتاتے ہیں کہ کینیڈا کی اکثریت اس کی حمایت کرتی ہے تاہم جب بات ذہنی بیماری کے مریضوں کی ہو تو معاملہ پیچیدہ ہو جاتا ہے۔
گذشتہ دو ماہ میں ایک پارلیمانی کمیٹی نے اس بارے میں غور کیا کہ آیا اس پروگرام کو بڑھایا جائے یا نہیں۔ اس دوران اُنھوں نے حمایتی افراد اور ماہرین کی رائے سنی، جن میں سے کچھ نے اس کے خلاف خبردار کیا۔
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ بعض صورتوں میں معاونت سے موت معذور افراد کے مسئلے کا حل بن رہی ہے جبکہ انھیں سستی رہائش، بہتر صحت کی سہولیات اور مدد کی زیادہ ضرورت ہے۔
دیگر کا خیال ہے کہ طب ابھی تک ذہنی بیماری کو پوری طرح نہیں سمجھ سکی اس لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ مریض واقعی لاعلاج ہے یا صرف خودکشی کے خیالات کا اظہار کر رہا ہے۔
ٹورنٹو کے ایک بڑے ہسپتال کے سابق سربراہِ نفسیات ڈاکٹر سونو گائند نے کمیٹی کو بتایا کہ جب سے اس منصوبے کو روکا گیا ہے تب سے ہی اس میں پیش رفت نہ ہو سکی۔
انھوں نے کہا کہ ’بلکہ اب ہمارے پاس مزید شواہد ہیں کہ ہم ذہنی بیماری کے لیے میڈ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘
کمیٹی کی سفارشات اس پروگرام کے مستقبل کا تعین کر سکتی ہیں۔
وزیراعظم مارک کارنی نے گزشتہ ہفتے کہا کہ وہ فیصلہ کرنے سے پہلے رپورٹ کا انتظار کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ ’میں معلومات کی بنیاد پر فیصلہ کرنا پسند کرتا ہوں۔‘
Getty Imagesمارک کارنی نے کینیڈا میں معاونت سے موت کے بارے میں جاری بحث پر کوئی واضح مؤقف نہیں اپنایا، اور کہا ہے کہ وہ فیصلہ کرنے سے پہلے سینیٹ اور ہاؤس کی مشترکہ کمیٹی کی رپورٹ کا انتظار کریں گے
بروسو کے خیال میں ذہنی مسائل کے شکار مریضوں کو معاونت سے موت کی اجازت نہ دینا دراصل اس دقیانوسی سوچ (سٹیگما) کا نتیجہ ہے، جہاں جسمانی بیماریوں کو زیادہ قابلِ قبول سمجھا جاتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’اگر مجھے کل کینسر ہو جائے تو میں علاج سے انکار کر سکتی ہوں اور یوتھینزیا کے لیے اہل ہو جاؤں گی۔‘
لیکن ان کے مطابق شدید ذہنی بیماری کے مریضوں کو وہی رسائی نہیں دی جاتی جو اب کینیڈا کے نظامِ صحت کا ایک باقاعدہ حصہ بن چکی ہے۔
یہی مؤقف بروسو کے اس قانونی مقدمے کی بنیاد ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ موجودہ قوانین ذہنی بیماری کے مریضوں کو قبول نہیں کرتے اور یہ بات ان جیسے لوگوں کے حقوق کے خلف جا رہی ہے۔
کینیڈا اُن چند ممالک میں شامل ہے جہاں معاونت سے موت نہ صرف لاعلاج مریضوں کے لیے قانونی ہے بلکہ اُن افراد کے لیے بھی جن کی موت ’فوری متوقع‘ نہ ہو مگر وہ کسی ناقابلِ علاج سنگین بیماری یا معذوری کا شکار ہوں۔
چند ممالک جن میں نیدرلینڈز، بیلجیئم اور لکسمبرگ شامل ہیں، ایسے افراد کو بھی اس کی اجازت دیتے ہیں جو صرف ذہنی بیماری کا شکار ہوں۔
نیدرلینڈز میں یوتھینزیا سے موت پر ایک شدید عوامی بحث جاری ہے، جس کے اثرات کینیڈا کی پارلیمانی کمیٹی تک بھی پہنچے ہیں۔
نیدرلینڈز میں ذہنی بیماری کی بنیاد پر یوتھینزیا سے موت کی درخواست دینے والوں کا ایک ماہرِ نفسیات جائزہ لیتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق نفسیاتی تکلیف کی بنیاد پر منظوری نسبتاً کم ہوتی ہے اور یہ ملک میں معاونت سے ہونے والی کل اموات کا تقریباً دو فیصد ہے۔
تاہم منظور شدہ کیسز کی مجموعی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جو 2010 میں دو سے بڑھ کر 2024 میں 219 ہو گئی۔
نیدرلینڈز کے ایک ماہرِ نفسیات ڈاکٹر جم فان اوس نے کینیڈین قانون سازوں کو بتایا کہ کیسز میں اضافہ اُس چیز کی عکاسی کرتا ہے جسے انھوں نے ’خودکشی کے پھیلاؤ کے اثر‘ کے طور پر بیان کیا۔
انھوں نے خبردار کیا کہ ’میرے خیال میں نیدرلینڈز کا تجربہ کینیڈا کے لیے ایک تنبیہ ہے۔‘
’دنیا کا بدترین درد‘ دینے والی بیماری: ’لوگ سوچتے ہیں یہ ڈرامہ ہے، اتنا شدید درد نہیں ہو سکتا‘اپنے ہی اندر قید ہو جانے والی بہنیں: ’اس کا یوں اپنے آپ میں رہنا مایوس کن اور تکلیف دہ ہے‘ بے چینی آپ کی صحت پر کیسے اثر انداز ہوتی ہے اور اس سے بچنے کا کیا طریقہ ہے؟ڈستھیمیا: ڈپریشن کی وہ قسم جس کی تشخیص مشکل سے ہوتی ہے
ہالینڈ سے ہی تعلق رکھنے والے ایک اور ماہرِ نفسیات ڈاکٹر سِسکو فان فین نے اس بات سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ نفسیاتی مریضوں کے لیے معاونت سے موت اب بھی کم ہی ہوتی ہے اور میڈ (یوتھینزیا) اُن افراد کے لیے نرمی فراہم کرتا ہے جن کی تکلیف شدید یا ناقابلِ برداشت ہو سکتی ہے۔
کینیڈا میں 2024 کے دوران معاونت سے موت کی تقریباً 96 فیصد درخواستیں اُن افراد کی تھیں جن کی موت متوقع تھی جن میں سے زیادہ تر کینسر کے آخری مرحلے کے مریض تھے جبکہ باقی چار فیصد وہ مریض تھے جن کی موت بظاہر دور تھی لیکن وہ کسی ’سنگین اور ناقابلِ علاج طبی حالت‘ کا شکار تھے۔
PA Mediaمعاونت سے موت پر عوامی بحث برطانیہ سمیت کئی ممالک میں پیچیدہ رہی جہاں قانون ساز اسے قانونی بنانے کا بل منظور کرنے میں ناکام رہے
کینیڈا نے پانچ سال پہلے معاونت یا رضا مندی سے موت کی اجازت اُن مریضوں تک بڑھائی تھی جو لاعلاج نہیں تھے۔ اور یہ سب معذوری کے شکار دو افراد کی جانب سے اس پروگرام تک رسائی کے لیے قانونی لڑائی کے بعد ممکن ہو سکا۔
تاہم یوتھینزیا ہمیشہ سے ہی متنازع رہا ہے اور اس میں مزید توسیع کی مخالفت کی ایک وجہ بھی ہے۔
اس کی حمایت میں مہم چلانے والے گروپس نے ایسے واقعات کی نشاندہی کی ہے جہاں صحت کے عملے یا معاونت فراہم کرنے والے افراد نے معذور لوگوں کو معاونت سے موت کی پیشکش کی، حالانکہ مریضوں نے خود اس کی درخواست نہیں کی تھی۔
معذور افراد کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم انکلوژن کینیڈا (Inclusion Canada) کی صدر کرسٹا کار نے کہا کہ ’ہم لوگوں کو بہتر زندگی دینے کے بجائے اُن کی زندگی ختم کرنے میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے بھی کمیٹی کے سامنے گواہی دی اور قانون سازوں پر زور دیا کہ وہ نہ صرف ذہنی بیماری کے مریضوں تک میڈ کو وسعت نہ دیں بلکہ اسے دوبارہ صرف اُن افراد تک محدود کر دیں جو لاعلاج بیماری میں مبتلا ہوں۔
دوسری جانب اس کمیٹی پر بھی تنقید ہوئی ہے۔
خود بروسو کہتی ہیں کہ وہ اس بات سے پریشان ہیں کہ سماعتیں کیسے ہوئیں اور کن لوگوں کو گواہی کے لیے بلایا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے کئی بار پیش ہونے کی درخواست کی تاہم انھیں ہمیشہ جواب میں انکار سننے کو ملا۔
تاہم انھوں نے نشاندہی کی کہ کمیٹی کے شریک سربراہان لبرل رکن پارلیمنٹ مارکس پوالوسکی اور کنزرویٹو سینیٹر یونا مارٹن دونوں نے کھلے عام میڈ میں توسیع کی مخالفت کی ہے۔
کمیٹی کے ایک رکن البرٹا کے سینیٹر کرسٹوفر ویلز نے بھی اس جائزے کو ’یک طرفہ‘ قرار دیا اور ٹورنٹو سٹار اخبار کو بتایا کہ انھیں حتمی رپورٹ پر اعتماد نہیں ہے۔
بی بی سی کو دیے گئے ایک بیان میں کمیٹی کے شریک سربراہان نے تسلیم کیا کہ بروسو نے گواہی دینے کی درخواست کی تھی تاہم انھوں نے توجیح دیتے ہوئے کہا کہ محدود وقت کے باعث پیشہ ور افراد اور تنظیموں کے شواہد کو ترجیح دی گئی۔
پوالوسکی نے جانبداری کے الزامات کا دفاع کرتے ہوئے ٹورنٹو سٹار کو بتایا کہ ارکان نے ’دونوں پہلوؤں کو ذمہ داری سے سنا ہے۔‘
ان کی رپورٹ اکتوبر تک پارلیمنٹ میں پیش کی جا سکتی ہے۔
بروسو کہتی ہیں کہ ’انھیں نہ کمیٹی پر، نہ اس کی رپورٹ پر اور نہ ہی وفاقی حکومت پر اعتماد ہے، جس نے اب تک ان کے قانونی چیلنج کا جواب نہیں دیا۔‘
وہ شاذ و نادر ہی گھر سے باہر نکلتی ہیں۔ ان کے مطابق دکان تک جانا بھی شدید ذہنی دباؤ اور گھبراہٹ کا باعث بن سکتا ہے۔
تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی قانونی لڑائی کو برابر کے حقوق کے لیے ایک اہم جدوجہد سمجھتی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’میں موت کے لیے مہم نہیں چلا رہی۔ میں اس بات کے لیے آواز اٹھا رہی ہوں کہ مجھے انسانوں کا کمتر حصہ نہ سمجھا جائے۔‘
ڈستھیمیا: ڈپریشن کی وہ قسم جس کی تشخیص مشکل سے ہوتی ہے’یوتھنیزیا‘ کیا ہے اور اس کی اجازت کہاں کہاں ہے؟’دنیا کا بدترین درد‘ دینے والی بیماری: ’لوگ سوچتے ہیں یہ ڈرامہ ہے، اتنا شدید درد نہیں ہو سکتا‘کیا آپ کے مرنے کے بعد کوئی اور آپ کا فون ان لاک کر سکتا ہے؟درد کش ادویات کیسے کام کرتی ہیں اور کس درد میں کون سی پین کِلر مؤثر ہو سکتی ہے؟ذہنی دباؤ میں ہم زیادہ کیوں کھاتے ہیں اور اس کا حل کیا ہے؟